ڈاکٹر ساجد خاکوانی
اسلام آباد
اسلام میں مہمان نوازی محض سماجی روایت نہیں بلکہ ایمان، ایثار اور اخلاص کا عملی اظہار ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مہمان کے احترام، 3 دن تک میزبانی اور میزبان پر بوجھ نہ بننے کی واضح تعلیم دی۔
حضرت ابو شریح قاضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن اور ایک رات تک اسے پرتکلف کھانا کھلائے اور 3 دن تک اس کی مہمان نوازی کرے، اس کے بعد جو کچھ دیا جائے وہ صدقہ ہے۔‘
آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اتنا قیام کرے کہ اسے مشقت میں ڈال دے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمہمان نوازی — اہم نکات ⌄
- ✓رسول اللہ ﷺ نے مہمان کے احترام کو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ جوڑا۔
- ✓پہلے دن خصوصی تواضع اور مجموعی طور پر تین دن تک مہمان نوازی کی تعلیم دی گئی ہے۔
- ✓تین دن کے بعد بھی مہمان کی خدمت کی جائے تو اسے صدقہ شمار کیا جاتا ہے۔
- ✓مہمان کو بھی میزبان کے حالات کا خیال رکھنا چاہئے اور ایسا قیام نہیں کرنا چاہئے جو بوجھ بن جائے۔
- ✓اسلامی معاشرت میں مہمان نوازی ایثار، محبت اور باہمی احترام کو مضبوط کرتی ہے۔
اس حدیث میں ایمان اور مہمان نوازی کے درمیان گہرا تعلق واضح کیا گیا ہے۔
رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو محض نام سے نہیں پکارا بلکہ فرمایا کہ ’جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔‘
گویا ایک مسلمان کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کائنات اور تمام وسائل کا حقیقی مالک مانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ دراصل اللہ کی عطا اور امانت ہے۔
مزید پڑھیں
جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ مال، رزق اور وسائل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر اسے ضرورت مندوں، مہمانوں اور اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے میں تنگی محسوس نہیں ہونی چاہئے۔
اسلام میں مال کو محض جمع کرتے رہنے کے بجائے اسے بھلائی کے کاموں میں استعمال کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
اس حدیث میں آخرت پر ایمان کا ذکر بھی اسی لیے کیا گیا ہے کہ
مسلمان اپنی نیکی کا اجر لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے چاہتا ہے۔
اگر کوئی شخص مہمان نوازی اس نیت سے کرے کہ مستقبل میں مہمان اس کا کوئی کام کردے گا، اسے فائدہ پہنچائے گا یا اس کی شہرت بڑھے گی تو ایسی نیکی میں اخلاص باقی نہیں رہتا۔
حقیقی مہمان نوازی وہ ہے جو صرف اللہ کی رضا اور اجر آخرت کی امید پر کی جائے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
مہمان نوازی کی اہمیت کا اندازہ ایک مشہور واقعے سے بھی ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک مسافر حاضر ہوا۔
آپﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کون اسے اپنے گھر مہمان بناکر لے جائے گا؟
ایک صحابیؓ اسے اپنے گھر لے گئے۔
گھر میں صرف ایک شخص کے لیے کھانا موجود تھا۔
انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ مہمان کے سامنے کھانا رکھ دو اور چراغ بجھا دو تاکہ مہمان یہ سمجھے کہ سب لوگ اس کے ساتھ کھا رہے ہیں۔
یوں انہوں نے خود بھوکے رہ کر تمام کھانا مہمان کو کھلا دیا۔
اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ قرآن مجید میں ان لوگوں کی تعریف فرمائی گئی جو اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اسلام میں ایثار اور مہمان نوازی کس قدر اہم ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISمہمان نوازی ایمان سے کیوں جڑی ہے؟ ⌄
اسلام میں مہمان نوازی صرف سماجی روایت نہیں بلکہ ایک ایمانی رویہ ہے۔
مسلمانوں کی تاریخ میں بھی مہمان نوازی ایک مضبوط معاشرتی روایت رہی ہے۔
