مولانا محمد عابد ندوی
جدہ
رزق صرف روزگار یا دولت کا نام نہیں۔
زمین، بارش، فصلیں، پانی، معدنی وسائل اور زندگی کی دوسری ضروریات بھی اسی وسیع نظام کا حصہ ہیں۔
قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں انسان اور دوسری مخلوقات کے لیے معیشت کے وسائل رکھے اور ہر چیز ایک مقررہ مقدار اور حکمت کے مطابق فراہم کی۔
2/2
گزشتہ حصے میں یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا خالق اور رازق ہے۔
انسان، جانور، چرند پرند اور حشرات سب اسی کے قائم کئے ہوئے نظامِ رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کی جگہ، ضرورت اور اس کے مناسب رزق سے پوری طرح واقف ہے۔
رزق رسانی کے اس الٰہی انتظام کا ایک بڑا حصہ زمین، پانی، بارش، فصلوں اور قدرتی وسائل سے متعلق ہے۔
انسان اپنے کھانے پر غور کرے
اللہ تعالیٰ انسان کو خاص طور پر اپنی غذا میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:
’انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے، ہم نے خوب پانی برسایا، پھر زمین کو اچھی طرح پھاڑا، پھر اس میں اناج اُگایا، انگور اور ترکاری، زیتون اور کھجور، گنجان باغات، میوے اور چارہ، تمہارے فائدے کے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے۔‘ (عبس: 24-32)
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات ⌄
- ✓اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رازق ہے اور تمام مخلوقات کی روزی اسی کے نظام سے پہنچتی ہے۔
- ✓قرآن انسان کو کائنات اور رزق کے نظام میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
- ✓انسان، جانور، پرندے اور حشرات سب اللہ کے قائم کردہ نظامِ رزق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
- ✓پرندوں کی مثال توکل کے ساتھ کوشش کا عملی سبق دیتی ہے۔
- ✓اللہ ہر جاندار کی جگہ، ضرورت اور اس کے مناسب رزق سے پوری طرح واقف ہے۔
- ✓زمین، بارش، بیج اور فصلیں رزق کے اسی بڑے الٰہی نظام کی نمایاں نشانیاں ہیں۔
ان آیات میں انسان کو صرف کھانا کھانے کی دعوت نہیں دی گئی بلکہ کہا گیا کہ وہ اس پورے نظام پر غور کرے جس کے ذریعے ایک دانہ اس کی پلیٹ تک پہنچتا ہے۔
بارش ہوتی ہے، زمین پانی جذب کرتی ہے، بیج پھٹتا ہے، پودا نکلتا ہے، فصل تیار ہوتی ہے اور پھر انسان اسے کاٹ کر اپنی غذا بناتا ہے۔
یہ سب کچھ ایک مقررہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
زمین میں معیشت کے وسائل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اُگائی اور تمہارے لیے اس میں معیشت کے اسباب بنا دیئے اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔
اور ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ہر چیز کو ایک معین
اندازے کے مطابق اُتارتے ہیں۔‘ (الحجر: 19-21)
ان آیات میں رزق کے نظام کی کئی اہم حقیقتیں بیان ہوئی ہیں۔
پہلی یہ کہ زمین میں انسان کے لیے معاش اور زندگی کے وسائل رکھے گئے ہیں۔
◈ OVERSEAS POST | QURANIC VIEWقرآن کس طرف توجہ دلاتا ہے؟ ⌄
- ✓قرآن بتاتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں، مگر بہت سے لوگ ان سے بے توجہی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
- ✓رزق کا نظام بھی انہی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب کی قدرت، علم اور حکمت کو پہچان سکتا ہے۔
- ✓غور و فکر کا مقصد صرف حیرت نہیں، بلکہ معرفت، شکر اور بندگی کی طرف رہنمائی ہے۔
دوسری یہ کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ ایسی بے شمار مخلوقات بھی اسی زمین سے اپنا رزق حاصل کرتی ہیں جن کی خوراک کا انتظام انسان نہیں کرتا۔
کچھ پالتو جانوروں کو انسان بظاہر چارہ دیتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کا چارہ بھی اللہ تعالیٰ ہی زمین سے پیدا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ دنیا میں بے شمار جانور، پرندے، حشرات اور سمندری مخلوقات ایسی ہیں جن کی غذا کی فراہمی میں انسان کا کوئی کردار نہیں، مگر وہ مسلسل رزق حاصل کررہی ہیں۔
یہ سب کہاں سے آتا ہے؟
