براہ راست نشریات

ایران پر امریکی قہر، خلیج پر تہران کی یلغار: خطہ جنگ کے دہانے پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
US Iran War

واشنگٹن بڑے فضائی حملے کی تیاری میں جبکہ تہران کا جواب خلیجی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات تک

ایران پر امریکی حملوں کی ساتویں رات کے بعد جنگ آبنائے ہرمز سے نکل کر خلیجی ممالک تک پھیلنے لگی ہے۔
امریکا نے اسرائیلی فوجی اڈوں پر مزید فضائی ایندھن بردار طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں اہداف پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
دونوں ممالک کے سخت بیانات نے پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کی مسلسل ساتویں رات نے مشرق وسطیٰ کو جنگ کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ 

تصادم اب آبنائے ہرمز، ایرانی ساحلی تنصیبات یا محدود فوجی اہداف تک نہیں رہا، بلکہ اس کی لپیٹ میں خلیجی ممالک کے فوجی اڈے، بجلی گھر، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، فضائی حدود اور شہری پروازیں بھی آنے لگی ہیں۔

چند گھنٹوں کے دوران پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے کئی واضح اشارے سامنے آئے۔

 امریکا کے مزید درجنوں فضائی ایندھن بردار طیارے اسرائیلی فوجی اڈوں پر پہنچ گئے، کویت میں مسلسل دوسرے روز بجلی اور پانی کی ایک اہم تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، بحرین میں بار بار خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 10 ایرانی میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اندر ساتویں رات کے حملے مکمل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں میں نگرانی کے مراکز، فوجی رسد کے نظام، زیرِ زمین اسلحہ خانے اور ایرانی بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

امریکی فوجی تیاریوں اور خلیجی تنصیبات پر ایرانی حملوں نے ہرمز کی جنگ کو پورے خطے کا بحران بنا دیا۔

دوسری جانب تہران نے امریکا پر شہری بنیادی ڈھانچے، پلوں، سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بجلی و پانی کی تنصیبات کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

یہ پیش رفت محض حملوں کی تعداد میں اضافے کی علامت نہیں، بلکہ جنگ کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ 

امریکا اب صرف ایران کی بحری قوت کمزور کرنے پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ اس کے فوجی رسد اور نقل و حرکت کے نظام کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

اس کے جواب میں ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر اس کی بنیادی تنصیبات نشانہ بنیں گی تو خطے میں امریکی موجودگی سے منسلک ممالک کی اہم تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔

اس نئی صورت حال نے خلیجی ممالک کو ایک دشوار مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ 

یہ ریاستیں اب صرف امریکی افواج کی میزبان یا ایرانی میزائلوں کی گزرگاہ نہیں رہیں، بلکہ ان کی اپنی قومی تنصیبات جنگ کے نقشے میں شامل ہوتی جارہی ہیں۔

بڑی امریکی فضائی کارروائی کی تیاری

جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کا سب سے نمایاں اشارہ اسرائیل میں مزید امریکی فضائی ایندھن بردار طیاروں کی آمد ہے۔ 

یہ طیارے لڑاکا جہازوں اور اسٹریٹجک بمباروں کو زیادہ دیر تک فضا میں رہنے اور اڈوں پر واپس آئے بغیر دور دراز اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو مزید درجنوں ایندھن بردار طیارے بھیجنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ 

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کے آپریشن روم میں ہونے والے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئی عسکری تجاویز پیش کی گئیں۔

امریکا ایران جنگ

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ایک ایسی وسیع کارروائی پر غور کر رہے ہیں جو حجم، اہداف اور جغرافیائی دائرے کے اعتبار سے آبنائے ہرمز کے اطراف جاری موجودہ حملوں سے کہیں بڑی ہوسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ امریکی طیارے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے بجائے اسرائیل کے فوجی فضائی اڈوں پر اترے ہیں۔ 

اس کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کے ساتھ رابطے کے بعد ’لاجسٹک اور آپریشنل وجوہ‘ کی بنیاد پر کیا گیا، تاکہ موسمِ گرما کے مصروف سفری دور میں شہری پروازیں متاثر نہ ہوں۔

تاہم ان طیاروں کی فوجی اڈوں پر تعیناتی محض ہوائی ٹریفک کو منظم کرنے کا انتظام نہیں۔ اس سے امریکا کو طویل فضائی مہم جاری رکھنے اور ایران کے اندر مزید دور واقع اہداف تک پہنچنے کے لیے ضروری آپریشنل سہولت حاصل ہوگی۔

