غزہ کا سب سے بڑا جنازہ
— Tanveer Anjum | Journalist (@ItsTanveerAnjum) August 4, 2026
ڈھائی سال بعد 112 فلسطینیوں کا سفرِ آخرت pic.twitter.com/dIrBuLvqI1
غزہ میں اُس روز صرف جنازے نہیں اُٹھ رہے تھے، بلکہ وقت بھی اپنے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ اٹھائے چل رہا تھا جسے دنیا شاید کبھی پوری طرح محسوس نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں
سفید کفن میں لپٹے 112 سے زائد شہدا کے جنازے ایک قطار میں رکھے تھے، مگر ایک تلخ حقیقت یہ تھی کہ ان کی موت آج نہیں ہوئی تھی۔
ان میں سے بیشتر نومبر 2023 میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے اور اُن کی باقیات تقریباً ڈھائی سال تک ملبے تلے دبی رہیں۔
🕊️
صہیونی درندگی کے سامنے فلسطینیوں کا شوقِ شہادت
▼
بے باک مزاحمت اور استقامت
وحشیانہ بمباری اور دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین سے جڑے رہنا ان کے لازوال جذبہِ شہادت اور ناٹوٹ عزم کا بین ثبوت ہے۔
صبر کی انتہا اور قربانی
ڈھائی سال تک ملبے تلے دبے رہنے والے شہدا کو باوقار انداز میں دفنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید ترین مصائب بھی ان کی اخلاقی و روحانی طاقت کو کمزور نہیں کر سکے۔
عالمی بے حسی پر سوال
صہیونی مظالم پر بین الاقوامی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی کے مقابلے میں فلسطینیوں کا جرات مندانہ موقف دنیا کے سامنے طاقت کی ناانصافی کو بے نقاب کرتا ہے۔
نسلوں کا پختہ عزم
پورا محلہ اور خاندان ختم ہو جانے کے بعد بھی زندہ بچ جانے والوں کا عزمِ نوبنو بتاتا ہے کہ یہ جنگ صرف زمین کی نہیں بلکہ شناخت اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔
ایسا اجتماعی جنازہ دیکھا جسے مقامی حکام جنگ کے آغاز سے اب تک کا سب سے بڑا جنازہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ منظر صرف 100 سے زیادہ افراد کی تدفین کا نہیں تھا، بلکہ اس سوال کا بھی تھا کہ اتنے سال سے اپنے پیاروں کو دفنانے سے محروم رہنے والے فلسطینی خاندانوں پر کیا بیتی ہوگی؟
یہ منظر عالمی برادری خصوصاً انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئنز اور بے حس علم برداروں کے چہرے پر طمانچے جیسا ہے، جو محض زبانی اور بیانات کی حد تک اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے رہے۔
📍
الصبرہ سانحے کی پوری حقیقت
▼
مرکزی واقعہ: 22 نومبر 2023 کو الصبرہ محلے کی 3 رہائشی عمارتوں پر اچانک فضائی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ڈھائی سال تک 300 سے زائد افراد ملبے تلے دبے رہے۔
جسیم جانی نقصان
ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 308 افراد اس ایک تباہ کن حملے میں شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔
طویل ریسکیو مشن
مشینری کی شدید قلت اور بمباری کے باعث سول ڈیفنس ٹیمیں ڈھائی سال بعد 112 باقیات نکالنے میں کامیاب ہو سکیں۔
دردناک شناختی عمل
جسمانی باقیات کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت محض زیورات، کپڑوں کے ٹکڑوں اور طبی امپلانٹس سے کی گئی۔
غیر یقینی مستقبل
تقریباً 157 افراد اب بھی مفقود الخبر ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ ان کے جسدِ خاکی دھماکوں میں بالکل فنا ہو چکے ہیں۔
ایک محلہ، ایک حملہ، کئی نسلوں کا خاتمہ
22 نومبر 2023 کو غزہ شہر کے الصبرہ محلے میں قابض اسرائیلی فضائی جارحیت نے چند لمحوں میں 3 رہائشی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
