براہ راست نشریات

غزہ میں سعودی امدادی محاذ: 1.8 ارب ریال، روزانہ 25 ہزار کھانے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi aid for Gaza

خوراک، علاج، پانی اور پناہ کے سعودی منصوبے جاری ہیں، غزہ کے 14 لاکھ سے زیادہ افراد کو غذائی بحران کا خطرہ ہے

مرکزِ شاہ سلمان کے مطابق غزہ کے لیے صرف مرکز کے ذریعے فراہم کی گئی سعودی امداد کی مالیت 1.8 ارب ریال تک پہنچ گئی ہے۔
امداد میں خوراک، علاج، صاف پانی، پناہ گاہیں اور بچوں میں غذائی قلت کے خلاف منصوبے شامل ہیں۔

غزہ میں گرم کھانے کی ایک پلیٹ اب محض خوراک نہیں رہی، یہ کسی بے گھر خاندان کے لیے دن کی واحد مکمل غذا، کسی ماں کے لیے اپنے بچے کو بھوکا سلانے سے بچنے کی امید اور کسی کمزور مریض کے لیے زندگی کی ڈور بن سکتی ہے۔

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد کا مرکزی باورچی خانہ وسطی اور جنوبی غزہ میں روزانہ تقریباً 25 ہزار گرم کھانے تقسیم کر رہا ہے۔ 

تاہم سعودی امدادی سرگرمیاں صرف کھانے تک محدود نہیں، ان میں غذائی پیکج، طبی سامان، بچوں اور ماؤں میں غذائی قلت کا علاج، پناہ گاہیں، صاف پانی، تعلیم اور بنیادی خدمات کی بحالی بھی شامل ہے۔

غزہ امداد: چھ اہم اعداد
1.8 ارب ریال مرکز کے ذریعے سعودی امداد
25 ہزار روزانہ گرم کھانے
14 لاکھ شدید غذائی بحران کے خطرے میں
19 لاکھ امداد نہ ملنے پر متاثر ہوسکتے ہیں
2,58,223 غذائی منصوبے کے براہِ راست مستفیدین
6,500 ٹن ابتدائی فضائی و بحری امداد

غزہ کے لیے 1.8 ارب ریال

کنگ سلمان سینٹر کے ترجمان ڈاکٹر سامر الجطیلی کے مطابق سعودی عرب نے غزہ کے لیے صرف سینٹر کے ذریعے 1.8 ارب ریال کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔

مزید پڑھیں

اخبار 24 کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم سعودی عرب کی جانب سے غزہ کو دی جانے والی مجموعی امداد نہیں، کیونکہ سینٹر کے علاوہ دوسرے سعودی سرکاری اور انسانی ذرائع سے بھی امداد فراہم کی گئی۔ 

اس لیے 1.8 ارب ریال کو صرف کنگ سلمان سینٹر کے منصوبوں کی مالیت سمجھنا چاہئے۔ 

امداد میں خوراک، ادویات، طبی آلات، خیمے، کمبل، بستر، پانی، صفائی کا سامان، بچوں کی خوراک اور ہسپتالوں کی ضروریات شامل ہیں۔ 

سینٹر فلسطینی اداروں کے علاوہ عالمی ادارۂ صحت، عالمی ادارۂ خوراک، انروا اور بین الاقوامی ریڈ کراس جیسے اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔

روزانہ 25 ہزار کھانے

جولائی 2026 کے دوران مرکز کے مرکزی باورچی خانے نے متعدد دنوں میں وسطی اور جنوبی غزہ کے ضرورت مند باشندوں میں 25 ہزار گرم کھانے تقسیم کیے۔

سعودی امداد کن شعبوں میں فراہم ہوئی؟
  • گرم کھانوں اور غذائی پیکجوں کی تقسیم
  • ادویات، طبی آلات اور ہسپتالوں کی معاونت
  • بچوں اور ماؤں میں شدید غذائی قلت کا علاج
  • خیمے، کمبل، بستر اور دوسری پناہ گاہی ضروریات
  • صاف پانی، صفائی اور نکاسی آب کا سامان
  • بچوں کی تعلیم اور نفسیاتی معاونت
  • تباہ شدہ بنیادی خدمات کی ہنگامی بحالی

اس کے ساتھ خان یونس اور دیگر علاقوں میں غذائی پیکج بھی فراہم کیے گئے۔ 

24 جولائی کو تقسیم کیے جانے والے 550 غذائی پیکجوں سے 3,300 افراد مستفید ہوئے۔ دوسرے مراحل میں بھی سیکڑوں پیکج بے گھر اور ضرورت مند خاندانوں تک پہنچائے گئے۔

تیار کھانا فوری بھوک مٹاتا ہے، جبکہ غذائی پیکج خاندان کو چند روز تک اپنی ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ 

14 لاکھ افراد کو غذائی بحران کا خطرہ

سعودی امداد اہم ہونے کے باوجود غزہ کی ضرورت اس سے کہیں بڑی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے تازہ غذائی تجزیے کے مطابق جولائی سے دسمبر 2026 کے دوران غزہ میں 14 لاکھ سے زیادہ افراد، یعنی تقریباً 67 فیصد آبادی، شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرسکتے ہیں۔

ان میں تقریباً 2 لاکھ 12 ہزار افراد ہنگامی درجے میں ہوں گے۔ اگر انسانی غذائی امداد دستیاب نہ رہی تو غزہ کے تقریباً 19 لاکھ باشندے، یعنی 90 فیصد آبادی، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