امریکا نے گزشتہ چند دنوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں مزید لڑاکا طیارے، اسٹریٹجک بمبار، ڈرونز، ایندھن بردار طیارے اور بحری وسائل بھی منتقل کیے ہیں۔ 

یہ فوجی نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر جنگ سمیٹنے کے بجائے اس کے مزید پھیلنے کے امکان کو سامنے رکھ کر اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے۔

فوجی یا شہری اہداف؟

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹ کام‘ کے مطابق مسلسل ساتویں رات کے حملوں میں ایرانی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک تنصیبات، زیرِ زمین اسلحہ خانے اور بحری صلاحیتیں نشانہ بنائی گئیں۔ 

کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز، جنگی جہازوں اور دیگر عسکری وسائل کا استعمال کیا گیا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی مہم کا مقصد پاسدارانِ انقلاب کی تجارتی جہازوں پر حملے کرنے اور خلیج میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔

واشنگٹن نے ایران کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ حملوں میں شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ 

امریکی فوج کے مطابق تمام اہداف اس فوجی اور رسدی نیٹ ورک کا حصہ ہیں جسے پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز اور خلیج میں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اہم نکات
تفصیل کے لیے ہر نکتے پر کلک کریں
01 امریکی حملوں کی ساتویں رات

ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں مسلسل ساتویں رات بھی جاری رہیں اور فوجی و لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

02 وسیع فضائی مہم کی تیاری

امریکا نے مزید درجنوں فضائی ایندھن بردار طیارے اسرائیلی فوجی اڈوں پر منتقل کیے ہیں، جو طویل فاصلے کے بڑے حملوں کی تیاری کا اشارہ ہیں۔

03 فوجی یا شہری اہداف؟

واشنگٹن اپنے اہداف کو فوجی قرار دیتا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں پل، سڑکیں، بجلی اور پانی کی تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

04 کویت کی اہم تنصیبات نشانے پر

کویت میں مسلسل دوسرے روز بجلی پیدا کرنے اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر حملہ ہوا، جس کے بعد ہنگامی منصوبے فعال کردیے گئے۔

05 بحرین اور اردن میں فضائی خطرہ

بحرین نے متعدد ایرانی فضائی اہداف تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اردن نے اپنی سرزمین کی طرف آنے والے دس ایرانی میزائل مار گرائے۔

06 ہرمز سے باب المندب تک خطرہ

کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب بھی متاثر ہوسکتا ہے، جس سے عالمی توانائی اور بحری تجارت کے دو بڑے راستے خطرے میں آجائیں گے۔

07 ایران کی جامع حملوں کی دھمکی

تہران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہنے کی صورت میں وہ محدود جوابی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر جامع جارحانہ مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔

تہران اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔ 

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں میں ایک ہوائی اڈہ، پل، سڑکیں، ریلوے لائنیں اور بجلی و پانی کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر‘ نے رپورٹ کیا کہ صوبہ ہرمزگان کے شہر جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کے پمپ میزائلوں کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں متعدد ساحلی دیہات کو پانی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔ 

خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے بندر عباس اور رودان کے درمیان دو پلوں کو نقصان پہنچنے اور ہلاکتوں و زخمیوں کی اطلاع بھی دی۔

جاسک امریکا اور ایران کے متضاد بیانات کا مرکزی مقام بن گیا ہے۔ 

آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب واقع اس شہر میں بحری اور فوجی مراکز کے ساتھ شہری آبادی کے لیے بجلی اور پانی فراہم کرنے والی تنصیبات بھی موجود ہیں۔ 

اسی جغرافیائی اختلاط کی وجہ سے واشنگٹن انہیں فوجی رسد کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تہران ان پر حملوں کو شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قرار دے رہا ہے۔

دونوں میں سے کسی بھی روایت کو مکمل طور پر آزاد ذرائع سے ثابت کرنا مشکل ہے، لیکن ایک حقیقت واضح ہے: 

جنگ کے اہداف اب ان مقامات تک پہنچ رہے ہیں جو فوجی استعمال کے ساتھ شہری زندگی اور بنیادی خدمات کے لیے بھی اہم ہیں۔ 

اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان ان علاقوں کی عام آبادی کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔

ایران نے جوابی جنگ خلیجی تنصیبات تک پہنچا دی

ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے خطے میں فوجی اڈوں کے ساتھ بجلی، پانی اور نقل و حمل کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

ایرانی فوج کے ایک ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر اسلامی جمہوریہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہے تو خطے کا تمام بنیادی ڈھانچہ ایران کے لیے ’جائز ہدف‘ بن جائے گا۔

