براہ راست نشریات

اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہر انسان وی آئی پی کیوں ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Human Uniqueness
Picture of عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

عزیز بلگامی اپنے مضمون کے دوسرے حصے میں انسان کی انفرادیت، اللہ کی عطا کردہ حفاظت اور عقل، سماعت و بصارت جیسی نعمتوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
مضمون کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ساخت، صلاحیتوں اور رب کی عطاؤں کے اعتبار سے منفرد ہے، اس لیے احساسِ محرومی کے بجائے شکر، عاجزی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا چاہئے۔

2/2

کسی کی معاشی حالت جیسی کچھ بھی ہو، ایک ایک انسان رب تعالیٰ کے نزدیک ایک منفرد وجود رکھتا ہے۔ 

اس کا جو چہرہ بنایا، ویسا چہرہ اُس نے کسی کا بھی نہیں بنایا اور نہ کبھی بنائے گا۔ 

اگر جڑواں بچے بھی ہوں تو اُن کے چہرے سرسری نظر سے ایک جیسے دکھائی دیں گے، لیکن یہ بالکل یکساں نہیں ہوں گے اور کسی نہ کسی پہلو سے یہ الگ الگ ہی ہوں گے۔

اس کی انگلیوں کے نشان بھی ایسے بنائے کہ کسی اور کی انگلیوں سے کوئی میل نہ کھائیں۔ جدید میڈیکل سائنس تو اب اِس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بالوں کی موٹائی سے لے کر اُس کی جڑوں تک، اُس کی آنکھ کے سائز سے لے کر اُس کے دیدے کی گولائی تک کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا مماثل نہیں ہو سکتا، یعنی ہر انسان اپنی جگہ انفرادیت رکھتا ہے۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSحصہ دوم — اہم نکات
  • مضمون کے مطابق ہر انسان اپنی جگہ منفرد وجود رکھتا ہے۔
  • چہرہ، انگلیوں کے نشانات اور جسمانی خصوصیات انسان کی انفرادیت کی مثال کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔
  • انسان کی حفاظت کو رب تعالیٰ کی خصوصی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
  • عقل، سماعت، بصارت، ہاتھ اور پاؤں کو بیش قیمت عطائیں کہا گیا ہے۔
  • شکرگزاری کو احساسِ محرومی کم کرنے اور مثبت سوچ پیدا کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
  • حضرت سلیمانؑ کی مثال سے اقتدار کے باوجود عاجزی اور شکر کا سبق سامنے آتا ہے۔
overseaspost.net

مزید پڑھیں

پھر اِس زمین پر بسنے والا ہر انسان الٰہی سیکیورٹی کے حصار کے ساتھ زندہ رہے گا چاہے وہ نیند کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔ 

ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کی یہ خصوصی نعمت ہے جس کے حصار میں وہ محفوظ و مامون ہے۔ 

یہ تحفظ کسی سیکیورٹی پرسنل فراہم کرنے والی کمپنی کی طرح نہیں کہ جس کے گارڈ دولت مندوں کی دولت یا اقتدار کی قوت کے بل بوتے

 پر فراہم کر لیے جاتے ہیں۔ 

اِس کے باوجود خود یہ گارڈ ہر وقت اپنی جان کے خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں بلکہ کبھی کبھی مارے بھی جاتے ہیں۔

جس تحفظ کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہ اللہ کی فراہم کردہ سیکیورٹی ہے۔ 

اِس کا تذکرہ اللہ نے اپنی آخری کتاب میں کیا ہے:

’کوئی شخص ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہوں۔‘ (الطارق)

iOVERSEAS POST | FACT BOXانسان اور نعمتیں — فیکٹ باکس
مرکزی موضوعانسان کی انفرادیت اور رب کی نعمتیں
اہم زاویہہر انسان اپنی ساخت اور صلاحیتوں میں منفرد ہے
نمایاں نعمتعقل
دیگر نعمتیںسماعت، بصارت، ہاتھ، پاؤں، دل و دماغ
روحانی پیغامرب کی حفاظت اور رحمت کا شعور
مثالی کردارحضرت سلیمان علیہ السلام
مضمون کا مقصداحساسِ محرومی سے نکل کر شکر، عاجزی اور مثبت فکر کی طرف آنا
overseaspost.net

یہ وہ سیکیورٹی ہے جو رب تعالیٰ کی فراہم کردہ ہے جو ہر اولادِ آدم علیہ السلام کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کی نظر میں اُس کا ہر بندہ وی آئی پی ہے کیونکہ وہ اس کی شاہکار مخلوق ہے جسے رب نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا ہے۔ 

