پیرس، روم یا بارسلونا کی سڑکوں پر آج بھی زندگی معمول کے مطابق ہے۔ کیفے بھرے ہیں، سیاح گھوم رہے ہیں اور سرحدیں کھلی ہیں۔
مزید پڑھیں
لیکن انہی ملکوں کی حکومتیں اب ایک ایسا سوال پوچھ رہی ہیں جو چند سال پہلے سرد جنگ کی یاد سمجھا جاتا تھا کہ اگر بجلی، پانی، رابطے اور بازار اچانک بند ہو جائیں تو گھر کتنے دن چل سکتا ہے؟
یورپی یونین نے اپنی نئی تیاری کی حکمت عملی میں شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل بنانے کا ہدف رکھا ہے۔
اسی طرح سویڈن شہریوں کو اس سے بھی زیادہ مدت کے لیے گھریلو تیاری کی ترغیب دیتا رہا ہے۔
🛡️
فیکٹ باکس: یورپ آخر کس خطرے کی تیاری کر رہا ہے؟
▼
امن کے خواب سے ہمہ جہت ڈیٹرنس کی طرف تاریخی موڑ
تزویراتی بیداریدیوارِ برلن گرنے کے تین دہائیوں بعد یورپی حکومتوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ مستقل امن کی ضمانت ختم ہو چکی ہے۔ اب تیاری صرف روایتی توپ و ٹینک کی جنگ کی نہیں بلکہ بیک وقت بجلی، مواصلات، پانی اور غذائی سپلائی منقطع کرنے والے کثیر جہتی حملوں کی ہے۔
مشرقی محاذ اور روایتی جارحیت
یوکرین جنگ نے ثابت کیا ہے کہ یورپی سرحدوں پر وسیع پیمانے کی بری و فضائی جنگ خیالی بات نہیں رہی۔ نیٹو کے رکن ممالک روس کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کو روکنے کے لیے مستقل فارورڈ ڈیفنس پوزیشنز لے رہے ہیں۔
ہائبرڈ حملے اور زیرِ سمندر تخریب کاری
بحرین اور بالٹک میں انٹرنیٹ و توانائی کی زیرِ آب کیبلز، گیس پائپ لائنز اور پاور گرڈز کو ہدف بنانے کے مسلسل خطرات نے یورپی سیکیورٹی اداروں کو داخلی بلیک آؤٹ سے نمٹنے کے منصوبے بنانے پر مجبور کیا ہے۔
72 گھنٹے کا شہری خودمختار پلان
یورپی یونین نے اپنی آفیشل تیاری اسٹرٹیجی میں ہر شہری پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ بجلی، پانی اور سپر مارکیٹس بند ہونے کی صورت میں کم از کم 3 دن تک ریاستی مدد کے بغیر خود انحصار رہنے کے اسباب گھر میں رکھے۔
سائبر انتشار اور غلط اطلاعات کی مہم
کسی بھی ممکنہ عسکری بحران کے وقت اسپتالوں، بینکنگ سروسز اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کو جام کرنے والے سائبر وارفیئر اور عوام میں افراتفری پھیلانے والی مہمات کو سب سے فوری داخلی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
جرمنی میں پارکنگ بھی پناہ گاہ بن سکتی ہے
جرمنی میں تبدیلی زیادہ نمایاں ہے۔ مئی 2026 میں برلن نے شہری دفاع کی مضبوطی کے لیے 10 ارب یورو مختص کیے، جس میں زیرزمین پارکنگ، سرنگوں اور میٹرو اسٹیشنوں کو ضرورت پڑنے پر پناہ گاہوں میں بدلنا شامل ہے۔
8 کروڑ سے زیادہ آبادی والے جرمنی میں موجودہ شیلٹر صرف تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار افراد کو جگہ دے سکتے ہیں۔
یورپ سرد جنگ کے بعد پہلی بار دائمی امن کا تصور چھوڑ کر ہنگامی شہری تیاری، زیرزمین پناہ گاہوں اور اربوں ڈالر کے دفاعی نیٹ ورک کی طرف لوٹ آیا ہے۔
