انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات اب محض اسلحے کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہے بلکہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران یہ گٹھ جوڑ ایک ایسی جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں مشترکہ دفاعی پیداوار، جدید عسکری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور جدید جنگی نظاموں کی تیاری شامل ہے۔
مزید پڑھیں
اس تعلق کی بنیاد اگرچہ باضابطہ طور پر 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد مضبوط ہوئی، تاہم اس کی جڑیں اس سے کئی دہائیاں پہلے تک پھیلی ہوئی ہیں، جب دونوں ممالک خفیہ سطح پر دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کر رہے تھے۔
ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اور اسرائیل کے درمیان جاری عسکری اشتراک کا تازہ ترین اظہار اسرائیلی دفاعی کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز
اور انڈین دفاعی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ہیں۔
ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل کے مشہور فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم میں استعمال ہونے والے تامیر (Tamir) انٹرسیپٹر میزائل کی مشترکہ پیداواری لائن انڈیا میں قائم کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو انڈیا صرف اسرائیلی ہتھیاروں کا خریدار نہیں رہے گا بلکہ اسرائیلی دفاعی صنعت کی سپلائی چین اور جدید میزائل سازی کا اہم شراکت دار بھی بن جائے گا۔
آئرن ڈوم کے میزائل کی انڈیا میں تیاری
رپورٹ کے مطابق تامیر زمین سے فضا میں مار کرنے والا جدید گائیڈڈ انٹرسیپٹر میزائل ہے، جو پہلی مرتبہ 2011 میں اسرائیلی فوج کا حصہ بنا۔
یہ میزائل کم فاصلے سے داغے جانے والے راکٹوں، مارٹر گولوں اور دیگر کم بلندی پر آنے والے اہداف کو تقریباً 70 کلومیٹر تک تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے آئرن ڈوم نظام کا بنیادی جزو تصور کیا جاتا ہے۔
یہ خبر خطے کے لیے کیوں اہم ہے؟
اس منصوبے کا مقصد صرف انڈیا کی اندرونی دفاعی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں ان میزائلوں کو تیسرے ممالک کو برآمد کرنا، پیداواری لاگت کم کرنا اور اسرائیل کے لیے ایک متبادل صنعتی مرکز قائم کرنا بھی ہے تاکہ جنگ یا ہنگامی حالات میں اسرائیلی دفاعی صنعت پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی خواہش اور انڈیا کی دفاعی پالیسی اس معاملے میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
’میک اِن انڈیا‘ اور اسرائیلی پالیسی
نریندر مودی حکومت کئی برس سے ’میک اِن انڈیا‘ پروگرام کے تحت دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد حساس دفاعی شعبوں میں بیرونی درآمدات پر انحصار کم کرنا، غیر ملکی کمپنیوں کو انڈیا میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا اور انڈیا کو عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ ہب میں تبدیل کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی کمپنیاں اس حکمت عملی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں فروری 2025 میں اسرائیلی کمپنی رافیل اور انڈین کمپنی سینٹم الیکٹرانکس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کنٹرول سے متعلق جدید نظام تیار کیے جا رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انڈین افواج دشمن کے ریڈار، وائرلیس مواصلاتی نظام اور دیگر برقی سگنلز کی نگرانی، ان کے ذرائع کی شناخت اور الیکٹرانک جنگی کارروائیوں میں اپنی صلاحیت بڑھا سکیں گی۔
یہ تعاون صرف اسی شعبے تک محدود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی انٹیلی جنس سسٹمز، خودکار فیصلہ سازی، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور دیگر جدید جنگی ٹیکنالوجیز کی مشترکہ تیاری بھی اس کا حصہ ہے۔
یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب روایتی ہتھیاروں کے کاروبار سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔
انڈیا اسرائیل دفاعی تعلقات کا نیا رخ
رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 میں انڈیا اور اسرائیل نے دفاعی تعاون سے متعلق ایک جامع مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے اسٹریٹجک مذاکرات، دفاعی صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اختراع اور مشترکہ دفاعی پیداوار میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
