غزہ میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے خوراک، پانی، بجلی اور ادویات کو پہلے ہی نایاب بنا دیا تھا اور اب یہ بحران بڑھ کر انسان کی جان کے در پے ہے۔
مزید پڑھیں
غزہ کے طبی مراکز میں آکسیجن اس حد تک کم ہو رہی ہے کہ ڈاکٹروں کو فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ دستیاب آکسیجن کس مریض کو دی جائے اور کس کو انتظار کرنا پڑے۔
اس صورت حال کا مطلب صرف طبی سامان کی قلت نہیں ہے، بلکہ انتہائی نگہداشت میں پڑا مریض، انکیوبیٹر میں سانس لیتا نومولود، آپریشن تھیٹر میں زیر علاج زخمی، ڈائیلاسز کا مریض یا خیمے میں
آکسیجن سلنڈر کے سہارے زندہ کوئی بچہ، یہاں سب ایک ایسی زنجیر سے بندھے ہیں۔
🩺
سانسوں کا حساب: آکسیجن ناپ تول کر ملے گی
+
سانسوں کا حساب: آکسیجن ناپ تول کر ملے گی
غزہ کے طبی مراکز میں آکسیجن اس نایاب سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں زندگی کی سانسیں راشن کی طرح تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹرز ہر منٹ ناپ تول کر گیس فراہم کر رہے ہیں تاکہ سب سے نازک مریضوں کو بچایا جا سکے۔
ہر منٹ 3 لیٹر کا کڑا حساب
انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے آکسیجن کا معمولی بہاؤ بھی وقت کے کڑے تعین کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔
خون میں آکسیجن کی خطرناک تنزلی
سلنڈر خالی ہوتے ہی مریضوں کی آکسیجن سیچوریشن 70 فیصد تک گر جاتی ہے، جس سے دماغی فالج اور اعضا کے کام چھوڑنے کا فوری خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
معیار اور پریشر میں کمی
بوسیدہ پلانٹس کے باعث آکسیجن کا مطلوبہ پریشر برقرار نہیں رہ پا رہا، جس سے پائپ لائنز سے جڑے وینٹی لیٹرز بار بار الارم دے رہے ہیں۔
گھروں اور خیموں میں اذیت ناک انتظار
دمے اور الرجی کے مریضوں کے لیے سلنڈر ری فلنگ ناپید ہو چکی ہے، جس سے خیموں میں مریض کھلی فضا میں گھٹن کا شکار ہو رہے ہیں۔
ان میں سے جسے آکسیجن ملنے میں کچھ تاخیر ہوئی، اس کی زندگی چند لمحوں میں خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ایک بچے کی سانس، پورے غزہ کی کہانی
دیر البلح کے شہدائے الاقصیٰ اسپتال میں زیر علاج بسام الکیلانی اس بحران کا ایک چہرہ ہے۔ اسے مسلسل آکسیجن درکار ہے اور اس کی والدہ کو ہر منٹ تقریباً 3 لیٹر آکسیجن کی فراہمی یقینی بنانا پڑتی ہے۔
اسرائیلی ناکہ بندی اور حملوں کے نتیجے میں غزہ کے زیادہ تر آکسیجن پلانٹس بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث ہسپتالوں میں نومولود بچوں اور زخمیوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔
صرف 12 پلانٹس فعال ہیں جبکہ سلنڈر بھرنے والی 30 میں سے محض 4 مشینیں کام کر رہی ہیں۔
طبی سہولیات کی نصف سے زائد عمارتیں تباہ ہیں اور پورا نظام آخری سانسیں لے رہا ہے۔
کینسر، دل، گردے اور دمے کے مریضوں کے لیے ضروری ادویات کی سپلائی مکمل رک چکی ہے۔
طبی گوداموں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنا کر تشخیصی و علاج کا بنیادی ڈھانچہ مفلوج کر دیا گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ایک رات سلنڈر خالی ہوگیا۔ گھر والوں نے پوری رات بچے کو کسی طرح ہوا پہنچاتے گزاری۔
