امریکی حملوں کا رخ ساحلی علاقوں سے ایران کے اندرونی حصوں کی طرف بڑھ گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکی حملوں کا دائرہ اب صرف بحری یا فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ لاجسٹک، معاشی اور بنیادی ڈھانچے تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اپنے جوابی حملے جاری رکھنے کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ حالیہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سفارتی کوششیں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکمتِ عملی میں تبدیلی، اہداف کے پھیلاؤ، مذاکرات کے تعطل اور ممکنہ علاقائی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
ایران کے اندر امریکی حملوں کا دائرہ اب محض ساحلی علاقوں یا روایتی فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہا، بلکہ تیزی سے ملک کے اندرونی حصوں تک پھیلتا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی صرف حملوں کی تعداد میں اضافے کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ اس بات کا اشارہ بھی دیتی ہے کہ واشنگٹن کی فوجی حکمتِ عملی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ابتدا میں توجہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بحری صلاحیت کو محدود کرنے پر مرکوز تھی، لیکن اب کارروائیوں کا رخ ان لاجسٹک، مواصلاتی اور معاشی ڈھانچوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے جو ایرانی فوجی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب تہران بھی خطے میں موجود ان مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے جنہیں وہ امریکی فوجی تنصیبات قرار دیتا ہے، جس سے یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ کشیدگی ایک طویل اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی نامہ نگار شیماء بو علام کی رپورٹ کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی کے آثار اس وقت نمایاں ہونا شروع ہوئے جب جولائی کے پہلے ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کر دیں۔
ابتدائی مرحلے میں فضائی حملے ہرمزگان کی بحری تنصیبات تک محدود رہے، جن میں بندر عباس، قشم اور ابو موسیٰ کے جزائر شامل تھے۔
واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے بحری راستے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
تاہم چند ہی دنوں میں حملوں کا دائرہ تیزی سے وسیع ہونے لگا۔
کارروائیاں جزیرہ خارک کے اطراف تک پہنچ گئیں، جو ایران کی تیل برآمدات کی سب سے اہم گزرگاہ اور ملکی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی اسے ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دے چکے ہیں۔
اگرچہ حملوں کا بنیادی ہدف فوجی صلاحیت کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے قریب پہنچنے سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ معاشی دباؤ اب امریکی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
امریکہ ایران کشیدگی کیسے نئے مرحلے میں داخل ہوئی؟
-
28 فروری
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کا آغاز ہوا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھنے لگی۔
-
18 جون
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت طے پائی اور پاکستان و قطر کی ثالثی میں مذاکرات شروع ہوئے۔
-
جولائی کا پہلا ہفتہ
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں سے متعلق واقعات کے بعد امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دیں۔
-
7 جولائی
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
-
8 جولائی
امریکی صدر نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا اور ایران کے اندر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
-
ابتدائی مرحلہ
امریکی حملے بندر عباس، قشم اور ابو موسیٰ کی بحری تنصیبات تک محدود رہے۔
-
دوسرا مرحلہ
حملوں کا دائرہ جزیرہ خارک، بحری اڈوں، ڈرون گوداموں، مرمت گاہوں اور کمانڈ مراکز تک پھیل گیا۔
-
تیسرا مرحلہ
پلوں، ریلوے لائنوں، رسد کے راستوں اور اندرونِ ملک لاجسٹک نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جانے لگا۔
-
موجودہ مرحلہ
واشنگٹن نے بجلی گھروں، پلوں اور حساس جوہری تنصیبات کو ممکنہ اہداف میں شامل کرنے کی دھمکی دی۔
اسی دوران امریکی رپورٹس میں روزانہ نشانہ بنائے جانے والے اہداف کی تعداد میں مسلسل اضافے کا ذکر بھی سامنے آیا۔
بتایا گیا کہ یومیہ اہداف تقریباً 80 سے بڑھ کر 90 اور بعدازاں 140 تک جا پہنچے۔
عسکری ماہرین کے نزدیک یہ صرف عددی اضافہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپریشن محدود فوجی کارروائی سے نکل کر ایک وسیع، منظم اور کثیرالجہتی مہم میں تبدیل ہو رہا ہے، جس میں اہداف کا انتخاب بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنوع ہو چکا ہے۔