اس مفاہمتی یادداشت میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور مشترکہ مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی گئی، جسے الجزیرہ نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
اس معاہدے نے انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات کو روایتی ’خریدار اور فروخت کنندہ‘ کے تعلق سے نکال کر ’مشترکہ صنعتی شراکت داری‘ میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
انڈیا، اسرائیلی اسلحے کی سب سے بڑی منڈی
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انڈیا گزشتہ کئی برس سے اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان انڈیا نے تقریباً 2.9 ارب ڈالر مالیت کا اسرائیلی دفاعی سامان درآمد کیا، جبکہ SIPRI کے مطابق 2016 سے 2020 کے درمیان انڈیا اکیلا اسرائیل کی دفاعی برآمدات کا 43 فیصد وصول کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔
اب یہی تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں اسرائیلی کمپنیاں صرف انڈیا کو ہتھیار فروخت نہیں کریں گی بلکہ انڈیا میں ہی ان کی تیاری بھی کریں گی۔
خریدار سے شراکت دار بننے کا سفر
انڈیا کا اسرائیلی اسلحے کا بڑا خریدار بننا اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم اس سے بھی زیادہ اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب انڈیا اسرائیلی دفاعی صنعت کی سپلائی چین کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہی تبدیلی اس تعلق کو معمول کی دفاعی تجارت سے نکال کر ایک اسٹریٹجک صنعتی اتحاد میں تبدیل کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت کسی ایک یا 2 برس کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایسے تعلقات کا تسلسل ہے جو ابتدا میں خفیہ رہے، بعد میں باضابطہ سفارتی روابط میں تبدیل ہوئے اور اب مشترکہ دفاعی پیداوار تک جا پہنچے ہیں۔
تعلقات کی اصل بنیاد کب رکھی گئی؟
انڈیا اور اسرائیل کے موجودہ دفاعی تعلقات کی جڑیں 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام سے بھی پہلے کی ہیں۔
رپورٹ میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور انڈین خارجہ و سلامتی پالیسی پر تحقیق کرنے والے پروفیسر نکولس بلاریل کی کتاب The Evolution of India’s Israel Policy کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون اچانک شروع نہیں ہوا تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے خفیہ روابط، دفاعی ضرورتوں اور باہمی مفادات کا نتیجہ تھا۔
فیکٹ باکس
بلاریل کے مطابق 1992 میں سفارتی تعلقات کا قیام دراصل پہلے سے موجود تعلقات کو صرف باضابطہ شکل دینے کے مترادف تھا، کیونکہ انڈیا اپنی مختلف جنگوں اور دفاعی بحرانوں کے دوران اسرائیل سے خاموشی سے تعاون حاصل کرتا رہا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق 1962 میں چین کے خلاف جنگ میں شکست کے بعد انڈیا کو فوری طور پر جدید اسلحے کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کے بعد اس نے اسرائیل سے رابطہ کیا، حالانکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔
اسی دور سے انڈیا اور اسرائیل کے خفیہ دفاعی تعلقات کا وہ سفر شروع ہوا، جو بعد ازاں جنوبی ایشیا کی سیاست اور خطے کے اسٹریٹجک توازن پر اثر انداز ہونے والی شراکت داری میں تبدیل ہو گیا۔
1962 کی جنگ نے انڈیا کی دفاعی سوچ کیسے بدلی؟
انڈیا اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون کی بنیاد 1992 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے تقریباً 3 دہائیاں پہلے پڑ چکی تھی۔
اس دور میں ایک دلچسپ تضاد موجود تھا۔ ایک طرف انڈیا عالمی سطح پر خود کو عدم وابستگی (Non-Aligned Movement) کا علمبردار اور فلسطینی عوام کا حامی ظاہر کرتا تھا، جبکہ دوسری جانب جب بھی اسے جنگی حالات یا دفاعی بحران کا سامنا ہوتا، وہ خاموشی سے اسرائیل سے مدد لینے کی کوشش کرتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہی دہرا طرزِ عمل بعد کی کئی دہائیوں تک انڈیا کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا حصہ بنا رہا۔
اہم نکات
1962 کی چین۔انڈیا جنگ اور اسرائیل سے پہلی عسکری مدد
1962 میں چین کے ہاتھوں جنگی شکست نے انڈیا کی دفاعی حکمت عملی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔
اس وقت وزیراعظم جواہر لعل نہرو بظاہر عدم وابستگی اور نوآبادیاتی نظام کی مخالفت پر مبنی خارجہ پالیسی کے حامی تھے، تاہم میدان جنگ میں شکست کے بعد انہیں فوری طور پر جدید اسلحے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
