واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دھمکیاں اور ماضی میں کیے گئے انتباہات اب ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔
بجلی کے نظام کو شدید نقصان
ایران کے حکام نے حالیہ دنوں میں بجلی کے شعبے پر حملوں کا انکشاف کیا ہے، جس میں تہران کی سٹی کونسل کے سربراہ مہدی شمران نے تصدیق کی کہ کئی بجلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد داد کے مطابق ان حملوں سے نیٹ ورک کی صلاحیت میں 4200 میگاواٹ کی کمی ہوئی اور 2 ہزار سے زائد پوائنٹس متاثر ہوئے۔
انرجی انفرا اسٹرکچر: اگلا ممکنہ ہدف
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے شمال میں ’آق قلا‘ ریلوے پل سمیت دیگر پلوں کو نشانہ بنانے کے بعد اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی توجہ اہم اسٹریٹجک اثاثوں بشمول آئل ریفائنریز پر مرکوز ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے خدشہ ہے کہ یہ حملے ایران کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
علاقائی جنگ کا خدشہ اور آبنائے ہرمز
علاقائی تنازعات کے ماہر مصطفیٰ نجفی کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملے ایک وسیع تر جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل بھی اس محاذ پر متحرک ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، میزائل تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہو گا۔
تجارتی راستوں پر ممکنہ ناکہ بندی
اگر یہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو سمندری راستوں کی بندش ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا مقصد عالمی سطح پر بحری نقل و حمل کی آزادی بحال کرنا ہے، تاہم اگر ایران نے جوابی کارروائی میں آبنائے باب المندب یا ہرمز کو بند کیا تو امریکہ کا ردِعمل انتہائی سخت ہوگا۔
کیا ایرانی پاور پلانٹس اور آئل ریفائنریز اگلا عسکری ہدف ہیں؟
واشنگٹن اور تہران میں بڑھتی کشیدگی کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا خطرہ سنگین ہو گیا۔
امریکی پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایران کا پاور نیٹ ورک، آئل ریفائنریز اور بحری تجارتی راستے شدید معاشی و سماجی بحران کی زد میں آ سکتے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اقتصادی بحران اور آئل ریفائنریز
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی آئل ریفائنریز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ ایک ’معاشی جنگ‘ کے مترادف ہو گا۔
ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں کی وجہ سے پرانی ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے سے قاصر ہے۔ ریفائنریز کی تباہی سے ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوگی اور نقل و حمل کا نظام مکمل ٹھپ ہو سکتا ہے۔
تعمیر نو: سرمایہ کاری کا ایک موقع؟
بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ کے لیے اس جنگ کے معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔
انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے بعد تعمیر نو کے منصوبے امریکی کمپنیوں کے لیے منافع بخش کاروباری مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ حکمت عملی ٹرمپ انتظامیہ کے روزگار بڑھانے کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔
معاشی نتائج اور سماجی انتشار
ماہر اقتصادیات بہمن آرمان کے مطابق ایران کے پاس اہم تنصیبات کی ہنگامی مرمت کی صلاحیت نہیں ہے کیونکہ پابندیوں کے باعث جدید ٹیکنالوجی اور اسپیئر پارٹس کی درآمد ممنوع ہے۔
توانائی کے نظام کا خاتمہ ایران میں افراط زر اور شہریوں کی قوت خرید میں مزید شدید کمی کا باعث بنے گا۔
غیر یقینی مستقبل
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے۔ جہاں تہران اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، وہیں واشنگٹن اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایسے میں توانائی کے شعبے پر ہونے والی کوئی بھی بڑی ضرب خطے کے سیاسی اور اقتصادی نقشے کو دہائیوں تک کے لیے تبدیل کر سکتی ہے۔