براہ راست نشریات

ایران کو کون چلا رہا ہے؟ مجتبیٰ کی خاموشی اور اقتدار کی جنگ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Iran

ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے درمیان اصل معمہ تہران کے اندر پیدا ہو رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز سے منسوب رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بعض حملوں سے ایرانی صدر اور اعلیٰ حکام بھی مبینہ طور پر لاعلم تھے۔
دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی غیر موجودگی نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ ایران میں جنگ، امن اور مذاکرات کا آخری فیصلہ حقیقتاً کون کررہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری محاذ آرائی بظاہر میزائلوں، بحری جہازوں اور آبنائے ہرمز کے گرد گھوم رہی ہے، لیکن تہران کے اندر شاید اس سے بھی زیادہ اہم جنگ جاری ہے: 

ایران میں آخری فیصلہ کون کرتا ہے؟

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے منسوب ایک نئی رپورٹ نے ایرانی اقتدار کے اندر موجود ایسی دراڑوں کی تصویر پیش کی ہے جن کے درست ہونے کی صورت میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، پاسداران انقلاب اور سخت گیر سکیورٹی حلقوں میں سے خارجہ اور جنگی پالیسی کی اصل باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران میں اقتدار کی جنگ — اہم نکات
  • نیویارک ٹائمز سے منسوب رپورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ تہران میں جنگ اور مذاکرات کے بڑے فیصلوں پر اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
  • رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بعض کارروائیوں سے صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام مبینہ طور پر پیشگی آگاہ نہیں تھے۔
  • مسعود پزشکیان نسبتاً مذاکراتی راستے کے حامی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ سخت گیر حلقوں کا مؤقف زیادہ جارحانہ دکھائی دیتا ہے۔
  • مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی غیر موجودگی نے ایرانی فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر نئے سوالات پیدا کئے ہیں۔
  • رپورٹ میں حسین طائب اور سخت گیر سکیورٹی حلقوں کے کردار کا بھی ذکر سامنے آتا ہے۔
  • آبنائے ہرمز اب صرف بحری گزرگاہ نہیں بلکہ ایران کے لیے فوجی، معاشی اور مذاکراتی دباؤ کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
overseaspost.net

رپورٹ کے مطابق جولائی میں آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے لیے بھی اچانک تھے۔ 

رپورٹ میں متعدد ایرانی حکام اور پاسداران انقلاب سے وابستہ افراد کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ نہ صرف پزشکیان بلکہ پاسداران کے سربراہ جنرل احمد وحیدی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کو بھی اس کارروائی کا پہلے سے علم نہیں تھا۔

مزید پڑھیں

وہ حملہ جس نے امن کوشش پٹڑی سے اتار دی

یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے چند ہفتے قبل، 17 جون کو، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی جس سے جنگ کو محدود کرنے اور بالآخر مذاکرات کی طرف بڑھنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔

لیکن 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی جہازوں 

کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک قطری گیس ٹینکر بھی شامل تھا۔ 

NYT سے منسوب رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے بعد امریکی ردعمل، نئی پابندیوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور جون کی مفاہمت عملاً ختم ہوگئی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXایران میں اقتدار کی جنگ: فیکٹ باکس
مرکزی شخصیت
مجتبیٰ خامنہ ای
صدر ایران
مسعود پزشکیان
اہم ادارہ
پاسداران انقلاب
اہم سکیورٹی نام
حسین طائب
مرکزی مقام
آبنائے ہرمز
اصل رپورٹنگ
The New York Times
بنیادی معاملہ
ایرانی فیصلہ سازی، جنگ و مذاکرات اور اندرونی طاقت کا توازن
اہم احتیاط
کئی حساس دعووں کی آزادانہ تصدیق محدود ہے
overseaspost.net

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پزشکیان اس وقت عراق میں تھے۔ 

حملوں کی اطلاع ملنے پر وہ تہران واپس آئے اور پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی سے وضاحت طلب کی۔ 

وحیدی نے مبینہ طور پر کہا کہ نہ انہوں نے کارروائی کی اجازت دی تھی اور نہ انہیں اس کا پیشگی علم تھا۔

