براہ راست نشریات

جب قلعے چراغ بنتے ہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسلامی دنیا میں پاکستان کا کردار

پاکستان کا سفر، اسلامی دنیا میں دفاعی و سفارتی کردار اور قومی قوت کے ذریعے امن، اتحاد و امید کا خواب

Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

پاکستان محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی، روحانی اور قومی جدوجہد کا ثمر ہے۔
قیامِ پاکستان سے 1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری تک، ملک نے اسلامی دنیا میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تاہم حقیقی قوت صرف مضبوط دفاع نہیں بلکہ مستحکم معیشت، علم، انصاف اور قومی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
جب طاقت خدمت اور دفاع امن کا ذریعہ بن جائے تو قلعے چراغ بن جاتے ہیں۔

پاکستان ایک ایسے زندہ نظریئے کا مظہر ہے جس کی بنیاد محض سیاست، جغرافیے یا اقتدار کی کشمکش پر نہیں بلکہ ایمان، روحانیت اور ایک عظیم فکری یقین پر استوار ہے۔ 

قیامِ پاکستان کی جد و جہد کے دوران جس نعرے نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا، وہ نہایت سادہ مگر غیرمعمولی معنویت کا حامل تھا: ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘۔

اسی عقیدۂ توحید کے پرچم تلے 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مسلم ریاست وجود میں آئی۔ 

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت افروز قیادت اور علامہ محمد اقبالؒ کے حکیمانہ افکار نے اس مملکت کی نظریاتی اور سیاسی بنیادیں استوار کیں۔ 

یہ محض ایک خطۂ زمین کا حصول یا سیاسی کامیابی نہ تھی بلکہ اسلامی عدل، خودمختاری، مساوات اور قومی اتحاد پر مبنی ایک منفرد اجتماعی تشخص کی تعبیر تھی۔

مزید پڑھیں

تاہم آزادی کی صبح طلوع ہوتے ہی اس نومولود مملکت کو آزمائشوں کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 

معاشی بدحالی، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، وسائل کی شدید قلت، انتظامی مشکلات اور بیرونی دنیا کی شکوک بھری نگاہیں ہر سمت موجود تھیں۔ 

بہت سے مبصرین پیش گوئی کر رہے تھے کہ یہ ریاست زیادہ عرصہ قائم

 نہ رہ سکے گی اور جلد ہی تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گی۔

مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پاکستان تلاطم خیز سمندر میں سینہ سپر ایک مضبوط کشتی کی مانند ہر طوفان سے نبرد آزما ہوا۔ 

اس کے عوام نے قربانی، صبر، استقامت اور ایمان کی قوت سے مشکلات کا سامنا کیا اور وطن کو استحکام کی جانب لے جانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 

تاریخ کے مختلف ادوار میں بحران آتے رہے، قومی سفر میں لغزشیں بھی ہوئیں، لیکن پاکستان نے ہر مرتبہ اپنی بقا، صلاحیت اور اجتماعی قوت کو ثابت کیا۔

چار اہم نکات
  • پاکستان کی بنیاد ایمان، خودمختاری اور اسلامی عدل کے تصور پر رکھی گئی۔
  • 1974ء کی لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس نے پاکستان کا سفارتی مقام بلند کیا۔
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے دیرینہ شراکت داری کو نئی بنیاد فراہم کی۔
  • مضبوط دفاع کے ساتھ معیشت، علم، انصاف اور قومی اتحاد بھی ناگزیر ہیں۔

قیامِ پاکستان کے تقریباً 27 برس بعد فروری 1974ء میں لاہور ایک ایسے تاریخی اجتماع کا میزبان بنا جس نے امتِ مسلمہ کی جدید تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ 

دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں 3 درجن سے زائد مسلم ممالک کے قائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ 

سعودی عرب کے شاہ فیصل، مصر کے صدر انور السادات، لیبیا کے رہنما معمر قذافی اور اسلامی دنیا کی متعدد دوسری اہم شخصیات اس موقع پر لاہور میں جمع ہوئیں۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس نے بکھری ہوئی امنگوں کو اجتماعی قوت میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ 

امتِ مسلمہ کی منتشر انگلیاں ایک مضبوط مٹھی کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیں۔ 

اجلاس میں 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال، فلسطینی عوام کے حقوق، مقبوضہ بیت المقدس اور عرب دنیا کی حمایت سمیت متعدد اہم امور پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔ 

