براہ راست نشریات

آر سی ڈی سے مکہ معاہدے تک: علاقائی تعاون کا نیا سفر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Defence Cooperation
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

پاکستان، ایران اور ترکیہ نے 1964ء میں آر سی ڈی کے ذریعے علاقائی ترقی، تجارت اور مواصلاتی روابط کا خواب دیکھا تھا۔
62 برس بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی سلامتی کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔
یہ معاہدہ خطے میں نئی تزویراتی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن آر سی ڈی کی تاریخ بتاتی ہے کہ صرف اعلانات کافی نہیں، کامیابی کے لیے مضبوط ادارے، وسائل اور مستقل سیاسی ارادہ ناگزیر ہیں۔

وقت اقوام کا ایک سخت گیر استاد ہے۔ 

یہ اتحادوں کی ہیئت بدل دیتا ہے، قومی ترجیحات کو نئی سمت عطا کرتا ہے اور بار بار اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ جغرافیہ اسی وقت تقدیر بنتا ہے، جب سیاسی بصیرت اسے بروئے کار لانے کا ہنر جانتی ہو۔ 

ممالک نظریات، وسائل اور عزائم میں ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر تاریخ انہیں بارہا ایک ہی نتیجے تک پہنچاتی ہے: 

ایک غیر یقینی دنیا میں سلامتی اور خوش حالی تنہائی میں حاصل نہیں کی جا سکتیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL ANALYSIS ماضی کی شاہراہ، مستقبل کا حصار — اہم نکات
  • 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکیہ نے اقتصادی، فنی اور سماجی تعاون کے لیے آر سی ڈی قائم کی۔
  • آر سی ڈی فوجی اتحاد نہیں تھا؛ اس کا مقصد جغرافیائی قربت کو تجارت، صنعت، مواصلات اور ترقی میں تبدیل کرنا تھا۔
  • 7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
  • ! معاہدہ مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، بحری سلامتی، سائبر دفاع اور دفاعی پیداوار کی بنیاد بن سکتا ہے۔
  • ؟ اصل امتحان دستخط نہیں بلکہ مضبوط ادارے، مستقل وسائل، عملی اقدامات اور سیاسی عزم ہوں گے۔
overseaspost.net

آج سے 62 برس قبل پاکستان، ایران اور ترکیہ کو بھی اسی نوعیت کے ایک سوال کا سامنا تھا۔ جولائی 1964ء میں مرکزی معاہدہ تنظیم (سینٹو) کے 3 علاقائی ارکان نے استنبول معاہدے کے ذریعے علاقائی تعاون برائے ترقی، یعنی آر سی ڈی، قائم کیا۔ 

سینٹو کے برعکس آر سی ڈی کا تصور کسی فوجی اتحاد کے طور پر نہیں کیا گیا تھا۔ 

اس کا بنیادی مقصد اقتصادی، فنی اور سماجی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

مزید پڑھیں

اس تنظیم کے ذریعے جغرافیائی قربت کو تجارتی مواقع اور سیاسی مفاہمت کو عملی ترقی میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔ 

تینوں ممالک نے صنعت، تجارت، مواصلات اور ثقافت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھایا، جبکہ سفری سہولتوں اور ڈاک کے رابطوں کو بھی فروغ دیا گیا۔ 

پاکستان میں اس تعاون کی ایک دیرپا عملی یادگار آر سی ڈی ہائی وے

 تھی، جسے آج این-25 کہا جاتا ہے اور جو سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی ایک اہم شاہراہ کے طور پر اب بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

لیکن آر سی ڈی خواہش اور کامیابی کے درمیان موجود فاصلے کی ایک تاریخی مثال بھی بن گئی۔ 

مالی مشکلات، تحفظ پسندانہ پالیسیاں، انتظامی کمزوریاں اور قومی ترجیحات میں اختلافات نے اس کے عملی سفر کو سست کر دیا۔ 

یہ تنظیم وہ مضبوط ادارہ جاتی گہرائی پیدا نہ کر سکی جو حقیقی معاشی انضمام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ 

ایران میں 1979ء کی سیاسی ہلچل کے بعد اس کا سفر رک گیا۔

i OVERSEAS POST | FACT BOX آر سی ڈی سے مکہ معاہدے تک — فیکٹ باکس
آر سی ڈی کا قیام
جولائی 1964ء
بانی ممالک
پاکستان، ایران اور ترکیہ
بنیادی نوعیت
اقتصادی، فنی اور سماجی تعاون
آر سی ڈی کا تعطل
1979ء کے بعد
ای سی او کا قیام
1985ء
مکہ معاہدے کی تاریخ
7 اگست 2026ء
معاہدے کے فریق
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ
مرکزی دفاعی شق
کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا
overseaspost.net

تاہم آر سی ڈی کا بنیادی تصور زندہ رہا۔ 

1985ء میں پاکستان، ایران اور ترکیہ نے اسی سوچ کو اقتصادی تعاون تنظیم ’ای سی او‘ کے ذریعے نئی زندگی دی، جس میں بعد ازاں وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کو بھی شامل کیا گیا۔ 

