عبد اللہ برنی المدنی
مدینہ منورہ
اسلام میں میراث کے حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں، اس لیے کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی شرعی وارث کا حصہ ختم نہیں کرسکتا۔
بیٹیوں کو میراث سے محروم کرنا، کسی ایک اولاد کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوسروں کے حقوق کم کرنا یا نابالغ وارث کے مال میں غیر ضروری تصرف کرنا درست نہیں۔
اسی طرح گناہ یا غیر شرعی مقصد کے لیے کی گئی وصیت بھی نافذ نہیں ہوتی۔
2/2
وصیت کا مقصد حقوق کی حفاظت اور ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے، لیکن بعض اوقات اسی وصیت کو کسی وارث کو فائدہ پہنچانے یا دوسرے وارث کو محروم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلامی شریعت نے اس سلسلے میں واضح اصول مقرر کئے ہیں تاکہ مرنے والے کی خواہش کے نام پر کسی وارث کا حق ضائع نہ ہو۔
گناہ کے کام کی وصیت نافذ نہیں ہوگی
اسلامی اصول کے مطابق ایسی وصیت معتبر نہیں جس میں کسی گناہ، حرام کام یا غیر شرعی مقصد کے لیے مال خرچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہو۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSدوسری قسط — اہم نکات ⌄
- ✓کسی بیٹے یا بیٹی کو محض ناراضی یا اختلاف کی وجہ سے شرعی میراث سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
- ✓بیٹی کا مقرر شرعی حصہ ختم کرنا یا اسے دباؤ سے چھوڑنے پر مجبور کرنا درست نہیں۔
- ✓جو پہلے ہی شرعی وارث ہو، اس کے لیے اضافی وصیت دوسرے بالغ وارثوں کی رضامندی سے نافذ ہوسکتی ہے۔
- ✓نابالغ وارث کے حصے میں سے صدقہ، خیرات یا دوسرا اختیاری خرچ نہیں کیا جاسکتا۔
- ✓گناہ یا غیر شرعی مقصد کے لیے کی گئی وصیت معتبر نہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی وفات کے بعد مال کو ایسے کام میں خرچ کرنے کی وصیت کرے جو شرعاً جائز نہیں تو وارثوں یا وصی پر اس ہدایت کو پورا کرنا لازم نہیں، بلکہ انہیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
وصیت کا احترام اپنی جگہ، لیکن کسی شخص کی وصیت اسے حرام کام کو جائز بنانے کا اختیار نہیں دیتی۔
مزید پڑھیں
کیا کسی کو میراث سے محروم کیا جاسکتا ہے؟
بعض معاشروں میں ناراضی، خاندانی اختلاف یا کسی اور وجہ سے والدین کسی بیٹے یا بیٹی کو ’عاق‘ قرار دے کر میراث سے محروم کرنے کا اعلان کردیتے ہیں۔
بعض لوگ تحریری طور پر بھی یہ لکھوا دیتے ہیں کہ فلاں اولاد کو جائیداد میں سے کچھ نہ دیا جائے۔
شرعی اعتبار سے اس قسم کی ہدایت کسی وارث کے مقررہ حق کو ختم نہیں کرسکتی۔
میراث کے حصے شریعت نے مقرر کئے ہیں۔
اس لیے کوئی شخص اپنی مرضی سے یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ اس کی وفات کے بعد کسی شرعی وارث کو حصہ نہ دیا جائے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXمیراث کا فیکٹ باکس ⌄
خاص طور پر بیٹیوں کو میراث سے محروم کرنا ایک سنگین ناانصافی ہے۔
بعض خاندانوں میں جائیداد صرف بیٹوں کے پاس رکھنے کے لیے زندگی ہی میں تمام املاک بیٹوں کے نام منتقل کردی جاتی ہیں تاکہ بیٹیوں کو کچھ نہ ملے۔
اگر اس کا مقصد شرعی وارثوں کو ان کے جائز حق سے محروم کرنا ہو تو یہ سخت قابل گرفت عمل ہے۔
میراث خدمت، پسند و ناپسند یا والدین سے قربت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتی۔
جسے اللہ تعالیٰ نے وارث بنایا ہے، اسے اس کا شرعی حصہ دینا ضروری ہے۔
وارث کے لیے وصیت کا اصول
جو شخص پہلے ہی شرعی طور پر وارث ہے، عام اصول کے تحت اس کے لیے الگ سے وصیت نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا حصہ میراث میں پہلے ہی مقرر ہے۔
