براہ راست نشریات

کیا پاکستان ثالثی سے جنگ کی طرف کھنچ رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب میں پاکستانی فوج

سعودی عرب پر حملے بڑھے تو پاکستان کو ثالثی اور دفاعی ذمہ داری میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے

سعودی عرب میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں، جنگی طیاروں، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام کی موجودگی کے باعث حوثی حملوں کا دائرہ پھیلنے کی صورت میں پاکستان پر عملی فوجی مدد فراہم کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسلام آباد جنگ نہیں چاہتا، مگر سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسے غیر جانب دار رہنے کی مکمل آزادی بھی نہیں دیتا۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

سعودی عرب میں اس وقت تقریباً 8 ہزار پاکستانی فوجی، قریب 16 جنگی طیاروں پر مشتمل ایک اسکواڈرن، ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہے۔ 

دوسری طرف حوثیوں کے حملوں اور دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم بھی مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔

یہ کسی ممکنہ جنگ کا فرضی نقشہ نہیں، بلکہ ایک عملی صورتِ حال ہے، جس نے پاکستان کو حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کے سب سے خطرناک امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔

اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اپنی مغربی سرحد پر واقع پڑوسی ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بچنے کا خواہش مند ہے۔ 

لیکن اسی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے، مملکت میں اپنی فوج اور عسکری سازوسامان تعینات کیا ہے اور ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اس کے لیے سرخ لکیر ہے۔

مزید پڑھیں

لہٰذا اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا پاکستان جنگ میں شامل ہونا چاہتا ہے؟ وہ یقیناً ایسا نہیں چاہتا۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو کیا پاکستان کے پاس جنگ سے باہر رہنے کا اختیار باقی رہے گا؟

ایک حملے نے اسلام آباد کے حساب بدل دیے

پاکستانی تشویش اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایران سے منسلک حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب میزائل داغے۔ 

حوثیوں کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ یمن میں ان کے زیرِ قبضہ ہوائی اڈے پر مبینہ سعودی بمباری کے جواب میں کیا گیا۔

اگرچہ سرحد پار فائرنگ اب تک محدود رہی، لیکن اس نے 4 سال سے جاری جنگ بندی کو توڑ دیا اور ایک ایسے وقت میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نئی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا، جب پورا خطہ پہلے ہی زیادہ وسیع اور خطرناک تصادم کی لپیٹ میں ہے۔

اہم نکات
سعودی عرب میں تقریباً 8 ہزار پاکستانی فوجی تعینات ہیں۔
پاکستانی فضائی دستے میں قریب 16 جنگی طیارے شامل ہیں، جن میں زیادہ تر JF-17 ہیں۔
دو ڈرون اسکواڈرن اور چینی ساختہ HQ-9 فضائی دفاعی نظام بھی مملکت میں موجود ہے۔
سعودی پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اس کے لیے سرخ لکیر ہے۔
حوثی حملوں کا دائرہ پھیلنے پر پاکستان کی ثالثی اور دفاعی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے ٹکرا سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ملک کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے ایران کو بلند ترین سطح پر آگاہ کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مملکت کی سلامتی اسلام آباد کے لیے سرخ لکیر ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ میں شامل پاکستانی عہدیداروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، تاہم ان کے بیانات پاکستانی پالیسی میں آنے والی اہم تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام آباد اب حوثیوں کی کارروائیوں کو صرف یمن کا داخلی معاملہ نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں ایسا خطرہ قرار دے رہا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ اس کی دفاعی ذمہ داریوں کو فعال کر سکتا ہے۔

صورتِ حال کی حساسیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستانی فوجیوں کی ایک تعداد سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب تعینات ہے۔ 

اگر حوثی حملوں کا دائرہ پھیلتا یا سرحد پار بڑے فوجی آپریشن دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ اہلکار براہِ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