یورپی یونین نے شہریوں کو بجلی، پانی اور رابطے منقطع ہونے کی صورت میں تین دن تک بنیادی ضروریات خود پوری کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جرمنی نے زیرزمین پارکنگ، سب وے اسٹیشنوں اور سرنگوں کو ضرورت پڑنے پر بم شیلٹرز میں تبدیل کرنے کے لیے خطیر فنڈ مختص کیا ہے۔
یورپی اتحادیوں نے بنیادی عسکری ضروریات اور اسلحہ فیکٹریوں کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھا کر دفاعی تیاریوں کو غیر معمولی سطح پر پہنچا دیا۔
یوروبیرومیٹر سروے کے مطابق شہریوں کی واضح اکثریت مشترکہ دفاع کی حامی ہے، جبکہ 76% عوام روس کی جنگ کو سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتے ہیں۔
سرحدی رکاوٹوں میں پھنسے بغیر فوج اور گولہ بارود کی برق رفتار منتقلی کے لیے پلوں، ریلوے نیٹ ورک، بندرگاہوں اور سرنگوں کی جنگی بنیادوں پر تعمیر نو شروع ہے۔
فن لینڈ اس معاملے میں کئی دہائیاں آگے ہے۔ وہاں تقریباً 50 ہزار 500 شہری پناہ گاہیں ہیں، جن میں لگ بھگ 48 لاکھ افراد سما سکتے ہیں۔
کئی جگہیں عام دنوں میں دوسری سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، مگر بحران میں فوراً شیلٹر بن سکتی ہیں۔
سویڈن نے گھروں تک ’اگر بحران یا جنگ آ جائے‘ کے عنوان سے کتابچے پہنچائے، جن میں پانی، خوراک، رابطوں، فضائی حملوں اور گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کی ہدایات شامل ہیں۔
عملی اقدامات
اہم نکات: پناہ گاہوں سے ہتھیاروں تک کیا بدل رہا ہے؟
+
پارکنگز اور سب ویز کو پناہ گاہوں میں بدلنا
8 کروڑ سے زائد آبادی والے جرمنی کے پاس اس وقت صرف 4 لاکھ 80 ہزار افراد کے لیے بنکرز موجود ہیں۔ برلن نے مئی 2026 میں زیرِ زمین ریلوے اسٹیشنز، سرنگوں اور کمرشل پارکنگز کو ہنگامی شیلٹرز میں ڈھالنے کا میگا منصوبہ شروع کیا ہے۔
48 لاکھ شہریوں کے لیے مکمل محفوظ نظام
فن لینڈ نے دہائیوں کی سرد جنگی پالیسی کے تحت 50 ہزار سے زائد شیلٹرز بنائے ہوئے ہیں جو عام دنوں میں سوئمنگ پولز، کار پارکنگز اور جم کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مگر الرٹ کے چند گھنٹوں میں گیس و بم پروف قلعہ بن جاتے ہیں۔
'اگر بحران یا جنگ آ جائے' کا کتابچہ
سویڈش حکومت نے تمام گھرانوں تک ہنگامی کتابچے پہنچائے ہیں جن میں ریڈیو، پانی کے کین، نقدی رکھنے اور فضائی حملے کے سائرن بجنے پر ردعمل کی تفصیلی ہدایات شامل ہیں تاکہ ہر گھرانہ ریاستی رسد کے بغیر سرائیو کر سکے۔
'ملٹری شینگن' اور 139 ارب ڈالر سرمایہ کاری
یورپ ایک ایسا فوجی کوریڈور بنا رہا ہے جس میں سرحدی کاغذی کارروائی کے بغیر بھاری ٹینک، گولہ بارود اور فوجی دستے 24 گھنٹے میں مشرقی محاذ پر پہنچ سکیں، جس کے لیے پلوں اور ریلوے ٹریکس کو ازسرنو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
پناہ گاہیں صرف آغاز ہیں
اصل تبدیلی یورپ کے بجٹ، دفاعی فیکٹریوں اور بنیادی ڈھانچے میں ہو رہی ہے۔ ’بازدارندگی‘، ’فوجی پیداوار‘ اور ’اسٹریٹجک ذخائر‘ جیسے الفاظ اب صرف فوجی اداروں تک محدود نہیں رہے۔
