براہ راست نشریات

اسرائیل نے امریکی طیاروں کے لیے اپنے فوجی اڈے کھول دیے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسرائیلی فوجی اڈے پر امریکی ری فیولنگ طیاروں کی تعیناتی
اسرائیلی بین گوریون ہوائی اڈے پر امریکی ایندھن بھرنے والا طیارہ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیل اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت اب امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ طیارے بن گوریون ایئرپورٹ کے بجائے اسرائیلی فضائیہ کے عسکری اڈوں پر تعینات کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد بن گوریون ایئرپورٹ پر شہری ہوابازی کے معمولات کو متاثر ہونے سے بچانا اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مشاورت اور تیاریوں کے بعد کیا گیا ہے۔ 

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری 

کے بعد عسکری اڈوں پر ان طیاروں کی میزبانی کے لیے تمام تر ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

امریکی انتظامیہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسرائیل میں موجود اپنے ری فیولنگ طیاروں کے بیڑے میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پیشرفت ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور حالیہ فوجی محاذ آرائی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اسرائیلی فوجی اڈے پر امریکی ری فیولنگ طیاروں کی تعیناتی
اسرائیلی بین گوریون ہوائی اڈے پر امریکی ایندھن بھرنے والے طیارے (فوٹو: الجزیرہ)

رپورٹس کے مطابق آئندہ 2 روز کے دوران تقریباً 10 مزید امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچیں گے، جو پہلے سے موجود درجنوں طیاروں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

اس سے قبل بن گوریون ایئرپورٹ پر 33 امریکی طیارے موجود تھے، جس کے باعث شہری پروازوں کے لیے جگہ کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بن گوریون ایئرپورٹ پر طیاروں کی تعداد پر تنازع بھی سامنے آیا تھا۔ 

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اسرائیل کی جانب سے طیاروں کے داخلے پر پابندیوں پر احتجاج کیا تھا، کیونکہ اسرائیل گرمیوں کے سیزن میں شہری پروازوں کے لیے جگہ بڑھانا چاہتا تھا۔

اس تنازع کے بعد طے پایا تھا کہ ایئرپورٹ پر صرف 20 طیارے رکھے جائیں گے اور باقی کو یورپی ممالک منتقل کر دیا جائے گا۔ 

اسرائیلی فوجی اڈے پر امریکی ری فیولنگ طیاروں کی تعیناتی
اسرائیلی بین گوریون ہوائی اڈے پر امریکی ایندھن بھرنے والے طیارے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاہم اب فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت ملنے سے یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو گیا ہے اور امریکی فوجی موجودگی میں مزید وسعت آ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں یہ فوجی نقل و حرکت جون میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ 

مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے باعث واشنگٹن نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو تیزی سے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