فیکٹ باکس: غزہ میں ٹائر اتنے مہنگے کیوں ہوئے؟
فیکٹ باکس: غزہ میں ٹائر اتنے مہنگے کیوں ہوئے؟
گزشتہ تین برسوں سے غزہ میں ایک بھی نیا ٹائر داخل نہیں ہوا
وزارتِ اقتصادیات کے مطابق فوجی ناکہ بندی اور تجارتی راستوں کی مسلسل بندش نے ٹائروں کے اسٹاک کو مکمل صفر کر دیا ہے، جس کے باعث موجود پرانے ٹائر ہی مارکیٹ میں من مانی قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔
قیمت میں 17 گنا ہوشربا اضافہ
3,000 شیکلجنگ سے قبل جو عام ٹائر محض 170 شیکل میں باآسانی مل جاتا تھا، اب عدم دستیابی کے باعث اس کی بلیک مارکیٹ قیمت 990 ڈالر (تقریباً 3 ہزار شیکل) تک جا پہنچی ہے۔
پنکچر کے پیچ کی قیمت میں اچھال
20 گنا اضافہپنکچر لگانے کے لیے درکار ربڑ کا چھوٹا سا پیچ بھی نایاب ہو چکا ہے، جس کی قیمت جنگ سے پہلے کے 5 شیکل سے چھلانگ لگا کر 100 شیکل تک پہنچ چکی ہے۔
1,500 کلومیٹر ملبہ اور کھنڈرات
تباہ شدہ سڑکیںاقوامِ متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق بمباری سے 1,511 کلومیٹر سڑکیں برباد ہو چکی ہیں۔ کنکریٹ کے ٹکڑے اور نوکیلا ملبہ کمزور ٹائروں کو دنوں میں پھاڑ دیتے ہیں۔
اسپیئر پارٹس کا بحران
منقطع سپلائینہ صرف ٹائر بلکہ رِم، ٹیوب اور ویلڈنگ میٹریل کی بندش نے مقامی ورکشاپس کو بے بس کر دیا ہے، جس سے ہر چلتی گاڑی کے پہیے پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔
غزہ میں اب گاڑی چلانا بھی اب بقا کی چیز بن چکے ہیں، جہاں نئے ٹائر تقریباً ناپید ہیں، پرانے ٹائر بار بار جوڑے جا رہے ہیں اور بعض ورکشاپس میں سوراخ بند کرنے کے لیے آٹے اور پانی کا آمیزہ تک استعمال ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ کوئی معمولی دیسی طریقہ نہیں، بلکہ غزہ کی کی ایسی تصویر ہے جہاں ایک پنکچر بھی روزگار، علاج یا خوراک کی ترسیل روک سکتا ہے۔
ٹائر جس کی قیمت تقریباً ایک ہزار ڈالر
رپورٹس کے مطابق غزہ کی وزارتِ اقتصادیات ٹائروں کی کمی کو 100 فیصد بتاتی ہے۔ یعنی گزشتہ 3 برس سے کوئی نیا ٹائر غزہ میں داخل نہیں ہوا۔
ٹائروں کی مکمل قلت اور تباہ حال شاہراہوں نے غزہ کی ٹرانسپورٹ کو مفلوج کر کے امدادی سامان، روزگار اور اسکولوں کی ترسیل روک دی ہے۔
گزشتہ تین سال کے دوران کسی نئے ٹائر کا غزہ میں داخلہ ممکن نہیں ہو سکا، جس کے باعث ورکشاپس میں سوراخ بھرنے کے لیے آٹے اور پانی کا آمیزہ استعمال ہونے لگا۔
جنگ سے قبل ایک سو ستر شیکل میں بکنے والا معمولی ٹائر اب تین ہزار شیکل تک پہنچ چکا ہے، جبکہ پنکچر لگانے کی لاگت میں بیس گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سروے کے مطابق تباہ شدہ سڑکیں، ملبے کے ڈھیر اور گہرے گڑھے کمزور پرانے ٹائروں کو تیزی سے پھاڑ کر بیکار کر رہے ہیں۔
