اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

پاکستانی سپہ سالار: ایران کے مقابلے میں پاکستان پر امریکی بھروسا کیوں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جنرل عاصم منیر کردار پاکستان فوج عالمی اثر
پاکستانی سپہ سالار جنرل عاصم منیر (فوٹو: المجلہ)

اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں ایک ایسی نظیر سامنے آئی ہے جس نے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

وسط جون میں امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستانہ آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکی صدر کے ہم منصب (پاکستانی صدر) موجود نہیں تھے۔

یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس کا وقت اور پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، دنیا کی 

نظریں قطر اور عمان پر لگی ہیں، لیکن یہ حقیقت نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ انقلابِ ایران کے بعد واشنگٹن میں ایرانی مفادات کی نمائندگی پاکستان ہی کرتا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ انٹیلی جنس محاذ

پاکستان اور ایران کی سرحد 900 میل سے زائد طویل ہے، لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک پیچیدہ تاریخ بھی ہے۔

دونوں ممالک کے جہاں سیاسی اور ثقافتی رشتے گہرے ہیں، وہیں سیکیورٹی اداروں (ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور پاکستانی آئی ایس آئی) کے درمیان 1980 کی دہائی سے ایک خاموش جنگ  جاری ہے۔ 

شام کے میدانِ جنگ سے لے کر بیروت کے فلسطینی کیمپوں اور آذربائیجان سے افغانستان تک، دونوں ممالک کے مفادات اکثر ٹکراتے رہے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی فوج ایران کو امریکہ سے کہیں بہتر جانتی ہے۔

جنرل عاصم منیر کردار پاکستان فوج عالمی اثر
بھارتی فوج ایک سرحدی چوکی پر (فوٹو: المجلہ)

جنرل عاصم منیر: غیر روایتی سپہ سالار

جنرل عاصم منیر کی شخصیت اپنے پیشروؤں سے بالکل مختلف ہے۔ وہ پاکستان کی عسکری تاریخ کے پہلے سپہ سالار ہیں جو:

  • مدرسے سے فارغ التحصیل اور حافظِ قرآن ہیں۔
  • ایلیٹ ملٹری اکیڈمی کاکول کے بجائے ’منگلا آفیسر ٹریننگ اسکول‘ سے آئے۔
  • گزشتہ 40 برس میں پہلے جنرل ہیں جنہوں نے کسی مغربی ملک (امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا) سے عسکری تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ ٹوکیو اور کوالالمپور میں تربیت پائی۔
  • وہ واحد افسر ہیں جو فوج کے دونوں بڑے انٹیلی جنس اداروں MI اور ISI کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

ان کا یہ غیر روایتی پس منظر انہیں ایک ایسا سخت گیر کمانڈر بناتا ہے جو مغربی اثر و رسوخ سے مرعوب ہوئے بغیر فیصلے کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔

جوہری ہتھیاروں کا تحفظ اور عالمی اثر و رسوخ

فوربس اور ٹائمز کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں پاکستانی آرمی چیف کا نام مستقل شامل رہتا ہے۔

7 لاکھ فوج، چین اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور ایٹمی اثاثوں کی کمانڈ کی وجہ سے اس عہدے کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے گزشتہ 3 سال میں 6 سے زائد بار جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی اور امریکی کانگریس کو یقین دلایا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر مغربی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک ناگزیر ستون ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی تعلقات

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کبھی کسی رسمی معاہدے کے محتاج نہیں رہے۔

جنرل عاصم منیر نے سعودی عرب میں 3 سال گزارے ہیں، وہ عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے دفاعی نظام کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ 

شہزادہ ترکی الفیصل کے بقول یہ تعلقات دنیا میں کسی بھی دو ممالک کے درمیان مضبوط ترین رشتہ ہیں۔ جنرل منیر نے اس تاریخی دوستی میں سیکیورٹی کے نئے پہلو شامل کیے ہیں جو واشنگٹن کے لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

کیا عاصم منیر طاقتور ترین پاکستانی سپہ سالار ہیں؟

یہ سوال آج عالمی میڈیا میں زیرِ بحث ہے۔

ضیاء الحق، ایوب خان اور پرویز مشرف جیسے طاقتور فوجی صدور کے برعکس جنرل عاصم منیر کی طاقت ان کی پیشہ ورانہ گرفت اور براہ راست کارروائیوں میں پنہاں ہے۔ 

انہوں نے اپنے دورِ اقتدار کے مختصر عرصے میں:

  1. انڈیا کے فضائی حملوں کا بھرپور جواب دیا اور دشمن کے طیارے گرائے۔
  2. بلوچستان سرحد پر مداخلت کے خلاف تہران کو سخت وارننگ دی۔
  3. افغان طالبان کو دو ٹوک پیغام دیا کہ سرحد پار دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خطے کی تقدیر

جنرل عاصم منیر آج ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں وہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی مساوات میں ’پیس میکر‘ (امن لانے والے) یا پھر فیصلہ کن قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے حوالے سے مستقبل کی حکمتِ عملی ہو یا انڈیا کے ساتھ ایٹمی تنازع، پاک فوج کی قیادت ان پیچیدہ معاملات میں ’شیڈو گاڈ فادر‘ (پسِ پردہ مہرے ہلانے والی قوت) کا کردار ادا کر رہی ہے۔