فلسطینی حکام کے مطابق اس حملے میں ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 308 افراد جان سے گئے۔
ان شہدا میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ابتدائی دنوں میں صرف چند لاشیں نکالی جا سکیں اور پھر جبکہ سیکڑوں افراد ملبے تلے رہ گئے۔
اس دوران جنگ جاری اور بمباری ہوتی رہی، وہ عمارتیں جن کے نیچے لوگ دفن تھے، ملبے کا ڈھیر بنتی رہیں۔
🩸
اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی خاندانوں کی مٹتی نسلیں
➕
شجرہِ نسب کا مکمل خاتمہ
ایک ہی وقت میں 300 سے زیادہ افراد کا قتل عام اس بات کا ثبوت ہے کہ حملے خاندانوں کی کئی نسلوں کو سِول رجسٹر سے ہمیشہ کے لیے مٹا رہے ہیں۔
نسیانی نفسیاتی اثرات
برسوں تک اپنوں کی تدفین سے محرومی نے لواحقین کو ایک دائمی کرب میں مبتلا رکھا، جس کے زخم جنگ ختم ہونے کے بعد بھی تازہ رہیں گے۔
شناخت کا بحران
بچوں اور بزرگوں کی لاشیں مسخ ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت محض شخصی اشیاء پر منحصر رہ گئی، جو شدید المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔
معاشرتی ساخت کی تباہی
جب ایک پورے محلے کے تمام گھرانے ایک ساتھ ختم ہوتے ہیں تو اس سے مقامی معاشرتی توازن اور تاریخی یادداشت ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی ہے۔
یہ ملبہ صرف اینٹوں کا نہیں تھا
غزہ جنگ میں سب سے بڑا بحران صرف خوراک یا ادویات کا نہیں رہا، بلکہ ملبہ بھی ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔
بھاری مشینری کی کمی، مسلسل خطرات اور اسرائیلی رکاوٹوں کی وجہ سے کئی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث امدادی ٹیمیں برسوں تک وہاں نہیں پہنچ سکیں جہاں سیکڑوں لوگ دفن تھے۔
جنگ بندی کے بعد محدود علاقوں میں رسائی ممکن ہوئی تو سول ڈیفنس کی ٹیموں نے مسلسل کئی دن تک کھدائی کی اور بالآخر 112 افراد کی باقیات برآمد کیں۔
تاہم تقریباً 157 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا شدید دھماکوں کے باعث ان کی باقیات بھی ختم ہو چکی ہیں۔
غزہ کا سب سے بڑا اجتماعی جنازہ
ڈھائی سال بعد ملبے سے برآمد ہونے والے شہدا کی دردناک داستان
نومبر 2023 کی بمباری کے ڈھائی سال بعد الصبرہ کے ملبے سے 112 شہدا کی باقیات برآمد کر کے اجتماعی تدفین کر دی گئی، جبکہ 157 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
🚨 تباہ کن فضائی حملہ
30822 نومبر 2023 کو الصبرہ محلے میں 3 عمارتوں پر بمباری سے دو خاندانوں کے 308 افراد نشانہ بنے۔
⏳ طویل ترین انتظار
2.5مشینری کی عدم دستیابی کے باعث باقیات ڈھائی سال تک اینٹوں اور ملبے تلے دبی رہیں۔
🕊️ اجتماعی سفرِ آخرت
112سول ڈیفنس نے 112 شہدا کی باقیات نکال کر جنگ کا سب سے بڑا اجتماعی جنازہ برپا کیا۔
🔍 نامکمل تلاش
157157 شہری اب بھی لاپتا ہیں جن کی شناخت محض کپڑوں، زیورات یا طبی امپلانٹس سے ممکن ہو رہی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
شناخت صرف کپڑوں اور زیورات سے
سب سے دردناک مرحلہ ڈھائی سال سے ملبے تلے دبی ہوئی لاشوں کی شناخت کا تھا۔
اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بہت سی باقیات ایسی حالت میں تھیں کہ انہیں پہچاننا ممکن نہیں تھا۔
غزة على موعد غداً مع مشهد استثنائي ومؤلم…
— محمود صابر بصل (@mahmoadbasal) August 3, 2026
سيُشيَّع أكثر من 100 شهيداً من عائلة أبو شريعة والحساينة في جنازة جماعية مهيبة، تُعد من أكبر الجنازات التي شهدها قطاع غزة، ومن بين أكبر المشاهد الجنائزية في تاريخ القضية الفلسطينية خلال العقود الأخيرة.
