ڈاکٹر ساجد خاکوانی
اسلام آباد
اسلام نے کسی کے گھر، کمرے یا نجی حدود میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کی واضح تعلیم دی ہے۔
قرآن مجید نے گھر میں داخلے، سلام، واپسی اور نجی اوقات کے اصول متعین کئے جبکہ رسول اللہﷺ نے عملی طور پر بتایا کہ اجازت کیسے مانگی جائے۔
یہ تعلیم انسان کی عزت، پردے اور نجی زندگی کے تحفظ کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، خاندانی اور معاشرتی زندگی کیلئے واضح اصول فراہم کرتا ہے۔
انہی اصولوں میں ایک اہم معاشرتی ادب استیذان یعنی کسی کے گھر یا نجی جگہ میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا ہے۔
اسلام نے انسان کی نجی زندگی، پردے اور شخصی آزادی کو بہت اہمیت دی ہے۔
اسی لئے کسی کے گھر، کمرے یا ذاتی حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے کو پسند نہیں کیا گیا۔ دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانا، نامناسب وقت پر کسی کے گھر پہنچ جانا، اچانک کسی کے کمرے میں داخل ہو جانا یا ایسے وقت فون کرنا جب سامنے والے کیلئے دشواری پیدا ہو، اسلامی معاشرتی آداب کے منافی رویے ہیں۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
1. اسلام نے کسی کے گھر یا نجی جگہ میں داخل ہونے سے پہلے اجازت اور سلام کو بنیادی معاشرتی ادب قرار دیا ہے۔
2. قرآن نے واضح کیا کہ اجازت نہ ملے تو واپس ہو جانا چاہئے اور اصرار نہیں کرنا چاہئے۔
3. رسول اللہ ﷺ نے دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہونے، اپنی شناخت واضح کرنے اور تین مرتبہ اجازت کے بعد واپس ہونے کی تعلیم دی۔
4. استیذان دراصل انسانی عزت، پردے اور حقِ خلوت کے تحفظ کا جامع اصول ہے۔
اسلام کے قانونِ استیذان کا بنیادی مقصد انسان کے حقِ خلوت اور نجی زندگی کا تحفظ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک گھر والوں سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کر لو۔‘ (سورۃ النور: 27)
مزید پڑھیں
اسی حکم کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اجازت ملنے تک داخل نہ ہوا جائے اور اگر گھر والے واپس جانے کیلئے کہیں تو واپس چلے جانا چاہئے۔
قرآن نے اسے زیادہ پاکیزہ اور بہتر طرزِ عمل قرار دیا ہے۔
اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ استیذان کے احکام خواتین کے پردے اور نجی زندگی کے تحفظ سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
روایت کے مطابق مدینہ کی ایک خاتون نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض اوقات وہ گھر میں ایسی حالت میں ہوتی ہیں جس میں کسی مرد کا اچانک داخل ہونا انہیں ناگوار گزرتا ہے، خواہ آنے والا ان کا والد یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
اسی تناظر میں گھروں میں داخل ہونے کیلئے اجازت طلب کرنے کی اہمیت مزید واضح ہوئی۔
🟢 استیذان کیا ہے؟
استیذان کا مطلب کسی کے گھر، کمرے یا نجی جگہ میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا ہے۔
یہ محض ایک رسمی آداب نہیں بلکہ دوسرے انسان کی نجی زندگی، پردے اور ذاتی حدود کے احترام کا اسلامی اصول ہے۔
قرآن مجید نے گھر کے اندر بھی بعض اوقات کو خصوصی طور پر نجی قرار دیا ہے۔
سورۃ النور میں بچوں اور زیر کفالت افراد کیلئے حکم دیا گیا کہ وہ 3 اوقات میں اجازت لے کر آئیں:
فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب لوگ آرام کیلئے لباس تبدیل کرتے ہیں، اور عشاء کے بعد۔
یہ اوقات گھر والوں کی خلوت اور آرام کے اوقات قرار دیئے گئے ہیں۔
رسول اللہﷺ نے عملی طور پر بھی اجازت مانگنے کے آداب سکھائے۔
ایک موقع پر آپﷺ حضرت سعد بن عبادہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور 3 مرتبہ سلام کیا۔ جواب نہ ملنے پر آپﷺ واپس ہونے لگے۔
اس سے یہ اصول سامنے آیا کہ اجازت مانگنے کے بعد مسلسل اصرار یا انتظار نہیں کیا جانا چاہئے۔
📖 قرآن کا بنیادی حکم
سورۃ النور میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت اور سلام کے بغیر داخل نہ ہوں۔