اسے اپنی مخلوق سے بہت پیار ہے۔ 

اس کے پاس مخلوق کے لیے انتہائی مہربانیاں اور رحمت کے خزانے ہیں۔ 

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محض اُس کے رحم ہی کا طفیل ہے کہ ہم صحت مندی کے ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

رب تعالیٰ نے زمین کی دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ایک زبردست نعمت بھی ہمیں عطا کی ہے، اور وہ عقل کی نعمت ہے۔ 

یہ ہماری عقل ہی ہے جس کے سبب دیگر مخلوقات پر ہمیں فوقیت حاصل ہے۔ 

کتنے شرم کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ ہمارے پاس ہے، پھر بھی ہم اپنے آپ کو غریب کہتے ہیں یا ہمارے مادہ پرست سرپرستوں یا رہنماؤں نے ہم پر تصورِ غربت تھوپ دیا ہے۔

OVERSEAS POST | IDENTITYہر انسان منفرد کیوں ہے؟

مضمون انسان کی جسمانی انفرادیت کو رب کی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مصنف کے مطابق ہر انسان کا چہرہ، انگلیوں کے نشانات اور دوسری جسمانی خصوصیات اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔

چہرہسرسری مماثلت کے باوجود مکمل یکسانیت نہیں
انگلیوں کے نشاناتہر انسان کی الگ شناخت کی مثال
اصل پیغامانسان خود کو معمولی نہ سمجھے؛ اس کی ساخت اور وجود اپنی جگہ ایک منفرد عطیہ ہیں۔
overseaspost.net

آخر ہم کیوں غربت یا پسماندگی کے نام پر اپنی کمیوں کا رونا روتے پھرتے ہیں؟ 

کبھی ہم رب کی جانب سے عطا کردہ اِن نعمتوں پر غور بھی کر پاتے ہیں؟ 

یہ جو ہمیں دو آنکھیں اُس نے عطا کی ہیں، کوئی ہے جو اِن کی قیمت مقرر کر سکے یا خریدنے کی جرأت کر سکے؟ 

اس نے ہمیں دو پاؤں اور دو ہاتھ جو عطا کیے ہیں، ذرا اِن کی ساخت تو ملاحظہ کریں کہ ہزاروں کمپیوٹروں پر یہ کس قدر بھاری ہیں، بلکہ اِن ہی ہاتھوں اور انگلیوں سے ہم زبردست کمپیوٹر بنا لیتے ہیں۔

پھر ذرا ہم اپنی قوتِ سماعت ہی کو دیکھ لیں تو اِس نعمت کی عظمت کا احساس کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ 

پھر دل و دماغ کی کیفیتوں میں پوشیدہ نعمتوں کو دیکھیں تو بارِ تشکر سے جبینِ نیاز جھک جائے۔ 

اِن بیش بہا نعمتوں سے فیض یابی کا انسانی ردعمل کیا ہے؟ 

OVERSEAS POST | PROTECTIONرب کی حفاظت — مضمون کا روحانی زاویہ

مصنف کے مطابق انسان صرف اپنی ظاہری تدابیر کے بل پر محفوظ نہیں؛ اس کی زندگی رب تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی کے حصار میں بھی ہے۔

’’کوئی شخص ایسا نہیں جس پر محافظ نہ ہوں۔‘‘ — مضمون میں سورۃ الطارق کے حوالے سے

یہ کارڈ مضمون کے اپنے روحانی استدلال کا خلاصہ ہے اور اسی کے الفاظ و مفہوم پر مبنی ہے۔

overseaspost.net

معبودِ برحق کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:

’اور وہی اللہ ہے جس نے تمہیں سماعت، بصارت اور کیفیتِ دل عطا کی، تم میں بہت تھوڑے ہیں جو شکر ادا کرتے ہو۔‘ (المومنون)

واضح رہے کہ شکر بجا لانے میں خود ہمارا ہی فائدہ ہے کہ اگر ہم اِن نعمتوں کو یاد کرتے ہیں تو ہم میں صبر و شکر کے جذبات جنم لیں گے، احساسِ محرومی جاتا رہے گا، ہماری زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی رونما ہوگی۔ 

ہماری سوچ کو مثبت رخ میسر ہوگا، منفی جذبات رخصت ہو جائیں گے اور توکل باللہ فزوں تر ہوگا۔ 

OVERSEAS POST | HUMAN VALUEہر انسان وی آئی پی — اس کا مطلب کیا ہے؟

مضمون کا سب سے نمایاں جملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں اُس کا ہر بندہ وی آئی پی ہے۔ مصنف اس خیال کو انسانی ساخت، حفاظت اور رب کی رحمت سے جوڑتے ہیں۔

  • 1انسان کو اپنی قدر صرف دولت یا عہدے سے نہیں ناپنی چاہئے۔
  • 2اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں بذاتِ خود بڑی نعمتیں ہیں۔
  • 3انفرادیت انسان کو احساس دلاتی ہے کہ وہ محض ہجوم کا ایک بے معنی حصہ نہیں۔
overseaspost.net

ارشاد فرمایا گیا:

’حضرت سلیمانؑ کا اپنے رب کی نعمتوں پر یہ اعلان تھا کہ یہ سب میرے رب کے فضل سے ہے۔ دراصل اس طرح وہ مجھے آزماتا ہے، میرا امتحان لیتا ہے کہ آیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری اور ناقدری کرتا ہوں! 

اور جو کوئی شکر بجا لاتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے ہی مفاد میں مشکور بنتا ہے اور جو ناشکری کا رویہ اختیار کرتا ہے تو بے شک میرا رب ہر طرح سے غنی، ہر ضرورت سے بے نیاز اور بڑے اکرام والا ہے۔‘ (النمل)

اس میں اللہ رب العزت کے ایک جلیل القدر نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے اظہارِ سپاس کا ایک مہتمم بالشان نمونہ ملتا ہے کہ کس طرح وہ رب تعالیٰ کی نعمتوں پر اپنے ردعمل کا اظہار فرماتے ہیں۔ 

وہ ان نعمتوں کا کریڈٹ صرف اللہ کے فضل کو دیتے ہیں۔ وہ فوراً عرض فرماتے ہیں:

’یہ سب مجھ پر میرے رب کا فضل ہے، اس طرح وہ مجھے آزماتا ہے کہ میں شکرگزاری والے اعمال کرتا ہوں یا ناشکری والے۔‘

عOVERSEAS POST | INTELLECTعقل — وہ نعمت جو انسان کو ممتاز کرتی ہے

مصنف عقل کو انسان کی بڑی نعمتوں میں شمار کرتے ہیں اور اسے دوسری مخلوقات پر انسان کی فوقیت سے جوڑتے ہیں۔

غور و فکرانسان اپنی حالت اور اپنے گرد موجود نعمتوں پر غور کرسکتا ہے
اختیاروہ اپنے رویے، شکر اور عمل کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے
اصل سوالاتنی بڑی ذہنی صلاحیت کے باوجود کیا انسان اپنے رب کی عطاؤں کو پہچان رہا ہے؟
overseaspost.net

اپنے وقت کے سپر پاور کے سربراہ کی دعا قرآن کریم میں ایک اور جگہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے:

’نعمتوں کے حصول پر حضرت سلیمان علیہ السلام دست بہ دعا ہو جاتے ہیں: اے میرے رب! مجھے توفیق دیجیو کہ میں شکر ادا کروں آپ کی نعمتوں کا، وہ نعمتیں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور یہ کہ میں آپ کی رضا کے نیک کام سرانجام دینے والا بنوں اور مجھے اپنی رحمت کے حوالے سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیجیے۔‘ (النمل)

OVERSEAS POST | BLESSINGSآنکھ، ہاتھ، پاؤں اور سماعت — ان کی قیمت کیا ہے؟

مضمون انسان کو اپنی روزمرہ جسمانی صلاحیتوں پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ جن آنکھوں، ہاتھوں، پاؤں اور سماعت کو ہم معمول سمجھتے ہیں، کیا واقعی ان کی کوئی مادی قیمت مقرر کی جاسکتی ہے؟

  • 👁بصارت: دنیا کو دیکھنے اور پہچاننے کی صلاحیت
  • ہاتھ: تخلیق، محنت اور روزمرہ زندگی کا ذریعہ
  • پاؤں: حرکت اور خودمختاری کی بنیادی نعمت
  • سماعت: رابطے اور ادراک کا اہم وسیلہ
overseaspost.net

حضرت سلیمان علیہ السلام کی مذکورہ سنت قرآن میں درج ہی اِس لیے ہے کہ اِس میں ہم درس ہائے عبرت تلاش کر لیں کہ اِس قدر عظیم سلطنت، ایسی عظیم کہ چشمِ فلک نے ایسی سلطنت پھر کبھی نہیں دیکھی، کی خاکساری کا کیا عالم تھا۔

آج زمین کے ایک خطے پر ووٹوں کے توڑ جوڑ سے برسرِ اقتدار آنے والے دورِ جدید کے لیڈران کی اکڑ، تکبر اور گھمنڈ کو تو ذرا دیکھیں کہ زمین پر اِن کے پیر نہیں ٹکتے۔ 

بھول کر بھی اپنے رب کا شکر نہیں بجا لاتے اور ایک پیغمبرِ وقت ہے کہ اپنی شہنشاہیت کے جاہ و جلال کا کوئی اثر اپنی خاکساری اور تواضع پر پڑنے نہیں دیتا۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