براہ راست نشریات

اغوات الحرمین کا نظام کیا تھا؟ سعودی عہد کی منفرد داستان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Aghawat Al Haramain

حرمین شریفین کے تاریخی خدام ’اغوات‘ صرف مذہبی مقامات کی خدمت کرنے والا ایک گروہ نہیں تھے بلکہ ان کا اپنا باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ، درجات، قواعد، اوقاف اور ذمہ داریاں تھیں۔
شیخ الاغوات ان کا سربراہ ہوتا جبکہ اس کے بعد نقیب، امین اور دیگر مراتب آتے تھے۔
مدینہ منورہ میں ان کا ایک الگ محلہ بھی معروف رہا اور بعض اغوات نے مساجد، مدارس اور رباطیں قائم کرائیں۔سعودی عہد میں بھی اغوات کو خصوصی حیثیت حاصل رہی۔

2/2

اغوات مختلف خصوصیات میں مشترک ہوتے ہیں تاہم ان کے کام ایک دوسرے سے جداگانہ ہوتے ہیں۔ 

ان کا سربراہ شیخ الاغوات کہلاتا ہے۔ 

نائب کو نقیب الاغوات کہا جاتا ہے۔ 

شیخ الاغوات کی وفات کے موقع پر نقیب الاغوات ہی اس کا جانشین بنتا ہے۔

تیسرا درجہ امین الاغوات کا ہے۔ چوتھے نمبر پر مشدی الاغوات آتا ہے۔ اس کے بعد علی الترتیب دوسرے درجے کے آغوات آتے ہیں۔ 

اغوات کی یہ تقسیم کے ان کے کام کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے۔

قدیم ترین اغوات شیخ الاغوات کے طور پر متعین ہوتا ہے اور وہی تمام اغوات کے اوقات کار اور ان کی ڈیوٹی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاغوات الحرمین — اہم نکات
  • اغوات کا سربراہ شیخ الاغوات کہلاتا تھا جبکہ اس کے نائب کو نقیب الاغوات کہا جاتا تھا۔

  • ان کے نظام میں امین الاغوات، مشدی الاغوات اور دیگر مراتب بھی شامل تھے۔

  • مدینہ منورہ میں الاغوات محلہ ایک معروف تاریخی محلہ رہا۔

  • متن کے مطابق مکہ، مدینہ، جدہ، طائف اور الاحساء کے علاوہ بیرونِ ملک بھی اغوات کے اوقاف تھے۔

  • سعودی عہد میں شاہ عبدالعزیز اور بعد میں شاہ سعود کے دور میں ان کی خصوصی حیثیت برقرار رکھنے کا ذکر ملتا ہے۔

  • ماضی میں اغوات حرمین شریفین میں 42 تک مختلف خدمات انجام دیتے تھے۔

overseaspost.net

مذکورہ درجوں پر تقرری کے اپنے قاعدے ضابطے ہیں جن کی پابندی کی جاتی ہے۔ 

اغوات کا ذکر خیر کیلئے مشہور ہیں۔ 

ان میں عالم، فاضل اور فقیہ بھی گزرے ہیں۔ 

مدینہ منورہ کے بعض اغوات نے فلاحی کاموں اور ضرورت مندوں کی مدد میں بڑا نام کمایا۔ 

ان میں ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے مساجد، مدارس اور رباطیں قائم کرائیں۔

قباء کے محلے میں موجود مسجد آغا اس کا روشن ثبوت ہے۔ 

یہ مسجد اب بھی موجود ہے۔ 

اغوات کے نام سے رباط کا وقف بھی پایا جاتا ہے۔

اغوات اپنی امارت کیلئے مشہور ہیں۔

5646446

 ان کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور نہ انہیں اپنی دولت کسی کو عطیہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ 

ان کی موت پر ان کی املاک ادارہ اوقاف کے حوالے ہو جاتی ہیں۔ 

ان کی نہ اولاد ہوتی ہے اور نہ نسل۔ 

ان کا سلسلہ ان کی موت پر ختم ہو جاتا ہے۔ 

وجہ یہ ہے کہ ان کے اعضاء انہیں حرمین شریفین کیلئے وقف کر چکے ہوتے ہیں۔

الاغوات محلہ

الاغوات کا محلہ مدینہ منورہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔ 

اس کی گلی باب جبرئیل کے سامنے سے شروع ہو کر باب جمعہ کی جانب چلی گئی۔ 

اغوات محلے کے گھر عام طور پر بڑے پرانے طرز کے ہوتے تھے۔ 

مٹی اور اینٹوں کے بنے ہوتے تھے۔ 

دو اور تین منزلہ ہوتے تھے۔ 

اغوات محلے کی کئی گلیاں مشہور ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXاغوات الحرمین — فیکٹ باکس
سربراہ