بسام کے خون میں آکسیجن کی سطح ایک موقع پر 70 فیصد تک گر چکی ہے اور مزید کمی اسے بے ہوشی، سنگین پیچیدگیوں اور موت کے قریب لے جاسکتی ہے۔
افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ بسام یہاں اکیلا نہیں ہے۔ بچوں کے وارڈ میں ایسے درجنوں مریض موجود ہیں جن کے لیے آکسیجن پائپ کسی طبی سہولت سے زیادہ زندگی کی ڈور بن چکے ہیں۔
⚙️
آکسیجن کی مشین بند تو مطلب سانسیں بند
▼
آکسیجن کی مشین بند تو مطلب سانسیں بند
🏭 34 میں سے 22 پلانٹس کی مکمل بندش
بجلی کے تعطل، ایندھن کی ناکہ بندی اور براہِ راست بمباری کی وجہ سے خطے کے 65 فیصد آکسیجن جنریٹرز خاموش ہو چکے ہیں۔
🔋 30 میں سے صرف 4 ری فلنگ مشینیں فعال
پورے غزہ کے اسپتالوں کے لیے سلنڈر بھرنے والی صرف 4 مشینیں باقی بچی ہیں جو دن رات اوور لوڈنگ پر چل رہی ہیں۔
🛠️ اسپیئر پارٹس پر اسرائیلی پابندی
فلٹرز، پمپس اور کمپریسرز کی درآمد پر سخت رکاوٹوں کے باعث باقی ماندہ مشینیں بھی کسی بھی وقت مستقل بند ہو سکتی ہیں۔
تکنیکی المیہ: آکسیجن پلانٹ محض لوہے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ آپریشن تھیٹرز، انکیوبیٹرز اور آئی سی یو کی مرکزی شہ رگ ہے جس کی بندش اجتماعی ہلاکتوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
34 میں سے صرف 12 پلانٹس باقی
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق علاقے میں موجود 34 آکسیجن پلانٹس میں سے 22 بند ہوچکے ہیں اور صرف 12 کام کر رہے ہیں۔ باقی پلانٹس بھی پوری استعداد سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں اور مسلسل تکنیکی خرابیوں سے دوچار ہیں۔
صورتحال کی سنگینی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آکسیجن سلنڈر بھرنے والی 30 مشینوں میں سے صرف 4 فعال ہیں۔
طبی حکام خبردار کر چکے ہیں کہ فاضل پرزے اور مرمت کا سامان نہ پہنچا تو یہ مشینیں بھی کسی وقت بند ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آکسیجن اب اسپتالوں میں ’راشن‘ کی طرح تقسیم ہو رہی ہے۔
⚖️
ایک سلنڈر، کئی مریض: پہلے آکسیجن کسے دیں؟
طبی ترجیحات
ایک سلنڈر، کئی مریض: پہلے آکسیجن کسے دیں؟
آئی سی یو اور نوزائیدہ بچے
پہلی ترجیح انکیوبیٹرز میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور شدید زخمیوں کو دی جا رہی ہے جو سیکنڈز میں دم توڑ سکتے ہیں۔
آپریشن تھیٹرز کی ایمرجنسی
ہنگامی جراحیوں کے دوران بے ہوشی اور سانس بحال رکھنے کے لیے سلنڈرز کو وارڈز سے چھین کر تھیٹرز پہنچایا جاتا ہے۔
دائمی مریضوں کی قربانی
دمہ، گردے اور فالج کے ضعیف مریضوں کو کم مقدار یا وقفے وقفے سے آکسیجن دے کر زندگی اور موت کی کشمکش میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کی اذیت: غزہ کا طبی عملہ اخلاقی اور نفسیاتی کرب کی اس انتہا پر ہے جہاں انہیں روزانہ یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کس انسان کو سانس دینی ہے اور کسے موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔
ڈاکٹر کس کس کی سانس بچائیں؟
