فیفا ورلڈکپ 2026 کے آفیشل اعداد و شمار نے ایک دلچسپ اور متنازع ڈیجیٹل تضاد کو بے نقاب کیا ہے، جس میں ہسپانوی نوجوان ٹیلنٹ لامین یامال کو ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ ہدف بننے والا اور ریفریز کی جانب سے کم ترین تحفظ پانے والا کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ڈیلاس میں منعقدہ سیمی فائنل میں اسپین کی فرانس کے خلاف کامیابی کے بعد تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب فرانسیسی کوچ ڈیڈایئر ڈیشامپ نے ریفری کی کارکردگی پر طنزیہ سوال اٹھایا کہ کیا وہ واقعی ورلڈکپ کے سیمی فائنل کے معیار کے مطابق تھے۔
اسپینش کوچ لوئیس ڈی لا فوینتے نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کو بھی حریفوں کے خلاف ریفریز کی جانب سے ضرورت سے
زیادہ نرمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اسپین کی فائنل تک رسائی کے امکانات خطرے میں پڑ گئے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹورنامنٹ میں لامین یامال کے حق میں ریفریز کی جانب سے صرف 8 بار ہی فاؤل کی سیٹی بجائی گئی، جبکہ وہ اب تک 404 منٹ کھیل چکے ہیں۔
یہ شرح ہر 50 منٹ میں صرف ایک فاؤل ہے، جو ٹورنامنٹ کے دیگر اہم ونگرز میں سب سے کم ہے۔
دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ فرق مزید واضح ہو جاتا ہے، جہاں بیلجیئم کے جیریمی ڈوکو نے 341 منٹ میں 18 فاؤل حاصل کیے۔
اسی طرح جیوڈ بیلنگھم 18، میسی 16، محمد صلاح 13 اور وینی جونیئر نے 10 فاؤل اپنے حق میں حاصل کیے۔
حیران کن طور پر لامین یامال دفاعی ذمہ داریوں میں بھی سب سے آگے نظر آئے اور انہوں نے اسپین کے لیے سب سے زیادہ 12 فاؤل کیے، جو روڈری اور ایلکس بائینا جیسے مڈفیلڈرز کے 9 فاؤلز سے بھی زیادہ ہیں۔
وہ ٹورنامنٹ میں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ فاؤل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔
اس کے برعکس دیگر اسٹارز جیسے جیریمی ڈوکو اور وینی جونیئر نے 4، جبکہ لیونل میسی نے صرف 2 فاؤل کیے ہیں۔ یہاں تک کہ سیمی فائنل میں لامین یامال کو مارک کرنے والے لوکاس ڈینی نے بھی پورے میچ میں صرف 5 فاؤل کا ارتکاب کیا۔
یہ اعداد و شمار اس فرسودہ تصور کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ نوجوان کھلاڑی دفاعی طور پر سست ہوتے ہیں۔
لامین یامال اب کوچ ڈی لا فوینتے کے نظام میں نہ صرف ایک جارحانہ کھلاڑی بلکہ ہائی پریسنگ اور بال ریکوری کے لیے ایک اہم دفاعی طاقت بن چکے ہیں۔