دفاعی معاہدہ جو یکجہتی کو فوجی ذمہ داری بناتا ہے

ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان نے تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ تاریخی تعلقات اور سیاسی یکجہتی کا محض علامتی اعلان نہیں تھا، بلکہ اس نے ریاض اور اسلام آباد کے درمیان شراکت داری کو دفاعی تعاون کی نئی سطح تک پہنچا دیا۔ 

اس کے تحت دونوں ملک مشترکہ دفاع اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہیں۔

اپریل 2026 میں پاکستانی لڑاکا اور معاون طیارے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئربیس پہنچے۔ 

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سلامتی اور استحکام کی حمایت کرنا تھا۔

فیکٹ باکس
پاکستانی فوجی تقریباً 8 ہزار
جنگی طیارے قریب 16
نمایاں لڑاکا طیارہ JF-17 تھنڈر
ڈرون دستے 2 اسکواڈرن
فضائی دفاع HQ-9 نظام
دفاعی معاہدہ ستمبر 2025
موجودہ فوجی کردار دفاع اور تحفظ
سب سے بڑا خطرہ حملوں کا پھیلاؤ

ایک پاکستانی عہدیدار نے اس وقت واضح کیا تھا کہ یہ طیارے کسی ملک پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے، بلکہ ان کی تعیناتی کا مقصد سعودی عرب کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

تاہم اس عسکری تعیناتی کی اہمیت محض سیاسی پیغام تک محدود نہیں۔ 

رائٹرز نے بعد میں انکشاف کیا کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے تقریباً 8 ہزار فوجیوں، قریب 16 طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن، دو ڈرون اسکواڈرن اور چین کے تیار کردہ HQ-9 فضائی دفاعی نظام پر مشتمل ہیں۔

طیاروں میں زیادہ تر چین کے تعاون سے پاکستان میں تیار کیے جانے والے JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ 

رائٹرز کے ذرائع کے مطابق مملکت میں موجود پاکستانی فورس حقیقی جنگی صلاحیت رکھتی ہے اور تمام عسکری سازوسامان پاکستانی اہلکار ہی چلا رہے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جو پاکستان کو بحران میں ثالثی کرنے والے دیگر ممالک سے مختلف بناتا ہے۔ اسلام آباد جنگ کو باہر بیٹھ کر نہیں دیکھ رہا، بلکہ اس کے فوجی، جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام پہلے ہی ایک ممکنہ جنگی محاذ پر موجود ہیں۔

ثالث سے جنگی اتحادی بننے کا خطرہ

پاکستان نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران دو متضاد کرداروں کو بیک وقت نبھانے کی کوشش کی ہے: 

امریکا اور ایران کے درمیان سیاسی ثالث، اور سعودی عرب کے دفاع کا پابند عسکری اتحادی۔

اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی اور رابطوں کے دروازے کھلے رکھنے کے لیے اپنا نمایاں سفارتی اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ 

اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتیں تو پاکستان کو جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر خطے میں ایک نئی سفارتی حیثیت حاصل ہو سکتی تھی۔

لیکن سعودی عرب پر حملوں کی واپسی نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔

اگر حوثی اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے انہیں سعودی شہروں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف تک پھیلاتے ہیں تو ریاض اسلام آباد سے مزید دفاعی تعاون طلب کر سکتا ہے۔ 

ایسی صورت میں پاکستانی فوجیوں کا کردار تربیت، نگرانی اور دفاعی نظام چلانے سے آگے بڑھ کر براہِ راست فوجی کارروائی تک پہنچ سکتا ہے۔

روئٹرز نے ثالثی کی کوششوں سے واقف ایک پاکستانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اگر سعودی عرب نے مدد طلب کی تو پاکستان مملکت کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