غزہ میں میڈیکل ریلیف کے ڈائریکٹر محمد ابو عفش کے مطابق آکسیجن کی شدید کمی نے یہاں کے طبی عملے کو ترجیحات طے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
ایک طرف انتہائی نگہداشت، آپریشن تھیٹر، انکیوبیٹر اور ڈائیلاسز ہیں، دوسری طرف گھروں اور خیموں میں دمے اور شدید سانس کی بیماریوں کے مریض۔
انہوں نے بتایا کہ آکسیجن کی پیداوار رکنے کا مطلب بہت سے مریضوں کے لیے عملاً ’موت کا انتظار‘ ہوگا۔
ابوعفش کے مطابق مسئلہ صرف مقدار کا بھی نہیں ہے، بلکہ فراہم ہونے والی آکسیجن کے معیار اور دستیابی میں شدید کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث آپریشن مؤخر کرنا، بعض خدمات محدود کرنا اور مریضوں کے درمیان ترجیح مقرر کرنا روزمرہ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
⚡
غزہ کے اسپتالوں کی لائف لائن ٹوٹ رہی ہے
+
غزہ کے اسپتالوں کی لائف لائن ٹوٹ رہی ہے
جنریٹر ایندھن کا شدید بحران
کمرشل گرڈ مکمل تباہ ہو چکا ہے؛ اسپتال محض ڈیزل جنریٹرز پر منحصر ہیں جن کے لیے ایندھن کا ایک ایک قطرہ فوجی اجازت ناموں کا محتاج ہے۔
دوائیوں کے گوداموں پر حملے
دیر البلح میں شہدائے الاقصیٰ اسپتال کے مرکزی فارمیسی گوداموں پر حملوں سے ڈائیلاسز سلوشنز اور اینٹی بائیوٹکس کا کثیر ذخیرہ راکھ بن گیا۔
اقوام متحدہ (OCHA) کی رپورٹ: جنگ سے پہلے موجود طبی نیٹ ورک کا صرف 44 فیصد بمشکل کام کر رہا ہے، جبکہ باقی انفراسٹرکچر مکمل ناکارہ ہو چکا ہے۔
بحران آکسیجن سے کہیں بڑا ہے
اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننےوالے غزہ کے اسپتال اس وقت صرف آکسیجن کی کمی نہیں جھیل رہے۔ جنریٹر آئل، فاضل پرزے، ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی بھی شدید دباؤ میں ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے OCHA نے اگست کی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جنریٹرز کے فاضل پرزوں اور دیگر طبی سامان کی درآمد پر مسلسل رکاوٹیں موجود ہیں، جبکہ صحت مراکز کو ادویات اور ضروری طبی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے تازہ جائزے سے بھی بحران کی سنگین صورت حال واضح ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 تک غزہ میں جنگ سے پہلے موجود صحت کی سہولت فراہم کرنے والے مقامات میں سے صرف تقریباً 44 فیصد فعال تھے۔
یعنی مسئلہ کسی خراب مشین یا ایک اسپتال کا نہیں، بلکہ پورا طبی نظام خود اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔
🚨
انکیوبیٹر سے آپریشن تھیٹر تک، سب کچھ داؤ پر
◀
انکیوبیٹر سے آپریشن تھیٹر تک، سب کچھ داؤ پر
👶 نوزائیدہ بچوں کے انکیوبیٹرز
پری میچور بچوں کے لیے مصنوعی سانس اور حرارت کی فراہمی مستقل بجلی اور پریشرائزڈ آکسیجن کی محتاج ہے، جن کے بند ہونے کا مطلب معصوم جانوں کا خاتمہ ہے۔
🔪 پیچیدہ سرجریز اور آپریشنز کا تعطل
ہنگامی آپریشن تھیٹرز میں اینستھیزیا اور آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث پیٹ اور دماغ کی پیچیدہ جراحیاں بغیر ضروری آلات کے یا مؤخر کرنے پر مجبور ہیں۔
زنجیر کی کڑیاں: ڈائیلاسز یونٹس سے لے کر وارڈز تک ہر شعبہ ایک دوسرے سے جڑا ہے؛ کسی ایک مشین کا رکنا پورے اسپتال میں اموات کی لہر پیدا کر دیتا ہے۔
