سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کئی برس کی نسبتاً خاموشی کے بعد میزائل، ڈرون اور زمینی محاذ پر سرگرمی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
مدینہ، خمیس مشیط اور جازان سے متعلق حالیہ واقعات جبکہ تعز میں تیز ہوتی کارروائیاں اس سوال کو جنم دے رہی ہیں کہ آیا 2022 کے بعد قائم غیر رسمی توازن ٹوٹنے کے قریب ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی گزشتہ چند دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں پر مدینہ منورہ میں بجلی کی ایک اہم تنصیب پر ڈرون حملے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ خمیس مشیط اور جازان کی طرف بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخمیس مشیط سے مدینہ تک — اہم نکات⌄
- ✓سعودی اتحاد نے مدینہ منورہ کی طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا؛ حوثیوں نے الزام مسترد کردیا۔
- ✓اتحاد کے مطابق اسٹیشن کا ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا، مگر بجلی کے مجموعی نیٹ ورک میں تعطل نہیں آیا۔
- ✓خمیس مشیط اور جازان کی سمت دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون روکے جانے کا اعلان کیا گیا۔
- ✓یمن کے تعز صوبے میں سرکاری فورسز نے چند گھنٹوں میں 20 فضائی حملوں کی اطلاع دی۔
- ✓باب المندب اور بحیرہ احمر کی سلامتی اس کشیدگی کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جوڑتی ہے۔
حوثیوں نے مدینہ پر حملے کا سعودی الزام مسترد کیا ہے، اس لیے اس واقعے کو دونوں فریقوں کے مؤقف کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق فرانزک تحقیقات سے ڈرون کے حوثیوں سے تعلق کے شواہد ملے۔
حملے سے طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کا ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا، تاہم بجلی کی مجموعی فراہمی منقطع نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں
اس واقعے کی حساسیت اس لیے زیادہ ہے کہ متاثرہ تنصیب مسجد نبوی سمیت مدینہ کی اہم شہری سہولیات کو بجلی فراہم کرتی ہے۔
پاکستان نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دو مقدس مساجد کی حرمت اور زائرین و نمازیوں کی سلامتی ہر حال میں برقرار رہنی چاہئے۔
اسلام آباد نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
خمیس مشیط: دوسرا محاذ
مدینہ کے واقعے کے بعد سعودی اتحاد نے بتایا کہ سعودی فضائی دفاع نے جنوبی علاقوں کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون تباہ کیے۔
اتحاد کے ترجمان کے مطابق ایک بیلسٹک میزائل خمیس مشیط جبکہ دوسرا جازان کے اوپر روکا گیا، اور چاروں ڈرون خمیس مشیط کی سمت آئے تھے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: تازہ کشیدگی⌄
علاقائی ذرائع کے مطابق ایک میزائل کے ملبے کے کچھ ٹکڑے خمیس مشیط کے رہائشی علاقوں میں گرے، جس سے عمارتوں اور گاڑیوں کو محدود نقصان پہنچا، تاہم بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعات الگ تھلگ نہیں۔
اس سے قبل ریاض، خمیس مشیط، یانبع اور طائف کی سمت بھی میزائل اور ڈرون داغے جانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
اس تسلسل سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطرے کا جغرافیائی دائرہ صرف سعودی–یمن سرحد کے قریب جنوبی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سعودی عرب کے اندر زیادہ دور واقع شہروں اور اہم تنصیبات تک پھیل رہا ہے۔
یمن کے اندر جنگ پھر تیز
سعودی عرب کی سمت ہونے والے حملوں کو یمن کے اندر جاری زمینی جنگ سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے بتایا کہ اس کی فضائیہ نے تعز صوبے میں حوثی اہداف پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں جنگجوؤں، گاڑیوں، نقل و حرکت اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔
◎OVERSEAS POST | WHAT HAPPENEDکیا ہوا؟ چند دنوں کی تصویر⌄
حالیہ کشیدگی ایک واقعے تک محدود نہیں؛ مختلف محاذ ایک ساتھ سرگرم ہوئے:
تعز کی اہمیت صرف ایک صوبے تک محدود نہیں۔
یہ شمال اور جنوب کے درمیان ایک اہم جغرافیائی دروازہ ہے۔