اس دھمکی کے چند ہی گھنٹوں بعد کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے اعلان کیا کہ بجلی پیدا کرنے اور پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 

حملے سے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی اور بعض آلات کو نقصان پہنچا۔

Gulf Economic Crisis

وزارت نے کارکنوں کی حفاظت، بجلی کے نظام کے استحکام اور خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال کردیے۔ 

فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ اداروں نے آگ پر قابو پانے کی کارروائی کی، جبکہ حکام نے عوام سے اس ’غیر معمولی مرحلے‘ کے دوران بجلی کا استعمال محدود کرنے کی اپیل کی۔

یہ دو دن کے دوران کویت میں بجلی اور پانی کی تنصیب پر دوسرا مبینہ ایرانی حملہ تھا۔

 ایسے ملک میں جہاں پینے کے پانی کی بڑی مقدار سمندری پانی صاف کرکے حاصل کی جاتی ہے، ان پلانٹس کو نشانہ بنانا محض بجلی کی پیداوار متاثر کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ قومی آبی سلامتی اور معمولاتِ زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

کویتی فوج نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ ملک میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں فضائی اہداف کو روکنے کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔

حفاظتی اقدامات کے تحت کویت کی فضائی حدود بند کردی گئیں اور کویت ایئرویز نے اپنی بیشتر پروازوں کے اوقات دوبارہ ترتیب دیے۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات اب فوجی اہداف سے آگے بڑھ کر شہری سفر، فضائی رابطوں، بجلی اور پانی کی فراہمی تک پہنچ چکے ہیں۔

بحرین میں چند گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں و مقیم افراد کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔ 

یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی فوج نے شیخ عیسیٰ فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ 

بحرینی دفاعی فورس کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی فضائی اہداف کو روک کر تباہ کردیا۔

اردن نے بھی اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دس ایرانی میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔ اردنی فوج کے مطابق میزائل مملکت کی سرزمین کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم انہیں روکنے کی کارروائی کے دوران کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ 

بعد میں فوجی انجینیئرنگ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں گرنے والے میزائلوں کے ٹکڑوں کو محفوظ بنایا۔

خلیجی ممالک اور پاکستانیوں پر ممکنہ اثرات
تفصیل کھولنے کے لیے کلک کریں
🌍 خلیجی ممالک پر اثرات توانائی، پانی، تجارت اور فضائی سفر
  • بجلی گھروں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر حملوں سے بنیادی خدمات متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
  • فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی سے شہری سفر اور بین الاقوامی رابطے متاثر ہوسکتے ہیں۔
  • بحری خطرات بڑھنے سے مال برداری، انشورنس اور درآمدی اشیا کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
  • تعمیرات، سیاحت، ایوی ایشن اور تجارتی سرگرمیوں میں عارضی سست روی پیدا ہوسکتی ہے۔
  • توانائی تنصیبات کے تحفظ اور فضائی دفاع پر اضافی اخراجات خلیجی بجٹ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
🇵🇰 پاکستانیوں پر اثرات ملازمت، سفر، ترسیلاتِ زر اور مہنگائی
  • پروازوں کی منسوخی یا شیڈول میں تبدیلی سے خلیج میں مقیم پاکستانیوں کا سفر مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے۔
  • کاروباری سرگرمیاں سست ہونے سے ملازمتوں، تنخواہوں اور اوور ٹائم کے مواقع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
  • آمدنی متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں کمی آسکتی ہے۔
  • تیل مہنگا ہونے سے پاکستان میں ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
  • ہنگامی حالات میں خاندانوں کی وطن واپسی اور سفری ٹکٹوں کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کی جغرافیائی اور سیاسی قیمت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

تہران کا پیغام ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈے ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو ان کی میزبانی کرنے والے ممالک بھی جنگ کے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

لیکن یہ حکمت عملی ایران کے لیے الٹا نتیجہ بھی پیدا کرسکتی ہے۔ 

شہری اور بنیادی تنصیبات پر حملے ان خلیجی ممالک کو امریکا کے مزید قریب کرسکتے ہیں جو اب تک براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز اور سفارتی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ہرمز سے باب المندب تک پھیلتا خطرہ

آبنائے ہرمز اب بھی اس جنگ کا مرکزی محاذ ہے۔ 

دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا واقعہ توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کرسکتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک مبینہ بارودی سرنگوں کے میدان سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو تیل بردار جہاز دھماکوں کا شکار ہوکر آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کردی۔