نہ ہی ایسے کوئی سرکاری شواہد موجود ہیں کہ اسلام آباد ایران یا حوثیوں کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ کشیدگی کا ہر نیا مرحلہ پاکستان کے پاس موجود سفارتی گنجائش کو مزید محدود کر سکتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان پہلی مرتبہ ایسی پوزیشن میں ہے جہاں اس کی سفارتی ثالثی اور فوجی ذمہ داریاں براہِ راست ایک دوسرے سے ٹکرا سکتی ہیں۔
حوثی حملوں میں اضافہ سعودی عرب کو پاکستان سے مزید دفاعی یا عملی فوجی مدد طلب کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
براہِ راست پاکستانی فوجی کارروائی ایران یا اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ ممکنہ تصادم کا راستہ کھول سکتی ہے۔
جنگ کا پھیلاؤ پاکستان کی توانائی، تجارت، معیشت اور خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایران اور حوثی، پیغامات جو صنعا سے کہیں آگے جاتے ہیں

اسلام آباد ایران اور حوثیوں کے تعلقات کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ پاکستان ہر حوثی فوجی فیصلے کا ذمہ دار براہِ راست تہران کو قرار نہیں دیتا، لیکن وہ یہ ضرور سمجھتا ہے کہ حوثیوں پر ایرانی اثرورسوخ کشیدگی روکنے یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستانی قیادت نے ایران کو سخت پیغامات پہنچائے ہیں۔ 

اسلام آباد چاہتا ہے کہ تہران اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف ایک نیا محاذ کھلنے سے روکے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران خود امریکی حملوں کا سامنا کر رہا ہے اور خطے میں مختلف اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کی کسی بڑی کارروائی سے جنگ اس انداز میں پھیل سکتی ہے جس پر بعد میں ایران کے لیے بھی قابو پانا مشکل ہوگا۔

سعودی عرب پر بڑے پیمانے پر براہِ راست حملے نئے ممالک کو میدانِ جنگ میں کھینچ سکتے ہیں اور امریکا ایران تصادم کو کئی محاذوں پر پھیلی ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سعودی یمنی سرحد پر کشیدگی بعض سابقہ ایرانی حملوں سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستانی فوجی پہلے ہی اس سرحد کے قریب موجود ہیں اور حملوں کا دائرہ بڑھنے کی صورت میں براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایرانی قیادت کا مبینہ اختلاف اور پیچیدہ ہوتی ثالثی

اسلام آباد ایران کے اندر سیاسی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے اختلافات کا بھی بغور جائزہ لے رہا ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے سیاسی مقاصد اور ترجیحات پاسدارانِ انقلاب کی عسکری حکمتِ عملی سے بتدریج مختلف ہوتی جا رہی ہیں۔

یہ پاکستانی حکام کا تجزیہ ہے، تہران نے باضابطہ طور پر اپنی قیادت میں کسی اختلاف کا اعتراف نہیں کیا۔ 

تاہم یہ تصور بھی اسلام آباد کی پالیسی اور ثالثی کی کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔

کسی بھی ثالث کے لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ معاہدہ کرنے اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے کا اختیار کس کے پاس ہے۔

اگر ایرانی سفارت کار ایک سیاسی مفاہمت تک پہنچتے ہیں، لیکن فوجی ادارے یا ایران سے منسلک گروہ کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت متاثر ہوگی اور اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی سے متعلق اعتماد کھو سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی قیادت میں ایک وفد کا دورۂ اسلام آباد دو روز تاخیر کا شکار ہوا۔ 

وفد نے بعد میں پاکستان پہنچ کر امریکا ایران معاہدے اور علاقائی صورتِ حال پر بات چیت کی۔ 

پاکستان ثالثی کیوں نہیں چھوڑ سکتا؟

بڑھتی ہوئی مایوسی کے باوجود اسلام آباد اپنے سفارتی کردار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔

ثالثی پاکستان کو محض سیاسی اثرورسوخ نہیں دیتی، بلکہ اس کا گہرا تعلق ملک کے معاشی اور توانائی کے تحفظ سے بھی ہے۔

