براہ راست نشریات

واشنگٹن اور تہران کے درمیان عاصم منیر کیوں اہم ہوگئے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Asim Munir

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تازہ رابطے نے ایران–امریکا کشیدگی میں پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
پاکستان کے ایران، سعودی عرب، امریکا اور چین سے تعلقات اسے پیغام رسانی اور رابطہ کاری کے لیے اہم پوزیشن دیتے ہیں، تاہم اسے باقاعدہ ثالثی یا کسی حتمی معاہدے کی ضمانت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان تازہ ٹیلی فونک رابطے نے ایک بار پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان، اور بالخصوص اس کی فوجی قیادت، اتنی اہم کیوں ہوگئی ہے؟

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران عاصم منیر سے فون پر بات کی اور دونوں نے خطے کی تازہ صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا۔ سرکاری ایرانی بیان میں گفتگو کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران–امریکا کشیدگی — اہم نکات
  • عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے کی تازہ صورت حال اور بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
  • رابطہ ایسے وقت ہوا جب واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
  • پاکستان ایران، امریکا، سعودی عرب اور چین کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے کی ایک منفرد پوزیشن میں ہے۔
  • عاصم منیر کا اگست کا دورۂ تہران بھی ایران–امریکا تناؤ کے پس منظر میں اہم تھا۔
  • سعودی سلامتی اور حوثی حملوں کا معاملہ پاکستانی سفارتی رابطوں میں ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔
  • پاکستان کا فوری کردار کسی حتمی معاہدے سے زیادہ رابطہ کاری اور پیغام رسانی کا ہوسکتا ہے۔
overseaspost.net

لیکن اس رابطے کا وقت اہم ہے۔ 

واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا، سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں سے جڑی کشیدگی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ 

اسی پس منظر میں عاصم منیر اور عراقچی کی گفتگو محض دوطرفہ رابطے سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کیوں اہم ہے؟

پاکستان کی اہمیت کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد بیک وقت تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ کے ساتھ رابطے برقرار رکھ سکتا ہے۔ 

ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، چین اس کا دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہے، سعودی عرب سے اس کے قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بھی نئی

 سرگرمی دیکھی گئی ہے۔

یہی تعلقات پاکستان کو ایسی پوزیشن فراہم کرتے ہیں جہاں وہ مختلف فریقوں کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ 

i OVERSEAS POST | FACT BOXایران–امریکا بحران: فیکٹ باکس
مرکزی کردار
عباس عراقچی، عاصم منیر
بنیادی معاملہ
ایران–امریکا کشیدگی
پاکستان کا کردار
رابطہ کاری اور پیغام رسانی
سعودی پہلو
علاقائی سلامتی اور حوثی حملے
چینی پہلو
مذاکرات اور علاقائی استحکام
اہم خطرہ
طویل کشیدگی اور توانائی کی قیمتیں
سفارتی حیثیت
پاکستان رابطہ چینل کے طور پر فعال
حتمی معاہدہ
ابھی تصدیق نہیں
overseaspost.net

تاہم اسے باقاعدہ ثالثی اور محض پیغام رسانی کے درمیان فرق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے، ہر رابطہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسلام آباد کسی حتمی سمجھوتے کی شرائط طے کررہا ہے۔

عاصم منیر کا کردار بھی اچانک سامنے نہیں آیا۔ 

اگست میں ان کا دورۂ تہران بھی ایران اور امریکا کے درمیان تعطل ختم کرنے کی پاکستانی کوششوں کے تناظر میں رپورٹ ہوا تھا۔

سعودی عرب کا عنصر

موجودہ صورت حال میں ایک اور اہم پہلو سعودی عرب ہے۔ 

انادولو نے پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عاصم منیر نے عراقچی سے گفتگو میں ایران پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو سعودی توانائی اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں سے روکنے کے لیے اپنا اثر استعمال کرے۔ 

اسی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی بھی گفتگو کا حصہ تھی۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ حوثی آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کرتے ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ رابطہ کیوں اہم ہے؟

یہ پیش رفت تین سطحوں پر اہم ہے:

چار طرفہ رسائیپاکستان تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ—چاروں کے ساتھ بات کرسکتا ہے۔
علاقائی توازنایران ہمسایہ ہے، جبکہ سعودی عرب قریبی اقتصادی و دفاعی شراکت دار ہے۔
مذاکراتی راستہبراہ راست بات چیت محدود ہو تو پاکستان پیغامات پہنچانے کا متبادل چینل بن سکتا ہے۔
اصل اہمیت: موجودہ مرحلے میں پاکستان کی قوت کسی معاہدے کی ضمانت نہیں بلکہ مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا دروازہ کھلا رکھنے کی صلاحیت ہے۔
overseaspost.net