یہی نکتہ اس پوری کہانی کو ایک عام فوجی کارروائی کے بجائے ایران کے اندر طاقت کی تقسیم کا معاملہ بنا دیتا ہے۔

انگلی حسین تائب کی طرف کیوں اٹھ رہی ہے؟

NYT سے منسوب تفصیلات کے مطابق بعد میں ہونے والی ایرانی تحقیقات میں مبینہ طور پر کارروائی کا سرا حسین تائب تک پہنچا۔

تائب ایران کے سکیورٹی نظام میں کوئی معمولی شخصیت نہیں۔ 

وہ طویل عرصے تک پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کی سربراہی کر چکے ہیں اور اب بسیج کے سربراہ ہیں۔ 

انہیں مجتبیٰ خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے سخت گیر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

حالیہ تجزیوں میں بھی تائب کو نئے ایرانی طاقت کے ڈھانچے میں اہم سخت گیر کردار قرار دیا گیا ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISایران کی اندرونی کشمکش کیوں اہم ہے؟

یہ معاملہ تین سطحوں پر اہم ہے:

فیصلہ سازیاگر اہم فوجی کارروائیاں اعلیٰ سیاسی قیادت کی پیشگی منظوری کے بغیر ہوئیں تو ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول پر سنگین سوال اٹھتے ہیں۔
خلیجی سلامتیآبنائے ہرمز میں کسی بھی غلط فیصلے کا اثر سعودی عرب، خلیجی ممالک، تیل اور عالمی شپنگ تک پہنچ سکتا ہے۔
مذاکراتسیاسی اور سکیورٹی مراکز میں اختلاف امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے اور اس پر عمل درآمد کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اصل اہمیت: سوال صرف ایران اور امریکہ کی کشیدگی کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تہران میں جنگ جاری رکھنے یا مذاکرات کی میز پر جانے کا آخری فیصلہ حقیقتاً کون کرتا ہے۔
overseaspost.net

NYT کی رپورٹ کے مطابق تائب امریکی سمجھوتے کے مخالف تھے۔ 

رپورٹ میں ایران کے امور کے ماہر علیرضا نامور حقیقی کے حوالے سے کہا گیا کہ جہازوں پر حملوں کا مقصد امریکہ کے ساتھ مفاہمت کو تباہ کرنا اور مستقبل کے مذاکرات کے امکانات ختم کرنا تھا۔

اگر یہ تفصیلات درست ہیں تو سوال انتہائی سنگین ہے: 

کیا ایرانی ریاست کے اندر کوئی طاقتور حلقہ ایسا ہے جو مرکزی سیاسی قیادت کی منظوری کے بغیر ایک ایسی فوجی کارروائی کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں پورا ملک دوبارہ جنگ کی طرف دھکیلا جائے؟

مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں؟

اس کہانی کا دوسرا اور شاید سب سے پراسرار پہلو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی غیر موجودگی ہے۔

وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ 

7 ستمبر کو EFE کی ایک رپورٹ نے بھی نشاندہی کی کہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی باقاعدہ عوامی موجودگی سامنے نہیں آئی، اگرچہ ان سے منسوب متعدد اہم فیصلے اور اعلیٰ فوجی تقرریاں جاری ہوئی ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا واضح ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

زیادہ واضح معلومات

  • مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے عوامی سطح پر بہت کم دکھائی دیے ہیں۔
  • ایران اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔
  • آبنائے ہرمز موجودہ علاقائی بحران کا ایک اہم مرکز ہے۔
  • مسعود پزشکیان کو نسبتاً مذاکراتی راستے کا حامی سمجھا جاتا ہے۔
  • ایرانی سکیورٹی اور فوجی ادارے ملکی فیصلہ سازی میں انتہائی اہم کردار رکھتے ہیں۔

ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں

  • کیا بعض اہم فوجی کارروائیاں مرکزی قیادت کی اجازت کے بغیر ہوئیں؟
  • کیا سپریم لیڈر کے نام سے جاری ہر حکم براہ راست انہی کی جانب سے آتا ہے؟
  • ایرانی سکیورٹی نظام کے مختلف دھڑوں کو فوجی فیصلوں میں کتنی خودمختاری حاصل ہے؟
  • کیا اندرونی اختلاف باقاعدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے؟
overseaspost.net

