براہ راست نشریات

بے بسی! عدلیہ، آئینی ترامیم اور ریاستی طاقت کے بیچ بڑھتا تصادم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Federal Constitutional Court
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

کالم نگار کے مطابق پاکستان میں عدلیہ، پارلیمان اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے جہاں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد، آئینی ترامیم اور بنیادی حقوق کے معاملات مسلسل بحث کا موضوع بن رہے ہیں۔
مضمون میں مخصوص نشستوں کے مقدمے، اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات، چیف جسٹس کی تقرری، وفاقی آئینی عدالت اور عمران خان سے متعلق مقدمات کے تناظر میں عدالتی نظام کے مستقبل پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

پاکستان ایک طرف جہاں ایک انوکھا ملک ہے، وہیں اسے انوکھا بنانے میں اس کی اشرافیہ کا بھرپور کردار بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 

حقیقت تو یہی ہے کہ اس خوبصورت اور وسائل سے بھرپور ملک کو اس مقام تک پہنچانے میں سول و ملٹری اشرافیہ کا کردار نمایاں رہا ہے۔ 

یہاں ایسے ایسے قوانین بن جاتے ہیں جن کا جدید دور میں تصور کرنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

باقی دنیا میں اب کسی فردِ واحد کو سامنے رکھ کر قانون سازی بڑی حد تک قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی، جہاں آج بادشاہت اپنے پورے کروفر کے ساتھ موجود ہے، عمومی طور پر کسی ایک شخص کو سامنے رکھتے ہوئے قوانین نہیں بنائے جاتے۔ 

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSبے بسی — اہم نکات
  • کالم کا مرکزی موضوع عدلیہ کی خودمختاری، قانون کی یکساں عملداری اور ریاستی اداروں کے باہمی توازن سے متعلق ہے۔
  • مصنف کے مطابق عدالتی فیصلوں کی اصل قوت ان پر بلاامتیاز عملدرآمد میں ہے۔
  • مضمون میں آئینی ترامیم اور پارلیمانی اقدامات کے نتیجے میں عدالتی اختیارات پر پیدا ہونے والی بحث کو نمایاں کیا گیا ہے۔
  • سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار کو مضمون کا ایک اہم آئینی سوال قرار دیا گیا ہے۔
  • کالم کا بنیادی انسانی زاویہ یہ ہے کہ ادارہ جاتی کشمکش کا سب سے بڑا اثر عام شہری کے انصاف پر اعتماد پر پڑتا ہے۔
  • اختتام میں مصنف موجودہ کیفیت کو ایک لفظ میں ’’بے بسی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
overseaspost.net

دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کے بیشتر معاشروں میں امتیازی قوانین کی گنجائش مسلسل کم ہوئی ہے، جبکہ پاکستان میں ایسے قوانین اور طرزِ عمل کی شکایات بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ 

بعض اوقات یہ تاثر بھی گہرا ہوتا ہے کہ اشرافیہ پر قوانین اسی طرح لاگو نہیں ہوتے جس طرح عام شہری پر، اور اسے آج کے دور میں بھی کسی نہ کسی صورت ’استثنیٰ‘ حاصل رہتا ہے۔

مزید پڑھیں

جرائم کے حوالے سے قوانین کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہئے کہ نہ کسی مجرم کی حوصلہ افزائی ہو اور نہ معاشرے میں جرائم کو پنپنے کا موقع ملے۔ 

جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے۔ 

لیکن پاکستان میں بارہا ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن سے ایک مختلف تاثر جنم لیتا ہے۔ 

کبھی کوئی شخص جیل کی سلاخوں سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جاتا ہے، کبھی فردِ جرم عائد ہونے سے قبل سیاسی حالات یکسر 

تبدیل ہو جاتے ہیں، اور کبھی کسی سزا یافتہ شخص کو ایسی عدالتی سہولتیں میسر آتی دکھائی دیتی ہیں جو عام شہری کے تصور سے باہر ہوتی ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں بے اختیار یہی کہا جا سکتا ہے:

