اسرائیل اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت اب امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ طیارے بن گوریون ایئرپورٹ کے بجائے اسرائیلی فضائیہ کے عسکری اڈوں پر تعینات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد بن گوریون ایئرپورٹ پر شہری ہوابازی کے معمولات کو متاثر ہونے سے بچانا اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مشاورت اور تیاریوں کے بعد کیا گیا ہے۔
کے بعد عسکری اڈوں پر ان طیاروں کی میزبانی کے لیے تمام تر ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسرائیل میں موجود اپنے ری فیولنگ طیاروں کے بیڑے میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیشرفت ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور حالیہ فوجی محاذ آرائی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئندہ 2 روز کے دوران تقریباً 10 مزید امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچیں گے، جو پہلے سے موجود درجنوں طیاروں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
اس سے قبل بن گوریون ایئرپورٹ پر 33 امریکی طیارے موجود تھے، جس کے باعث شہری پروازوں کے لیے جگہ کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بن گوریون ایئرپورٹ پر طیاروں کی تعداد پر تنازع بھی سامنے آیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اسرائیل کی جانب سے طیاروں کے داخلے پر پابندیوں پر احتجاج کیا تھا، کیونکہ اسرائیل گرمیوں کے سیزن میں شہری پروازوں کے لیے جگہ بڑھانا چاہتا تھا۔
اس تنازع کے بعد طے پایا تھا کہ ایئرپورٹ پر صرف 20 طیارے رکھے جائیں گے اور باقی کو یورپی ممالک منتقل کر دیا جائے گا۔
تاہم اب فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت ملنے سے یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو گیا ہے اور امریکی فوجی موجودگی میں مزید وسعت آ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں یہ فوجی نقل و حرکت جون میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے باعث واشنگٹن نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو تیزی سے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