امدادی کارکنوں نے لاشوں کو کپڑوں، زیورات، جسم پر موجود نشانات یا طبی امپلانٹس کی مدد سے شناخت کیا۔
کسی ماں کی گردن میں نام والا لاکٹ، کسی بچے کے جسم میں لگی دھاتی پلیٹ یا کسی کپڑے کا ٹکڑا، یہی وہ چیزیں تھیں جنہوں نے برسوں بعد خاندانوں کو یقین دلایا کہ ان کے پیارے آخرکار مل گئے ہیں۔
حقائق
سب سے دردناک جنازہ: اہم ترین حقائق
▼
شہدا کی وہ تعداد جن کی باقیات ڈھائی سال بعد نکال کر اجتماعی طور پر تدفین کی گئی۔
وہ طویل ترین عرصہ جو ان لاشوں کو ملبے کے نیچے دبے ہوئے گزر چکا تھا۔
ایک ہی حملے (الصبرہ محلے) میں شہید ہونے والے مجموعی فلسطینی افراد۔
وہ افراد جو اب بھی مفقود الخبر ہیں اور جن کا ملبے تلے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ایسے جنازے، جن کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں
اجتماعی نماز جنازہ کے دوران سیکڑوں افراد خاموشی سے سفید کفنوں کے درمیان کھڑے تھے۔
کئی جنازوں کے تابوت اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں ایک شخص آسانی سے اٹھا سکتا تھا، مگر ان کا بوجھ اٹھانا کسی ایک انسان کے بس کا نہیں تھا۔
Gaza is set to witness tomorrow what is expected to be the largest funeral in Palestinian history, as the remains of 112 victims from the Abu Sharia and Al-Hasayna families will be laid to rest. Their bodies were recovered from among the 308 people killed in the massacre carried…
— Mustafa Barghouti @Mustafa_Barghouti (@MustafaBarghou1) August 3, 2026
سوشل میڈیا کے ذریعے ان دردناک مناظر کی تصاویر تیزی سے پوری دنیا میں وائرل ہوئیں۔
فلسطینی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دنیا بھر کے مبصرین نے اسے صرف جنازے نہیں بلکہ اہلِ غزہ کی مظلومیت اور عالمی بے حسی سے تعبیر کیا۔
بہت سے لوگوں نے لکھا کہ دنیا نے شاید پہلی بار اتنی واضح شکل میں دیکھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے زخم برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔
🏛️
ہر پتھر کے نیچے ختم ہونے والے ایک خاندان کی کہانی
◀
ایک اینٹ، کئی خواب
ملبے کا ہر ٹکڑا صرف کنکریٹ نہیں بلکہ بچوں کے کھلونا کمروں، پڑھائی کے خوابوں اور والدین کی زندگی بھر کی محنت کا مدفن بن چکا ہے۔
لاپتا یادگاریں
جن گھروں میں کبھی قہقہے گونجتے تھے، وہاں اب صرف خاموشی ہے؛ یہاں تک کہ ان کی تصویریں اور یادگاریں بھی ملبے تلے ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئیں۔
امدادی بحران کی شدت
بھاری مشینری کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے ہر پتھر کو ہاتھوں سے ہٹانا پڑا، جس نے اس المیے کو مزید طول دیا اور خاندانوں کے دکھ کو بڑھایا۔
بے آواز المیہ
میڈیا کے اعداد و شمار سے پرے، ہر عمارت کے نیچے ایک مکمل داستانِ حیات ختم ہو گئی جس کا کوئی بتانے والا بھی زندہ نہ بچا۔
قیامتِ صغریٰ کا منظر پیش کرتا ملبہ
غزہ میں اگرچہ بڑے پیمانے کی لڑائی رک چکی ہے، لیکن وہاں زندگی اب تک معمول پر نہیں آئی۔
متعدد علاقوں میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبہ ایسے بکھرا پڑا ہے، جیسے ہزاروں بے گھر فلسطینی خاندان عارضی خیموں میں بکھرے پڑے ہیں اور سیکڑوں آج بھی اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں ہیں۔
غدًا الثلاثاء ستشهد غزة واحدة من أكبر الجنازات في التاريخ، بتشييع 112 شهيدًا من عائلتَي أبو شريعة والحساينة، بعدما ظلّت أجسادهم تحت أنقاض مجزرة حي الصبرة التي ارتكبها الاحتلال في نوفمبر 2023
— محمود حامد العيلة (@mahmoudaleila) August 3, 2026