آر سی ڈی کی تاریخ کا ایک دلچسپ تضاد یہی ہے کہ اس کا ادارہ جاتی سفر اگرچہ محدود رہا، لیکن اس کا تزویراتی تصور اپنے زمانے سے کہیں آگے تھا۔

آج خطہ ایک مرتبہ پھر مشترکہ مفادات کو اجتماعی قوت میں ڈھالنے کی نئی کوشش کا مشاہدہ کر رہا ہے، لیکن اس بار اس کوشش کا محور بنیادی طور پر سلامتی ہے۔ 

7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

غیر معمولی علاقائی بے یقینی کے ماحول میں مکہ مکرمہ میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد اجتماعی بازدارندگی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ 

تینوں حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ یہ انتظام دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSIS پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

مکہ معاہدہ پاکستان کو دو بااثر علاقائی ممالک کے ساتھ سلامتی، معیشت اور دفاعی ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے:

تزویراتی گہرائی پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مضبوط علاقائی سلامتی کی شراکت داری میسر آتی ہے۔
دفاعی ٹیکنالوجی ترکیہ کی دفاعی صنعت اور پاکستان کا عسکری تجربہ مشترکہ پیداوار اور تحقیق کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
معاشی امکانات سعودی معاشی قوت دفاعی تعاون کو سرمایہ کاری، توانائی، صنعت اور تجارت تک وسعت دے سکتی ہے۔
بنیادی نکتہ: کوئی دفاعی معاہدہ معاشی استحکام کا متبادل نہیں۔ پاکستان کو اس شراکت داری کو ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی تعاون اور باہمی تجارت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
overseaspost.net

یہ معاہدہ کسی خلا میں وجود میں نہیں آیا۔ 

پاکستان اور سعودی عرب ستمبر 2025ء میں پہلے ہی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کر چکے تھے۔ 

چنانچہ مکہ معاہدہ ایک موجودہ دفاعی رشتے کو مزید وسیع اور مستحکم کرتا ہے۔

ترکیہ خطے کی ایک مؤثر عسکری قوت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ 

سعودی عرب اپنی معاشی قوت، تزویراتی جغرافیے اور دفاعی پیداوار کو مقامی بنانے کے پُرعزم پروگرام کے باعث ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

پاکستان کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربے، دفاعی صنعتی صلاحیت اور مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہونے کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔ 

یوں تینوں ممالک مل کر عسکری استعداد، معاشی قوت اور تکنیکی صلاحیت کا ایک منفرد امتزاج تشکیل دیتے ہیں۔

اگر اس تعاون کو دانش مندی کے ساتھ ادارہ جاتی شکل دی جائے تو یہ محض علامتی اظہار سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔ 

مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس کا تبادلہ، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، سائبر دفاع، دفاعی پیداوار اور تکنیکی تحقیق و ترقی بتدریج ایک فعال علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو جنم دے سکتے ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟

مصدقہ نکات

  • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
  • کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
  • فریقین کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
  • اس کا مقصد مشترکہ بازدارندگی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

ابھی واضح نہیں

  • مشترکہ کمان، مستقل سیکریٹریٹ یا ادارہ جاتی ڈھانچے کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی۔
  • مشترکہ مشقوں، دفاعی پیداوار اور انٹیلی جنس تعاون کے عملی نظام الاوقات واضح نہیں۔
  • معاہدے کے کسی جوہری پہلو کی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
  • سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اس کے اثرات عملی اقدامات کے بعد واضح ہوں گے۔

اہم احتیاط: معاہدے کی سرکاری شقوں اور اس کے ممکنہ تزویراتی اثرات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

overseaspost.net

یہی امتیاز بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ 

آر سی ڈی کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ادارے کمزور ہوں تو معاہدے بھی وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں۔ 

مکہ معاہدہ بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ 

اس کا مستقبل اس کے اعلان کی شان و شوکت سے نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد کی سنجیدگی سے متعین ہوگا۔

پاکستان کے لیے اس انتظام کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ 

اسلام آباد کو دو ایسے ممالک کے ساتھ مضبوط علاقائی سلامتی کی شراکت داری میسر آتی ہے جو سفارتی، معاشی اور عسکری اعتبار سے غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ 

سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، جبکہ ترکیہ ایک قابلِ اعتماد دفاعی اور تکنیکی شریک کے طور پر ابھرا ہے۔ 

دونوں کے ساتھ تعلقات کا یہ امتزاج ایک ایسے بین الاقوامی نظام میں پاکستان کو زیادہ تزویراتی گہرائی فراہم کرتا ہے جو مسلسل انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔

تاہم پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعتماد کے ساتھ تدبر کا دامن بھی تھامے رکھنا ہوگا۔ 

کوئی دفاعی معاہدہ معاشی قوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ 

پائیدار قومی طاقت کی بنیاد معاشی استحکام، تکنیکی ترقی، سیاسی تسلسل اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔

اس لیے پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس تعلق کو محض دفاعی تعاون تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، توانائی کے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READ ایک منٹ میں پوری کہانی

1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکیہ نے آر سی ڈی کے ذریعے تجارت، صنعت، مواصلات اور علاقائی ترقی کو فروغ دینے کا خواب دیکھا تھا۔

باسٹھ برس بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے علاقائی تعاون کو اجتماعی سلامتی کی نئی سمت دی ہے۔

یہ معاہدہ ایک پائیدار علاقائی دفاعی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، مگر کامیابی کا فیصلہ دستخط نہیں بلکہ مضبوط ادارے، مشترکہ صلاحیتیں، وسائل اور سیاسی عزم کریں گے۔

overseaspost.net

اس کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی موجود ہے: 

کہیں بیرونی قوتیں اس معاہدے کی تعبیر اپنے مفادات کے مطابق نہ کرنے لگیں۔ 

بعض حلقے اسے ایران کے خلاف کسی فرقہ وارانہ اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں، کچھ اسے مغرب مخالف بندوبست قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اس میں پوشیدہ جوہری پہلو تلاش کر رہے ہیں۔ 

بھارت اور اسرائیل میں بھی اس سہ فریقی مفاہمت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم ایسے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ 

معاہدے کے فریقین فرقہ وارانہ یا جوہری اتحاد کے تاثر کو مسترد کر چکے ہیں اور اسے دفاعی نوعیت کا قرار دے چکے ہیں۔ 

یہ مغرب سے لاتعلقی کا اعلان بھی نہیں، کیونکہ تینوں ممالک کے مغربی دنیا کے ساتھ اہم تعلقات بدستور قائم ہیں۔

زیادہ درست تعبیر شاید ’تزویراتی تنوع‘ ہے—یعنی علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ایک بیرونی ضامن پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی داخلی اور باہمی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔

آر سی ڈی کے دور سے آج تک کی سب سے اہم تبدیلی شاید یہی ہے۔ 

1964ء میں علاقائی تعاون کی زبان ترقی کی زبان تھی: سڑکیں، تجارت، صنعت اور ثقافت۔ 2026ء میں اس لغت کے الفاظ بدل چکے ہیں: 

بازدارندگی، بحری سلامتی، دہشت گردی، تکنیکی جنگ، توانائی کا تحفظ اور تزویراتی خودمختاری۔ 

مگر اس بدلتی ہوئی زبان کے نیچے ایک ہی بنیادی خیال اپنی جگہ موجود ہے: 

علاقائی ممالک مشترکہ مفادات کو مشترکہ قوت میں تبدیل کریں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اگر موجودہ انتظامات مستقل ادارہ جاتی نظام، مشترکہ صلاحیتوں اور مسلسل سیاسی عزم میں ڈھل گئے تو مکہ معاہدہ زیادہ خودمختار علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے محض دستخط کافی نہیں ہوں گے۔ 

معاہدے کو زندہ رکھنے کے لیے ادارے، وسائل، باقاعدگی اور سیاسی ارادہ درکار ہوگا۔

پاکستان کو اس لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، مگر اپنی وسیع تر علاقائی ذمہ داریوں کو نگاہ سے اوجھل کیے بغیر۔ 

سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔

تاریخ عین اسی صورت میں خود کو نہیں دہراتی، مگر اپنی بازگشت ضرور سناتی ہے۔ 

آر سی ڈی نے علاقائی ترقی کا خواب دیکھا تھا، جبکہ مکہ معاہدہ علاقائی سلامتی کی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ 

ایک نے سرحدوں کے آرپار سڑکیں تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی، دوسرا سرحدوں کے آرپار دفاعی حصار قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ 

ایک سیاسی عزم اور ادارہ جاتی صلاحیت کی کمزوری کے باعث اپنے امکانات کو مکمل نہ کر سکا؛ دوسرے کو بھی اسی امتحان سے گزرنا ہوگا۔

ہم سے جڑے رہیں

مکہ مکرمہ میں ہونے والے یہ دستخط کسی کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ اس کے پہلے جملے ہیں۔ 

یہ جملہ ایک اور مختصر المدت انتظام ثابت ہوگا یا ایک پائیدار علاقائی نظم کی بنیاد بنے گا، اس کا فیصلہ اس امر سے ہوگا کہ تقریب کے اختتام کے بعد یہ تینوں ممالک کیا کرتے ہیں—جب تاریخ ان سے نتائج کا تقاضا شروع کرے گی۔

اقوام کے لیے بھی، انسانوں کی طرح، کسی وعدے کی اصل قدر اس لمحے میں نہیں ہوتی جب وہ زبان پر آتا یا کاغذ پر ثبت ہوتا ہے، اس کی حقیقی قدر ان برسوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں اسے نبھایا جاتا ہے۔

وعدہ دستخط سے نہیں، وفا سے تاریخ بنتا ہے۔