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXمضمون کا فیکٹ باکس
عنوان
بے بسی!!
مصنف
محمد مبشر انوار
صنف
رائے / کالم
مرکزی موضوع
عدلیہ، آئینی ترامیم اور ریاستی اختیارات
اہم ادارے
سپریم کورٹ، پارلیمان، اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی آئینی عدالت
مرکزی سوال
کیا قانون کی بالادستی اور عدالتی خودمختاری عملی طور پر عام شہری کے حقوق کا تحفظ کر پا رہی ہے؟
overseaspost.net

اس سارے منظرنامے میں ریاستی مشینری کے علاوہ جو ادارہ سب سے زیادہ دباؤ میں دکھائی دیتا ہے، وہ عدلیہ ہے۔ 

عدالتی فیصلوں پر سیاسی و قانونی اعتراضات اپنی جگہ، لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ عدالت جو فیصلہ دے، اس پر عملدرآمد کروانا بعض اوقات جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہتا۔ 

اگر کوئی فیصلہ حکومتی مؤقف کے حق میں ہو تو پوری ریاستی مشینری اس پر عملدرآمد کے لیے متحرک نظر آتی ہے، لیکن اگر فیصلہ حکومت کی خواہش کے برخلاف ہو تو عملدرآمد میں تاخیر، قانونی پیچیدگیاں یا نئی قانون سازی سامنے آ جاتی ہے۔

2024 کے عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کے مقدمے میں بھی اسی نوعیت کی سیاسی و قانونی کشمکش دیکھنے کو ملی۔ 

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمان نے قانون سازی اور قواعد میں تبدیلیاں کیں، جن کے نتیجے میں اس فیصلے کے عملی اثرات کے بارے میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہو گئی۔ ناقدین کے نزدیک یہ اقدام عدالتی فیصلے کے اثر کو محدود کرنے کی کوشش تھا، جبکہ حکومتی حلقوں نے اسے پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کے طور پر پیش کیا۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کالم کیوں اہم ہے؟

یہ تحریر کسی ایک مقدمے سے آگے بڑھ کر ریاستی اداروں کے اختیارات، عدلیہ کی آزادی اور شہری کے حقِ انصاف کے باہمی تعلق کو موضوع بناتی ہے۔

عدالتی خودمختاریکالم اس سوال کو اٹھاتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ مؤثر تبھی ہے جب اس پر عملدرآمد بھی ہو۔
آئینی توازنپارلیمان، سپریم کورٹ اور نئے آئینی فورمز کے درمیان اختیارات کی تقسیم مضمون کا بنیادی محور ہے۔
شہری اعتمادمصنف کے نزدیک ادارہ جاتی کشمکش کا آخری بوجھ عام شہری کے نظامِ انصاف پر اعتماد پر پڑتا ہے۔
اصل اہمیت: قانون کی بالادستی صرف آئینی عبارت نہیں بلکہ یکساں نفاذ، آزاد عدلیہ اور مؤثر عملدرآمد سے قائم ہوتی ہے۔
overseaspost.net

ایسے مواقع پر علامہ اقبال کا شعر ذہن میں آتا ہے:

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اس پس منظر میں ایک عام شہری کے لیے فوری اور غیر جانب دار انصاف کی امید رکھنا بھی آسان نہیں رہتا، خصوصاً جب سیاسی اقتدار کی کشمکش میں ریاستی ادارے بھی مسلسل دباؤ کا شکار دکھائی دیں۔

حالیہ آئینی
تبدیلیوں نے
سپریم کورٹ،
پارلیمان اور
وفاقی آئینی
عدالت کے دائرۂ
اختیار سے متعلق
نئے سوالات
پیدا کیے ہیں