یہاں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کی صورت میں شمالی یمن، بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور جنوبی بندرگاہ عدن کی طرف جانے والے راستوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
اسی کشیدگی کے باعث تعز کی طرف جانے والے متعدد راستوں کو فوجی علاقہ قرار دے کر بند کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یمن کے اندر زمینی جنگ بھی دوبارہ شدت اختیار کررہی ہے۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
تعز اور یمن کا مغربی ساحل باب المندب سے جڑا ہوا ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔
ایشیا اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اسی راستے سے بحیرہ احمر میں داخل ہوتا ہے۔
!OVERSEAS POST | AIR DEFENCEخمیس مشیط اور جازان: کیا روکا گیا؟⌄
اگر یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب یا یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحری تجارت، توانائی کی ترسیل، جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یمن کی موجودہ کشیدگی کو ایک مقامی خانہ جنگی کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
2022 کے بعد کیا بدلا؟
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔
اگرچہ یمن میں مکمل امن قائم نہیں ہوا، لیکن سعودی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی وہ شدت نہیں رہی جو اس سے پہلے دیکھی جاتی تھی۔
↯OVERSEAS POST | TAIZتعز: زمینی جنگ کیوں اہم ہے؟⌄
یمن کے اندر تعز کا محاذ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ غیر رسمی توازن اب دباؤ میں ہے۔ بحیرہ احمر، یمن کے ساحلی علاقوں، تعز اور سعودی شہروں پر حملوں کے تسلسل نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا تنازع دوبارہ مکمل علاقائی کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ریاض اور واشنگٹن کا دفاعی رابطہ
اسی ماحول میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں سعودی–امریکی اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری اور علاقائی سلامتی پر بات کی گئی۔
≈OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSباب المندب کیوں اہم ہے؟⌄
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔
ایشیا اور یورپ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
یمن کے مغربی ساحل پر کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس اور سپلائی چین متاثر ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے یمن کی جنگ صرف مقامی تنازع نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔
سرکاری بیان میں اس رابطے کو کسی مخصوص حوثی حملے کا براہ راست ردعمل قرار نہیں دیا گیا، لیکن وقت کے اعتبار سے یہ رابطہ اہم ہے کیونکہ سعودی فضائی دفاع کو مسلسل میزائل اور ڈرون خطرات کا سامنا ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
موجودہ صورت حال میں تین محاذ ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں: سعودی شہروں اور شہری تنصیبات کی فضائی حفاظت، یمن کے اندر تعز اور مغربی ساحل کی جنگ، اور بحیرہ احمر و باب المندب کی سلامتی۔
↗OVERSEAS POST | TIMELINE2022 سے 2026 تک — کشیدگی کیسے بدلی؟⌄
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ کشیدگی مکمل سعودی–حوثی جنگ کی طرف جارہی ہے۔
تاہم اگر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور تعز کا محاذ مزید وسیع ہوتا ہے تو 2022 کے بعد قائم نسبتاً پرسکون توازن مزید کمزور ہوسکتا ہے۔
مدینہ کے واقعے نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے کیونکہ یہ تنازع اب ایسی تنصیب تک پہنچ گیا ہے جو مسجد نبوی اور عام شہریوں کی ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا میزائل یا ڈرون کہاں روکا جاتا ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سفارتی کوششیں اس کشیدگی کو دوبارہ محدود کرسکیں گی، یا تعز سے خمیس مشیط اور مدینہ تک پھیلتی یہ صورت حال یمن جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگی؟
↗OVERSEAS POST | SOURCESاصل ذرائع اور مزید مطالعہ⌄
ادارتی احتیاط: جہاں ذمہ داری متنازع ہے وہاں سعودی اتحاد کے الزام اور حوثی تردید دونوں کو واضح طور پر الگ رکھا گیا ہے۔