نکولس بلاریل کی کتاب کے مطابق نہرو نے اسی پس منظر میں اسرائیل سے عسکری مدد کی درخواست کی۔
اُس وقت اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون کی سفارش پر اُس وقت کی وزیر خارجہ گولڈا مئیر نے انڈیا کو بھاری مارٹر گنز اور ان کا اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دی۔
بعد میں سامنے آنے والی بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انڈیا چاہتا تھا کہ اسلحہ ایسی صورت میں بھیجا جائے جس سے اسرائیل کا نام ظاہر نہ ہو، تاہم اسرائیل نے اسلحہ اپنی قومی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے بھیجنے پر اصرار کیا۔
اگرچہ انڈین حکومت نے عوامی سطح پر اس تعاون کا اعتراف نہیں کیا، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی جانب سے اعتراض کے بعد انڈیا نے بظاہر مزید اسرائیلی اسلحہ وصول نہ کرنے کا تاثر دیا، لیکن پس پردہ رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
خفیہ ملاقاتیں اور انکار کی پالیسی
جنوری 1963 میں اسرائیلی فوج کے عسکری انٹیلی جنس سربراہ اور اسرائیلی فوج کے آپریشنز برانچ کے سربراہ نے خفیہ طور پر نئی دہلی کا دورہ کیا تاکہ مستقبل کے دفاعی تعاون پر بات چیت کی جا سکے، تاہم اس ملاقات کی خبر میڈیا تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق انڈین حکومت نے فوری طور پر اس دورے کی تردید کر دی اور مذاکرات کسی مستقل ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل نہ ہو سکے۔
اس واقعے نے ایک ایسا طرزِ عمل متعارف کرایا جو بعد کی کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ یعنی دفاعی اور انٹیلی جنس سطح پر تعاون، لیکن عوامی سطح پر اس سے انکار۔
انڈیا اسرائیل اسٹریٹجک گٹھ جوڑ
روایتی اسلحے کی خریداری سے مشترکہ دفاعی پیداوار اور جوہری پروگرام کو لاحق خطرات کا جائزہ
انڈیا اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات خریدار اور فروخت کنندہ کے روایتی رشتے سے نکل کر اب ایک گہرے عسکری و صنعتی اتحاد میں تبدیل ہو چکے ہیں، جو خطے کے توازن کو تبدیل کر رہا ہے۔
🤝 خفیہ عسکری تعاون کا آغاز
1962چین کے خلاف جنگ میں شکست کے بعد انڈیا نے اسرائیل سے فوری عسکری مدد مانگی۔ اسرائیل نے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود بھاری مارٹر گنز فراہم کیں، جس سے پس پردہ طویل المدتی اسٹریٹجک روابط کی بنیاد پڑی۔
🚀 کہوٹہ ایٹمی مرکز کا متنازع منصوبہ
1980اسرائیل نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو ابتدائی مراحل میں ناکام بنانے کے لیے کہوٹہ ایٹمی مرکز پر مشترکہ فضائی حملے اور انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش کی، جسے انڈیا نے پاکستان کے شدید جوابی ردعمل کے خوف سے قبول نہیں کیا۔
💥 کارگل جنگ اور تکنیکی موڑ
1999کارگل جنگ کے دوران اسرائیلی عسکری ماہرین نے انڈین جنگی طیاروں پر جدید لائٹننگ ٹارگٹنگ پوڈز اور لیزر گائیڈڈ نظام نصب کیے، جس نے چوٹیوں پر موجود پاکستانی پوزیشنوں کو نشانہ بنانے میں انڈین فضائیہ کی مدد کی۔
🏭 سپلائی چین اور مشترکہ پیداوار
2025مودی حکومت کے تحت انڈین فیکٹریاں اب اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن چکی ہیں۔ حیدرآباد میں ہرمیس ڈرونز کے ڈھانچے اور آئرن ڈوم کے تامیر انٹرسیپٹر میزائلوں کی مشترکہ مقامی پیداوار پر کام جاری ہے۔
📊 انڈین منڈی میں اسرائیلی دفاعی برآمدات کا حصہ
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
چین کی جنگ کے بعد انڈین خارجہ پالیسی میں تبدیلی
امریکی انڈیانا یونیورسٹی کے پروفیسر سومیت گنگولی کا کہنا ہے کہ 1962 کی جنگ صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہی نہیں بلکہ انڈیا کی پوری خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق گنگولی انڈین خارجہ پالیسی کو تین مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔
پہلا مرحلہ 1947 سے 1962 تک کا تھا، جس میں نظریاتی سیاست، عدم وابستگی اور نوآبادیاتی نظام کی مخالفت غالب رہی۔
دوسرا مرحلہ 1962 کی شکست کے بعد شروع ہوا، جب انڈیا نے فوجی خودانحصاری اور عسکری طاقت بڑھانے پر توجہ دینا شروع کی، اگرچہ نہرو کی خارجہ پالیسی کا کچھ حصہ برقرار رہا۔
تیسرا مرحلہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آیا، جب انڈین خارجہ پالیسی میں قومی مفاد، حقیقت پسندی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔
یشونت سنہا: نظریات سے زیادہ قومی مفاد اہم