متضاد دعوؤں کے باوجود بحری جہازوں کے لیے خطرہ برقرار ہے۔ 

بارودی سرنگیں، تیز رفتار کشتیاں، ساحلی میزائل اور ڈرونز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرسکتے ہیں، چاہے ایران کی بڑی بحری تنصیبات کو امریکی حملوں میں نقصان ہی کیوں نہ پہنچا ہو۔

خطرہ صرف ہرمز تک محدود رہنے کی ضمانت بھی موجود نہیں۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو بحیرۂ عرب، یمنی ساحل اور باب المندب بھی اس تصادم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ 

ایسی صورت میں دنیا کے دو اہم ترین بحری راستے بیک وقت دباؤ میں آجائیں گے۔

اس کا فوری اثر تیل اور گیس کی قیمتوں، مال برداری کے اخراجات، بحری انشورنس اور فضائی سفر پر پڑے گا۔ 

خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں غیر ملکی کارکن بھی پروازوں کی بندش، مہنگی سفری ٹکٹوں، بنیادی خدمات میں ممکنہ خلل اور روزگار سے متعلق غیریقینی صورت حال کا سامنا کرسکتے ہیں۔

654654564

جنگ کے فیصلہ کن دن

ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے مزید دو یا تین دن جاری رہے تو ایران ’جامع جارحانہ کارروائیوں‘ کے مرحلے میں داخل ہوجائے گا۔

ان کے مطابق تہران صرف برابر کا جواب دینے تک محدود نہیں رہے گا اور ایرانی حملوں کا سامنا کرنے والی افواج یا تنصیبات کو تحفظ دینے والی کوئی ’سیاسی حد‘ باقی نہیں رہے گی۔

پاسدارانِ انقلاب کی فضائی و خلائی فورس کے کمانڈر مجید موسوی نے بھی کہا کہ ایران اس وقت تک خطے میں اپنی کارروائیاں بند نہیں کرے گا جب تک امریکا جنوبی ایرانی ساحل اور آبنائے ہرمز کے اطراف حملے روک نہیں دیتا۔

دوسری طرف امریکا ایسے فضائی اور بحری وسائل جمع کر رہا ہے جو اسے زیادہ طویل اور وسیع فوجی مہم چلانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ 

اگر واشنگٹن نے حملوں کا دائرہ بڑھایا تو ایران کے اندر مزید دور واقع فوجی یا جوہری تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔ 

جواب میں تہران خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی و پانی کی تنصیبات پر حملے بڑھا سکتا ہے۔

یہ بحران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تنازع سے شروع ہوا تھا، لیکن اب بجلی گھروں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، فضائی حدود، شہری پروازوں اور فوجی اڈوں کی جنگ بنتا جارہا ہے۔

اس لیے اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ کیا یہ جنگ پھیلے گی؛ جنگ پہلے ہی اپنی ابتدائی حدود سے باہر نکل چکی ہے۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران اب بھی اس کے لیے کوئی سرحد مقرر کرسکتے ہیں، یا ساتویں رات کے حملوں نے وہ تمام سرخ لکیریں مٹا دی ہیں جو خطے کو مکمل جنگ سے الگ رکھتی تھیں؟

📚
رپورٹ کے اصل ذرائع
اس خصوصی رپورٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے مستند بین الاقوامی اور سرکاری ذرائع
9 ORIGINAL SOURCES
ایکسئیوس (Axios)
امریکا کی جانب سے اسرائیل کو مزید فضائی ایندھن بردار طیارے بھیجنے اور ٹرمپ کو پیش کیے گئے وسیع فوجی منصوبوں پر خصوصی رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
رائٹرز (Reuters)
ساتویں رات کی امریکی بمباری، کویت، بحرین، اردن اور خلیجی بنیادی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی جامع رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
رائٹرز (Reuters)
ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی ڈھانچے، پلوں، بجلی، پانی اور خلیجی اہداف پر حملوں کی تفصیلی رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)
کویت میں بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان اور خلیجی آبی سلامتی پر رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)
ہرمز بحران، امریکی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں اور خلیجی میزائل اعتراضات کی جامع رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
CBS News
سینٹ کام کے سرکاری بیان، فوجی اہداف، زیرِ زمین اسلحہ خانوں اور بحری کارروائیوں کی لائیو کوریج۔
رپورٹ کھولیں ↗
Times of Israel
اسرائیل کے فوجی فضائی اڈوں پر امریکی فضائی ایندھن بردار طیاروں کی تعیناتی کی تفصیل۔
رپورٹ کھولیں ↗
Times of Israel
ساتویں رات امریکی فضائی حملوں، سینٹ کام کے بیان اور ایرانی جوابی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗
The Guardian
جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں، پلوں، بندرگاہوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات پر رپورٹ۔
رپورٹ کھولیں ↗