ڈاكٹر سعيد احمد عنايت الله
مكہ مکرمہ
انسان عقل اور اختیار کی وجہ سے رائے قائم کرتا ہے، لیکن ہر رائے درست نہیں۔
درست رائے بھی اگر نامناسب موقع پر ظاہر کی جائے تو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس لیے علم کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔
ہر شعبے میں اسی کے ماہر کی رائے معتبر ہونی چاہیے۔
دینی معاملات میں بھی شریعت پر عمل ہر مسلمان کا فرض ہے، مگر شرعی احکام کا علمی استنباط اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔
مضمون کا خلاصہ یہی ہے کہ علم، تخصص اور حکمت سے پیدا ہونے والی رائے نعمت ہے، جبکہ لاعلمی اور بے محل اظہار سے پیدا ہونے والی رائے آفت بن سکتی ہے۔
انسان اور دیگر ذی روح مخلوقات میں احساس و شعور زندگی کی علامت ہے۔
کسی چیز کے مشاہدے، کسی حقیقت کے مطالعے یا کسی واقعے کے تجربے سے انسان کے اندر جو ادراک پیدا ہوتا ہے، اسی سے اس کی رائے تشکیل پاتی ہے۔
انسان کو دیگر مخلوقات پر امتیاز اس لیے حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل اور اختیار کی نعمت عطا کی ہے۔
عقل کے ذریعے وہ حق و باطل، خیر و شر اور درست و غلط میں فرق کرتا ہے، جبکہ اختیار کے ذریعے ان میں سے کسی ایک راستے کو اپناتا ہے۔
یہی دونوں نعمتیں انسان کی آزمائش اور اس کے اعمال کی بنیاد ہیں۔
🧠 رائے بنتی کیسے ہے؟
انسان کسی واقعے، خیال یا حقیقت کا مشاہدہ اور مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر ادراک پیدا ہوتا ہے۔
یہی ادراک جب اظہار کی صورت اختیار کرتا ہے تو اسے انسانی رائے کہا جاتا ہے۔
عقل انسان کو درست اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ اختیار اسے کسی راستے کو اپنانے کی آزادی دیتا ہے۔
مزید پڑھیں
انسانی رائے ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔
اگر کسی معاملے کے بارے میں انسان کا ادراک حقیقت کے مطابق ہو تو اسے درست یا صائب رائے کہا جائے گا، اور اگر وہ حقیقت کے خلاف ہو تو وہ غلط رائے ہوگی۔
لیکن صرف درست ہونا ہی کافی نہیں، کیونکہ بسا اوقات ایک صحیح بات بھی نامناسب وقت، مقام یا انداز میں کہی جائے تو نقصان اور فتنہ
کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لیے رائے اسی وقت حقیقی نعمت بنتی ہے جب وہ علم و فہم پر مبنی ہونے کے ساتھ حکمت اور موقع محل کے تقاضوں کے مطابق بھی ہو۔
اسلام نے انسان کو غور و فکر، تدبر اور حقائق کو سمجھنے کی تاکید اسی لیے کی ہے کہ اس کی رائے صحیح بنیادوں پر قائم ہو۔
⚖️ درست رائے بھی آفت کب بن سکتی ہے؟
کسی بات کا درست ہونا ضروری ہے، مگر صرف یہی کافی نہیں۔
اگر ایک صحیح بات غلط وقت، نامناسب مقام یا غیر حکیمانہ انداز میں کہی جائے تو وہ فتنہ، اختلاف یا نقصان پیدا کر سکتی ہے۔
اسی لیے صاحبِ رائے کے لیے اپنی بات کے ممکنہ نتائج کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ساتھ ہی اظہارِ رائے میں حکمت کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ہر درست بات ہر وقت اور ہر جگہ کہنا ضروری نہیں۔
نبی کریمﷺ کا حضرت عائشہؓ سے بیت اللہ کی تعمیر کے متعلق فرمان اسی اصول کی مثال ہے۔
آپﷺ کی خواہش تھی کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کیا جائے، مگر چونکہ قریش کے لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے ایک درست اور پسندیدہ کام کو بھی ممکنہ فتنے کے اندیشے سے مؤخر رکھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ رائے کے لیے صرف رائے کی صحت ہی نہیں، بلکہ اس کے نتائج اور اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
📖 نبی کریم ﷺ کی مثال — حکمت کیوں ضروری ہے؟
نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔
مگر چونکہ قریش نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے ممکنہ فتنے کے اندیشے سے اس اقدام کو مؤخر رکھا۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ بعض اوقات درست رائے کا عملی اظہار بھی حکمت کے تحت روکنا پڑتا ہے۔
دوسروں سے رائے لینا کوئی عیب نہیں۔
انسان کو ہر علم اور ہر شعبے میں مہارت حاصل نہیں ہو سکتی، اس لیے انسانی معاشرہ باہمی ضرورت، تعاون اور تخصص پر قائم ہے۔
اصل اصول یہ ہے کہ جس معاملے میں رائے درکار ہو، اسے اسی شعبے کے ماہر سے لیا جائے۔
ہر شخص کو ہر موضوع پر رائے دینے کا حق دار سمجھ لینا ایک خطرناک رویہ ہے۔
رائے اسی کی معتبر ہو سکتی ہے جو متعلقہ موضوع کا علم، تجربہ اور فہم رکھتا ہو۔
