انسان کی زندگی بے شمار نعمتوں سے گھری ہوئی ہے؛ زمین، آسمان، سورج، چاند، بارش، کھیتیاں اور زندگی کی بنیادی ضروریات سب ایک منظم نظام کے تحت اسے میسر ہیں۔
عزیز بلگامی اپنے مضمون میں یاد دلاتے ہیں کہ نعمت کی قدر اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وہ چھن جائے، جبکہ حقیقی خوش حالی شکر، عاجزی اور رب کی عطاؤں کے ادراک میں پوشیدہ ہے۔
پھر ذرا ہم اپنی قوتِ سماعت ہی کو دیکھ لیں تو اِس نعمت کی عظمت کا احساس کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔
پھر دل و دماغ کی کیفیتوں میں پوشیدہ نعمتوں کو دیکھیں تو بارِ تشکر سے جبینِ نیاز جھک جائے۔
اِن بیش بہا نعمتوں سے فیض یابی کا انسانی ردعمل کیا ہے؟
معبودِ برحق کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
’اور وہی اللہ ہے جس نے تمہیں سماعت، بصارت اور کیفیتِ دل عطا کی، تم میں بہت تھوڑے ہیں جو شکر ادا کرتے ہو۔‘ (المومنون)
واضح رہے کہ شکر بجا لانے میں خود ہمارا ہی فائدہ ہے کہ اگر ہم اِن نعمتوں کو یاد کرتے ہیں تو ہم میں صبر و شکر کے جذبات جنم لیں گے، احساسِ محرومی جاتا رہے گا، ہماری زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہوگی۔
ہماری سوچ کو مثبت رخ میسر ہوگا، منفی جذبات رخصت ہو جائیں گے اور توکل باللہ فزوں تر ہوگا۔
ارشاد فرمایا گیا:
’حضرت سلیمانؑ کا اپنے رب کی نعمتوں پر یہ اعلان تھا کہ یہ سب میرے رب کے فضل سے ہے۔
دراصل اس طرح وہ مجھے آزماتا ہے، میرا امتحان لیتا ہے کہ آیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری اور ناقدری کرتا ہوں!
اور جو کوئی شکر بجا لاتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے ہی مفاد میں مشکور بنتا ہے اور جو ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہے تو بے شک میرا رب ہر طرح سے غنی، ہر ضرورت سے بے نیاز اور بڑے اکرام والا ہے۔‘ (النمل)