جولائی 2026 کے انقرہ نیٹو اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی اتحادیوں اور کینیڈا نے 2025 میں بنیادی دفاعی ضروریات پر سرمایہ کاری 139 ارب ڈالر سے زیادہ بڑھائی ہے۔
اتحادیوں نے یوکرین کے لیے 2026 میں 70 ارب یورو کے فوجی سازوسامان، امداد اور تربیت کا وعدہ بھی کیا اور 2027 میں کم از کم اسی سطح کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
جرمنی کے 2027 کے مجوزہ بجٹ میں بنیادی دفاعی اخراجات 109 ارب یورو تک پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان پر اثرات: یورپ کی جنگی تیاری ہمیں کیسے متاثر کرے گی؟
◀
ٹیکسٹائل برآمدات اور تجارتی منڈیاں
یورپی یونین پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی سب سے بڑی خریدار ہے۔ اگر یورپی حکومتیں اور صارفین اپنے وسائل جنگی تیاری، دفاعی بجٹ اور ہنگامی بچت کی طرف موڑیں گے تو پاکستانی اشیا کی طلب اور جی ایس پی پلس کے تجارتی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔
عالمی گیس اور ایل این جی (LNG) کی قیمتیں
یورپ کے اسٹریٹجک گیس ذخائر بھرنے کی ہنگامی مہم بین الاقوامی مارکیٹ میں مائع قدرتی گیس کے اسپاٹ کارگوز مہنگے کر دیتی ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی انحصار والے ملک کے لیے موسم سرما میں بجلی اور گیس کی قیمتیں قابو میں رکھنا شدید مشکل ہو سکتا ہے۔
تارکینِ وطن کے روزگار اور ترسیلاتِ زر
برطانیہ اور یورپی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی وہاں کی معاشی سست روی، سخت ٹیکسز اور مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کی مالی مشکلات پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات کے حجم اور مقامی خاندانوں کی کفالت پر اثر انداز ہوں گی۔
لاجسٹکس لاگت اور دفاعی پرزہ جات
یورپی دفاعی فیکٹریوں کے اپنے براعظم پر مرکوز ہونے سے روایتی مینوفیکچرنگ اور شپنگ لائنز کے فریٹ چارجز بڑھیں گے، جس سے پاکستان کے لیے صنعتی مشینری اور ہائی ٹیک آلات کی درآمد مزید مہنگی اور تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف یورپ فضائی و میزائل دفاع، ڈرون اور ڈرون مخالف نظام، فوجی صنعت اور ایندھن کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔
یورپی یونین ایک طرح کا ’ملٹری شینگن‘ بھی بنانا چاہتی ہے، یعنی ایسا نظام جس میں فوجی اور سازوسامان سرحدی رکاوٹوں میں پھنسے بغیر تیزی سے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ سکیں۔
اس مقصد کے لیے پلوں، سرنگوں، ریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت سیکڑوں مقامات کو بہتر بنانے کی ضرورت شناخت کی گئی ہے۔
🌐
عالمی منظرنامہ: کیا دنیا نئی سرد جنگ میں داخل ہو چکی؟
عالمی توازن
دو قطبی توازن اور واضح سرحدیں
پرانی سرد جنگ دو واضح بلاکس (سوویت یونین بمقابلہ امریکہ) کے درمیان تھی جس میں معیشتیں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور باہمی ایٹمی تباہی کے خوف (MAD) نے براہِ راست فوجی تصادم کو روکے رکھا تھا، جبکہ عوام کے روزمرہ تحفظ کو مستقل خطرہ نہ سمجھا جاتا تھا۔
