براہ راست نشریات

ترے ہی ذکر سے معمور ہے حیات مری!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
شکرگزاری
Picture of عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

انسان کی زندگی بے شمار نعمتوں سے گھری ہوئی ہے؛ زمین، آسمان، سورج، چاند، بارش، کھیتیاں اور زندگی کی بنیادی ضروریات سب ایک منظم نظام کے تحت اسے میسر ہیں۔
عزیز بلگامی اپنے مضمون میں یاد دلاتے ہیں کہ نعمت کی قدر اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وہ چھن جائے، جبکہ حقیقی خوش حالی شکر، عاجزی اور رب کی عطاؤں کے ادراک میں پوشیدہ ہے۔

1/2

کسی کی معاشی حالت جیسی کچھ بھی ہو، ایک ایک انسان رب تعالیٰ کے نزدیک ایک منفرد وجود رکھتا ہے۔ 

اس کا جو چہرہ بنایا، ویسا چہرہ اُس نے کسی کا بھی نہیں بنایا اور نہ کبھی بنائے گا۔ 

اگر جڑواں بچے بھی ہوں تو اُن کے چہرے سرسری نظر سے ایک جیسے دکھائی دیں گے، لیکن یہ بالکل یکساں نہیں ہوں گے اور کسی نہ کسی پہلو سے یہ الگ الگ ہی ہوں گے۔

اس کی انگلیوں کے نشان بھی ایسے بنائے کہ کسی اور کی انگلیوں سے کوئی میل نہ کھائیں۔ جدید میڈیکل سائنس تو اب اِس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بالوں کی موٹائی سے لے کر اُس کی جڑوں تک، اُس کی آنکھ کے سائز سے لے کر اُس کے دیدے کی گولائی تک کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا مماثل نہیں ہو سکتا، یعنی ہر انسان اپنی جگہ انفرادیت رکھتا ہے۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • انسان کی آمد سے پہلے ہی اس کی بنیادی ضروریات کے لیے ایک مکمل قدرتی نظام موجود تھا۔
  • سورج، چاند، زمین، بارش، کھیتیاں اور باغات انسانی زندگی کی خدمت کرنے والے مربوط نظام کا حصہ ہیں۔
  • انسان اکثر نعمت کی موجودگی میں اس کی قدر نہیں کرتا؛ محرومی قدر کا احساس دلاتی ہے۔
  • شکرگزاری انسان میں عاجزی، نرم دلی اور رب کی عطاؤں کا شعور پیدا کرتی ہے۔
  • ندامت اور رجوع انسان کو رب کی رحمت کے قریب لے جانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
  • اللہ کی نعمتیں اتنی وسیع ہیں کہ انسان ان کا مکمل شمار نہیں کرسکتا۔
overseaspost.net

پھر اِس زمین پر بسنے والا ہر انسان الٰہی سیکیورٹی کے حصار کے ساتھ زندہ رہے گا چاہے وہ نیند کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔ 

ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کی یہ خصوصی نعمت ہے جس کے حصار میں وہ محفوظ و مامون ہے۔

 یہ تحفظ کسی سیکیورٹی پرسنل فراہم کرنے والی کمپنی کی طرح نہیں کہ جس کے گارڈ دولت مندوں کی دولت یا اقتدار کی قوت کے بل بوتے پر فراہم کر لیے جاتے ہیں۔ 

اِس کے باوجود خود یہ گارڈ ہر وقت اپنی جان کے خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں بلکہ کبھی کبھی مارے بھی جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

جس تحفظ کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہ اللہ کی فراہم کردہ سیکیورٹی ہے۔ 

اِس کا تذکرہ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں کیا ہے:

’کوئی شخص ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہوں۔‘ (الطارق)

یہ وہ سیکیورٹی ہے جو رب تعالیٰ کی فراہم کردہ ہے جو ہر اولادِ آدم

 علیہ السلام کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کی نظر میں اُس کا ہر بندہ وی آئی پی ہے کیونکہ وہ اس کی شاہکار مخلوق ہے جسے رب نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا ہے۔ 

اسے اپنی مخلوق سے بہت پیار ہے۔ 

iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
موضوعاللہ کی نعمتیں اور شکرگزاری
مصنفعزیز بلگامی — بنگلور
مرکزی خیالانسان کے گرد موجود کائناتی نظام رب کی رحمت کا مظہر ہے
بنیادی سوالکیا انسان اپنی نعمتوں کو پہچانتا اور ان کا شکر ادا کرتا ہے؟
قرآنی حوالہسورۃ ابراہیم
حدیثی حوالہامام رزینؒ، بحوالہ جامع الاصول
اہم پیغامنعمت کی قدر اس کے چھن جانے کے بعد نہیں بلکہ موجودگی ہی میں کرنی چاہئے۔
overseaspost.net

