حصہ اول: کائنات کی خاموش نشانیاں ہمیں کیا سبق دیتی ہیں؟
عزیز بلگامی
بنگلور
کائنات کا کوئی منظر بے مقصد نہیں۔
خاموش درخت بے لوث خدمت، بہتا پانی مشکلات سے گزرنے کی حکمت، سورج پابندی اور احساسِ ذمہ داری، جب کہ بارش مساوات اور رحمت کا سبق دیتی ہے۔
مضمون کا پہلا حصہ قرآنِ کریم کی روشنی میں قدرت کی انہی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
1/2
ہمارے پاؤں تلے بچھا ہوا زمین کا فرش، سروں پر تنا ہوا آسمان کا سائبان، خاموش ساحلوں سے ٹکراتی بحرِ بے کراں کی موجیں، پُرشکوہ فلک بوس پہاڑی سلسلے، آسمان کی بلندیوں سے رم جھم کرتی بارش، خس و خاشاک کی طرح ہر چیز بہا لے جانے والے بپھرے ہوئے سیلاب، انسانوں کے بدن جھلسا دینے والی گرمیاں اور منجمد کردینے والے سرد ہوا کے جھونکے—یہ سب قدرت کی نشانیاں ہیں۔
ایک طرف رزق کی فراوانی ہے تو دوسری طرف اسی زمین کے کسی خطے میں قحط اور قلت کے دردناک مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
غرض اس کائنات کی ہر مثبت اور منفی شے ہمارے لیے درسِ عبرت رکھتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عقلِ سلیم سے ان مناظر میں پوشیدہ خاموش اشاروں پر غور کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان سے سبق حاصل کریں۔
اہم ترین نکات
- کائنات کی ہر مثبت اور منفی کیفیت میں انسان کے لیے سبق پوشیدہ ہے۔
- درخت نامساعد حالات میں بھی مخلوقات کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔
- بہتا پانی سکھاتا ہے کہ رکاوٹوں پر توانائی ضائع کرنے کے بجائے راستہ بنایا جائے۔
- سورج پابندیٔ وقت، ذمہ داری اور مسلسل فرض شناسی کی علامت ہے۔
- بارش رنگ، نسل اور حیثیت کی تفریق کے بغیر سب کو فیض پہنچاتی ہے۔
- قرآن انسان کو قدرت کی نشانیوں پر غور کرکے اپنی زندگی بدلنے کی دعوت دیتا ہے۔
کیا عجب کہ یہ غور و فکر ہماری دنیاوی زندگی کو بہتری کی طرف لے جائے اور ہماری اخروی زندگی بھی کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہوجائے۔
مزید پڑھیں
سورۃ النور کی آیت 43 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔
وہ آسمان کی بلندیوں سے پہاڑوں جیسے بادلوں سے اولے بھی برساتا
ہے، پھر جس پر چاہتا ہے انہیں برسا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بچا لیتا ہے۔
ممکن ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کردے۔
رات اور دن کا الٹ پھیر بھی وہی کر رہا ہے۔
بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے ایک سبق ہے‘۔
خاموش درختوں کا زندہ سبق
ذرا درختوں کو دیکھئے!