ایک طویل دور تک مسلم شہروں میں آج کی طرح ہوٹلوں اور ریستورانوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ مسافروں اور اجنبیوں کو گھروں، مساجد، مسافر خانوں اور دیگر مقامات پر مہمان بنایا جاتا تھا۔
بعض علاقوں میں لوگ فجر یا عشاء کی نماز کے بعد مسافروں کو اپنے گھروں میں لے جانے کی دعوت دیتے تھے۔
حکمران اور صاحبِ حیثیت افراد شاہراہوں پر مسافر خانے بنواتے جہاں آنے والے مسافروں کو رہائش اور کھانا فراہم کیا جاتا۔
مدارس کے طلبہ کو بھی مقامی معاشرہ اپنا مہمان سمجھتا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتا۔ اس روایت سے امیر و غریب کے درمیان فاصلے کم ہوتے، محبت بڑھتی اور معاشرے میں باہمی تعاون مضبوط ہوتا تھا۔
★ OVERSEAS POST | LESSONصحابیؓ کا ایثار — سبق کیا ہے؟ ⌄
ایک صحابیؓ نے گھر میں محدود کھانا ہونے کے باوجود مہمان کو ترجیح دی اور خود اہلِ خانہ سمیت بھوکے رہے۔
- 1ایثار: اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔
- 2اخلاص: نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا۔
- 3مہمان کا احترام: محدود وسائل کے باوجود عزت اور محبت سے پیش آنا۔
- 4قرآنی قدر: ایسے لوگوں کی تعریف کی گئی جو اپنی حاجت کے باوجود دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں۔
جدید دور میں تجارتی نظام کے فروغ نے مہمان نوازی کی اس روایت کو متاثر کیا ہے۔
اب لوگوں کے گھروں کے دسترخوان محدود اور ہوٹلوں و ریستورانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ گھریلو مہمان نوازی صرف کھانا کھلانے کا نام نہیں بلکہ اس سے محبت، خلوص، قربت اور باہمی احترام پیدا ہوتا ہے۔
مہمان نوازی خاندانوں اور دوستوں کے تعلقات بھی مضبوط کرتی ہے۔
لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، مسائل پر گفتگو کرتے ہیں، مشورے کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔
اس کے برعکس تنہائی اور لوگوں سے دوری بہت سے نفسیاتی اور سماجی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
⌂ OVERSEAS POST | HISTORYاسلامی معاشرت میں مہمان نوازی ⌄
- •مسافروں کو گھروں، مساجد اور مسافر خانوں میں جگہ دینا ایک مضبوط معاشرتی روایت تھی۔
- •بعض علاقوں میں نماز کے بعد مسافروں کو گھروں میں لے جانے کی دعوت دی جاتی تھی۔
- •صاحبِ حیثیت افراد راستوں پر مسافر خانے اور کھانے کے انتظامات کرواتے تھے۔
- •مدارس کے طلبہ کو مقامی معاشرہ اپنا مہمان سمجھتا اور ان کے کھانے کا انتظام کرتا تھا۔
- •اس روایت سے امیر و غریب کے درمیان فاصلے کم اور تعلقات مضبوط ہوتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق پہلے دن مہمان کی خاص تواضع کی جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ میزبان اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرے بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق بہترین انتظام کرے۔
اگلے دو دن گھر میں جو کھانا تیار ہو، وہی عزت اور محبت کے ساتھ مہمان کو پیش کیا جائے۔
تین دن کے بعد بھی اگر مہمان قیام کرے تو اسے دیا جانے والا کھانا صدقہ شمار ہوتا ہے۔
✓ OVERSEAS POST | PRACTICAL GUIDEمیزبان کے لیے عملی رہنمائی ⌄
استقبال: مہمان کا خندہ پیشانی سے استقبال کریں۔
پہلا دن: اپنی استطاعت کے مطابق بہتر تواضع کریں، تکلف میں قرض یا مشکل نہ لیں۔
اگلے دو دن: گھر میں جو معمول کا کھانا ہو، محبت سے پیش کریں۔
احترام: مہمان کو وقت، جگہ اور آرام دیں۔
اخلاص: مہمان نوازی کو شہرت یا بدلے کی توقع سے پاک رکھیں۔
دوسری جانب مہمان کو بھی میزبان کی مالی اور گھریلو حالت کا خیال رکھنا چاہئے۔ اگر میزبان محدود وسائل رکھتا ہے تو مہمان کو ایسا طویل قیام نہیں کرنا چاہئے جو اس کے لیے بوجھ بن جائے۔
اسلامی تعلیمات میں مہمان نوازی صرف ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایمان، ایثار، محبت اور انسان دوستی کا عملی اظہار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے ساتھ جوڑا ہے۔