الجزیرہ نے انڈیا کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کے حوالے سے لکھا ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا کی خارجہ پالیسی پر تحریک آزادی اور نظریاتی سیاست کا گہرا اثر تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی کو عالمی طاقت کے توازن اور زمینی حقائق کے مطابق اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑی۔
سنہا کے مطابق چین کے خلاف شکست کے بعد انڈیا نے اسرائیل کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنا شروع کیا جو اسے جدید اسلحہ، دفاعی مہارت اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کر سکتا تھا۔
اگرچہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔
1965 کی پاکستان۔انڈیا جنگ اور اسرائیلی اسلحہ
1965 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے دوران بھی نئی دہلی نے اسرائیل سے مدد طلب کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کئی مغربی ممالک نے دونوں ملکوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے بعد اسرائیل نے انڈیا کو محدود تعداد میں 160 ملی میٹر مارٹر گنز اور ان کا اسلحہ فراہم کیا۔
اگرچہ یہ اسلحہ جنگ کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں تھا، تاہم انڈین فوج کے اندر اسرائیل کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مشکل وقت میں اسرائیل ایک قابل اعتماد دفاعی شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔
موساد سے خفیہ رابطے
رپورٹ کے مطابق 1968 میں انڈیا نے اپنی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ (RAW) قائم کی۔
الجزیرہ نے کتاب India and Israel: Building a Strategic Partnership کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے را کے پہلے سربراہ رام ناتھ کاؤ کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی اجازت دی۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی رابطے مغربی یورپ میں موجود انڈین افسروں کے ذریعے قائم کیے گئے، جبکہ بعد میں موساد نے جنوبی امریکہ کے ایک کاروباری شخصیت کے بھیس میں اپنا رابطہ افسر نئی دہلی میں تعینات کیا۔
یہ تمام سرگرمیاں اس وقت ہو رہی تھیں جب دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔
پاکستان: انڈیا اسرائیل خفیہ تعاون کا محور
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا او اسرائیل کے درمیان اس خفیہ تعاون کا بنیادی محور پاکستان تھا۔
الجزیرہ کے مطابق انڈیا نے موساد کی انٹیلی جنس مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھایا، اگرچہ یہ تعاون کسی مکمل انٹیلی جنس اتحاد میں تبدیل نہیں ہوا بلکہ معلومات اور تجربات کے محدود تبادلے تک ہی رہا۔
رپورٹ میں اس پہلو کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تعاون ایسے وقت میں شروع ہوا جب اندرا گاندھی 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل پر کھل کر تنقید بھی کر رہی تھیں، خاص طور پر غزہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل انڈین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد۔
اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر انڈین خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کے درمیان موجود واضح فرق کو نمایاں کیا۔
1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کا قیام
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 1971 کی پاک۔انڈیا جنگ میں اسرائیل نے انڈیا کو دوبارہ دفاعی امداد فراہم کی۔
رپورٹ میں نکولس بلاریل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے انڈیا کو فضائی راستے سے مارٹر گنز، گولہ بارود اور تربیت یافتہ ماہرین فراہم کیے تاکہ انڈین فوج ان ہتھیاروں کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکے۔
☢️ اسرائیل۔انڈیا گٹھ جوڑ اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام کہوٹہ، خفیہ دفاعی تعاون اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف مبینہ منصوبے کا تاریخی پس منظر
بلاریل یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسرائیل نے بالواسطہ طور پر مکتی باہنی کی مدد بھی کی، جو اس وقت مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کے خلاف برسرپیکار تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اسرائیل ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے نئی ریاست کو تسلیم کیا، اگرچہ ڈھاکہ نے اس کے جواب میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق متنازع منصوبہ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 1980 کی دہائی میں بعض رپورٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے انڈیا کو پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ان اطلاعات میں کہا گیا کہ اسرائیل پاکستان کے جوہری پروگرام کو اس کے ابتدائی مراحل میں ہی ناکام بنانے کے لیے انڈیا کو فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر آمادہ تھا، جیسا کہ اسرائیل نے 1981 میں عراق کے اوسیراک ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے دوران کیا تھا۔