عدلیہ اور شہری کا حق

معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنے اور شہری حقوق کے تحفظ میں عدالتوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آئین و قانون شہری کو حقوق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان حقوق کے سلب ہونے کی صورت میں عدالتیں مظلوم کی دادرسی کا آخری سہارا سمجھی جاتی ہیں۔
لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب عدالتیں آزاد ہوں اور منصف نہ صرف آئین و قانون سے بخوبی واقف ہوں بلکہ ان کا کردار بھی ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہو۔
سائل کو یقین ہونا چاہئے کہ منصبِ انصاف پر بیٹھا شخص صرف قانون کا ماہر ہی نہیں بلکہ غیر جانب دار، صاحبِ کردار اور باوقار بھی ہے، ایسا منصف جو کسی مظلوم کی حق تلفی نہ ہونے دے اور آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق انصاف فراہم کرے۔
دنیا بھر میں عدلیہ کی آزادی کو ریاستی نظام کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
عدالتوں کو سیاسی دباؤ اور انتظامی مداخلت سے محفوظ رکھنا اسی لیے ضروری ہے کہ وہ شہری اور ریاست، دونوں کے درمیان غیر جانب دار ثالث کا کردار ادا کر سکیں۔
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی تقرری کا معاملہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔

OVERSEAS POST | KEY QUESTIONSمضمون کے چار بنیادی سوالات

یہ سوالات مضمون کے مرکزی استدلال کو مختصر اور واضح انداز میں سمیٹتے ہیں۔

overseaspost.net

سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں عدلیہ میں تقرریوں کے حوالے سے آنے والے فیصلے نے اس بحث کو ایک اہم سمت دی۔ 

بعد کے عشروں میں بھی ججوں کی تقرری، عدالتی خودمختاری اور پارلیمان کے اختیارات کے درمیان توازن پر مسلسل بحث ہوتی رہی۔

حالیہ آئینی ترامیم نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا۔ ان ترامیم کے حامی انہیں آئینی اور پارلیمانی اصلاحات قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک ان کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے بعض اختیارات محدود ہوئے اور عدالتی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں آئیں جن سے عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

OVERSEAS POST | JUDICIARYعدلیہ کی خودمختاری — کالم کا مؤقف
  • مصنف کے نزدیک آزاد عدلیہ وہ ہے جو سیاسی دباؤ اور انتظامی مداخلت سے محفوظ ہو۔
  • منصف کی قانونی اہلیت کے ساتھ غیر جانب داری اور کردار کو بھی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
  • کالم عدالتی فیصلے اور اس کے عملی نفاذ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں دیکھتا۔
  • فل کورٹ، آئینی جائزے اور اعلیٰ عدلیہ کے اندر ادارہ جاتی ردِعمل کو بھی تحریر میں اہم سمجھا گیا ہے۔
  • مصنف کا استدلال ہے کہ عدلیہ کی کمزوری کا براہِ راست اثر شہری حقوق کے تحفظ پر پڑتا ہے۔
overseaspost.net

چیف جسٹس کی تقرری کے طریقۂ کار میں تبدیلی پر بھی شدید سیاسی اور قانونی بحث ہوئی۔ جسٹس سید منصور علی شاہ کے بجائے جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس بننے کے بعد عدلیہ کے اندر آئینی ترامیم اور فل کورٹ کے کردار سے متعلق سوالات مزید نمایاں ہوئے۔

بعد ازاں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے اقدامات اور مؤقف کو بھی اسی وسیع تر بحث کے تناظر میں دیکھا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار اور ادارہ جاتی خودمختاری کا تحفظ کس طرح کرے۔

سپریم کورٹ اور آئینی دائرۂ اختیار

موجودہ صورتِ حال میں سب سے اہم سوال سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے باہمی دائرۂ اختیار کا ہے۔ حالیہ مقدمات نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ بنیادی حقوق، آئینی تشریح اور اپیلوں کے معاملات میں آخری اور مؤثر فورم کون سا ہوگا۔

محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

عمران خان کی صحت سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کے ایک بنچ کی کارروائی کے بعد اڈیالہ جیل کے بعض دیگر قیدیوں کی جانب سے بھی عدالت سے رجوع کیا گیا۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت ہوئی اور معاملہ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت تک پہنچا۔ 

اس پیش رفت کے ساتھ یہ قانونی سوال بھی سامنے آیا کہ بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کس عدالت کے دائرۂ اختیار میں آئیں گے اور مختلف اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کے درمیان ادارہ جاتی توازن کس طرح قائم رکھا جائے گا۔