جدہ سے غزہ تک امداد کا راستہ
سعودی عرب سے طیارے اور بحری جہاز
مصر کا العریش ہوائی اڈہ اور بندرگاہ
رفح یا کرم ابو سالم گزرگاہ
غزہ میں مقامی تقسیم

مئی 2024 تک 50 امدادی طیاروں اور آٹھ بحری جہازوں کے ذریعے 6,500 ٹن سے زیادہ سامان بھیجا جا چکا تھا۔ اصل چیلنج امداد کو سرحد سے غزہ کے ضرورت مند خاندانوں تک محفوظ طریقے سے پہنچانا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ امداد کی ترسیل میں معمولی رکاوٹ بھی حالیہ محدود بہتری کو دوبارہ سنگین بھوک اور غذائی قلت میں تبدیل کرسکتی ہے۔

بچوں میں غذائی قلت کے خلاف منصوبہ

غزہ کا مسئلہ صرف خوراک کی کمی نہیں، دستیاب خوراک میں غذائیت کی قلت بھی بچوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور مریضوں کو متاثر کر رہی ہے۔

کنگ سلمان سینٹر نے عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ شدید غذائی قلت کے علاج کا خصوصی پروگرام شروع کیا ہے۔ 

اس میں ادویات، وٹامن، معدنی اجزا، غذائی سپلیمنٹ، خصوصی طبی خوراک اور شدید غذائی قلت کے علاج کی میڈیکل کٹس فراہم کی جائیں گی۔

سینٹر کے مطابق منصوبے سے 2 لاکھ 58 ہزار 223 افراد براہِ راست اور 11 لاکھ 72 ہزار 467 افراد بالواسطہ مستفید ہوں گے۔

جدہ سے العریش اور پھر غزہ

سعودی امدادی مہم نومبر 2023 میں شروع ہوئی تھی۔ 

اس کے آغاز پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 30 ملین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 20 ملین ریال عطیہ کئے۔

یہ امداد کیوں اہم ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے 14 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا خطرہ ہے۔ انسانی غذائی امداد نہ ملنے کی صورت میں یہ تعداد 19 لاکھ، یعنی غزہ کی تقریباً 90 فیصد آبادی تک پہنچ سکتی ہے۔

اس لیے امدادی ٹرک کا سرحد تک پہنچ جانا کافی نہیں؛ خوراک، دوا اور صاف پانی کا بچوں، مریضوں اور بے گھر خاندانوں تک مسلسل اور محفوظ انداز میں پہنچنا اصل کامیابی ہے۔

بعد ازاں امدادی طیارے اور بحری جہاز مصر کے العریش پہنچے، جہاں سے سامان رفح اور کرم ابو سالم کے راستے غزہ منتقل کیا گیا۔ 

مئی 2024 تک 50 طیاروں اور 8 بحری جہازوں کے ذریعے 6,500 ٹن سے زیادہ امدادی سامان بھیجا جا چکا تھا۔

اس سامان میں خوراک، بچوں کا دودھ، خیمے، کمبل، طبی آلات، ایمبولینسیں، جنریٹر، پانی کے ٹینکر اور ملبہ ہٹانے والی مشینری شامل تھی۔

اصل مسئلہ امداد کی محفوظ رسائی

غزہ میں امداد کا سب سے مشکل مرحلہ سامان بھیجنا نہیں، بلکہ اسے محفوظ طریقے سے ضرورت مند خاندانوں تک پہنچانا ہے۔ 

ڈاکٹر الجطیلی کے مطابق مرکز کی ٹیم تقریباً دو سال سے رفح کی مصری جانب موجود ہے، تاکہ راستہ کھلتے ہی زیادہ سے زیادہ ٹرک غزہ میں داخل کیے جاسکیں۔

ایک منٹ میں پوری کہانی

سعودی عرب نے مرکزِ شاہ سلمان کے ذریعے غزہ کو 1.8 ارب ریال کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔ مرکز روزانہ تقریباً 25 ہزار گرم کھانے تقسیم کر رہا ہے اور غذائی پیکج، ادویات، طبی سامان، پناہ گاہیں اور صاف پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ غذائی قلت کے علاج کا منصوبہ 2 لاکھ 58 ہزار سے زیادہ افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچائے گا۔ تاہم محدود سرحدی رسائی کے باعث سب سے بڑا چیلنج امداد کو غزہ کے ضرورت مند خاندانوں تک مسلسل پہنچانا ہے۔

 یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد 300 دنوں میں کم از کم 300 بچے مارے گئے۔ 

غزہ کے خاندان محدود علاقے میں تباہ شدہ عمارتوں، ملبے اور غیر محفوظ پناہ گاہوں کے درمیان رہ رہے ہیں، جہاں بچوں کو غذائی قلت، بیماری اور آلودہ پانی کا سامنا ہے۔

غزہ کے لیے 1.8 ارب ریال کی سعودی امداد ایک بڑا انسانی سہارا ہے، مگر اس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ رقم نہیں بلکہ یہ ہے کہ کتنی خوراک، دوا اور صاف پانی مسلسل اور محفوظ طریقے سے بچوں، مریضوں اور بے گھر خاندانوں تک پہنچتا ہے۔

اصل اور معتبر ذرائع