غزہ کی پٹی پر مسلط اسرائیلی جنگ (جسے امریکی کھلی معاونت حاصل تھی) نے انسانی تاریخ کے بدترین المیے کو جنم دیا ہے۔
مزید پڑھیں
ایک جانب مظلوم خوراک اور پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے، وہیں شہدا کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشوں کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے انہیں فریج اور گھروں کے کمروں میں پنکھے تلے چھپانے پر مجبور ہوئے، کیونکہ بیرونی مدد اور تدفین کی رسائی ناممکن تھی۔
خوفناک محاصرہ اور سائدہ کا قتل
مارچ 2024ء کے وسط میں غزہ شہر کے مغرب میں حیدر عبد الشافی
چوک کے قریب اسرائیلی ٹینکوں اور ڈرونز نے اچانک محاصرہ کر لیا۔
اس جارحیت میں سائدہ عبد الہادی کو اُن کے گھر کے سامنے اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بچوں کے لیے کھانا تیار کر رہی تھیں۔ اُن کی بیٹی حنین اور ساس اُم علی کے مطابق وہ اپنے 9 بچوں کے سامنے شہید ہو گئیں۔
فریج میں لاش رکھنے کا کرب
سائدہ کی شہادت کے بعد علاقے میں شدید بمباری اور اسنائپرز کی موجودگی کے باعث تدفین ناممکن تھی۔
اُم علی بتاتی ہیں کہ انہوں نے شہید کی لاش کو سڑنے سے بچانے کے لیے کچن کا بڑا فریج خالی کیا اور اسے اس میں منتقل کر دیا۔ 6 دن تک 9 بچے فریج کے سامنے بیٹھ کر اپنی ماں کو پکارتے رہے۔
نرس محمود الہندی کی شہادت
سائدہ کے پڑوس میں رہنے والے نرس محمود الہندی بھی اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔
ان کی بیٹی امیر بتاتی ہیں کہ والد کے جسم میں گولیاں لگیں اور خون بہنے سے وہ شہید ہوگئے۔ محاصرے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں نہ پہنچ سکیں اور خاندان نے لاش کو پلاسٹک میں لپیٹ کر پنکھے کے نیچے رکھا۔
*📷 ألبوم شهاب | "قتلها قناصٌ إسرائيلي".. أطفال في بيت حانون عاشوا أسبوعًا يترقّبون أمهم داخل الثلاجة*
— وكالة شهاب للأنباء (@ShehabAgency) June 21, 2026
القصة كاملةً هنا 👈 https://t.co/DHOmSIajPO pic.twitter.com/XCehW9Lj0n
تدفین کے بغیر کربناک 3 دن
پلاسٹک میں لپٹنے کے باعث محمود الہندی کی لاش جلد ہی تعفن زدہ ہونے لگی۔
خاندان نے اسے گھر کے نچلے حصے میں منتقل کیا اور دروازے کھڑکیوں کو مضبوطی سے بند کر دیا تاکہ بو باہر نہ پھیلے۔ یہ خاندان 3 دن تک اپنے پیارے کی لاش کے ساتھ ایک ہی گھر میں محصور رہا۔
انسانی المیہ اور بے بسی کی انتہا
مارچ 2024 کے اختتام پر جب اسرائیلی فوج ان علاقوں سے پیچھے ہٹی تو یہ خاندان اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرنے کے قابل ہوئے۔
سائدہ اور محمود کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، جس کا اثر ان کی روح پر ہمیشہ رہے گا۔
بعد أن غيّب الاحتلال هوياتهم وطمس ملامحهم.. طواقم الدفاع المدني تنتشل جثامين شهداء مجهولي الهوية لدفنهم في مقبرة جماعية بجوار مقبرة الشيخ رضوان بمدينة غزة#ألبوم pic.twitter.com/X8KQGX0oXp
— الجزيرة فلسطين (@AJA_Palestine) June 23, 2026
یہ واقعات غزہ میں جاری جنگ کی ہولناکیوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، جہاں نہ صرف زندہ انسان بلکہ شہدا کی لاشیں بھی محفوظ نہیں۔
عالمی برادری کی خاموشی اور امدادی راستوں کی بندش نے غزہ کے شہریوں کو ایسے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں تدفین کا بنیادی حق بھی ایک بڑی جدوجہد بن چکا ہے۔