وہ بظاہر اپنی جگہ خاموش کھڑے رہتے ہیں، لیکن ہر موسم اور طرح طرح کے نامساعد حالات کا صبر و سکون سے مقابلہ کرتے ہیں۔
یہ سب کچھ محض اس لیے کہ اللہ کے حکم سے انسانوں اور دوسری مخلوقات کے لیے نفع بخش بنے رہیں۔
انسان سانس لینے اور اپنی صنعتی سرگرمیوں کے نتیجے میں فضا میں مسلسل کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے، جب کہ یہ وفا شعار درخت اسی گیس کو جذب کرکے ماحول کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے بدلے وہ انسانوں سمیت جاندار مخلوقات کے لیے آکسیجن جیسی حیات بخش نعمت فراہم کرتے ہیں۔
درخت انسان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔
وہ دھوپ میں سایہ، بھوک میں پھل اور زندگی کے لیے صاف ہوا فراہم کرتے ہیں۔
موسموں کی سختی، آندھیوں کے تھپیڑوں اور انسان کی بے احتیاطیوں کے باوجود ان کی خاموش خدمت جاری رہتی ہے۔
جب یہ درخت اور پودے انسانیت کی خدمت میں مصروف رہ سکتے ہیں تو کیا ہم اپنے رب کا کلام، جسے رسول اکرمﷺ نے امانت کے طور پر ہمارے حوالے کیا، مکمل احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انسانیت تک نہیں پہنچا سکتے؟
کیا ہم اس جد و جہد میں اٹھنے والے طوفانوں کا عزم، حوصلے، سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتے؟
کیا ہم شر سے خیر برآمد کرتے ہوئے اپنے رب کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن نہیں رہ سکتے؟
فیکٹ باکس
اس ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران سورۃ المائدہ کی آیت 67 میں دی گئی یہ ہدایت ہمارے سامنے رہنی چاہئے:
’اے رسولؐ! پہنچا دیجئے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے۔
اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کی رسالت کا حق ادا نہیں ہوا۔
اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔
بے شک اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘۔
بہتا پانی اور مشکلات کا راستہ
ایک اور منظر دیکھئے۔
تیز رفتاری سے بہتے ہوئے پانی کے راستے میں کوئی چٹان آجاتی ہے تو پانی اسے ہٹانے میں اپنی ساری توانائی ضائع نہیں کرتا۔
وہ چٹان کے پہلو سے اپنا راستہ بناتا اور سفر جاری رکھتا ہے۔
کیا اس میں ہمارے لیے یہ سبق نہیں کہ ہم ہر مزاحمت سے ٹکرانے میں اپنی قوت ضائع نہ کریں؟
اپنی توانائی محفوظ رکھتے ہوئے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہیں اور بہتے ہوئے پانی کی طرح انسانوں کی تشنگیٔ ہدایت بجھاتے ہوئے منزل کی جانب بڑھتے رہیں۔
زندگی کے سفر میں مشکلات اور رکاوٹوں کا آنا ناگزیر ہے۔
کامیاب انسان وہ نہیں جسے کبھی کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے، بلکہ کامیاب وہ ہے جو حالات کی سختی کے باوجود اپنے مقصد کو نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔
وہ رکاوٹ کے سامنے ٹھہر کر اپنی قوت ضائع کرنے کے بجائے حکمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرے۔
یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت کو اپنا حتمی ہدف بنالیں اور صبر، توکل اور مسلسل جدوجہد کو زندگی کا معمول بنائیں۔
سورج کی پابندی اور احساسِ ذمہ داری
فلک پر چمکتے سورج کو دیکھئے، جو زمین کی مخلوقات کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہر صبح ایک مقررہ وقت پر طلوع ہوتا ہے۔
بظاہر وہ غروب ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت میں اسی وقت زمین کے کسی دوسرے حصے کے لیے طلوع ہورہا ہوتا ہے۔
سورج روشنی اور توانائی فراہم کرکے زندگی کی بقا میں کردار ادا کرتا ہے۔
غروب ہوکر اپنے پیچھے اندھیرا چھوڑتا ہے تو انسانوں کو آرام کرنے اور تازہ دم ہونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ وہ اپنے مقررہ نظام کی کامل فرمانبرداری کرتا ہے۔
