بحیرہ روم کی سطح میں اضافہ ایک خاموش مگر خطرناک حقیقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین موسمیات کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے مطابق یہ تبدیلی صدیوں پر محیط ایک ایسا عمل ہے جس سے مصر، اٹلی اور ترکی سمیت کئی ممالک کے گنجان آباد ساحلی شہر متاثر ہو رہے ہیں۔
انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بحیرہ روم کے ساحلوں پر آباد افراد کو صدی کے وسط تک بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2100ء تک ان خطرات سے دوچار آبادیوں میں موجودہ صورتحال کے مقابلے میں 130 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
سائنسی حقائق
ماہرین اب صرف سمندر کی مجموعی سطح پر نہیں بلکہ ’نسبی سطح سمندر‘ پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس سے مراد زمین کی حرکت کے تناظر میں پانی کی سطح کا بڑھنا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے ساحلوں پر پانی کی یہ پیش قدمی خطرناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔
مستقبل کے اندازے اور موسمیاتی منظرنامے
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 1995ء سے 2014ء کے مقابلے میں 2050ء تک سمندر کی سطح 0.15 سے 0.33 میٹر بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اخراج کم نہ ہوا تو صدی کے اختتام تک یہ اضافہ 1.01 میٹر تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ ہزاروں سال تک ناقابلِ واپسی عمل ثابت ہوگا۔
ڈیلٹا والے علاقوں کو درپیش خطرات
دریائی ڈیلٹا والے علاقے، خصوصاً نیل (مصر)، پو (اٹلی)، ایبرو (اسپین) اور رون (فرانس) شدید خطرے میں ہیں۔
یہ علاقے نہ صرف گنجان آباد ہیں بلکہ انتہائی زرعی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں زمین کا قدرتی یا انسانی سرگرمیوں کے باعث نیچے بیٹھنا سمندری پانی کے داخلے کو مزید آسان بنا رہا ہے۔
سمندری پانی کی پیش قدمی اور زراعت پر اثرات
سمندری پانی کا زمینی پانی کے ذخائر میں داخلہ دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
خاص طور پر نیل ڈیلٹا جیسے زرعی خطوں میں، جہاں نمکین پانی میٹھے پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں خوراک کی فراہمی اور پینے کے پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
بحیرہ روم کے ساحلی شہروں کا مستقبل صرف سمندری طوفانوں سے جڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ پانی کی بڑھتی سطح اور زمین کے کٹاؤ کا امتزاج ایک طویل مدتی معاشی اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہا ہے۔