ابتدائی کارروائیوں میں بحری اڈوں، جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی مرمت گاہوں کو ترجیح دی گئی، لیکن بعد میں حملوں کا رخ ڈرون گوداموں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی نگرانی کے نظام اور اس انفراسٹرکچر کی طرف بھی مڑ گیا جو ایرانی افواج کی نقل و حرکت اور رسد کے نظام کو برقرار رکھنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کارروائیوں میں ایک اور نمایاں تبدیلی اس وقت دیکھی گئی جب بندر عباس کی بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے پہلی مرتبہ خودکار بارودی کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔
اس نئے حربے نے نہ صرف کارروائیوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی کو ظاہر کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن مختلف عسکری ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ حملوں کا رخ ان پلوں، ریلوے لائنوں اور مواصلاتی راستوں کی جانب بھی ہو گیا جو ایرانی بندرگاہوں کو ملک کے اندرونی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔
امریکی مؤقف کے مطابق یہی راستے فوجی سازوسامان، ایندھن اور رسد کی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان پر دباؤ ڈال کر ایران کی مجموعی عسکری استعداد کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے متعدد امریکی تجزیوں میں اس مرحلے کو صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ’لاجسٹک جنگ‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں براہِ راست محاذ پر موجود افواج کے بجائے ان کی پشت پر موجود معاون ڈھانچے کو کمزور بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی تناظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی حکمتِ عملی اب صرف ہتھیاروں یا فوجی اڈوں کو تباہ کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ ان تمام عناصر تک پھیل رہا ہے جو کسی بھی فوجی قوت کو طویل عرصے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔
اگر نقل و حمل، رسد، مرمت، مواصلات اور توانائی کا نظام متاثر ہو جائے تو کسی بھی ملک کی جنگی صلاحیت بتدریج کمزور پڑ سکتی ہے، چاہے اس کے پاس اسلحہ اور افرادی قوت موجود ہی کیوں نہ ہو۔
یہی تبدیلی اس پورے بحران کا سب سے نمایاں پہلو بن کر ابھری ہے۔
سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ امریکہ کن مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان اہداف کے انتخاب سے واشنگٹن کیا پیغام دینا چاہتا ہے، اور آیا اس مہم کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے یا اس کی عسکری اور معاشی صلاحیت کو طویل مدت کے لیے محدود کرنا۔
یہی سوال آئندہ مرحلے میں اس بحران کی سمت کا تعین بھی کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کارروائیوں میں وسعت کا سب سے نمایاں اشارہ اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے ایران کی انتہائی محفوظ سمجھی جانے والی جبل الفأس جوہری تنصیب کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔
یہ مرکز نطنز کے قریب واقع ہے، مضبوط گرینائٹ چٹانوں کے اندر تعمیر کیا گیا ہے، اور ایران نے ماضی میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEA کے معائنہ کاروں کو یہاں رسائی دینے کی اجازت نہیں دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ یہ تنصیب امریکی نگرانی میں ہے، اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو اہداف کی فہرست پہلے سے کہیں زیادہ حساس مقامات تک پھیل سکتی ہے۔
امریکہ ایران تصادم: اہم حقائق
اس پیش رفت نے مبصرین کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا واشنگٹن کی موجودہ مہم کا مقصد صرف ایران پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے یا پھر اس کا دائرہ اس حد تک وسیع ہو چکا ہے کہ وہ ایران کی عسکری، معاشی اور انتظامی صلاحیت کو بیک وقت کمزور کرنا چاہتا ہے۔
یہی سوال اس پورے بحران کی سمت سمجھنے میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کی وہ وارننگ بھی خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے متعلق فیصلے ہمیشہ سیاسی اور عسکری دونوں سطحوں پر حساس سمجھے جاتے ہیں، تاہم اس طرح کے بیانات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ واشنگٹن دباؤ کے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ میں امریکی صدر کے ان بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے زمینی کارروائی کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا، اگرچہ ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ ایسی کسی کارروائی میں امریکی زمینی افواج براہِ راست شریک نہ بھی ہوں۔
اس مؤقف نے امریکی کانگریس کو بھی ایک نئی بحث میں داخل کر دیا، کیونکہ اس سے قبل ٹرمپ واضح کر چکے تھے کہ وہ ایران میں امریکی فوجیوں کو زمینی جنگ میں نہیں بھیجنا چاہتے۔
بعدازاں انہوں نے کانگریس کو فوجی کارروائیوں کی بحالی سے آگاہ کیا، جس کے ساتھ ہی امریکی War Powers Act کے تحت ساٹھ روزہ قانونی مدت دوبارہ زیرِ بحث آ گئی۔
اس قانون کے مطابق صدر محدود مدت تک کانگریس کی نئی منظوری کے بغیر فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپریشن طویل ہو جائے تو انہیں سیاسی اور قانونی سطح پر مزید منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
اسی لیے موجودہ بحران صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ واشنگٹن کے اندر بھی اس کے آئینی اور سیاسی اثرات پر بحث جاری ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اپنی جوابی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران خطے میں موجود ان مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے جنہیں وہ امریکی فوجی تنصیبات قرار دیتا ہے، جبکہ اس نے کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی دھمکی بھی برقرار رکھی ہے۔
اس صورتِ حال نے خلیجی ممالک اور خطے کے دیگر اتحادیوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ کسی بھی نئی کارروائی کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود رہنے کے بجائے پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔
موجودہ کشیدگی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دونوں ممالک چند ہفتے قبل سفارتی عمل کی طرف واپس آتے دکھائی دے رہے تھے۔
ایک منٹ میں خلاصہ
- امریکہ نے ایران میں حملوں کا دائرہ ساحلی اور بحری تنصیبات سے بڑھا کر اندرونی لاجسٹک، مواصلاتی اور معاشی ڈھانچے تک پھیلا دیا ہے۔
- ابتدا میں بندر عباس، قشم اور ابو موسیٰ کو نشانہ بنایا گیا، بعد میں جزیرہ خارک، مرمت گاہیں، ڈرون مراکز، پل اور ریلوے لائنیں بھی کارروائیوں کی زد میں آ گئیں۔
- حملوں کا مقصد صرف فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایران کے رسد، ایندھن، مرمت اور نقل و حرکت کے نظام کو بھی کمزور کرنا دکھائی دیتا ہے۔
- ایران خطے میں امریکی فوجی مقامات پر جوابی حملوں کے دعوے کر رہا ہے اور کارروائیاں مزید وسیع کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔
- جنگ بندی کے خاتمے اور مذاکرات کے تعطل کے بعد محدود تصادم کے وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
18 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی پر مبنی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جس کے بعد پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔
ان مذاکرات کا مقصد 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنا تھا اور اس وقت امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ کئی ماہ سے جاری تصادم کو سفارتی ذرائع سے محدود کیا جا سکے گا۔
تاہم یہ پیش رفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکی صدر نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کی بحالی کی تصدیق کی۔
اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملوں نے پہلے سے موجود کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا دیا، جس کے بعد امریکی حملوں کا دائرہ تیزی سے وسیع ہونے لگا اور دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر کھلی عسکری محاذ آرائی کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے میں اصل خطرہ صرف حملوں کی شدت نہیں بلکہ ان کے اہداف کی بدلتی ہوئی نوعیت ہے۔
جب فوجی کارروائیاں بندرگاہوں، رسد کے مراکز، نقل و حمل کے نظام اور بنیادی ڈھانچے تک پھیلنے لگیں تو ان کے اثرات محض عسکری میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ معیشت، توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی استحکام بھی براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے؟
جنگ کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے
ایران کی جنگی صلاحیت پر طویل مدتی دباؤ
عالمی تیل تجارت کے لیے خطرہ
خلیجی ممالک براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں
مذاکرات کا راستہ سکڑ رہا ہے
امریکی داخلی سیاست پر دباؤ
عام صارف تک اثر پہنچ سکتا ہے
اسی لیے بہت سے تجزیہ کار اس بحران کو محض ایران اور امریکہ کے درمیان ایک محدود فوجی تصادم نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اگر آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں دوبارہ مؤثر ثابت نہ ہو سکیں تو بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے ساتھ کسی بھی نئی کارروائی کے علاقائی اور عالمی اثرات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں، جس سے یہ بحران نہ صرف مزید طویل بلکہ زیادہ پیچیدہ بھی بن سکتا ہے۔