یہ مضمون کیوں اہم ہے؟
مصروف زندگی میں انسان قدرت کے مناظر دیکھتا تو ہے، لیکن ان میں پوشیدہ پیغام پر کم غور کرتا ہے۔ یہ مضمون یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی ہر نشانی ہمیں اپنے کردار، ذمہ داریوں اور خالق سے تعلق کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ درخت کی خدمت، پانی کی حکمت، سورج کی پابندی اور بارش کی بے امتیاز رحمت انسان کے لیے ایک مکمل اخلاقی سبق بن جاتی ہے۔
اس میں ہمارے لیے یہ روشن پیغام ہے کہ ہم بھی اپنے فرائض وفا شعاری، احساسِ ذمہ داری اور پابندیٔ وقت کے ساتھ ادا کریں۔ ہماری موجودہ زندگی غروب ہو اور ابدی زندگی طلوع ہو، اس سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیں۔
انسان کو ملنے والی مہلت لامحدود نہیں۔
ہر طلوع ہوتا سورج ہماری زندگی میں ایک نئے دن کا اضافہ کرتا ہے اور ہر غروب ہوتا سورج ہماری مقررہ مہلت میں سے ایک دن کم کردیتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے وقت اور صلاحیتوں کو پہچانے اور انہیں ایسے کاموں میں صرف کرے جو دنیا میں بھی فائدہ مند ہوں اور آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنیں۔
بارش کسی میں فرق نہیں کرتی
آسمان سے برسنے والی بارش پر نظر ڈالئے۔
اس میں بھی ہمارے لیے کئی اسباق ہیں۔
بارش رنگ و نسل میں تفریق نہیں کرتی، ذات پات کو اہمیت نہیں دیتی اور مرد و عورت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتتی۔
وہ ساری مخلوقات کے لیے یکساں طور پر برستی اور ابرِ رحمت بن کر پیاسی زمین کو سیراب کرتی ہے۔
بارش بنجر زمین کو نئی زندگی دیتی ہے۔
ایک منٹ میں مضمون
زمین، آسمان، درخت، پانی، سورج اور بارش محض قدرتی مناظر نہیں بلکہ انسان کے لیے خاموش اسباق بھی ہیں۔ درخت بے لوث خدمت، پانی مشکلات سے گزرنے کی حکمت، سورج پابندی اور احساسِ ذمہ داری، جب کہ بارش مساوات اور رحمت کا درس دیتی ہے۔ اگر انسان ان نشانیوں پر غور کرے تو وہ اپنی دنیاوی زندگی بہتر بنانے کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا راستہ بھی تلاش کرسکتا ہے۔ یہ مضمون کا پہلا حصہ ہے۔
خشک پودوں میں تازگی آتی ہے، کھیت سرسبز ہوتے ہیں، دریاؤں اور جھیلوں میں پانی جمع ہوتا ہے اور انسانوں سمیت بے شمار مخلوقات اس نعمت سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
کیا ہم بارش کا یہ شعار اختیار نہیں کرسکتے؟
آج انسانیت کو بارانِ ہدایت کی ضرورت ہے اور محرومِ ہدایت انسانوں کے خشک سینوں کو اللہ کا کلام ہی حقیقی معنوں میں سیراب کرسکتا ہے۔
کیا ہم سسکتی اور بلکتی انسانیت کے مسیحا نہیں بن سکتے؟ انسانیت کے جسم پر گمراہی اور سرکشی کے جو زخم لگے ہیں، کیا ان پر رسول اکرمﷺ کا عطا کردہ مرہم نہیں رکھا جاسکتا؟
وہ نسخۂ کیمیا جو آپﷺ غارِ حرا کی پُرکیف تنہائیوں سے لے کر آئے تھے، کیا آج کے بیمار انسانی ذہنوں اور مضطرب دلوں کے امراض کا مداوا نہیں بن سکتا؟
اس وقت کتنی ہی کثافتیں انسانیت کو اپنی گرفت میں لے کر اسے آلودہ کرچکی ہیں، لیکن یہ حقیقت نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کے لیے فائدہ مند چیزوں کو زمین میں ثبات اور بقا عطا فرماتا ہے۔
سورۃ الرعد کی آیت 17 میں ارشاد ہے:
’جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نفع بخش ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔‘
درختوں کی خاموش خدمت، بہتے پانی کی حکمت، سورج کی پابندی اور بارش کی بے امتیاز رحمت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا ہر منظر انسان کو ایک پیغام دے رہا ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم ان خاموش پیغامات کو سننے، سمجھنے اور اپنی زندگی بدلنے کے لیے تیار ہیں؟
1 تبصرہ
بہت شاندار۔اگلے حصے کا انتظار ہے