انہی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انڈیا نے اس منصوبے کو اس خدشے کے پیش نظر قبول نہیں کیا کہ پاکستان اس کا بھرپور جوابی ردعمل دے سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں جنگ بھڑکنے کا خطرہ تھا۔
اسی دوران رپورٹ کے مطابق انڈین نیشنل سکیورٹی گارڈ (NSG)، جو 1984 میں قائم کی گئی، نے اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے شاباک سے وی آئی پیز کی حفاظت اور انسداد دہشت گردی سے متعلق تربیت بھی حاصل کی۔
🇧🇩 بنگلہ دیش کا قیام اور بھارتی کردار 1971 کی جنگ، مکتی باہنی، بھارتی فوجی مداخلت اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پس منظر
1992 میں سفارتی تعلقات، خفیہ روابط سے کھلی شراکت داری تک
تقریباً 3 دہائیوں تک خفیہ عسکری اور انٹیلی جنس تعاون جاری رہنے کے بعد 1992 میں انڈیا اور اسرائیل نے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی اچانک پالیسی تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ان روابط کو سرکاری شکل دینے کا عمل تھا جو برسوں سے پس پردہ جاری تھے۔
اس وقت انڈیا کی قیادت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا مطلب لازماً فلسطین یا عرب ممالک سے تعلقات ختم کرنا نہیں۔
اسی سوچ نے نئی دہلی کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی جہت پیدا کی، جسے بعد میں کئی انڈین پالیسی سازوں نے ’زیرو سم گیم‘ (Zero-Sum Game) کے خاتمے سے تعبیر کیا۔
’زیرو سم گیم‘ کا خاتمہ کیا تھا؟
مشرق وسطیٰ امور کے ماہر اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر پی آر کماراسوامی کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک انڈیا کی خارجہ پالیسی اس تصور کے گرد گھومتی رہی کہ اگر وہ اسرائیل سے تعلقات بڑھائے گا تو عرب دنیا اور فلسطین کی حمایت متاثر ہوگی۔
کماراسوامی کے مطابق 1992 میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے اس سوچ کو تبدیل کیا۔ نئی دہلی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے جبکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست نہیں بلکہ انڈیا کے اپنے داخلی اور اسٹریٹجک مفادات بھی کارفرما تھے۔
عرب دنیا سے مایوسی بھی ایک سبب؟
رپورٹ میں پی آر کماراسوامی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انڈیا کے بعض پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ عرب ممالک نے انڈیا کو اس وقت خاطر خواہ سیاسی یا عسکری حمایت فراہم نہیں کی جب اسے چین اور پاکستان کے ساتھ جنگوں کا سامنا تھا۔
کماراسوامی اس صورتحال کو ’یک طرفہ محبت‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق 1962 کی چین۔انڈیا جنگ کے دوران عرب ممالک نے غیر جانبداری اختیار کی، جبکہ 1965 اور 1971 کی پاک۔انڈیا جنگوں میں بیشتر عرب ممالک پاکستان کے قریب دکھائی دیے۔
🛡️ انڈیا اور اسرائیل کے اسلحہ جاتی تعلقات ہتھیاروں کی خریداری، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی منتقلی اور دفاعی صنعت کا بڑھتا ہوا اتحاد
اس کے برعکس اسرائیل نے مختلف مواقع پر انڈیا کو خفیہ طور پر دفاعی امداد فراہم کی، جس کے باعث انڈین فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے مزید مضبوط ہوئی۔
بلاریل: اصل تبدیلی انڈیا کے اندر ہوئی
الجزیرہ کے مطابق پروفیسر نکولس بلاریل اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔
بلاریل کے مطابق انڈیا کا اسرائیل کے قریب آنا صرف عرب دنیا کے رویے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی بنیادی وجہ انڈین ریاست کے اندر مختلف اداروں کی سوچ میں موجود فرق تھا۔
وزارت خارجہ اور سیاسی قیادت فلسطین کی حمایت اور عدم وابستگی کی پالیسی برقرار رکھنا چاہتی تھی، جبکہ فوج، انٹیلی جنس ادارے اور معاشی حلقے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کو انڈیا کے قومی مفاد کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔
یہی داخلی توازن آخرکار ایسی خارجہ پالیسی پر منتج ہوا جس میں انڈیا نے بیک وقت فلسطین کی حمایت بھی جاری رکھی اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات بھی غیر معمولی حد تک بڑھا دیے۔