ممکنہ اگلا منظرنامہ
1 سفارتی کامیابی ایران حوثیوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے، حملے رک جائیں اور پاکستان ثالثی کا کردار جاری رکھے۔
2 محدود دفاعی تعاون پاکستان جنگی طیاروں، فضائی دفاع اور خفیہ معلومات کے ذریعے سعودی عرب کی مدد بڑھائے، مگر جارحانہ کارروائی سے باہر رہے۔
3 براہِ راست فوجی مداخلت بڑے حملے کی صورت میں سعودی عرب عملی مدد طلب کرے اور پاکستان کو باہمی دفاعی معاہدہ فعال کرنا پڑے۔

پاکستان تیل اور گیس کے لیے مشرق وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے گرد جاری جنگ ایندھن کی ترسیل، بحری تجارت، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کی لاگت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی حکومت کو پہلے ہی ایندھن کی کھپت کم کرنے اور ممکنہ قلت روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے ہیں۔

اس لیے جنگ کا خاتمہ اور تجارتی راستوں کی بحالی پاکستان کے لیے صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ ایک اہم داخلی معاشی ضرورت بھی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد اور ریاض کے درمیان گہرے مالی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ 

سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کو قرضوں، مرکزی بینک میں ڈپازٹس اور مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کے ذریعے سہارا دیا ہے۔

یوں سعودی عرب کا دفاع، ایران کے ساتھ تعلقات اور توانائی کی ترسیل کا تحفظ پاکستان کے تین بنیادی مفادات ہیں، لیکن جنگ پھیلنے کی صورت میں یہی تینوں مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ 

سعودی عرب اور خلیج میں پاکستانیوں پر ممکنہ اثرات

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم بڑی پاکستانی برادری کے اقاموں، ملازمتوں یا سفر سے متعلق اب تک کسی براہِ راست تبدیلی کے شواہد موجود نہیں۔ 

اس لیے خوف یا عجلت میں کسی فیصلے کی ضرورت نہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

تاہم اگر جنگ کا دائرہ پھیلتا ہے تو بیرون ملک پاکستانیوں کی زندگی پر بالواسطہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان میں فضائی پروازوں میں تعطل، سفر، انشورنس اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ، ہوائی اڈوں، صنعتی علاقوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

طویل جنگ ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ بعض معاشی شعبوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اگر توانائی کا درآمدی بل بڑھنے سے پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہوتا ہے تو تارکین وطن کی طرف سے اپنے خاندانوں کو بھیجی جانے والی رقوم کی حقیقی قدر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے دفاع میں پاکستانی افواج کا کردار دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ 

لیکن ایران کے ساتھ کھلی جنگ کی صورت میں خلیج کے مختلف ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی صورتِ حال بھی زیادہ حساس ہو جائے گی۔

اسی لیے پاکستانی برادری اور اسلام آباد دونوں کا بنیادی مفاد جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے اور توانائی و تجارت کے راستے کھلے رکھنے میں ہے۔

اسلام آباد کے سامنے تین ممکنہ منظرنامے

پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ سیاسی دباؤ اور سفارتی رابطوں کے نتیجے میں حوثیوں کو قابو کر لیا جائے اور سعودی عرب کو جنگ کے نئے محاذ سے دور رکھا جائے۔ 

ایسی صورت میں پاکستان اپنی فوج کو دفاعی کردار تک محدود رکھتے ہوئے ثالثی جاری رکھ سکے گا۔

دوسرا امکان محدود حملوں کے تسلسل کا ہے۔ اس صورت میں اسلام آباد جنگی طیاروں، فضائی دفاعی نظام اور خفیہ معلومات کے ذریعے سعودی عرب کی دفاعی مدد بڑھا سکتا ہے، لیکن جارحانہ کارروائی سے گریز کرے گا۔

پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟
موجودہ صورتِ حال: سعودی عرب یا خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے اقاموں، ملازمتوں یا سفر سے متعلق کسی براہِ راست تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا۔
فضائی سفر جنگ پھیلنے پر پروازوں میں تاخیر، منسوخی یا بعض فضائی راستوں میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
سکیورٹی اقدامات ہوائی اڈوں، صنعتی علاقوں اور اہم تنصیبات کے اطراف حفاظتی پابندیاں سخت ہوسکتی ہیں۔
مہنگائی اور اخراجات سفر، انشورنس، مال برداری، ایندھن اور بعض ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ترسیلاتِ زر تیل کا درآمدی بل بڑھنے اور روپے کی قدر متاثر ہونے سے خاندانوں کو بھیجی جانے والی رقوم پر دباؤ آسکتا ہے۔
ملازمتیں طویل کشیدگی تجارت، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور بعض نجی شعبوں کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
فی الحال کیا کریں؟ سرکاری ہدایات پر نظر رکھیں، غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کریں اور عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔

تیسرا اور سب سے خطرناک منظرنامہ سعودی عرب کے اندر حملوں کا دائرہ پھیلنے اور بڑے پیمانے پر جانی یا مادی نقصان ہونے کا ہے۔ 

اگر ریاض نے اس صورتِ حال میں براہِ راست پاکستانی فوجی مدد طلب کی تو اسلام آباد کو باہمی دفاعی معاہدہ فعال کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف عملی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایسا کوئی بھی قدم پاکستان کو ایران یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ ممکنہ تصادم کی جانب لے جا سکتا ہے۔ 

سعودی عرب سرخ لکیر، مگر جنگ پاکستان کا انتخاب نہیں

پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا، سعودی عرب سے اپنے دفاعی اتحاد کی حفاظت کرنا، امریکا کے ساتھ رابطے جاری رکھنا اور توانائی و تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔

اسلام آباد اب تک ان تمام متوازی راستوں کو کھلا رکھنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن بڑی جنگیں ہمیشہ ریاستوں کو توازن برقرار رکھنے کی مہلت نہیں دیتیں۔

سعودی عرب کی جانب داغا جانے والا ہر نیا میزائل مملکت میں موجود پاکستانی افواج پر دباؤ بڑھائے گا اور اسلام آباد کو اس لمحے کے قریب لے جائے گا جب اسے اپنی سفارتی غیر جانب داری اور دفاعی ذمہ داریوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔

پاکستان جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی اس کے جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کے شواہد موجود ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب پر حملے وسیع ہوتے ہیں اور ریاض اسلام آباد سے مدد طلب کرتا ہے تو پاکستان کو معلوم ہو سکتا ہے کہ ثالثی کی میز اور میدانِ جنگ کے درمیان فاصلہ اب بہت کم رہ گیا ہے۔

📚 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES پاکستان، سعودی عرب اور علاقائی جنگ سے متعلق روئٹرز اور سعودی پریس ایجنسی کے بنیادی حوالہ جات 3 معتبر ذرائع
پاکستان، جنگ اور دفاعی معاہدہ
روئٹرز — جنگ میں کھنچنے کے خدشات سے دوچار پاکستان سعودی عرب پر حوثی حملوں، پاکستان کے دفاعی وعدوں، ثالثی کی پوزیشن اور امریکا ایران جنگ میں اسلام آباد کے ممکنہ طور پر شامل ہونے کے خدشات پر تفصیلی رپورٹ۔ بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ روئٹرز — سعودی عرب میں پاکستانی فوجی تعیناتی سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ دفاعی تعلقات، باہمی دفاعی معاہدے، فوجی تعاون اور سعودی سرزمین پر پاکستانی فوجی موجودگی کے پس منظر سے متعلق رپورٹ۔ دفاعی تعاون اصل رپورٹ کھولیں ↗ سعودی پریس ایجنسی — دفاعی معاہدے کا مشترکہ اعلامیہ سعودی عرب اور پاکستان کے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کا سرکاری مشترکہ اعلامیہ، جس کے مطابق کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ سرکاری سعودی ماخذ سرکاری اعلامیہ کھولیں ↗
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں روئٹرز کی اصل بین الاقوامی رپورٹس اور سعودی پریس ایجنسی کے سرکاری مشترکہ اعلامیے سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net