زیادہ تر بسیں ناکارہ ہو چکی ہیں؛ اسکول بسوں کا بڑا حصہ بند ہے اور کمپنیاں کھڑی گاڑیوں کے ٹائر اتار کر باقی چند بسوں کو چلانے پر مجبور ہیں۔
جنگ سے پہلے تقریباً 170 شیکل میں ملنے والا ٹائر، اگر آج کہیں دستیاب ہو، تو اس کی قیمت 3 ہزار شیکل یعنی قریب 990 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
پنکچر کا ایک چھوٹا پیچ بھی 5 شیکل سے بڑھ کر 100 شیکل ہو چکا ہے۔
⚙️
حیران کن حقیقت: آٹے سے ٹائر کیسے مرمت ہو رہے ہیں؟
▼
حیران کن حقیقت: آٹے سے ٹائر کیسے مرمت ہو رہے ہیں؟
آٹے اور پانی کا دیسی محلول
01کمرشل سیلنٹ اور گلو ناپید ہونے پر مکینک آٹے کو پانی میں گھول کر گاڑھا پیسٹ بناتے ہیں اور اسے اندرونی سوراخوں پر لگا کر ہوا کا اخراج عارضی طور پر روکتے ہیں۔
پھٹے پرانے ربڑ کے ٹکڑوں کی پیوند کاری
02کچرے اور بے کار گاڑیوں کے ٹائروں کو کاٹ کر اندرونی تہوں پر چپکایا جاتا ہے تاکہ ٹیوب باہر نہ نکلے اور ٹائر کو چند دن مزید چلنے کا سہارا مل سکے۔
سفر کے دوران دھماکے کا مستقل خوف
03یہ جُگاڑ محض چند ہفتے بمشکل نکال پاتی ہے۔ گاڑی پر تھوڑا سا اضافی بوجھ پڑتے ہی یا گڑھے میں لگتے ہی ٹائر کے پرخچے اڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔
روٹی کا نوالہ بمقابلہ پہیے کی بقا
04یہ طریقہ المیے کی انتہا ظاہر کرتا ہے جہاں قحط زدہ خطے میں خوراک کا بنیادی عنصر گاڑی کے پہیے کو محض چند میل آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔
اسی لیے عبداللہ القایض جیسے کاریگر پھٹے ربڑ، چپکنے والے مادے اور حتیٰ کہ آٹے کے محلول سے ٹائر کی زندگی چند ہفتے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بار بار مرمت شدہ ٹائر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، خاص طور پر خراب سڑک اور زیادہ وزن کے ساتھ۔
سڑک بھی دشمن، ٹائر بھی ختم
غزہ کا یہ بحران صرف پرزوں کی قلت تک محدود نہیں۔ ستمبر 2025 کے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ جائزے میں تقریباً 1,511 کلومیٹر سڑکوں کو تباہ اور سیکڑوں کلومیٹر مزید سڑکوں کو شدید یا درمیانے درجے کا نقصان پہنچا ہوا پایا گیا تھا۔
🚨
زندگی کی قیمت: ٹرانسپورٹ رکنے سے کیا کچھ متاثر ہوا؟
70 فیصد بسیں بند
+
زندگی کی قیمت: ٹرانسپورٹ رکنے سے کیا کچھ متاثر ہوا؟
طبی ایمرجنسی اور مریضوں کی تاخیر
طبی خطرہپہیے نہ ہونے کے باعث ایمبولینسز اور عام گاڑیاں شدید زخمیوں اور ڈائیلاسز کے مریضوں کو بروقت اسپتال پہنچانے میں ناکام ہو رہی ہیں، جس سے اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔
تعلیمی نظام کا شدید انقطاع
450 بسوں کا تعطلاسکول بسوں کا 70 فیصد بیڑہ بند ہونے کے باعث بچے اور اساتذہ خیموں اور متبادل کلاسوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں یا میلوں پیدل کھنڈرات عبور کرنے پر مجبور ہیں۔