یہ حکم واضح کرتا ہے کہ دوسرے کے گھر میں داخلہ حق نہیں بلکہ صاحبِ خانہ کی اجازت سے مشروط ہے۔
حوالہ: سورۃ النور، آیات 27 تا 29۔
ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کیا اپنی والدہ کے پاس جاتے ہوئے بھی اجازت طلب کرنی چاہئے؟
آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم اپنی والدہ کو ایسی حالت میں دیکھنا پسند کرو گے جس میں وہ تمہیں نہ دیکھنا چاہیں؟
اس جواب سے واضح ہوا کہ قریبی رشتے بھی شخصی خلوت کے حق کو ختم نہیں کرتے۔
آپﷺ نے یہ بھی تعلیم دی کہ اجازت مانگتے ہوئے دروازے کے عین سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہئے تاکہ دروازہ کھلنے پر گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔
اجازت طلب کرنے کا ایک مقصد نگاہ کی حفاظت بھی ہے۔
حضرت جابرؓ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔
آپﷺ نے اندر سے پوچھا: ’’کون؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’میں۔‘‘ آپﷺ نے اس انداز کو پسند نہیں فرمایا، کیونکہ آنے والے شخص کو اپنا نام یا شناخت واضح کرنی چاہئے۔
اسی طرح ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے گھر آکر کہا: ’’کیا میں اندر آ جاؤں؟‘‘ آپﷺ نے اسے طریقہ سکھایا کہ پہلے سلام کرے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرے۔
اس سے اسلامی معاشرت کا خوبصورت اصول سامنے آتا ہے کہ ملاقات کا آغاز سلام اور اجازت سے ہونا چاہئے۔
🚪 اجازت نہ ملے تو کیا کریں؟
قرآن کا اصول نہایت واضح ہے: اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو، اجازت نہ ملے یا واپس جانے کیلئے کہا جائے تو واپس ہو جانا چاہئے۔
اسلام اس موقع پر ناراضی، اصرار یا بار بار دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے وقار کے ساتھ واپسی کی تعلیم دیتا ہے۔
اہل بیت اور صحابۂ کرامؓ کی زندگی میں بھی اس ادب کی نمایاں مثالیں ملتی ہیں۔
حضرت فاطمۃ الزہراؓ اپنے والد محترم رسول اللہﷺ کے گھر آتیں تو اجازت لے کر داخل ہوتیں۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ حضرت عمرؓ کے ہاں گئے، تین مرتبہ اجازت مانگی اور جواب نہ ملنے پر واپس ہوگئے۔
بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہی طریقہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سیکھا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی تعلیم بھی یہی تھی کہ اپنی والدہ اور بہنوں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کی جائے۔
تابعین بھی اس اصول پر عمل کرتے تھے کہ گھر میں اچانک داخل ہونے کے بجائے اپنی آمد کی اطلاع دی جائے۔
🕰️ تین خصوصی نجی اوقات
قرآن نے گھر کے اندر بھی تین اوقات کو خاص خلوت کے اوقات قرار دیا ہے:
فجر سے پہلے، دوپہر کے آرام کے وقت، اور عشاء کے بعد۔
ان اوقات میں بچوں اور زیرِ کفالت افراد کو بھی اجازت لے کر آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حوالہ: سورۃ النور، آیات 58 تا 59۔
البتہ میاں بیوی کے تعلق میں اجازت کی نوعیت مختلف ہے۔
فقہاء نے عام طور پر شوہر یا بیوی کیلئے گھر میں داخل ہونے کیلئے رسمی اجازت ضروری قرار نہیں دی، تاہم اچانک داخل ہونے کے بجائے اپنی آمد کی اطلاع دینا حسنِ معاشرت میں شامل ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے کھنکارتے یا کسی طریقے سے اپنی آمد کی خبر دے دیتے تھے۔
👁️ دروازے کے سامنے کیوں نہ کھڑے ہوں؟
رسول اللہ ﷺ نے اجازت مانگتے وقت دروازے کے عین سامنے کھڑے ہونے سے منع فرمایا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ دروازہ کھلنے پر گھر کے اندر نگاہ نہ پڑے۔
یعنی استیذان صرف داخلے کی اجازت نہیں بلکہ نگاہ اور پردے کے تحفظ کا بھی اصول ہے۔
اسلام کا قانونِ استیذان بظاہر ایک چھوٹا سا معاشرتی ادب معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ انسانی عزت، نجی زندگی، پردے، اعتماد اور باہمی احترام کے ایک وسیع نظام کی بنیاد ہے۔
اگر گھر، خاندان اور معاشرے میں اس اصول پر عمل کیا جائے تو بہت سی ناگواریوں، غلط فہمیوں اور نجی زندگی میں مداخلت سے بچا جا سکتا ہے۔