جس طرح طبی مسئلے میں ڈاکٹر، تعمیر میں انجینئر اور کسی دوسرے فنی شعبے میں متعلقہ ماہر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح ہر معاملے میں اہلِ اختصاص کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔
👥 ہر شخص ہر معاملے میں صاحبِ رائے نہیں
ہر انسان ہر علم اور ہر شعبے میں ماہر نہیں ہو سکتا۔
اس لیے جس معاملے میں رہنمائی درکار ہو، اسی شعبے کے ماہر کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
بغیر علم کے رائے دینا اور غیر ماہر سے رائے لینا، دونوں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
مادی اور غیر اسلامی معاشروں میں عمومی طور پر یہی اصول رائج ہے کہ مختلف شعبوں کے مسائل انہی کے ماہرین کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔
غیر ماہر افراد نہ خود کو ہر مسئلے میں صاحبِ رائے سمجھتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ ان کی رائے کو وہی وزن دیتا ہے جو متخصصین کی رائے کو دیا جاتا ہے۔
اسی تخصص اور اہلِ فن سے رجوع کی وجہ سے وہ معاشرے بہت سے مادی شعبوں میں ترقی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس اسلامی معاشروں میں، خاص طور پر دینی اور شرعی معاملات میں، ایک ایسی فکر پیدا ہو رہی ہے جس میں بعض افراد بغیر مطلوبہ علم اور تخصص کے شرعی امور میں رائے دینے لگتے ہیں۔
اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے کی ذمہ داری اور شریعت کے احکام کی علمی تشریح اور استنباط کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا۔
🌍 مادی معاشروں سے کیا سبق ملتا ہے؟
مادی معاشروں میں طب، انجینئرنگ، قانون اور دوسرے فنی شعبوں میں متعلقہ ماہرین کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
عام شخص خود کو ہر میدان کا ماہر نہیں سمجھتا اور نہ ہی معاشرہ غیر ماہر کی رائے کو برابر وزن دیتا ہے۔
تخصص کی یہی پاسداری ان معاشروں کی مادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شریعت پر عمل ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
ہر فرد کو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنی چاہیے اور اپنی کوتاہیوں کو کوتاہی ہی سمجھنا چاہیے۔
اگر کوئی شخص اپنی عملی کمزوری کے لیے ایسی رائے تلاش کرنے لگے جو اس کی کوتاہی کو درست ثابت کردے، تو یہ ایک غیر صائب رویہ ہے۔
صحیح فکر یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوری کا اعتراف کرے اور اصلاح کی کوشش کرتا رہے، کیونکہ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو احکامِ الٰہی کے تابع کرے۔
یہ اہلِ علم اور اہلِ استنباط کی ذمہ داری ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں احکام مرتب کرنا، نئے مسائل کا شرعی حل تلاش کرنا اور عوام کی رہنمائی کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو متعلقہ علوم میں مہارت رکھتے ہوں۔
عام مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اہلِ علم کی طرف رجوع کریں، نہ کہ اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر دینی فیصلے صادر کرنے لگیں۔
🕌 دینی معاملات میں اصل فرق کیا ہے؟
شریعت پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
لیکن شرعی احکام کا علمی استنباط، تشریح اور پیچیدہ مسائل میں فیصلہ ہر فرد کا کام نہیں۔
یہ ذمہ داری اہلِ علم، اہلِ استنباط اور متعلقہ دینی تخصص رکھنے والوں کی ہے۔
مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ رائے بذاتِ خود نہ ہمیشہ نعمت ہے اور نہ ہمیشہ آفت، اس کی قدر و قیمت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس شخص سے، کس علم کی بنیاد پر، کس موقع پر اور کس انداز میں سامنے آتی ہے۔
علم، حکمت اور تخصص سے پیدا ہونے والی رائے فرد، معاشرے اور قوم کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، جبکہ جہالت، بے محل اظہار اور غیر متعلقہ لوگوں کی رائے فتنہ، انتشار اور نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہر انسان اپنے دائرۂ علم کو پہچانے، اہلِ رائے سے رائے لے اور جہاں وہ صاحبِ علم نہ ہو وہاں خاموشی کو رائے زنی پر ترجیح دے۔
⚠️ اپنی کوتاہی کے لیے جواز تلاش کرنا
اگر کوئی شخص اپنی عملی کمزوری کو تسلیم کرے اور اصلاح کی کوشش کرے تو یہ صحت مند رویہ ہے۔
لیکن اگر وہ اپنی کوتاہی کو درست ثابت کرنے کے لیے سہولت کی رائے تلاش کرنے لگے تو یہ فکری خرابی بن سکتی ہے۔
صحیح رویہ یہ ہے کہ غلطی کو غلطی سمجھا جائے اور اصلاح کی کوشش جاری رکھی جائے۔