یہ صورت حال پاکستان کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کرتی ہے۔ 

ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد اور اہم سکیورٹی مفادات وابستہ ہیں۔ 

پاکستان کے لیے کسی ایک جانب مکمل جھکاؤ اس کی علاقائی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

رائٹرز نے بھی حالیہ تجزیے میں اسی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے دفاعی شراکت داری اور ایران کے ساتھ رابطہ کاری کے کردار میں توازن کا امتحان بن رہی ہے۔

چین بھی تصویر میں موجود

عراقچی اور عاصم منیر کی گفتگو کا بیجنگ کے دورے کے دوران ہونا بھی قابل توجہ ہے۔ عراقچی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جبکہ چینی جانب سے ایران اور امریکا پر تحمل اختیار کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے پر زور دیا گیا۔

OVERSEAS POST | ANALYSISپاکستان اور خلیج کے لیے اثرات

طویل علاقائی کشیدگی کے اثرات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہیں گے:

تیل اور درآمدی بلخلیج میں طویل کشیدگی توانائی کی قیمتوں کو بلند رکھ کر پاکستان کے درآمدی اخراجات بڑھا سکتی ہے۔
اوورسیز پاکستانیخلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے علاقائی سلامتی، فضائی سفر اور کاروباری سرگرمی براہ راست اہم ہے۔
سفارتی دباؤاسلام آباد کو ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات میں محتاط توازن رکھنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے: کشیدگی کا ہر نیا مرحلہ توانائی، تجارت اور خلیجی شراکت داریوں کو ایک ساتھ متاثر کرسکتا ہے۔
overseaspost.net

چین کے لیے خلیج اور آبنائے ہرمز میں استحکام براہ راست اقتصادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ طویل کشیدگی توانائی کی قیمتوں اور تجارت دونوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ 

پاکستان بھی مہنگے تیل سے متاثر ہونے والی معیشت ہے، پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ طویل علاقائی تنازع ملک کے چار فیصد اقتصادی شرح نمو کے ہدف کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

کیا پاکستان واقعی ثالث بن سکتا ہے؟

پاکستان کے پاس رابطہ کاری کے لیے ایک منفرد سفارتی گنجائش ضرور موجود ہے، لیکن اس کی حدود بھی ہیں۔ 

واشنگٹن اور تہران کے بنیادی اختلافات سکیورٹی ضمانتوں، علاقائی تنازعات اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات سے جڑے ہیں۔ 

ان مسائل کا حتمی حل صرف پاکستان کے ہاتھ میں نہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISممکنہ اگلا منظرنامہ

آگے تین بنیادی راستے سامنے آسکتے ہیں:

رابطے جاریبراہ راست مذاکرات محدود رہیں تو پاکستان اور چین کے ذریعے بالواسطہ رابطہ برقرار رہ سکتا ہے۔
مذاکرات کی واپسیکشیدگی کم ہوئی تو رابطہ کاری کسی باقاعدہ مذاکراتی فریم ورک کی بحالی میں مدد دے سکتی ہے۔
مزید کشیدگیفوجی تناؤ بڑھا تو پاکستان کے لیے ایران اور سعودی عرب کے درمیان توازن زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
فیصلہ کن اشارہ: حقیقی پیش رفت اس وقت واضح ہوگی جب فریقین کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل، تاریخ یا مشترکہ فریم ورک کی تصدیق کریں گے۔
overseaspost.net

اسی لیے عاصم منیر کے کردار کو کسی یقینی امن معاہدے کی ضمانت کے بجائے ایک ایسے رابطہ کار کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا جو کئی اہم دارالحکومتوں تک رسائی رکھتا ہے۔

موجودہ مرحلے میں اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ کروا سکتا ہے یا نہیں۔ 

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب واشنگٹن اور تہران کے براہ راست راستے بند یا محدود ہوں تو کیا اسلام آباد ایسا رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے جو دونوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک پہنچانے میں مدد دے؟

عراقچی اور عاصم منیر کا تازہ رابطہ کم از کم یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس پیچیدہ علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کا چینل ابھی فعال ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

یہ کارڈز اسی منظور شدہ اوورسیز پوسٹ قالب پر بنائے گئے ہیں؛ ساخت اور Copy Code فنکشن برقرار رکھا گیا ہے، صرف مواد تبدیل کیا گیا ہے۔

overseaspost.net