اگر کوئی شخص کسی وارث کے لیے اضافی وصیت کردے تو اس پر عمل دوسرے بالغ وارثوں کی اجازت سے ہوسکتا ہے۔
⚖ OVERSEAS POST | KEY RULINGکیا اولاد کو میراث سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ ⌄
میراث کے حصے شریعت نے مقرر کئے ہیں۔ والدین اپنی ذاتی ناراضی، خاندانی اختلاف، خدمت کی کمی یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی شرعی وارث کا مقرر حصہ ختم نہیں کرسکتے۔
بنیادی اصول: جسے شریعت نے وارث بنایا ہے، اسے اس کا شرعی حصہ ملے گا۔
نابالغ وارث کی اجازت معتبر نہیں، کیونکہ وہ اپنے مالی حق سے دستبردار ہونے کا قانونی اور شرعی اختیار نہیں رکھتا۔
اس اصول کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایک وارث کو اضافی فائدہ پہنچانے کے لیے دوسرے وارثوں کے حصے کم نہ کئے جائیں۔
بالواسطہ طور پر کسی وارث کو فائدہ پہنچانا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جانتا ہے کہ اس کے بیٹوں یا دوسرے وارثوں میں میراث مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی، لیکن وہ کسی ایک بیٹے کو زیادہ فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔
اس مقصد سے وہ براہ راست اس بیٹے کے لیے وصیت کرنے کے بجائے اس کے بچے، یعنی اپنے پوتے یا کسی دوسرے قریبی فرد کے نام وصیت کردیتا ہے تاکہ بالآخر فائدہ اسی مخصوص وارث کے گھر پہنچے۔
◈ OVERSEAS POST | DAUGHTERS' RIGHTSبیٹی کا حقِ میراث ⌄
- ✓بیٹی کو اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جاسکتا کہ شادی پر پہلے ہی خرچ ہوچکا ہے۔
- ✓خاندانی جائیداد صرف بیٹوں کے پاس رکھنے کے لیے بیٹیوں کا حق ختم کرنا درست نہیں۔
- ✓میراث خدمت، قربت یا پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ شرعی استحقاق کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
اگر اس کے پیچھے مقصد دوسرے وارثوں کے حقوق کو کم کرنا اور کسی خاص وارث کو اضافی فائدہ دینا ہو تو یہ نیت درست نہیں۔
شریعت میں اصل اہمیت انصاف اور حقوق کی حفاظت کو حاصل ہے۔
زندگی میں مال دینے کا معاملہ
وصیت اور زندگی میں ہبہ یا تحفہ دینے کے احکام الگ ہیں۔ کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے مال کا مالک ہوتا ہے اور اصولاً کسی کو ہدیہ دے سکتا ہے، لیکن یہاں بھی انصاف اور نیت کی اہمیت ہے۔
✎ OVERSEAS POST | WASIYYAH RULEوارث کے لیے وصیت کا اصول ⌄
جو شخص پہلے ہی شرعی وارث ہے، اس کے لیے اضافی وصیت عام اصول کے تحت خود بخود نافذ نہیں ہوتی۔
- 1وفات کے بعد دوسرے بالغ وارث رضامند ہوں تو اضافی وصیت نافذ ہوسکتی ہے۔
- 2نابالغ وارث کی رضامندی معتبر نہیں کیونکہ وہ اپنے مالی حق سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔
اگر کسی شخص کا مقصد محض یہ ہو کہ اپنی ایک اولاد یا بعض وارثوں کو محروم کردیا جائے اور سارا مال دوسرے لوگوں کے نام منتقل کردیا جائے تو یہ طرزِ عمل اخلاقی اور شرعی اعتبار سے خطرناک ہے۔
انسان کو مال کی تقسیم یا عطیات میں ایسی چالیں اختیار نہیں کرنی چاہئیں جن کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ میراث کے حقوق کو بے اثر کرنا ہو۔
نابالغ وارث کا حق
نابالغ بچے کے حصے کی حفاظت خاص طور پر ضروری ہے۔ اگر کسی نابالغ بچے کو میراث میں مال ملا ہے تو اسے کسی امانتدار ولی یا ذمہ دار شخص کے ذریعے محفوظ کیا جائے۔
نابالغ کی اجازت لے کر اس کے مال میں سے صدقہ یا خیرات کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ نابالغ اپنے مالی حق سے دستبردار ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
اس لیے کسی میت کے ایصالِ ثواب کے نام پر نابالغ وارث کے حصے میں سے رقم خرچ نہیں کی جاسکتی۔