یہاں احتیاط ضروری ہے۔ 

عوامی طور پر نظر نہ آنے کا مطلب یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ حکومت چلانے کے قابل نہیں یا فیصلوں سے لاتعلق ہیں۔ 

ایران حالتِ جنگ میں ہے اور ان کی غیر موجودگی کی ایک ممکنہ وجہ غیر معمولی سکیورٹی بھی ہوسکتی ہے۔

مزید یہ کہ پزشکیان نے اگست میں کہا تھا کہ انہوں نے سپریم لیڈر سے تقریباً 7 گھنٹے ملاقات کی اور ان کی صحت سے متعلق افواہوں کو مسترد کیا۔

تاہم NYT سے منسوب تازہ رپورٹ ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ 

اس کے مطابق ایرانی نظام کے بعض حصوں میں یہ سوال موجود ہے کہ سپریم لیڈر کے نام سے جاری ہونے والے تمام احکامات واقعی براہ راست انہی کی جانب سے آ رہے ہیں یا نہیں۔

یہ دعویٰ انتہائی حساس ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے حتمی حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔

پزشکیان بمقابلہ سخت گیر حلقے؟

ایران کے موجودہ بحران کو صرف ’صدر بمقابلہ پاسداران‘ کہنا بھی درست نہیں ہوگا۔ 

ایرانی طاقت کا نظام اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

پاسداران انقلاب کے اندر بھی مختلف طاقتور حلقے موجود ہیں، جبکہ سیاسی قیادت، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، فوج، بسیج اور سپریم لیڈر کے دفتر کے درمیان اختیارات کی متعدد سطحیں ہیں۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

کہانی صرف ایران اور امریکہ کی کشیدگی کی نہیں بلکہ ایران کے اندر اختیار کی کشمکش کی بھی ہے۔ نیویارک ٹائمز سے منسوب معلومات نے تہران کے فیصلہ سازی کے نظام پر سوال اٹھائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بعض کارروائیوں سے صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام مبینہ طور پر لاعلم تھے، جبکہ سخت گیر سکیورٹی حلقوں کے کردار پر بھی بحث سامنے آئی۔

رپورٹ میں حسین طائب اور سخت گیر سکیورٹی حلقوں کے کردار کا بھی ذکر سامنے آتا ہے۔ الدرعیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی، اور یوں ایک فوٹوگرافر کا سفر اسی سرزمین پر ختم ہوا جسے اس نے دہائیوں تک اپنی عدسہ میں محفوظ کیا۔

overseaspost.net

تاہم حالیہ واقعات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے یا جاری رکھنے کے سوال پر اختلافات موجود ہیں۔ 

AP نے گزشتہ ماہ اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی قیادت جنگی حکمت عملی میں بظاہر متحد دکھائی دیتی ہے، لیکن جنگ کا آخری مقصد کیا ہونا چاہئے، اس پر نمایاں اختلافات موجود ہیں۔

ایک طرف وہ حلقے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کسی قابلِ عمل سمجھوتے کے ذریعے جنگ ختم کرنا ایران کے معاشی اور قومی مفاد میں ہے۔ 

دوسری جانب سخت گیر دھڑا سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز، میزائل صلاحیت اور علاقائی اتحادی ایران کو ایسا دباؤ فراہم کرتے ہیں جسے مذاکرات سے پہلے چھوڑنا غلط ہوگا۔

آبنائے ہرمز اب صرف سمندری راستہ نہیں

اس داخلی کشمکش کا مرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے۔

یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے، اور ایران نے جنگ کے دوران اسے امریکہ اور عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

? OVERSEAS POST | POWER STRUCTUREایران میں فیصلہ کون کرتا ہے؟

ایرانی نظام میں طاقت کسی ایک دفتر تک محدود نہیں۔ صدر، سپریم لیڈر کا دفتر، پاسداران انقلاب، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور دیگر سکیورٹی ادارے فیصلہ سازی کے مختلف حصوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اصل سوال: اگر حساس فوجی کارروائیوں سے بعض اعلیٰ حکام واقعی پیشگی آگاہ نہیں تھے تو کمانڈ اینڈ کنٹرول کا عملی مرکز کہاں ہے؟
overseaspost.net