اس تاریخی اجتماع نے پاکستان کو اسلامی دنیا کے درمیان ایک مضبوط سفارتی پل کے طور پر نمایاں کیا اور 1971ء کے سانحے کے بعد قوم کو نئی امید اور اعتماد عطا کیا۔

💡 یہ کیوں اہم ہے؟

مضمون یاد دلاتا ہے کہ کسی ملک کی حقیقی طاقت صرف ہتھیاروں اور فوجی استعداد میں نہیں ہوتی۔ مضبوط معیشت، علم، انصاف، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد ہی دفاعی قوت کو دیرپا قومی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ اپنی قوت کو امن، مصالحت اور اسلامی دنیا کے اجتماعی مفاد کا ذریعہ بنائے۔

پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں عالمی امن، علاقائی استحکام اور اسلامی دنیا کے اجتماعی مفادات کے لیے اہم مواقع پر کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

اسی بنا پر اسے اکثر ’قلعۂ اسلام‘ کہا جاتا ہے۔ 

خصوصاً حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو پاکستانی قوم ہمیشہ مذہبی عقیدت اور قومی ذمہ داری کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔

کئی دہائیوں سے پاکستانی افواج سعودی عرب میں تربیتی، مشاورتی اور دفاعی ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہیں۔ 

مختلف ادوار، بالخصوص 1990-91ء کی خلیجی جنگ کے دوران، پاکستانی فوجی اہلکاروں نے سعودی عرب کی سلامتی میں معاون کردار ادا کیا۔ 

یہ تعلق محض روایتی دفاعی حکمتِ عملی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی اور عوامی وابستگی کی گہری بنیادوں سے قوت حاصل کرتا ہے۔

پاکستان کے مخالفین، بالخصوص ہمسایہ بھارت، مختلف ادوار میں اسے ایک کمزور یا ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ 

اس کے باوجود پاکستان نے ہر بڑی آزمائش میں اپنی قومی قوت اور دفاعی استعداد کا مظاہرہ کیا۔ مئی 2025ء کی پاکستان بھارت کشیدگی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔ 

ایک منٹ میں کہانی

پاکستان ایک نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور شدید ابتدائی مشکلات کے باوجود قائم رہا۔ 1974ء کی لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس نے اسے مسلم دنیا کے اہم سفارتی مرکز کے طور پر نمایاں کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعاون نے اس کردار کو مزید مضبوط بنایا۔ اب پاکستان کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی قوت، جغرافیائی اہمیت اور سفارتی روابط کو امن، خوش حالی اور اسلامی اتحاد کے لیے کس طرح استعمال کرتا ہے۔

اس مختصر مگر شدید تصادم میں دونوں ممالک نے کامیابی کے متضاد دعوے کئے، تاہم آزاد تجزیوں نے پاکستانی فضائی کارروائیوں اور بھارتی طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات کو اہم عسکری پیش رفت قرار دیا۔ 

ساتھ ہی دونوں جانب ہونے والے جانی و مادی نقصانات نے یہ حقیقت بھی نمایاں کی کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان امن، تحمل اور ذمہ دارانہ سفارت کاری ناگزیر ہے۔

اسی تاریخی تسلسل میں 17 ستمبر 2025ء کو ریاض میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا۔ 

اس معاہدے نے دونوں برادر ممالک کی دیرینہ دفاعی شراکت داری کو زیادہ واضح اور باضابطہ شکل دے دی۔ 

معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاع، عسکری تربیت، مشترکہ منصوبہ بندی اور تزویراتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

یہ معاہدہ محض ایک دفاعی دستاویز نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مشترکہ سلامتی اور خطے میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا اظہار بھی ہے۔ 

تاہم اس کے تحت فوجی اہلکاروں، طیاروں یا دوسرے دفاعی وسائل کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق تمام تفصیلات سرکاری طور پر منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ 

اس لیے معاہدے کی اصل اہمیت اس کے بنیادی اصول، یعنی مشترکہ دفاع اور تزویراتی یکجہتی، میں مضمر ہے۔

مرکزی پیغام
جب قوت خدمت میں، دفاع امن میں اور ایمان عمل میں ڈھل جائے تو قلعے محض سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتے—وہ قوموں اور نسلوں کے لیے روشنی کے چراغ بن جاتے ہیں۔

پاکستان کی اہمیت صرف اس کی عسکری صلاحیت تک محدود نہیں۔ 

خلیج اور وسیع تر اسلامی دنیا میں اس کے متوازن سفارتی تعلقات اسے تنازعات کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ 