اس کے پاس مخلوق کے لیے انتہائی مہربانیاں اور رحمت کے خزانے ہیں۔ 

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محض اُس کے رحم ہی کا طفیل ہے کہ ہم صحت مندی کے ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

رب تعالیٰ نے زمین کی دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ایک زبردست نعمت بھی ہمیں عطا کی ہے، اور وہ عقل کی نعمت ہے۔ 

یہ ہماری عقل ہی ہے جس کے سبب دیگر مخلوقات پر ہمیں فوقیت حاصل ہے۔ 

کتنے شرم کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ ہمارے پاس ہے، پھر بھی ہم اپنے آپ کو غریب کہتے ہیں یا ہمارے مادہ پرست سرپرستوں یا رہنماؤں نے ہم پر تصورِ غربت تھوپ دیا ہے۔

آخر ہم کیوں غربت یا پسماندگی کے نام پر اپنی کمیوں کا رونا روتے پھرتے ہیں؟ 

کبھی ہم رب کی جانب سے عطا کردہ اِن نعمتوں پر غور بھی کر پاتے ہیں؟ 

یہ جو ہمیں دو آنکھیں اُس نے عطا کی ہیں، کوئی ہے جو اِن کی قیمت مقرر کر سکے یا خریدنے کی جرأت کر سکے؟ 

OVERSEAS POST | REFLECTIONکائنات کا مربوط نظام

مضمون انسان کو اپنے گرد پھیلی ہوئی ان چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے جنہیں وہ روزمرہ زندگی میں معمول سمجھ لیتا ہے۔

سورج اور چاندروشنی، وقت اور زندگی کے تسلسل کی علامت
زمینمسلسل حرکت کے باوجود انسانی زندگی کے لیے مستحکم ٹھکانہ
بادل اور بارشپانی، فصل اور رزق کے نظام کا اہم ذریعہ
کھیت اور باغاتغذا اور انسانی ضرورتوں کی تکمیل کا ظاہری وسیلہ

مرکزی نکتہ: یہ سب الگ الگ مظاہر نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ایسا نظام ہیں جو زندگی کو ممکن بناتا ہے۔

overseaspost.net

اس نے ہمیں دو پاؤں اور دو ہاتھ جو عطا کیے ہیں، ذرا اِن کی ساخت تو ملاحظہ کریں کہ ہزاروں کمپیوٹروں پر یہ کس قدر بھاری ہیں، بلکہ اِن ہی ہاتھوں اور انگلیوں سے ہم زبردست کمپیوٹر بنا لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی
نظر میں
اُس کا ہر بندہ
وی آئی پی ہے
کیونکہ وہ اس کی
شاہکار مخلوق ہے
جسے رب نے
اپنے دستِ قدرت
سے بنایا ہے

پھر ذرا ہم اپنی قوتِ سماعت ہی کو دیکھ لیں تو اِس نعمت کی عظمت کا احساس کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔
پھر دل و دماغ کی کیفیتوں میں پوشیدہ نعمتوں کو دیکھیں تو بارِ تشکر سے جبینِ نیاز جھک جائے۔
اِن بیش بہا نعمتوں سے فیض یابی کا انسانی ردعمل کیا ہے؟
معبودِ برحق کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
’اور وہی اللہ ہے جس نے تمہیں سماعت، بصارت اور کیفیتِ دل عطا کی، تم میں بہت تھوڑے ہیں جو شکر ادا کرتے ہو۔‘ (المومنون)
واضح رہے کہ شکر بجا لانے میں خود ہمارا ہی فائدہ ہے کہ اگر ہم اِن نعمتوں کو یاد کرتے ہیں تو ہم میں صبر و شکر کے جذبات جنم لیں گے، احساسِ محرومی جاتا رہے گا، ہماری زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہوگی۔
ہماری سوچ کو مثبت رخ میسر ہوگا، منفی جذبات رخصت ہو جائیں گے اور توکل باللہ فزوں تر ہوگا۔
ارشاد فرمایا گیا:
’حضرت سلیمانؑ کا اپنے رب کی نعمتوں پر یہ اعلان تھا کہ یہ سب میرے رب کے فضل سے ہے۔
دراصل اس طرح وہ مجھے آزماتا ہے، میرا امتحان لیتا ہے کہ آیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری اور ناقدری کرتا ہوں!
اور جو کوئی شکر بجا لاتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے ہی مفاد میں مشکور بنتا ہے اور جو ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہے تو بے شک میرا رب ہر طرح سے غنی، ہر ضرورت سے بے نیاز اور بڑے اکرام والا ہے۔‘ (النمل)