امدادی سامان کے ٹرکوں کی بندش
OCHA انتباہاقوامِ متحدہ کے مطابق سرحد پار سے سامان آنے کے باوجود اندرونِ غزہ ترسیل مفلوج ہے کیونکہ امدادی ٹرکوں کے لیے مرمتی سامان اور ٹائر ختم ہو چکے ہیں۔
گاڑیوں کو توڑ کر پرزے نکالنے کی مجبوری
انفراسٹرکچر تباہیٹرانسپورٹ کمپنیاں چند بسیں چلانے کے لیے باقی درجنوں بسوں کے ٹائر اور بیٹریاں اتار رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ڈھانچہ مستقل طور پر ختم ہو رہا ہے۔
ملبہ، گڑھے اور ٹوٹی سڑکیں پہلے سے کمزور ٹائروں کو مزید تیزی سے ختم کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے OCHA نے بھی 2026 میں کہا کہ امدادی سامان کی آمد بڑھنے کے باوجود تباہ شدہ سڑکیں اور محدود مرمتی سامان ترسیل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
بسوں کے پرزے بھی ایک دوسرے سے نکل رہے ہیں
13 ستمبر کی تازہ رپورٹس کے مطابق غزہ کی تقریباً 70 فیصد بسیں بند ہو چکی ہیں۔ 450 اسکول ٹرانسپورٹ بسوں میں سے صرف قریب 30 فیصد چل رہی ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا: غزہ کا ٹرانسپورٹ نظام بچ پائے گا؟
مستقبل کے 3 امکانات
▼
آگے کیا ہوگا: غزہ کا ٹرانسپورٹ نظام بچ پائے گا؟
مکمل مفلوج پن: اگر تجارتی درآمدات بند رہیں
اگر نئے ٹائروں اور مرمتی ربڑ کا داخلہ فوری نہ کھولا گیا تو اگلے چند مہینوں میں بقیہ 30 فیصد بسیں اور گاڑیاں بھی مکمل طور پر بیٹھ جائیں گی، جس سے نقل و حرکت کا واحد ذریعہ گدھا گاڑیاں یا پیدل سفر رہ جائے گا۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کی ہنگامی سپلائی
امکان ہے کہ عالمی اداروں کے دباؤ پر امدادی و ہسپتالوں کی گاڑیوں کے لیے مخصوص کوٹے کے تحت ٹائروں کی ترسیل کی اجازت دی جائے، مگر یہ محدود سپلائی عام شہریوں اور تجارتی شعبے کے لیے ناکافی رہے گی۔
سڑکوں کے ملبے کی صفائی کا بنیادی چیلنج
محض ٹائر فراہم کرنے سے بھی مسئلہ مستقل حل نہیں ہو سکے گا جب تک ملبے میں دبی 1,500 کلومیٹر سے زائد برباد سڑکوں کو کلیئر اور ری پیور نہ کیا جائے تاکہ نئے ٹائر چند ہی دنوں میں دوبارہ پھٹنے سے بچ سکیں۔
بعض کمپنیاں بند بسوں سے ٹائر اور دوسرے پرزے اتار کر باقی چند گاڑیوں کو چلتا رکھنے پر مجبور ہیں۔
اس بحران کا اثر کرایوں، خوراک، امداد، اسکول اور اسپتال، غرض کہ ہر چیز پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ رُکے تو سامان مہنگا ہوتا ہے، مریض دیر سے پہنچتے ہیں اور مزدور کام تک نہیں پہنچ پاتے۔
غزہ کا ٹائر بحران دراصل ایک بڑی حقیقت کا چھوٹا سا عکس ہے۔ جب آٹا روٹی کے بجائے ٹائر بچانے میں استعمال ہونے لگے تو مسئلہ صرف گاڑی کا نہیں رہتا، بلکہ پورا نظام زندگی خطرے میں آ جاتا ہے۔