معاشی باہمی انحصار اور پوشیدہ حملے
نئی سرد جنگ میں معیشتیں آپس میں گتھم گتھا ہیں لیکن دشمنی زیادہ خطرناک ہے۔ یہاں جنگ صرف سرحد پر نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز، مالیاتی پابندیوں، تجارتی راستوں اور مواصلاتی شریانوں پر لڑی جا رہی ہے جہاں امن اور جنگ کی تفریق مٹ چکی ہے۔
کیا یورپی عوام بھی خوف میں ہیں؟
یہاں معاملہ مختلف ہے۔ یورپ کوئی جنگی کیمپ نہیں بنا اور عام شہری کی زندگی اب بھی معمول کے قریب ہے۔ اصل تبدیلی سڑک سے زیادہ حکومتوں، بجٹوں اور منصوبہ بندی میں دکھائی دیتی ہے۔
موسم بہار 2026 کے یوروبیرومیٹر سروے میں 81 فیصد شہریوں نے مشترکہ یورپی دفاعی و سلامتی پالیسی کی حمایت کی، جبکہ 76 فیصد نے روس کی یوکرین پر جنگ کو یورپی یونین کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
مگر یورپی سطح پر سب سے بڑا خدشہ اب مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال ہے، جس سے یوکرین جنگ تیسرے نمبر پر آ چکی ہے۔ یعنی جنگ یورپی ذہن میں موجود ہے، مگر اس کے ساتھ مہنگائی، توانائی، ہجرت، روزگار اور دوسری عالمی کشیدگیاں بھی کھڑی ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا: کیا یورپ واقعی جنگ کے قریب ہے؟
مستقبل کا جائزہ
طویل ڈیٹرنس اور مسلح قلعہ بندی
نیٹو ممالک اور کینیڈا کی 139 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری اور 2027 کے بھاری دفاعی بجٹ روسی جارحیت کو روکنے میں کامیاب رہیں گے، مگر براعظم مستقل کشیدہ چوکی بن کر رہے گا۔
گرے زون اور ہائبرڈ تصادم کا تسلسل
باقاعدہ توپ خانے کی جنگ کے بغیر پائپ لائنوں، مواصلاتی کیبلز اور انتخابی نظاموں پر غیر علانیہ حملے جاری رہیں گے، جس کے توڑ کے لیے 72 گھنٹے کا شہری پلان ناگزیر رہے گا۔
سرحدی حادثہ اور آرٹیکل 5 کا نفاذ
بالٹک خطے یا بحیرہ اسود میں کسی ڈرون، طیارے یا بحری جہاز کے ناپسندیدہ تصادم کے نتیجے میں نیٹو کا اجتماعی دفاع متحرک ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا جس کی روک تھام سفارت کاری کا اصل امتحان ہے۔
یورپ کو جنگ کا خوف
ایسا نہیں کہ یورپ کل جنگ میں داخل ہونے والا ہے، بلکہ بڑی تبدیلی یہ ہے کہ یورپ اب امن کو ہمیشہ رہنے والی حالت سمجھ کر منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔
دیوارِ برلن کے بعد ایک نسل کو بتایا گیا تھا کہ بڑی یورپی جنگیں تاریخ بن چکی ہیں۔
مگر آج پھر نئی نسل ایسے یورپ میں جوان ہو رہی ہے جہاں گولہ بارود کی فیکٹریاں بڑھ رہی ہیں، گھروں میں ہنگامی راشن رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، شیلٹر دوبارہ گنے جا رہے ہیں اور سڑکوں تک کو فوجی نقل و حرکت کے حساب سے دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ تبدیلی اہمیت رکھتی ہے۔ یورپ میں طویل عسکری کشیدگی توانائی، تجارت اور عالمی منڈیوں میں نئے جھٹکوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، جن کا اثر درآمدی معیشتوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