قرآن کا جواب واضح ہے: ان سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہے۔
تخلیق سے پہلے رزق کا انتظام
قرآن پاک میں جہاں زمین اور آسمان کی تخلیق کا ذکر آیا ہے، وہیں یہ بھی بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی میں زمین میں مخلوقات کی ضروریات اور غذائی وسائل کا انتظام فرمایا۔
ارشاد ہے:
’آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو؟
وہی سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے، اس میں برکت رکھی اور اس میں رہنے والوں کے لیے غذاؤں کی مقدار مقرر کردی۔‘ (حمٓ السجدہ: 9-10)
1′ OVERSEAS POST | HADITHپرندوں سے توکل کا سبق ⌄
- ✓حدیث میں پرندوں کی مثال دی گئی ہے: وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔
- ✓یہ مثال واضح کرتی ہے کہ توکل کا مطلب کوشش چھوڑ دینا نہیں۔
- ✓پرندہ رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر اسے رزق پہنچانے والی اصل ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
گویا انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے اس کے لیے زمین تیار کردی گئی، اس میں پانی، خوراک، نباتات، معدنیات اور زندگی کے دوسرے وسائل رکھ دیئے گئے۔
زمین ایک عظیم خزانہ
زمین ہر قسم کے غلہ، اناج اور غذائی اجناس کا خزانہ ہے۔ اللہ کے حکم سے وہ ہر سال فصلیں اُگاتی ہے اور انسان کی ضروریات پوری کرتی ہے۔
صرف غذا ہی نہیں بلکہ انسان کے استعمال کی بے شمار چیزیں بھی زمین کے اندر سے نکلتی ہیں۔ دھاتیں، معدنیات، ایندھن اور دوسری ضروری اشیا اسی زمین کے مختلف حصوں میں محفوظ کی گئی ہیں۔
؟ OVERSEAS POST | REFLECTIONاگر اللہ روزی روک لے؟ ⌄
- ✓قرآن ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: اگر اللہ کسی کی روزی روک لے تو کون اسے فراہم کرسکتا ہے؟
- ✓یہ سوال انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے روزگار، تجارت اور محنت کے پیچھے بھی ایک بڑا نظام کارفرما ہے۔
- ✓اسباب اختیار کرنا ضروری ہیں، مگر اسباب کو اصل رازق سمجھ لینا درست نہیں۔
انسان کا کام یہ ہے کہ وہ محنت، علم اور وسائل کے ذریعے انہیں تلاش کرے اور جائز طریقے سے استعمال کرے۔
کیونکہ دنیا دارالاسباب ہے، اس لیے انسان کو کوشش کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کوشش کو رزق کا اصل خالق سمجھ لینا درست نہیں۔
انسان کی محنت ایک سبب ہے، جبکہ اصل خزانہ اور اس کی کنجی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
مختلف خطوں میں مختلف وسائل کیوں؟
یہ بھی قدرتِ الٰہی کی ایک حیرت انگیز نشانی ہے کہ زمین کے ہر حصے میں ایک جیسی پیداوار یا ایک جیسے وسائل نہیں پائے جاتے۔
کہیں کھجور کثرت سے پیدا ہوتی ہے، کہیں چاول، کہیں گندم، کہیں چائے، کہیں کافی اور کہیں دوسرے پھل اور غذائی اجناس۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISرزق کے لیے علم کیوں ضروری ہے؟ ⌄
- ✓کون سی مخلوق کہاں ہے؟ اسے کس وقت کیا چاہئے؟ کون سی غذا اس کے لیے مناسب ہے؟
- ✓رزق رسانی کے مکمل نظام کے لیے صرف قدرت نہیں، بلکہ کامل علم اور حکمت بھی ضروری ہے۔
- ✓قرآن کی دلیل ہے: جس ذات نے مخلوق کو پیدا کیا، وہ اس کی ضروریات سے کیسے بے خبر ہوسکتی ہے؟
اسی طرح ہر معدنی وسیلہ بھی ہر ملک میں موجود نہیں۔
کسی خطے میں تیل ہے، کہیں قدرتی گیس، کہیں سونا، کہیں تانبہ اور کہیں دوسری معدنیات۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت زمین کے مختلف حصوں کو مختلف وسائل عطا فرمائے۔
اس تقسیم میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ دنیا کا کوئی خطہ دوسرے خطے سے مکمل طور پر بے نیاز نہ ہوجائے۔
ایک علاقے کو دوسرے علاقے کی ضرورت پڑے، اقوام اور معاشرے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کریں، اشیا کا تبادلہ ہو اور انسانوں کے لیے روزگار اور معاش کے مزید دروازے کھلیں۔
یوں ضرورت، تجارت اور باہمی تعاون بھی رزق کے اسی وسیع نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ہر چیز ایک مقررہ مقدار میں