شیخ الاغوات

نائب

نقیب الاغوات

دیگر درجات

امین الاغوات، مشدی الاغوات اور دیگر مراتب

تاریخی محلہ

الاغوات، مدینہ منورہ

ماضی کی خدمات

42 تک مختلف ذمہ داریاں

اہم مالی ذریعہ

تنخواہیں اور اوقاف

overseaspost.net

جو شخص اغوات میں شامل ہونا چاہتا ہو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ نامرد ہو اور اپنے اوپر اغوات کے قانون کو لاگو کرنا اسے منظور ہو۔ 

مسلسل 7 برس تک حرم شریف میں ڈیوٹی دیتا رہے، اپنا فرض احسن طریقے سے ادا کرے، اپنے سربراہوں کے احکام کی اطاعت کرے اور صحت مند ہو۔

اغوات سعودی عہد میں

حرمین شریفین کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف کے طور پر سعودی عہد اقتدار میں اغوات کو بڑی قدر و منزلت حاصل ہوئی۔

1346ھ میں سعودی عہد کے آغاز ہی سے اغوات کے ساتھ خصوصی برتاؤ شروع کر دیا گیا۔ 

بانی مملکت شاہ عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کر کے واضح کیا کہ:

’اغوات حرم ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی خصوصی حیثیت پر قائم رہیں گے، کسی کو بھی ان پر نہ اعتراض کا حق ہوگا اور نہ ان کے امور میں کوئی مداخلت کا اختیار ہوگا۔‘

شاہ عبدالعزیز کی وفات کے بعد شاہ سعود نے 4 ربیع الاول 1374ھ کو اپنے والد کے فرمان کی تصدیق و توثیق کرتے ہوئے مندرجہ ذیل فرمان جاری کیا:

’ہم اغوات الحرم کو ان کے نظم و نسق پر جوں کا توں برقرار رکھتے ہیں، کوئی شخص بھی ان کے امور میں نہ تو مداخلت کرے گا اور نہ اغوات کیلئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث بنے گا۔‘

5646464

اغوات بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کے سابق فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ فہد ہر سال ان کے نام شاہی تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ 

یہ تحفہ انہیں مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف کی جنرل پریزیڈنسی کے توسط سے ملا کرتا تھا۔

سعودی حکومت انہیں تنخواہیں دیتی ہے۔ 

علاوہ ازیں اوقاف سے ہونے والی آمدنی بھی ان کی مالی ضروریات پوری کرتی ہے۔ 

اغوات کے اوقاف مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف اور الاحساء میں پائے جاتے ہیں۔ 

بیرونِ مملکت عراق، مراکش اور یمن میں بھی اغوات کیلئے اوقاف ہیں۔ 

OVERSEAS POST | AWQAFاغوات کے اوقاف کہاں تھے؟

متن کے مطابق اغوات کی مالی ضروریات صرف سرکاری تنخواہوں سے پوری نہیں ہوتیں بلکہ اوقاف سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اہم ذریعہ تھی۔

سعودی عرب

مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف، الاحساء

بیرونِ مملکت

عراق، مراکش اور یمن

ادارتی احتیاط: یہ تفصیل پرانے اخباری متن پر مبنی ہے؛ اسے موجودہ اوقاف کی فہرست کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
overseaspost.net

اغوات کے کام

ماضی میں اغوات حرمین شریفین میں 42 خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ 

ان میں مطاف کو دھونا، حرمین شریفین کو کبوتروں کے فضلے سے صاف کرنا اور شمعیں روشن کرنا وغیرہ شامل تھا۔ 

بعد ازاں ماضی قریب تک صرف چار کام انجام دیتے تھے:

1۔ بادشاہ اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے استقبال میں حصہ لینا۔

2۔ ریاست کے مہمان سربراہوں، وزراء اور ان کے ہمراہ آنے والی شخصیات کی خدمت، ان کیلئے قالین بچھانا اور آبِ زمزم پیش کرنا۔

3۔ طواف کے دوران خواتین کو مردوں سے علیحدہ کرنا اور اذان کے بعد خواتین کو طواف سے روکنا۔

4۔ مسجد نبوی شریف میں اغوات روضہ مبارک کی صفائی پر مامور تھے۔ 

ضرورت پڑنے پر مہمانوں کیلئے روضہ کا دروازہ کھولتے تھے، سرکاری مہمانوں کو آبِ زمزم پر خوش آمدید کہتے تھے اور مسجد نبوی شریف سے رخصت ہوتے وقت ان کے ہمراہ رہتے تھے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے