محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران امریکہ تناؤ اور حوثیوں کی سرگرمیوں نے خطے کی سلامتی اور تجارت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کالم میں جائزہ لیا گیا ہے کہ امریکی کردار پر بڑھتے سوالات کے درمیان چین کس طرح سعودی عرب، ایران اور علاقائی فریقوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرکے سفارتی خلا پُر کر سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کا محاذ فی الوقت نسبتاً دھیما دکھائی دیتا ہے، مگر دونوں جانب سے لفظی گولہ باری بدستور جاری ہے۔
صدر ٹرمپ ہر دوسرے تیسرے دن ایران کو سبق سکھانے کے دعوے کرتے اور آخری کامیابی کے لیے پُرامید دکھائی دیتے ہیں، تاہم یہ امید کس بنیاد پر قائم ہے، یہ واضح نہیں۔
ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس نے امریکہ کا صرف میدانِ جنگ ہی میں نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی مقابلہ کیا ہے۔
تہران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا اور نہ ہی پابندیوں کے دباؤ کے آگے جھکتا دکھائی دیتا ہے۔
ایران مختلف عالمی فورمز پر اپنے مؤقف کو پیش کرتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے اور جنگ کے دوران ہونے والی کارروائیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات ⌄
- ✓مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے باوجود سیاسی اور سفارتی تناؤ برقرار ہے۔
- ✓یمن اور بحیرۂ احمر کی صورتحال سعودی سلامتی اور تجارت دونوں کے لیے اہم چیلنج بن رہی ہے۔
- ✓خلیجی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے صرف ایک عالمی طاقت پر انحصار کے بجائے متبادل شراکت دار بھی تلاش کر رہی ہیں۔
- ✓چین سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کے باعث ممکنہ سفارتی ثالث کے طور پر اہم ہو رہا ہے۔
- ✓آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتحال عالمی توانائی اور تجارت کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔
- ✓مضمون کا مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا چین مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ نمایاں اور مؤثر کردار ادا کرے گا؟
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی صدر آخر کس بنیاد پر اپنی حتمی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں؟
کیا یہ امید محدود ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے وابستہ ہے؟
اور کیا موجودہ عالمی ماحول میں امریکہ کے لیے ایسا انتہائی اقدام کرنا ممکن ہوگا؟
بالخصوص اس صورت میں جب کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے سیاسی، معاشی اور سفارتی نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
فی الوقت امریکہ اپنے وسط مدتی انتخابات کی سیاست میں بھی الجھا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کے ساتھ کشیدگی کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے۔
ایران بھی ہر امریکی اقدام کا جواب دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ موجودہ تناؤ کی بنیادی ذمہ داری تہران پر عائد نہیں ہوتی اور اگر امریکہ جارحانہ اقدامات روک دے تو ایران بھی کسی نئی کارروائی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک اہم معاملہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا بھی ہے۔
ایران یقیناً چاہے گا کہ اس دستاویز کے تحت اس پر عائد تجارتی پابندیوں میں نرمی آئے، بین الاقوامی تجارت کے راستے کھلیں اور امریکہ میں برسوں سے منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو۔
◎ OVERSEAS POST | REGIONAL OVERVIEWبحران کی بڑی تصویر ⌄
- ✓مضمون کے مطابق موجودہ کشیدگی کئی محاذوں پر پھیلی ہوئی ہے: ایران–امریکہ تناؤ، یمن، بحیرۂ احمر اور خلیجی تجارت۔
- ✓یہ بحران اب محض عسکری نہیں رہا بلکہ سفارتی، معاشی اور تجارتی جہتیں بھی اختیار کر چکا ہے۔
- ✓سمندری راستوں پر دباؤ نے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ریاستوں کے لیے سپلائی چین کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
- ✓اسی ماحول میں امریکہ کے کردار اور چین کی ممکنہ سفارتی جگہ دونوں زیرِ بحث آ رہے ہیں۔
ایران کے لیے یہ معاملات اس لیے بھی اہم ہیں کہ جنگ اور پابندیوں سے متاثر معیشت کو سنبھالنے اور تعمیرِ نو کے لیے اسے بڑے مالی وسائل درکار ہیں۔
دوسری طرف یمن کی صورتحال بھی مسلسل پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
حوثی ایک مرتبہ پھر متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی کارروائیوں کا رخ نہ صرف یمنی فورسز بلکہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کی جانب بھی ہوا ہے۔
حوثیوں کا یمن کے ایک بڑے حصے پر پہلے ہی کنٹرول ہے، تاہم ان کی حالیہ سرگرمیوں کے پس منظر میں جنوبی عبوری کونسل سے الگ ہونے والے بعض عناصر سے ممکنہ روابط کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
بعض حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل سے الگ ہو کر حوثیوں کے ساتھ شامل ہونے والے کچھ عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔
↔ OVERSEAS POST | US–IRANامریکہ–ایران محاذ ⌄
- ✓مضمون میں کہا گیا ہے کہ فوجی محاذ نسبتاً دھیما ہے مگر لفظی اور سفارتی کشیدگی بدستور موجود ہے۔
- ✓ایران اپنے مؤقف کو عالمی فورمز پر پیش کرتے ہوئے پابندیوں اور امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمتی بیانیہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
- ✓امریکہ کی جانب سے مستقبل کے اقدامات کے بارے میں غیر یقینی بدستور خطے کے لیے اہم سوال ہے۔
- ✓مضمون اس کشیدگی کو پورے خطے کے طاقت کے توازن سے جوڑتا ہے۔
مزید حیران کن امر یہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز کے بارے میں ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ وہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں بلکہ ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بھی موجود ہیں۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اہم سوال یہی ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی حوثیوں تک کیسے اور کہاں سے پہنچی؟
امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا امتحان
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔
ان تعلقات میں توانائی، تجارت، سلامتی اور دفاع بنیادی ستون رہے ہیں۔
ماضی میں سعودی تیل کی ڈالر میں تجارت نے عالمی مالیاتی نظام میں امریکی کرنسی کی اہمیت کو مضبوط رکھنے میں کردار ادا کیا، جبکہ امریکہ نے خلیجی خطے میں طویل عرصے تک خود کو ایک اہم سکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
حوثیوں کی
ڈرون صلاحیت اور
جدید ٹیکنالوجی
کے استعمال سے
متعلق سوالات
بڑھ رہے ہیں
تاہم حالیہ جنگ اور علاقائی کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے:
کیا امریکہ اب بھی خطے کو وہی سکیورٹی ضمانت فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے جس کا ماضی میں دعویٰ کیا جاتا رہا؟
ایران کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو درپیش خطرات نے خلیجی ریاستوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
اگر امریکہ اپنے فوجی اڈوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو پھر وہ خطے کے دیگر اتحادیوں کے تحفظ کی کتنی مؤثر ضمانت دے سکتا ہے؟
یہی سوال اب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر رہا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ بالآخر ہر ریاست کو اپنی سلامتی کے لیے بنیادی ذمہ داری خود اٹھانا ہوتی ہے، تاہم موجودہ عالمی نظام میں اتحادیوں کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
◇ OVERSEAS POST | DIPLOMACYاسلام آباد مفاہمتی یادداشت ⌄
- ✓مضمون کے مطابق جنگ کے بعد فریقین کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک اہم سفارتی دستاویز کے طور پر سامنے آتی ہے۔
- ✓ایران کے لیے تجارتی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک رسائی معاشی بحالی سے جڑی ہوئی ہے۔
- ✓اس پہلو کو مضمون ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
- ✓اس دستاویز پر عمل درآمد مستقبل کی سفارتی پیش رفت میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں ایک طرف ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تو دوسری طرف یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت بھی برقرار رکھی۔
ریاض عمومی طور پر یمن کے تنازعے کو ایک مستقل جنگ میں بدلنے کے بجائے سیاسی اور سفارتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اس کے باوجود حالیہ علاقائی جنگ کے دوران بعض اقدامات نے حوثیوں کو ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے خلاف متحرک کر دیا۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف سعودی سلامتی بلکہ اس کی تجارت بھی دباؤ میں آئی ہے۔
ایک جانب آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ریاستوں کی تجارت کو متاثر کیا ہے، جبکہ دوسری جانب بحیرۂ احمر اور باب المندب میں حوثی کارروائیوں نے متبادل سمندری راستوں کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
⚑ OVERSEAS POST | YEMENیمن اور حوثی محاذ ⌄
- ✓مضمون میں حوثیوں کی حالیہ سرگرمیوں کو یمن اور سعودی جنوبی علاقوں کے لیے دوبارہ بڑھتے ہوئے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
- ✓حوثیوں کے پاس جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
- ✓یمن کے اندر مختلف گروہوں اور اتحادوں کی بدلتی صف بندی کو بحران کی پیچیدگی سے جوڑا گیا ہے۔
- ✓مضمون اس محاذ کو سعودی سلامتی کے ساتھ ساتھ بحری تجارت سے بھی منسلک کرتا ہے۔
یوں سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا براہِ راست تعلق توانائی، تجارت اور عالمی سپلائی چین سے بھی جڑ گیا ہے۔
اس پس منظر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے صدر ٹرمپ سے رابطوں اور حوثیوں کے خلاف امریکی کردار کے مطالبے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تاہم امریکی انتظامیہ نے براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا۔
صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا ذکر بھی کیا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی محاذ سے بچنا چاہتا ہے۔
یہ صورتحال سعودی عرب کے لیے یقیناً قابلِ غور ہے۔
دہائیوں پر محیط معاشی، دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کے باوجود اگر بحران کے ایک اہم مرحلے پر امریکہ براہِ راست کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تو ریاض کے لیے متبادل سفارتی اور سکیورٹی شراکت دار تلاش کرنا ایک فطری حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔
سعودی عرب کی موجودہ پالیسی بھی بظاہر یہی ہے کہ وہ خود کو کسی نئی وسیع جنگ میں الجھانے کے بجائے کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے قابو میں رکھے۔
اسی لیے امریکی ہچکچاہٹ کے بعد چین کا کردار زیادہ اہم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
چین کہاں کھڑا ہے؟
چین اب تک مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں کھل کر کسی فوجی فریق کے طور پر سامنے نہیں آیا۔
بیجنگ کی کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرے اور براہِ راست جنگ کا حصہ بنے بغیر اپنی عالمی حیثیت مضبوط بنائے۔
چین اب بلاشبہ عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اس کی حکمتِ عملی امریکہ سے مختلف ہے۔ واشنگٹن نے کئی دہائیوں تک اپنی عالمی قوت کے اظہار کے لیے فوجی اتحاد، اڈوں اور براہِ راست مداخلت کا سہارا لیا، جبکہ چین زیادہ تر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفرا اسٹرکچر اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کرتا آیا ہے۔
یہی حکمتِ عملی مشرقِ وسطیٰ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکہ کے لیے چین کا بڑھتا ہوا اثر ایک اسٹریٹجک چیلنج ہے، خصوصاً اس لیے کہ مشرقِ وسطیٰ چین کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے والے اہم ترین خطوں میں شامل ہے۔ اگر خطے میں طویل عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر یا باب المندب جیسے راستے مسلسل متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف عرب ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ چین کی توانائی اور تجارتی رسد بھی متاثر ہوگی۔
اسی تناظر میں موجودہ علاقائی صورتحال کو تین مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی ہے، دوسری جانب خلیجی خطے کے اندر نئے اختلافات اور تصادم کے امکانات ہیں، جبکہ تیسری جانب چین کی توانائی اور تجارتی رسد کو درپیش خطرات ہیں۔
◈ OVERSEAS POST | SAUDI SECURITYسعودی سلامتی کا سوال ⌄
- ✓امریکہ طویل عرصے سے سعودی عرب اور خلیج کا اہم سکیورٹی شراکت دار رہا ہے۔
- ✓مضمون کے مطابق حالیہ بحران نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ امریکہ عملی طور پر کتنی مؤثر حفاظتی ضمانت دے سکتا ہے۔
- ✓اسی پس منظر میں سعودی عرب اپنی سفارتی اور دفاعی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
- ✓چین اسی وسیع تر حکمتِ عملی میں ایک اہم متبادل شراکت دار کے طور پر ابھرتا ہے۔
جنگ کے دوران بعض واقعات کو ’فالس فلیگ‘ کارروائیوں سے تعبیر کیا گیا اور یہ خدشات ظاہر کئے گئے کہ خلیجی ریاستوں کو بھی تنازعے میں کھینچنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
تاہم ایسے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور آزاد شواہد ضروری ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر خطے کے مسلمان اور عرب ممالک باہمی تنازعات میں الجھتے ہیں تو اس کا فائدہ ان قوتوں کو پہنچ سکتا ہے جو خطے کی تقسیم اور کمزوری سے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
چین مؤثر ثالثی
میں کامیاب ہوا
تو خطے میں
اس کا سیاسی اثر
مزید بڑھ سکتا ہے
خلیجی ریاستیں ابھی تک براہِ راست امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں، لیکن یمن اور بحیرۂ احمر کی نئی صورتحال علاقائی اختلافات کو گہرا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب چین کے لیے توانائی اور تجارت کے محفوظ راستے برقرار رکھنا بنیادی ترجیح ہے۔
اسی لیے سعودی عرب کی درخواست کے بعد چین کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے اور بحیرۂ احمر اور باب المندب میں حوثیوں کی سرگرمیاں محدود کرنے کی کوششیں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
ایران کا مؤقف رہا ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں تہران چین کی کسی سنجیدہ سفارتی درخواست کو مکمل طور پر نظر انداز کر سکتا ہے؟
چین، ایران کا ایک اہم اقتصادی اور سیاسی شراکت دار ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ بھی چین کے تعلقات تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بیجنگ شاید ان چند عالمی طاقتوں میں شامل ہے جو تہران اور ریاض دونوں کے ساتھ بیک وقت مؤثر رابطہ رکھ سکتی ہیں۔
ماضی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں چینی کردار یہ ثابت کر چکا ہے کہ بیجنگ خطے میں صرف تجارتی طاقت نہیں بلکہ سفارتی ثالث کے طور پر بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
≈ OVERSEAS POST | STRAIT OF HORMUZآبنائے ہرمز ⌄
- ✓آبنائے ہرمز خلیجی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
- ✓مضمون میں اس راستے پر رکاوٹ کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی تجارت کے لیے بڑا دباؤ قرار دیا گیا ہے۔
- ✓ہرمز میں کشیدگی چین سمیت ایشیائی توانائی خریداروں کے لیے بھی اہم خطرہ بن سکتی ہے۔
- ✓اسی لیے سمندری راستوں کی حفاظت اب سفارتی ترجیح کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
موجودہ بحران اسی کردار کا ایک نیا امتحان بن سکتا ہے۔
اگر چین سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے، بحیرۂ احمر کے راستوں کو محفوظ بنانے اور ایران کو کسی قابلِ عمل علاقائی مفاہمت پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو اس کے اثرات محض موجودہ بحران تک محدود نہیں رہیں گے۔
اس سے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن میں بھی ایک نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
یوں مستقبل کا اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے مکمل طور پر نکل رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اب خطے میں ایسا کثیر قطبی نظام ابھر رہا ہے جس میں واشنگٹن واحد فیصلہ کن طاقت نہیں رہے گا؟
اگر چین موجودہ بحران میں مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں اس کا سیاسی، سفارتی اور معاشی اثر پہلے سے کہیں زیادہ واضح دکھائی دے سکتا ہے۔