↔ OVERSEAS POST | FAIRNESSبالواسطہ فائدہ پہنچانے کی صورت ⌄
اگر کوئی شخص ایک وارث کو براہِ راست اضافی مال نہیں دے سکتا اور پھر اسی مقصد سے اس کے بچے یا کسی قریبی فرد کے نام وصیت کردے، تو اصل نیت اور نتیجہ اہم ہوگا۔
احتیاط: کسی تدبیر کے ذریعے دوسرے وارثوں کے مقرر حقوق کم کرنا انصاف کی روح کے خلاف ہے۔
وارثوں کو محتاج چھوڑنا مقصود نہیں
اسلام صرف صدقہ اور وصیت کی ترغیب ہی نہیں دیتا بلکہ اہل خانہ اور وارثوں کی مالی ضرورت کا بھی خیال رکھتا ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ بیماری کے دوران انہوں نے رسول اللہﷺ سے اپنے مال کی بڑی مقدار وصیت کرنے کے بارے میں پوچھا۔
بالآخر آپﷺ نے تہائی مال کی اجازت دی اور فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑا جائے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔
× OVERSEAS POST | INVALID WILLگناہ کے کام کی وصیت ⌄
کسی حرام، گناہ یا غیر شرعی مقصد کے لیے مال خرچ کرنے کی وصیت معتبر نہیں۔
- ×ایسی وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں۔
- ×وصیت کسی غیر شرعی کام کو جائز نہیں بناتی۔
- ✓وصی اور وارثوں کو جائز اور شرعی حدود کی پابندی کرنی ہوگی۔
اس حدیث سے ایک اہم توازن سامنے آتا ہے۔
انسان نیکی کے کاموں کے لیے مال ضرور خرچ کرے، لیکن اپنے اہل خانہ اور وارثوں کی جائز ضروریات کو نظر انداز نہ کرے۔
نیکی کو آخری وقت تک مؤخر نہ کریں
جو شخص صدقہ جاریہ، فلاحی کام یا دوسرے نیک مقاصد میں مال خرچ کرنا چاہتا ہو، اسے تمام کام موت کے قریب پہنچنے تک مؤخر نہیں کرنے چاہئیں۔
سیدنا ابوسعید خدریؓ سے منقول روایت کے مطابق زندگی اور صحت کی حالت میں خرچ کیا ہوا مال اس رقم سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو انسان موت کے وقت خرچ کرے۔
◉ OVERSEAS POST | MINOR HEIRنابالغ وارث کا مال ⌄
نابالغ وارث کا حصہ اس کی ملکیت ہے اور اسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
- ✓اس کے مال کو امانت کے ساتھ محفوظ کیا جائے۔
- ×اس کے حصے میں سے ایصالِ ثواب کے نام پر صدقہ یا خیرات نہ کی جائے۔
- ×نابالغ کی اجازت لے کر بھی اس کے مالی حق سے دستبرداری معتبر نہیں۔
اس کی ایک واضح حکمت ہے۔
صحت اور زندگی میں مال انسان کو محبوب ہوتا ہے، مستقبل کی ضروریات بھی سامنے ہوتی ہیں، اس کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا حقیقی ایثار کی علامت ہے۔
درست وصیت کی اصل روح
صحیح وصیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذمے واجب حقوق واضح کرے، قرض اور امانتوں کی تفصیل لکھے، واجب دینی ذمہ داریوں کا ذکر کرے اور اگر کوئی جائز وصیت کرنا چاہے تو شرعی حد کے اندر کرے۔
⌂ OVERSEAS POST | LIFETIME GIFTزندگی میں جائیداد دینے کا معاملہ ⌄
زندگی میں ہبہ یا تحفہ اور وفات کے بعد وصیت کے احکام الگ ہیں، لیکن نیت میں انصاف بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر مقصد صرف یہ ہو کہ کچھ شرعی وارثوں کو، خصوصاً بیٹیوں کو، مستقبل کی میراث سے محروم کردیا جائے تو ایسا طرزِ عمل حق تلفی کا سبب بن سکتا ہے۔
ساتھ ہی اسے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وصیت کسی وارث کا حق ختم کرنے، کسی کو ناجائز فائدہ پہنچانے یا خاندانی اختلاف کا بدلہ لینے کا ذریعہ نہیں۔
انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کے اعمال کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، لیکن پیچھے چھوڑے گئے فیصلوں کے اثرات باقی رہتے ہیں۔
اس لیے وصیت ایسی ہونی چاہئے جو قرضوں کی ادائیگی، حقوق کی حفاظت، ورثا کے درمیان انصاف اور جائز نیکی کے کاموں کا ذریعہ بنے، نہ کہ اختلاف اور حق تلفی کا سبب۔