رواں عمرہ سیزن کے ابتدائی مرحلے میں پاکستان 2 لاکھ معتمرین کے ساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگیا۔
انڈونیشیا ایک لاکھ 70 ہزار اور عراق ایک لاکھ 30 ہزار معتمرین کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ سعودی عرب نے معتمرین کی سہولت کے لیے ’نسک عمرہ‘، ڈیجیٹل نسک کارڈ اور 178 امدادی سروس پوائنٹس سمیت متعدد جدید خدمات متعارف کرائی ہیں۔
رواں عمرہ سیزن کا آغاز غیر معمولی تیزی کے ساتھ ہوا ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے معتمرین کی تعداد میں نمایاں اضافے کے ساتھ سعودی عرب میں معتمرین کے لیے فراہم کی جانے والی ڈیجیٹل اور فیلڈ خدمات کا دائرہ بھی مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔
اس مربوط نظام کا مقصد ویزا کے اجرا اور خدمات کی بکنگ سے لے کر مناسک کی ادائیگی اور معتمر کی سعودی عرب سے روانگی تک پورے سفر کو زیادہ آسان، منظم اور معیاری بنانا ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ اور معتمرین خدمت پروگرام کے مطابق 15 ذوالحجہ سے محرم 1448 ہجری کے اختتام تک عمرہ ویزے پر آنے والے معتمرین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 9 لاکھ 31 ہزار 500 ہوگئی۔
یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22.5 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں
اس حساب سے ایک سال کے دوران عمرہ ویزے پر آنے والوں کی تعداد میں تقریباً ایک لاکھ 71 ہزار کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ سیزن کی اسی مدت میں یہ تعداد اندازاً 7 لاکھ 60 ہزار 400 تھی۔
دوسری جانب بیرون ملک سے سعودی عرب پہنچنے والے معتمرین کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
دونوں اعداد کے درمیان تقریباً 3 لاکھ 38 ہزار 500 کا فرق ظاہر کرتا ہے
کہ اب عمرہ کے لیے سعودی عرب آنے کے راستے روایتی عمرہ ویزے تک محدود نہیں رہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے مختلف اقسام کے ویزوں پر مملکت آنے والوں کو مقررہ ضوابط اور طریقۂ کار کے تحت عمرہ ادا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اس سہولت نے معتمرین کے لیے سفر کے مزید متبادل راستے فراہم کیے ہیں۔
اہم نکات ⌄
پاکستان معتمرین کی تعداد میں سرفہرست
پاکستان 2 لاکھ معتمرین کے ساتھ سب سے زیادہ عمرہ زائرین بھیجنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ پاکستانی معتمرین کی تعداد بیرون ملک سے آنے والے مجموعی معتمرین کا تقریباً 15.7 فیصد بنتی ہے۔
انڈونیشیا ایک لاکھ 70 ہزار معتمرین کے ساتھ دوسرے، جبکہ عراق ایک لاکھ 30 ہزار معتمرین کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
ان تینوں ممالک سے مجموعی طور پر تقریباً 5 لاکھ معتمرین سعودی عرب پہنچے، جو بیرون ملک سے آنے والے تمام معتمرین کا لگ بھگ 39.4 فیصد بنتے ہیں۔
پاکستان کی پہلی پوزیشن خاص اہمیت رکھتی ہے۔
یہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے مسلم ممالک میں شامل پاکستان میں عمرہ سفر کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط اور ٹریول و عمرہ کمپنیوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
ساڑھے 9 لاکھ سے زائد معتمرین فضائی راستے سے پہنچے
بیرون ملک سے آنے والے معتمرین کی اکثریت نے فضائی راستہ اختیار کیا۔
اعدادوشمار کے مطابق 75 فیصد معتمرین ہوائی اڈوں کے ذریعے سعودی عرب پہنچے، جن کی تخمینی تعداد تقریباً 9 لاکھ 52 ہزار 500 بنتی ہے۔
باقی 25 فیصد، یعنی تقریباً 3 لاکھ 17 ہزار 500 معتمرین بری اور بحری سرحدی راستوں سے مملکت میں داخل ہوئے۔
یہ اعداد سعودی عرب میں نقل و حمل اور سرحدی گزرگاہوں کے متنوع نظام اور معتمرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
’نسک عمرہ‘ سے بغیر ایجنٹ ویزا اور خدمات کی بکنگ
جدید ڈیجیٹل خدمات میں نمایاں پیش رفت ’نسک عمرہ‘ سروس کا آغاز ہے۔
اس کے ذریعے بیرون ملک مقیم افراد کسی درمیانی ایجنٹ کے بغیر براہ راست عمرہ ویزے کے لیے درخواست دینے اور مطلوبہ خدمات آن لائن بک کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔
یہ سروس معتمرین کو مکمل پیکیج یا اپنی ضرورت کے مطابق الگ الگ خدمات منتخب کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
مکمل پیکیج میں ویزا، رہائش، ٹرانسپورٹ اور دوسری متعلقہ سہولیات شامل ہوسکتی ہیں۔
فیکٹ باکس ⌄
اس کے ساتھ مختلف ممالک میں موجود منظور شدہ عمرہ ایجنٹس کے ذریعے ویزا اور سفری خدمات حاصل کرنے کا روایتی راستہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
’نسک‘ ایپ کے ذریعے عمرہ اجازت نامے جاری کرنے، ریاض الجنہ میں حاضری کا وقت مقرر کرنے، بکنگ کا انتظام کرنے اور ضروری ہدایات حاصل کرنے جیسی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسی طرح معتمرین ایپ کے ذریعے مقدس اور تاریخی مقامات، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سعودی عرب میں دستیاب دیگر سہولیات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
ڈیجیٹل شناخت اور 178 امدادی مراکز
خدمات کے جدید نظام میں ’نسک کارڈ‘ بھی شامل ہے۔
یہ ایک ڈیجیٹل شناختی کارڈ ہے جو حاجی اور معتمر کی معلومات کی تصدیق اور اس کے سفر سے متعلق خدمات اور ضروری معلومات تک رسائی آسان بناتا ہے۔
اس کے علاوہ ’نسک عنایہ‘ مراکز معتمرین کو رہنمائی، فوری معاونت، شکایات کے ازالے اور مختلف مسائل کے حل کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
یہ مراکز ایک متحدہ نظام کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں مجموعی طور پر 178 سروس پوائنٹس شامل ہیں۔
حرمین شریفین میں فراہم کی جانے والی خدمات میں متعدد زبانوں میں ترجمہ اور رہنمائی، معمر افراد اور خصوصی ضروریات کے حامل زائرین کے لیے وہیل چیئرز، آبِ زمزم، انٹرایکٹو نقشے اور بچوں کی نگہداشت کے مراکز بھی شامل ہیں۔
بچوں کی نگہداشت کے مراکز والدین کو زیادہ اطمینان اور سہولت کے ساتھ مناسک ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اسی طرح جمعے کے خطبے کا 11 زبانوں میں فوری ترجمہ بھی متعلقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پیش کیا جاتا ہے۔
وزارت حج و عمرہ کے مطابق معتمرین کی تعداد میں ہونے والا اضافہ ضیوف الرحمن کی خدمت کے نظام کو حاصل اعلیٰ سرکاری سرپرستی، مختلف حکومتی اور خدماتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مسلسل ترقی کا نتیجہ ہے۔
ان اقدامات کا بنیادی مقصد عمرہ کے سفر کو زیادہ آسان، منظم اور معیاری بناتے ہوئے سعودی عرب کی مزید معتمرین کی میزبانی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ پیش رفت سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اولین روحانی منزل کے طور پر سعودی عرب کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