ترکی کے ساتھ دفاعی، تجارتی اور تکنیکی تعاون میں وسعت، سعودی عرب کے ساتھ نئی دفاعی شراکت داری اور خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اسی وسیع تر علاقائی کردار کی نشان دہی کرتے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی بڑی مستقل افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ جدید لڑاکا طیاروں، میزائل نظام، پیشہ ورانہ تربیت اور مؤثر جوہری صلاحیت نے ملک کو ایک نمایاں دفاعی قوت بنایا ہے۔ 

تاہم حقیقی قوت صرف ہتھیاروں یا فوجی تعداد سے پیدا نہیں ہوتی، اس کے لیے مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، سائنسی ترقی، تعلیم، قومی یکجہتی اور مؤثر خارجہ پالیسی بھی ناگزیر ہیں۔ 

مضبوط دفاع اسی وقت دیرپا قومی طاقت بن سکتا ہے جب اسے معاشی خودکفالت اور داخلی استحکام کی بنیاد حاصل ہو۔

مستقبل کی طرف نگاہ ڈالیں تو پاکستان کا وژن امید، اتحاد اور خیرخواہی سے عبارت دکھائی دیتا ہے۔ 

وہ دن شاید زیادہ دور نہ ہو جب باہمی احترام، مشترکہ اسلامی اقدار اور اخوت کی بنیاد پر مسلم ممالک کے درمیان ایسا مؤثر اتحاد وجود میں آئے جو یورپی یونین یا نیٹو کی بعض کامیاب تنظیمی مثالوں سے رہنمائی تو حاصل کرے، مگر اپنی روح اور بنیاد میں اسلامی اصولوں، عدل اور باہمی احترام پر قائم ہو۔

خلاصہ

پاکستان محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ نظریاتی، روحانی اور قومی جدوجہد کا ثمر ہے۔ قیامِ پاکستان سے 1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری تک، ملک نے اسلامی دنیا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تاہم حقیقی قوت مضبوط دفاع کے ساتھ مستحکم معیشت، علم، انصاف اور قومی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔

بلاشبہ اس راہ میں تاریخی اختلافات، علاقائی رقابتیں، بیرونی مداخلت، معاشی تفاوت اور سیاسی عدم اعتماد جیسے بڑے چیلنج موجود ہیں۔ 

محض جذباتی نعروں سے ان رکاوٹوں کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔ 

اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے مشترکہ منڈی، دفاعی مشاورت، سائنسی و تکنیکی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے مضبوط اداروں کی ضرورت ہوگی۔

اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، دفاعی صلاحیت اور جنوبی ایشیا سے خلیج، وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پھیلے ہوئے سفارتی روابط کی بدولت پاکستان اس تصور کی تکمیل میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ 

اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر معاشی تعاون کے فروغ، فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل پر انصاف پر مبنی امن کی وکالت اور مسلم ممالک کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں پاکستان کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

پاکستان کا سفر، اپنے نظریاتی وجود سے لے کر موجودہ قومی احیا تک، اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ ایمان، عزم، قربانی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 

آج پاکستان صرف اپنے 25 کروڑ عوام کی امیدوں کا امین نہیں بلکہ ان لاکھوں مسلمانوں کی آرزوؤں کا بھی مرکز ہے جو اس کی استقامت میں پوری امت کے لیے امید کی روشن کرن دیکھتے ہیں۔

مگر ایک قلعے کی عظمت صرف اس کی مضبوط دیواروں میں نہیں ہوتی۔ 

اس کی حقیقی عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ کمزوروں کو پناہ دے، مظلوموں کے لیے آواز اٹھائے، اختلاف رکھنے والوں کے درمیان پل بنائے اور تاریکی میں راستہ دکھانے والا چراغ بن جائے۔ 

پاکستان اگر اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے، قومی اتحاد، عدل، علم اور ثابت قدمی کے راستے پر گامزن رہا تو وہ اسلامی دنیا میں امن، استحکام، خوش حالی اور اخوت کے فروغ میں کہیں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔

مستقبل آزمائشوں اور مواقع دونوں کا امتزاج ہے۔ 

پاکستان کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی نظریاتی بنیادوں کو جدید دنیا کے تقاضوں، مضبوط معیشت، علمی ترقی اور منصفانہ حکمرانی سے ہم آہنگ کرے۔ 

جب قوت خدمت میں، دفاع امن میں اور ایمان عمل میں ڈھل جائے تو قلعے محض سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتے—وہ قوموں اور نسلوں کے لیے روشنی کے چراغ بن جاتے ہیں۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے