براہ راست نشریات

غزہ کا المیہ: فلسطینیوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں  کیسے محفوظ کیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ میں لاشیں محفوظ کرنے کا المیہ، جنگ کے دوران تدفین کی بندش اور فلسطینیوں کی بے بسی کا خاکہ
شہید سائدہ عبدالہادی کے بچے، جنہوں نے محاصرہ ختم ہونے تک لاش کو فریج میں رکھا (فوٹو: الجزیرہ)

غزہ کی پٹی پر مسلط اسرائیلی جنگ (جسے امریکی کھلی معاونت حاصل تھی) نے انسانی تاریخ کے بدترین المیے کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ایک جانب مظلوم خوراک اور پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے، وہیں شہدا کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشوں کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے انہیں فریج اور گھروں کے کمروں میں پنکھے تلے چھپانے پر مجبور ہوئے، کیونکہ بیرونی مدد اور تدفین کی رسائی ناممکن تھی۔

خوفناک محاصرہ اور سائدہ کا قتل

مارچ 2024ء کے وسط میں غزہ شہر کے مغرب میں حیدر عبد الشافی 

چوک کے قریب اسرائیلی ٹینکوں اور ڈرونز نے اچانک محاصرہ کر لیا۔

اس جارحیت میں سائدہ عبد الہادی کو اُن کے گھر کے سامنے اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بچوں کے لیے کھانا تیار کر رہی تھیں۔ اُن کی بیٹی حنین اور ساس اُم علی کے مطابق وہ اپنے 9 بچوں کے سامنے شہید ہو گئیں۔

غزہ میں لاشیں محفوظ کرنے کا المیہ، جنگ کے دوران تدفین کی بندش اور فلسطینیوں کی بے بسی کا خاکہ
وہ جگہ جہاں سائدہ کو اسنائپر نے گولی مار کر شہید کیا (فوٹو: الجزیرہ)

فریج میں لاش رکھنے کا کرب

سائدہ کی شہادت کے بعد علاقے میں شدید بمباری اور اسنائپرز کی موجودگی کے باعث تدفین ناممکن تھی۔

اُم علی بتاتی ہیں کہ انہوں نے شہید کی لاش کو سڑنے سے بچانے کے لیے کچن کا بڑا فریج خالی کیا اور اسے اس میں منتقل کر دیا۔ 6 دن تک 9 بچے فریج کے سامنے بیٹھ کر اپنی ماں کو پکارتے رہے۔

نرس محمود الہندی کی شہادت

سائدہ کے پڑوس میں رہنے والے نرس محمود الہندی بھی اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔

ان کی بیٹی امیر بتاتی ہیں کہ والد کے جسم میں گولیاں لگیں اور خون بہنے سے وہ شہید ہوگئے۔ محاصرے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں نہ پہنچ سکیں اور خاندان نے لاش کو پلاسٹک میں لپیٹ کر پنکھے کے نیچے رکھا۔

تدفین کے بغیر کربناک 3 دن

پلاسٹک میں لپٹنے کے باعث محمود الہندی کی لاش جلد ہی تعفن زدہ ہونے لگی۔

خاندان نے اسے گھر کے نچلے حصے میں منتقل کیا اور دروازے کھڑکیوں کو مضبوطی سے بند کر دیا تاکہ بو باہر نہ پھیلے۔ یہ خاندان 3 دن تک اپنے پیارے کی لاش کے ساتھ ایک ہی گھر میں محصور رہا۔

غزہ میں لاشیں محفوظ کرنے کا المیہ، جنگ کے دوران تدفین کی بندش اور فلسطینیوں کی بے بسی کا خاکہ
شہید محمود الہندی، جنہیں مغربی غزہ میں گھر کا محاصرہ کرکے ایک سنائپر نے گولی مار دی تھی (فوٹو: الجزیرہ)

انسانی المیہ اور بے بسی کی انتہا

مارچ 2024 کے اختتام پر جب اسرائیلی فوج ان علاقوں سے پیچھے ہٹی تو یہ خاندان اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرنے کے قابل ہوئے۔

سائدہ اور محمود کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، جس کا اثر ان کی روح پر ہمیشہ رہے گا۔

یہ واقعات غزہ میں جاری جنگ کی ہولناکیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، جہاں نہ صرف زندہ انسان بلکہ شہدا کی لاشیں بھی محفوظ نہیں۔

عالمی برادری کی خاموشی اور امدادی راستوں کی بندش نے غزہ کے شہریوں کو ایسے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں تدفین کا بنیادی حق بھی ایک بڑی جدوجہد بن چکا ہے۔