سرد جنگ کے خاتمے نے بھی راستہ ہموار کیا
رپورٹ میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ہرش پنت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے نے بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کا ماننا ہے کہ پہلے انڈیا سوویت یونین کے قریب تھا جبکہ اسرائیل امریکہ کا اہم اتحادی سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ برقرار رہا۔
سرد جنگ ختم ہونے کے بعد نئی دہلی نے اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں سیاسی رکاوٹیں کم ہوتی چلی گئیں۔
الجزیرہ کے مطابق 1977 میں کانگریس پارٹی کی شکست اور جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد بھی اسرائیل کے ساتھ روابط بڑھانے کی خواہش میں اضافہ ہوا تھا۔
اسی عرصے میں اسرائیل کے اُس وقت کے وزیر خارجہ موشے دایان نے خفیہ طور پر انڈیا کا دورہ کیا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔
کارگل جنگ نے انڈیا اسرائیل تعلقات کو نئی رفتار دی
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اگر 1992 نے دونوں ممالک کے تعلقات کو باضابطہ شکل دی تو 1999 کی کارگل جنگ نے انہیں حقیقی معنوں میں اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل دیا۔
رپورٹ کے مطابق کارگل میں انڈین فضائیہ کو پاکستان کی بلند چوٹیوں پر قائم پوزیشنوں کو نشانہ بنانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ اس وقت انڈین طیارے ان گائیڈڈ (Unguided) بم استعمال کر رہے تھے، جس کی وجہ سے اہداف کو نشانہ بنانا مشکل تھا اور طیاروں کو بھی دشمن کے قریب جانا پڑتا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال میں انڈیا نے اسرائیلی ماہرین سے مدد حاصل کی۔
لائٹننگ پوڈ اور لیزر گائیڈڈ بم
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ماہرین نے انڈین میراج 2000 لڑاکا طیاروں پر Litening Targeting Pods نصب کرنے میں مدد دی۔
یہ ایک جدید نظام ہے جس میں کیمرے، سینسرز اور لیزر ڈیزائنیشن ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے، جس کے ذریعے پائلٹ دُور سے ہدف کی درست نشاندہی کرتا ہے اور بعد ازاں لیزر گائیڈڈ بم اسی نشانے کو فالو کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 1999 میں انڈیا نے پہلی مرتبہ اسی نظام کی مدد سے پاکستانی پوزیشنوں پر لیزر گائیڈڈ بم استعمال کیے، جسے انڈین فضائیہ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق کارگل جنگ کے بعد انڈین فوج میں اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی پر اعتماد مزید بڑھ گیا۔
باراک-1، اسرائیلی دفاعی نظام کی آمد
رپورٹ کے مطابق 2000ء میں انڈین بحریہ نے اسرائیل سے باراک-1 فضائی دفاعی نظام خریدا۔
یہ مختصر فاصلے تک دفاع فراہم کرنے والا ایسا میزائل نظام تھا جو دشمن کے جنگی طیاروں اور بحری جہاز شکن میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔
فالکن ریڈار، انڈین فضائی نگرانی میں انقلاب
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 2004 میں انڈیا نے اسرائیل سے تقریباً 1.1 ارب ڈالر مالیت کے فالکن (Phalcon AWACS) فضائی نگرانی کے نظام خریدے۔
یہ جدید ریڈار نظام روسی الیوشن-76 طیاروں پر نصب کیے گئے۔
فالکن صرف ریڈار نہیں بلکہ ایک مکمل فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہے، جو دشمن کے طیاروں، میزائلوں، الیکٹرانک سگنلز اور فضائی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔
اس نظام کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات براہ راست زمینی کمانڈ سینٹرز اور لڑاکا طیاروں تک پہنچتی ہیں، جس سے فضائی جنگ کی منصوبہ بندی اور ردعمل کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
خریداری سے مشترکہ تیاری تک
رپورٹ کے مطابق 2006 دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
اسی سال انڈیا کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کے درمیان ایک مشترکہ معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد دونوں ممالک کی بحری افواج کے لیے جدید میزائل دفاعی نظام تیار کرنا تھا۔
الجزیرہ کے مطابق اسی تعاون کے نتیجے میں باراک-8 میزائل سسٹم وجود میں آیا، جو بعد میں انڈیا کی فضائی اور بحری دفاعی صلاحیت کا اہم حصہ بن گیا۔
باراک-8 کی خصوصیات
رپورٹ کے مطابق باراک-8 دو بنیادی ورژنز میں تیار کیا گیا۔ ایک زمینی لانچنگ پلیٹ فارم کے لیے جبکہ دوسرا طویل فاصلے تک مار کرنے والا بحری ورژن۔