!OVERSEAS POST | HUMAN BEHAVIOURنعمت موجود ہو تو انسان کیوں بھول جاتا ہے؟

مضمون کے مطابق انسان کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ موجود نعمت کو بہت جلد معمول سمجھ لیتا ہے۔ صحت، صلاحیت، سکون یا سہولت جب مسلسل میسر رہے تو اس کی قدر کا احساس مدھم پڑ جاتا ہے۔

  • 1قابلیت اور صلاحیت پر ضرورت سے زیادہ ناز انسان کو اصل عطا کرنے والے سے غافل کرسکتا ہے۔
  • 2بار بار ملنے والی نعمت انسان کے لیے اتنی مانوس ہوجاتی ہے کہ وہ اسے اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔
  • 3یہی غفلت شکرگزاری کی جگہ بے نیازی اور احسان فراموشی پیدا کرسکتی ہے۔
overseaspost.net

اس میں اللہ رب العزت کے ایک جلیل القدر نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے اظہارِ سپاس کا ایک مہتمم بالشان نمونہ ملتا ہے کہ کس طرح وہ رب تعالیٰ کی نعمتوں پر اپنے ردعمل کا اظہار فرماتے ہیں۔ 

وہ ان نعمتوں کا کریڈٹ صرف اللہ کے فضل کو دیتے ہیں۔ 

وہ فوراً عرض فرماتے ہیں:

’یہ سب مجھ پر میرے رب کا فضل ہے، اس طرح وہ مجھے آزماتا ہے کہ میں شکرگزاری والے اعمال کرتا ہوں یا ناشکری والے۔‘

OVERSEAS POST | LESSONجب نعمت چھن جائے تو کیا بدلتا ہے؟

مضمون ایک نفسیاتی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے: بعض اوقات انسان کو کسی نعمت کی اصل قدر اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ اس سے محروم ہوجاتا ہے۔

پہلا مرحلہنعمت کی موجودگی میں بے توجہی
دوسرا مرحلہنعمت کے چھننے پر کمی کا شدید احساس
تیسرا مرحلہاپنی سابقہ بے قدری کا ادراک
چوتھا مرحلہانسان کا ندامت اور رجوع کی طرف مائل ہونا

سبق: قدر کا بہترین وقت محرومی کے بعد نہیں، نعمت کی موجودگی میں ہے۔

overseaspost.net

اپنے وقت کے سپر پاور کے سربراہ کی دعا قرآن کریم میں ایک اور جگہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے:

’نعمتوں کے حصول پر حضرت سلیمان علیہ السلام دست بہ دعا ہو جاتے ہیں: اے میرے رب! مجھے توفیق دیجیو کہ میں شکر ادا کروں آپ کی نعمتوں کا، وہ نعمتیں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور یہ کہ میں آپ کی رضا کے نیک کام سرانجام دینے والا بنوں اور مجھے اپنی رحمت کے حوالے سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیجیے۔‘ (النمل)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی مذکورہ سنت قرآن میں درج ہی اِس لیے ہے کہ اِس میں ہم درس ہائے عبرت تلاش کر لیں کہ اِس قدر عظیم سلطنت، ایسی عظیم کہ چشمِ فلک نے ایسی سلطنت پھر کبھی نہیں دیکھی، کی خاکساری کا کیا عالم تھا۔

آج زمین کے ایک خطے پر ووٹوں کے توڑ جوڑ سے برسرِ اقتدار آنے والے دورِ جدید کے لیڈران کی اکڑ، تکبر اور گھمنڈ کو تو ذرا دیکھیں کہ زمین پر اِن کے پیر نہیں ٹکتے۔ 

بھول کر بھی اپنے رب کا شکر نہیں بجا لاتے اور ایک پیغمبرِ وقت ہے کہ اپنی شہنشاہیت کے جاہ و جلال کا کوئی اثر اپنی خاکساری اور تواضع پر پڑنے نہیں دیتا۔

جاری ہے

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