دواؤں کے گودام بھی محفوظ نہیں
یکم اگست کو دیر البلح میں شہدائے الاقصیٰ اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے میں 2 طبی گودام تباہ ہوگئے۔
فلسطینی حکام کے مطابق وہاں ڈائیلاسز سمیت انتہائی ضروری طبی سامان ذخیرہ تھا۔ رائٹرز نے بھی اس واقعے اور طبی سامان کے نقصان کی تصدیق کی ہے۔
OCHA کے مطابق 2026 کے پہلے 7 ماہ میں عالمی ادارۂ صحت نے غزہ میں صحت کی خدمات پر 98 حملے ریکارڈ کیے۔ ان واقعات میں طبی مراکز اور ایمبولینسیں متاثر ہوئیں، جبکہ متعدد مواقع پر علاج کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
🏥
غزہ میں پورا طبی نظام اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے
◀
غزہ میں پورا طبی نظام اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے
🩺 3 لاکھ 50 ہزار دائمی مریض
کینسر، شوگر، دل اور گردوں کے لاکھوں مریض بنیادی ادویات سے محروم ہیں جس کے باعث انفیکشنز اور اعضا کی مستقل خرابی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
💥 ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر پر حملے
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق طبی مراکز اور ایمبولینسز پر لگاتار حملوں نے زخمیوں کو لانے اور علاج کی فراہمی کو مکمل مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
انسانی صورتحال کا المیہ: غزہ میں مسئلہ محض کسی ایک خراب مشین یا ادویات کی کمی کا نہیں، بلکہ پوری طبی مشینری کی مکمل تباہی ہے جس نے بنیادی انسانی سانس کو بھی میدانِ جنگ کا سب سے کٹھن امتحان بنا دیا ہے۔
ساڑھے 3 لاکھ مریض، دوائیں ناکافی
محمد ابو عفش کے مطابق غزہ میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ دائمی بیماریوں کے مریض باقاعدہ ادویات کے محتاج ہیں، لیکن آنے والی مقدار ضرورت پوری نہیں کرتی۔
اس صورت حال کا نتیجہ اب آنکھوں کی بیماریوں، ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کی پیچیدگیوں، گردوں اور دل کے مسائل کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
شدید گرمی، تباہ خیمے، آلودگی، جلدی، آنتوں اور وائرل بیماریوں کا پھیلاؤ صورتحال مزید خراب کر رہا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے دوران رپورٹ ہونے والی فلسطینی اموات 73 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ ہے۔
مشین بند تو سانس بند
آکسیجن پلانٹ دیکھنے میں شاید مشینری کا ایک یونٹ ہو، مگر غزہ میں اس کے ساتھ ایک پورا اسپتال جڑا ہے۔
اسی سے آپریشن تھیٹر چلتا ہے، اسی پر انکیوبیٹر میں بچے کی سانس قائم ہے اور اسی کے ذریعے انتہائی نگہداشت کا مریض زندہ رہتا ہے۔ یہ حالات اب براہ راست انسانی زندگی کا سوال بن گئے ہیں۔
غزہ کی موجودہ تصویر شاید اسی ایک حقیقت میں سمٹتی ہے کہ پہلے یہاں لوگ بمباری سے بچنے کے لیے جگہ تلاش کرتے تھے، پھر خوراک اور پانی کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوئے۔
اب اسپتالوں کے اندر وہ چیز بھی ناپ تول کر دی جا رہی ہے، جسے دنیا کے باقی حصوں میں انسان بغیر سوچے ہر لمحے اپنے پھیپھڑوں میں بھر رہے ہیں۔ یعنی سانس۔