الجزیرہ کے مطابق اس میزائل کی خاص بات اس کی Dual Pulse Rocket Motor ٹیکنالوجی ہے، جس کی مدد سے یہ دورانِ پرواز اپنی رفتار برقرار رکھتے ہوئے جدید فضائی خطرات کا تعاقب کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باراک-8 دونوں ممالک کے درمیان صرف دفاعی تجارت نہیں بلکہ مشترکہ تحقیق، مشترکہ سرمایہ کاری اور مشترکہ صنعتی پیداوار کی علامت بن گیا۔
انڈیا کی دفاعی حکمت عملی میں اسرائیل کی بڑھتی اہمیت
1992 سے لے کر 2014 تک کے عرصے میں اسرائیل انڈیا کے لیے صرف ایک اسلحہ فروش ملک نہیں رہا بلکہ وہ انڈین فوج کی جدت کاری، نگرانی کے نظام، فضائی دفاع، میزائل ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور مشترکہ تحقیق کا اہم ترین شراکت دار بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے نے بعد میں نریندر مودی کے دور میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی، جس میں اسرائیلی دفاعی صنعت نے انڈین سرزمین پر اپنی پیداواری بنیادیں قائم کرنا شروع کر دیں۔
مودی دور میں دفاعی تعلقات کی نئی شکل
2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات نہ صرف زیادہ کھل کر سامنے آئے بلکہ انہیں انڈیا کی صنعتی اور دفاعی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔
اس دور میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے طے شدہ دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد تیز ہوا، نئے اسلحہ جاتی معاہدے ہوئے، جدید ڈرونز اور میزائل نظام خریدے گئے اور مقامی سطح پر مشترکہ پیداوار کے منصوبوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2019 کے درمیان اسرائیل روس کے بعد انڈیا کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا اور اس عرصے میں انڈیا نے اسرائیل کی بڑی دفاعی برآمدات کا تقریباً 45 فیصد خریدا۔
بعد ازاں 2019 سے 2023 تک بھی انڈیا اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار رہا اور اسرائیل کی مجموعی عسکری برآمدات میں اس کا حصہ تقریباً 37 فیصد رہا۔
الجزیرہ کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان اسرائیل انڈیا کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا، تاہم اسی عرصے میں بھی انڈیا اسرائیلی دفاعی صنعت کی سب سے بڑی بیرونی منڈی رہا اور اسرائیل کی مجموعی دفاعی برآمدات کا تقریباً 29 فیصد حصہ انڈیا نے خریدا۔
انڈین فیکٹریاں اسرائیلی سپلائی چین کا حصہ
مودی دور کی سب سے نمایاں تبدیلی صرف اسلحے کی خریداری میں اضافہ نہیں بلکہ یہ تھی کہ انڈیا خود اسرائیلی دفاعی صنعت کا پیداواری مرکز بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے اسرائیلی کمپنیاں اپنے ملک میں اسلحہ تیار کرکے انڈیا کو فروخت کرتی تھیں، لیکن اب انڈین صنعتیں اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے لیے پرزے، ذیلی نظام (Sub-systems) اور بعض مکمل دفاعی مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق مجوزہ ’تامیر‘ انٹرسیپٹر میزائل کی مشترکہ تیاری اسی حکمت عملی کا تازہ ترین مظہر ہے، جس کا مقصد صرف انڈین ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے ایک ایسا صنعتی مرکز قائم کرنا بھی ہے جو جنگی حالات میں متبادل پیداواری صلاحیت فراہم کر سکے۔
انڈین کمپنیوں کا اسرائیلی دفاعی صنعت سے بڑھتا تعلق
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد انڈین کمپنیاں اب اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ بن چکی ہیں۔
ان میں Premier Explosives Limited کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جو راکٹ موٹرز، وار ہیڈز، ٹھوس ایندھن اور انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد تیار کرتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس کمپنی نے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو ایسے اجزا فراہم کرنے کے معاہدے کیے جن میں ہیکسو جین (Hexogen/RDX) اور آکٹو جین (Octogen/HMX) جیسے ہائی انرجی ایکسپلوسیو مواد شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مواد بموں، میزائل وارہیڈز، بارودی سرنگوں اور بنکر شکن ہتھیاروں میں استعمال ہوتا ہے۔
لبنان کے پیجر دھماکوں سے متعلق رپورٹس
الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کے پیجرز میں ہونے والے دھماکوں میں استعمال ہونے والے مواد میں ہیکسو جین بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض اندازوں کے مطابق ہر پیجر میں تقریباً 20 گرام ہیکسو جین موجود تھا۔