لا أدري إن كان هناك مدينة في التاريخ اجتمع عليها الحزن والقهر والفقد والفقر كما اجتمع… pic.twitter.com/I2OBZ2X5in
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر ضروری مشینری اور وسائل فراہم کیے جائیں تو ملبے سے مزید لاشیں نکالی جا سکتی ہیں، مگر موجودہ رفتار سے یہ عمل مہینوں بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت لے سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ غزہ میں آج بھی ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جن کے لیے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
📰
ایک نظر میں پوری خبر
▼
غزہ کے الصبرہ محلے میں ڈھائی سال بعد 112 فلسطینی شہدا کی اجتماعی تدفین عمل میں لائی گئی۔
نومبر 2023 میں اسرائیلی بمباری کے باعث 3 عمارتیں تباہ ہوئی تھیں جن کے نیچے 300 سے زائد افراد دفن ہو گئے تھے۔
مشینری اور وسائل کی کمی کی وجہ سے 157 افراد اب بھی لاپتا ہیں جبکہ کھدائی کا عمل سست روی سے جاری ہے۔
ان المناک مناظر نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے عالمی دعوؤں اور بے حسی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اعداد و شمار کے پیچھے چھپی قیامت
عالمی میڈیا میں جنگ کی خبریں اعداد و شمار کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔ اتنے افراد ہلاک، اتنے زخمی، اتنی عمارتیں تباہ۔
لیکن الصبرہ کے اس جنازے نے ان نمبروں کو خاندانوں میں بدل دیا۔ ہر کفن کے پیچھے ایک گھر، ایک خاندان تھا، ایک بچپن تھا، ایک ماں تھی، ایک باپ تھا، ایک مستقبل تھا جو کبھی مکمل نہ ہو سکا۔
غزة ستشيّع غدًا واحدة من أكبر الجنازات في تاريخ القضية
— Hanzala (@Hanzpal2) August 3, 2026
سيُشيَّع 112 شهيدًا من عائلتي (أبو شريعة والحساينة) و ذلك بعد انتشال جثامينهم من أصل 308 شهداء ارتقوا في مجزرة صهيونية سابقة.
فيما لا يزال عددٌ منهم في عداد المفقودين بعد أن اختفت آثارهم. pic.twitter.com/cG876BuAVR
شاید یہی وجہ ہے کہ اس اجتماعی جنازے نے دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل کی اور یہ احساس تازہ کردیا کہ جنگوں سے فتح حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتیجے میں برسوں بعد بھی خاندان اپنے پیاروں کی تدفین، شناخت اور یادوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔
📌
اہم نکات
▼
نومبر 2023 کی بمباری کے ڈھائی سال بعد الصبرہ کے 112 شہدا کی اجتماعی تدفین کا انعقاد۔
ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے 308 افراد کی شہادت سے کئی نسلیں ختم ہو گئیں۔
باقیات کی شناخت شدید دشواری کے باعث زیورات، کپڑوں اور طبی نشانات سے ممکن بنائی گئی۔
157 مفقود الخبر افراد کی تلاش مشینری کی قلت اور تباہ کاریوں کے باعث تاحال التوا کا شکار ہے۔
سوال صرف غزہ کا نہیں
یہ انتہائی تکلیف دہ واقعہ جنگ بندی کا راگ الاپنے والوں سے ایک سوال کرتا کہ اگر ایک خاندان کو اپنے بچے دفنانے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے، اگر سیکڑوں افراد کی باقیات ملبے تلے رہ جائیں اور اگر جنگ بندی کے بعد بھی لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں ہوں تو کیا جنگ واقعی ختم ہو جاتی ہے؟
غزہ میں ہونے والا یہ اجتماعی جنازہ اسی سوال کی خاموش اور طاقتور ترین تصویر بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔
سفید کفنوں کی وہ طویل قطار محض 112 افراد کا سفرِ آخرت نہیں تھا، بلکہ اس نے یہ یاد دلایا ہے کہ جنگیں صرف عمارتوں کو ملبہ نہیں بناتیں، بلکہ وہ خاندانوں کی تاریخ، نسلوں کی یادوں اور انسانیت کے ضمیر پر ایسے نشان چھوڑ جاتی ہیں جو برسوں بعد بھی مٹتے نہیں۔