رزق رسانی کے الٰہی نظام میں ایک اور قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز ایک مقررہ اندازے اور مقدار کے مطابق پیدا کی گئی ہے۔
قرآن پاک میں فرمایا گیا:
’اور ہم نے اس زمین میں ہر چیز اندازے سے اُگائی۔‘ (الحجر: 19)
اور فرمایا:
’اور ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم انہیں نہیں اُتارتے مگر ایک مقررہ اندازے کے مطابق۔‘ (الحجر: 21)
یہ مقدار اور توازن خود انسان کے فائدے کے لیے ہے۔
✓ OVERSEAS POST | DIVINE PROVISIONہر جاندار کی روزی ⌄
- ✓سمندر کی تہہ، پہاڑ، صحرا، جنگل یا فضا—کوئی جاندار اللہ کے علم سے باہر نہیں۔
- ✓قرآن کے مطابق زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمہ ہے۔
- ✓ہر مخلوق کی جگہ، قیام اور ضرورت اس کے علم میں ہے؛ اسی لیے رزق کا یہ نظام مسلسل قائم ہے۔
اگر دنیا میں ہر چیز ہر جگہ بے حساب اور بے حد مقدار میں دستیاب ہوتی تو بہت سے معاشی اور سماجی نظام قائم نہ رہتے۔
ایک دوسرے کی ضرورت، تجارت، محنت اور باہمی تعاون کا بڑا حصہ ختم ہوجاتا۔
انسانی فطرت بھی ایسی ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو ہر ضرورت سے بے نیاز سمجھنے لگتا ہے تو بعض اوقات شکر کے بجائے غرور اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک ایسے متوازن نظام پر قائم کیا ہے جس میں انسان کو نعمت بھی ملتی ہے، کوشش بھی کرنا پڑتی ہے اور دوسروں کے ساتھ تعاون بھی کرنا ہوتا ہے۔
رزق صرف دولت کا نام نہیں
رزق کا مفہوم صرف مال اور پیسے تک محدود نہیں۔
انسان کی غذا، پانی، صحت، اولاد، علم، صلاحیت، رہائش، امن اور زندگی کی دوسری سہولتیں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔
انسان بعض اوقات رزق کو صرف اپنی آمدنی سے جوڑ دیتا ہے، حالانکہ وہ روزانہ ایسی بے شمار نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے جنہیں وہ خود پیدا نہیں کرسکتا۔
✦ OVERSEAS POST | LIFE & RIZQرحمِ مادر سے دنیا تک ⌄
- ✓انسان کی پرورش رحمِ مادر سے شروع ہوتی ہے، جہاں اسے بغیر کسی ظاہری کوشش کے غذا پہنچتی ہے۔
- ✓احادیث میں آیا ہے کہ انسان کی عمر، عمل اور رزق سے متعلق بعض امور رحمِ مادر ہی میں لکھ دیے جاتے ہیں۔
- ✓یہ تصور انسان میں اطمینان پیدا کرتا ہے کہ رزق کے لیے محنت ہو، مگر اضطراب نہیں۔
کیا انسان بارش برسا سکتا ہے؟
زمین میں بیج کو اگنے کی قوت دے سکتا ہے؟
سورج کی روشنی پیدا کرسکتا ہے؟
پھل کے اندر ذائقہ اور غذائیت پیدا کرسکتا ہے؟
انسان صرف موجود وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
ان وسائل کو پیدا کرنے والی اصل ذات اللہ تعالیٰ ہے۔
غور و فکر کا اصل مقصد
اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ان نشانیوں کو محض انسانی حیرت کے لیے نہیں بنایا بلکہ ان میں غور و فکر کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اس کا شکر ادا کرے اور اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ اس کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے فضل اور عطا کی محتاج ہے۔
◇ OVERSEAS POST | TAWHIDخالق بھی وہی، رازق بھی وہی ⌄
- ✓قرآن بار بار تخلیق اور رزق کو ایک ہی حقیقت سے جوڑتا ہے: جس نے پیدا کیا، وہی روزی بھی دیتا ہے۔
- ✓جب خالق اور رازق ایک ہی ہے تو دعا، امید، شکر اور بندگی کا اصل مستحق بھی وہی ہے۔
- ✓یہی مضمون انسان کو ظاہری وسائل سے اوپر اٹھ کر اصل منبعِ رزق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ رزق کے لیے جائز محنت کرے، حلال ذرائع اختیار کرے، اللہ تعالیٰ پر توکل رکھے اور ملنے والی نعمتوں پر شکر ادا کرے۔
زمین، آسمان، بارش، فصلیں، پھل، جانور، پرندے اور انسان کے لیے دستیاب بے شمار وسائل ہر روز اسے یاد دلاتے ہیں کہ اس کائنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا۔
ہر مخلوق کا رزق، ہر دانے کی نشوونما اور ہر ضرورت کی فراہمی ایک عظیم، مربوط اور حکیمانہ نظام کا حصہ ہے۔
اور اس نظام کا مالک، خالق اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