براہ راست نشریات

اسرائیلی جنگ کے 1000دن: خوف و بھوک کے سائے میں جیتے غزہ کے بچے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ میں جنگ اور شدید معاشی بحران کے سائے میں زندگی گزارنے والے معصوم فلسطینی بچے
غزہ کے بچوں کو درپیش غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کا فقدان تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں، جس نے وہاں کے بچوں کی زندگیوں کو ایک نہ ختم ہونے والے انسانی بحران میں بدل کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی ادارہ ’سیو دی چلڈرن‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کے بچوں کو غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کا فقدان تشویش ناک حد چھو چکا ہے۔

بچوں کے حقوق کی سنگین پامالی

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی  نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے تحت نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

غزہ میں جنگ اور شدید معاشی بحران کے سائے میں زندگی گزارنے والے معصوم فلسطینی بچے
غزہ میں 245,000 بچے غذائی قلت کے خطرے کا شکار ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

قتل و غارت کے اعداد و شمار

جنگ کے دوران اب تک کم از کم 21 ہزار بچے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔

خدشہ ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے بچوں کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

نقل مکانی اور تعلیمی بحران

غزہ کے تقریباً 80 فیصد یعنی 8 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ’سائٹ مینجمنٹ گروپ‘ کے مطابق 7 ہزار سے زائد بچے اپنے اہل خانہ سے بچھڑ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 6 لاکھ 25 ہزار طلبہ 3 تعلیمی سالوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

خوف اور نفسیاتی اثرات

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ رپورٹ کے مطابق غزہ کے 96 فیصد بچے ہر وقت موت کے خوف میں جی رہے ہیں۔

مسلسل بمباری اور گھروں کی تباہی نے بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ غزہ کے 77 فیصد مکانات، یعنی 3 لاکھ 70 ہزار گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

غذائی عدم تحفظ کا چیلنج

تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق غزہ کے 2 لاکھ 45 ہزار بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ مارکیٹ میں چاکلیٹ اور چپس تو مل رہے ہیں، مگر انڈے اور تازہ پھل جیسی غذائی اشیا عام خاندانوں کی پہنچ سے دُور اور ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔

جنگ کے 1000 دن: غزہ کے بچوں پر قیامت

خوف، بھوک اور بے گھر ہونے والے معصوم بچوں کے حقائق

شہید بچے
21,000+
ہزاروں اب بھی ملبے تلے دبے ہیں
بے گھر بچے
880,000
تقریباً 80 فیصد بچے نقل مکانی پر مجبور
شدید غذائی قلت
245,000
تازہ خوراک اور انڈے پہنچ سے دُور
نفسیاتی اور تعلیمی بحران کے سنگین اثرات
بچے جو مستقل موت کے خوف میں جی رہے ہیں 96%
غزہ کے تباہ شدہ مکانات اور گھر 77% (370,000)
طالب علم جو 3 تعلیمی سالوں سے محروم ہوئے 625,000
خاندان سے بچھڑے بچے
7,000+
سائٹ مینجمنٹ گروپ کی رپورٹ کے مطابق
سیز فائر کے بعد نئی شہادتیں
275
گزشتہ 9 ماہ کے دوران اسرائیلی حملوں میں

عالمی برادری کی ناکامی

’سیو دی چلڈرن‘ کے ریجنل ڈائریکٹر احمد الہنداوی نے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نے گزشتہ ایک ہزار دنوں میں غزہ کے 10 لاکھ بچوں کو مایوس کیا ہے۔

تنظیم نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری بند کرنے اور جنگی جرائم پر احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

مستقبل کے دھندلے امکانات

اکتوبر میں سیز فائر کے اعلان کے باوجود گزشتہ 9 ماہ میں 275 مزید بچے اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

غزہ کے بچوں کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انہیں دنیا کے دیگر بچوں کی طرح زندہ رہنے کا حق دیا جائے، مگر دنیا کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی نے ان کی امیدوں کو مزید تاریک کر دیا ہے۔