نیویارک ٹائمز کے 12 ستمبر کے ایک الگ تجزیے کے مطابق ایران اور اس کے اتحادیوں کی حالیہ فوجی سرگرمیوں نے تہران کی مذاکراتی طاقت بڑھائی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی دباؤ پیدا کررہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ تہران کے سخت گیر حلقوں کے نزدیک کشیدگی بذاتِ خود ناکامی نہیں، بلکہ مذاکرات میں طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔

آج کی صورتحال اس بحث کو مزید اہم بناتی ہے

13 ستمبر کے واقعات نے معاملے کو مزید حساس کردیا ہے۔ 

Reuters کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ 

اسی دوران عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہرمز کے مستقبل پر ہونے والی مجوزہ ملاقات بھی ملتوی کردی گئی۔

i OVERSEAS POST | KEY QUESTIONمجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی
کیا چیز واضح ہے؟
مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے عوامی سطح پر بہت کم دکھائی دیے ہیں، جبکہ ان کے نام سے اہم فیصلے اور احکامات سامنے آتے رہے ہیں۔
کیا ثابت نہیں؟
یہ ثابت نہیں کہ ان کے نام سے جاری تمام احکامات کسی دوسرے طاقت کے مرکز سے آتے ہیں۔ اس نوعیت کے دعووں کو احتیاط سے پیش کرنا ضروری ہے۔
overseaspost.net

AP نے بھی ایرانی تجارتی جہاز پر حملے اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

یعنی ایران کے اندر یہ بحث محض اقتدار کی نظریاتی جنگ نہیں رہی۔ 

اس کے اثرات تیل، عالمی تجارت، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی سلامتی اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی تک پہنچ رہے ہیں۔

اصل سوال: ایران میں حکم کس کا چلتا ہے؟

NYT کی رپورٹ سے نکلنے والا سب سے بڑا سوال یہی ہے۔

اگر جولائی کے حملے واقعی صدر، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور پاسداران کی اعلیٰ قیادت کے پیشگی علم کے بغیر ہوئے تو یہ ایران کے موجودہ نظام میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کے بارے میں غیر معمولی سوال اٹھاتا ہے۔

OVERSEAS POST | STRAIT OF HORMUZآبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے یہاں کشیدگی کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں رہتا۔

کسی بڑے بحران سے تیل، ایل این جی، عالمی شپنگ اور انشورنس اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں، جس کا براہ راست تعلق خلیجی معیشتوں سے ہے۔

ایران کے لیے ہرمز ایک فوجی مقام کے ساتھ مذاکراتی دباؤ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے؛ اسی لیے یہاں ہونے والی ہر کارروائی کے سیاسی معنی بھی ہوتے ہیں۔

overseaspost.net

لیکن دوسری طرف یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس کہانی کے انتہائی حساس حصے نامعلوم ایرانی ذرائع اور اندرونی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ 

تہران نے ان تمام تفصیلات کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران میں مرکزی حکومت اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔

البتہ ایک بات زیادہ واضح ہوتی جارہی ہے: 

مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عوامی غیر موجودگی، سکیورٹی اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار، پزشکیان کی نسبتاً مذاکراتی سوچ اور سخت گیر حلقوں کی جنگ جاری رکھنے کی خواہش نے ایرانی نظام کے اندر طاقت کے توازن کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔

اور شاید اب ایران کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ بنتا جارہا ہے:

ایران کو جنگ میں رکھنا ہے یا مذاکرات کی میز پر لے جانا ہے—اس کا آخری فیصلہ تہران میں آخر کرتا کون ہے؟

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

یہ کارڈز اوورسیز پوسٹ کے منظور شدہ ڈیزائن میں ایران کی اندرونی طاقت اور فیصلہ سازی سے متعلق رپورٹ کے لیے تیار کئے گئے ہیں۔

overseaspost.net