یہ معاملہ محض کسی ایک سیاسی رہنما یا چند قیدیوں تک محدود نہیں۔ 

اصل سوال عدالتی نظام کے ڈھانچے، آئینی اختیارات اور شہری کے بنیادی حقوق کا ہے۔ 

اگر ایک عدالت کے فیصلے یا عبوری حکم کے بعد اسی نوعیت کا معاملہ دوسرے عدالتی فورم کے سامنے چلا جائے تو قانونی وضاحت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی مزید اہم ہو جاتی ہے۔

§OVERSEAS POST | INSTITUTIONSادارہ جاتی کشمکش — ایک نظر میں
پارلیمان
قانون سازی اور آئینی ترامیم کا فورم
سپریم کورٹ
اعلیٰ عدالتی فورم اور آئینی تشریح کا مرکزی ادارہ
ہائی کورٹ
بنیادی حقوق اور عدالتی نگرانی کے اہم مقدمات کا فورم
وفاقی آئینی عدالت
مضمون میں نئے آئینی عدالتی فورم کے طور پر زیرِ بحث
تنازع کا محور
اختیارات کی تقسیم، اپیل کا فورم، بنیادی حقوق اور عدالتی احکامات کا نفاذ
کالم نگار کا خدشہ
ادارہ جاتی ابہام اور کشمکش سے نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
overseaspost.net

یہ صورتِ حال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک اہم آئینی امتحان بن سکتی ہے۔ 

آنے والے عدالتی فیصلے اور ادارہ جاتی ردِعمل ہی واضح کریں گے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار کی عملی حدود کہاں متعین ہوتی ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر سابقہ آئینی ترامیم کے فوری بعد سپریم کورٹ اپنے نظرِثانی اور آئینی اختیار کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتی، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔

 دوسری طرف پارلیمانی بالادستی کے حامی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے اور عدالتوں کو اس آئینی تقسیمِ اختیار کا احترام کرنا چاہئے۔

مگر اس پوری بحث سے ہٹ کر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے: 

ریاست کا عدالتی نظام اسی وقت شہری کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے جب قانون سب پر یکساں لاگو ہو، عدالتی فیصلوں پر بلاامتیاز عمل ہو اور کسی بھی شخص یا ادارے کو قانون سے بالاتر تصور نہ کیا جائے۔

OVERSEAS POST | CITIZEN IMPACTعام شہری پر کیا اثر پڑتا ہے؟

مضمون کی سب سے اہم انسانی جہت یہ ہے کہ ادارہ جاتی بحث بالآخر شہری کے روزمرہ حقِ انصاف سے جڑتی ہے۔

انصاف تک رسائیاگر عدالتی فورمز اور اختیارات میں ابہام بڑھے تو مقدمات کی سمت اور مدت متاثر ہو سکتی ہے۔
قانون کی برابریشہری کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب قانون کا نفاذ حیثیت اور طاقت سے بالاتر دکھائی دے۔
ریاستی اعتمادعدالتی احکامات پر مؤثر عملدرآمد ریاستی اداروں کی ساکھ اور قانونی یقین کو مضبوط کرتا ہے۔
مرکزی نتیجہ: اداروں کی طاقت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ شہری کو بروقت، قابلِ عمل اور غیر جانب دار انصاف ملے۔
overseaspost.net

اگر عدالت فیصلہ دے مگر ریاست اسے نافذ نہ کر سکے، اگر قانون حالات اور شخصیات کے مطابق بدلتا محسوس ہو، اور اگر اعلیٰ عدالتی ادارے اپنے دائرۂ اختیار ہی کے تعین میں الجھے رہیں، تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کے اعتماد کو پہنچتا ہے۔

شاید اسی کیفیت کے لیے کہا گیا ہے:

اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

اور موجودہ منظرنامے کو دیکھتے ہوئے، کم از کم اس وقت، سب سے نمایاں احساس یہی ہے—

بے بسی!

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