تاہم الجزیرہ نے اس معاملے کو مختلف رپورٹس کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اسے ایک رپورٹ شدہ دعوے کے طور پر پیش کیا ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔
ہرمیس 900 ڈرون اور انڈیا کی پیداواری شراکت
انڈیا اور اسرائیل کے دفاعی تعاون کی ایک اور اہم مثال Adani-Elbit Advanced Systems India Limited ہے، جو انڈین اڈانی گروپ اور اسرائیلی کمپنی Elbit Systems کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں قائم اس کمپنی میں اسرائیلی Hermes-900 ڈرون کے ڈھانچے اور مختلف ذیلی نظام تیار کیے جاتے ہیں۔
الجزیرہ نے انڈین تحقیقی ویب سائٹ The Wire کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2019 سے 2023 کے درمیان اس کمپنی نے اسرائیل کو ایسے پرزے برآمد کیے جو 20 سے زائد Hermes-900 ڈرونز کی تیاری کے لیے کافی تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہی ڈرون اسرائیلی فضائیہ میں نگرانی، انٹیلی جنس اور ہدفی حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
غزہ جنگ اور انسانی حقوق پر سوالات
الجزیرہ نے غزہ کے المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2014 کی غزہ جنگ میں شہید فلسطینیوں میں بڑی تعداد اسرائیلی ڈرون حملوں کا نشانہ بنی تھی، جن میں Hermes سیریز کے ڈرون بھی استعمال ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معلومات کی بنیاد پر بعض ناقدین اڈانی اور اسرائیلی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری پر قانونی اور اخلاقی سوالات اٹھاتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اگر انڈین صنعت اسرائیلی فوج کی سپلائی چین کا حصہ بنتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات پر بھی بحث ہونی چاہیے۔
الجزیرہ نے یہ مؤقف ناقدین اور انسانی حقوق کے حلقوں کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
صرف ڈرون نہیں، اسرائیلی رائفلیں بھی انڈیا میں تیار ہونے لگیں
رپورٹ کے مطابق اڈانی اور اسرائیلی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے صرف ڈرونز تک محدود نہیں۔ اسی تعاون کے تحت Tavor، X-95، Galil اور Negev جیسے اسرائیلی ہتھیار بھی انڈیا میں تیار کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 2023 کے آخر میں غزہ میں Negev-7 مشین گن کا عملی استعمال کیا، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کی طاقتور گولیاں دیواروں اور ملبے میں بھی مؤثر انداز سے داخل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اہم نکات
مودی اور نیتن یاہو کے بارے میں مصنف کا تجزیہ
الجزیرہ کے مصنف احمد کامل نے رپورٹ کے اختتامی حصے میں بعض ماہرین کی آراء کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کچھ مبصرین اڈانی گروپ کے منصوبوں کو انڈیا اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے عسکری و صنعتی اتحاد کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیاسی سوچ نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید قریب لانے میں کردار ادا کیا۔
یہ تجزیہ الجزیرہ کی رپورٹ میں شامل مصنف اور حوالہ دیے گئے مبصرین کی رائے ہے، اسے کسی غیر جانب دار یا متفقہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کا حاصل
الجزیرہ کے مطابق انڈیا اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات کا سفر خفیہ اسلحہ معاہدوں، محدود انٹیلی جنس تعاون اور وقتی عسکری ضرورتوں سے شروع ہوا، پھر باضابطہ سفارتی تعلقات، مشترکہ تحقیق، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل سازی، فضائی دفاع، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور مشترکہ دفاعی پیداوار تک جا پہنچا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ انڈیا صرف اسرائیلی ہتھیاروں کا بڑا خریدار نہیں بلکہ اسرائیلی دفاعی صنعت کی سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ نیٹ ورک کا بھی اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی تبدیلی دونوں ممالک کے تعلقات کو روایتی خریدار اور فروخت کنندہ کے رشتے سے نکال کر ایک طویل المدتی اسٹریٹجک صنعتی شراکت داری میں تبدیل کر رہی ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر مصنف اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انڈیا ایک طرف سرکاری سطح پر فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون، مشترکہ پیداوار اور سپلائی چین میں اس کی شمولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مصنف کے مطابق یہی فرق انڈین سفارتی بیانیے اور عملی دفاعی پالیسی کے درمیان خلیج کو نمایاں کرتا ہے۔