براہ راست نشریات

پاکستان کا دفاع: تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Defence of Pakistan
Picture of محمد محسن اقبال

محمد محسن اقبال

اسلام آباد

اسلام رحمت، عدل، اعتدال اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے۔
تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں جائز ریاستی نظم کے خلاف مسلح بغاوت فتنہ و فساد ہے۔
پاکستان کے امن، وحدت اور استحکام کا دفاع محض قومی تقاضا نہیں بلکہ ایک اہم دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

OVERSEAS POST | چراغِ طور

اسلام کے طلوع سے قبل انسانیت کی تاریخ ایک ایسے دور سے گزر رہی تھی جس پر فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور سماجی بے ترتیبی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ 

اخلاقی اقدار کی جستجو، بنیادی انسانی حقوق کا اعتراف، معاشرتی مساوات کا قیام اور عدل و انصاف کا نفاذ محض منتشر تصورات تھے، جنہیں ظلم، قبائلی عصبیت اور بے لگام خواہشات نے پامال کر رکھا تھا۔ 

ایسے تاریک ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے قرآنِ مجید نازل فرمایا، جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں روشنی، توازن اور نظم عطا کیا۔ 

پھر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے اپنی مبارک سیرت، پاکیزہ کردار اور تعلیمات کے ذریعے ان آسمانی احکام کو عملی زندگی میں ڈھال کر قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک کامل نمونہ پیش فرمایا۔

مزید پڑھیں

وقت گزرنے کے ساتھ مسلم معاشروں کو نئے حالات، پیچیدہ مسائل اور مختلف آزمائشوں کا سامنا ہوا، مگر ان کا حل کبھی وحی سے ہٹ کر ایجاد نہیں کیا گیا۔ 

ائمۂ ہدایت اور اکابر علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے ہر نئے مسئلے کی رہنمائی فراہم کی، اور ان کی تمام آراء و فتاویٰ ہمیشہ کتاب و سنت کے تابع رہے۔ اسی علمی و فقہی روایت 

میں اسلامی ریاست کے تقاضے، حکومت کے فرائض، عوامی فلاح، معاشرتی نظم، جہاد کے اصول، جنگ کے آداب اور اس کی اخلاقی حدود کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا، تاکہ مسلمان امن کے زمانے میں بھی اللہ کی ہدایت پر چلیں اور آزمائش کے وقت بھی شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کریں۔

اہم نکات +
  • اسلام ریاستی نظم، عدل، اعتدال اور انسانی جان کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔
  • جائز ریاستی اقتدار کے خلاف مسلح بغاوت کو اسلامی علمی روایت میں فتنہ و فساد قرار دیا گیا ہے۔
  • اختلافات کے حل کے لیے عدالت، مکالمہ، اہلِ علم سے رہنمائی اور آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
  • دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہوں کا قتل قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہیں۔
  • سیرتِ نبویؐ رحمت، عدل، اعتدال اور عفو و درگزر کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔
  • قومی سلامتی کے اداروں کی معاونت پاکستان کے امن اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
  • ریاستی اصلاح اور احتساب کی جدوجہد تشدد کے بجائے جمہوری اور قانونی طریقوں سے ہونی چاہیے۔
  • پاکستان کی ترقی قومی وحدت، قانون کی پاسداری اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق سے وابستہ ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے موجودہ دور میں بعض گمراہ عناصر نے اسلام کے مقدس نام کو ان اعمال کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں قرآن و سنت صریحاً مسترد کرتے ہیں۔ 

ان ممنوعہ روشوں میں سب سے نمایاں خروج یعنی جائز ریاستی اقتدار کے خلاف مسلح بغاوت ہے۔ 

14 صدیوں سے امت کے جلیل القدر علماء اس امر پر متفق ہیں کہ ایسا اقدام فتنہ، فساد اور کبیرہ گناہ ہے۔ 

پاکستان میں انتہا پسند گروہ اسی اجماعی موقف کو مسخ کرکے اپنی دہشت گردی اور مسلح شورش کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک قائم شدہ اسلامی ریاست کی جائز اتھارٹی کی اطاعت ہر مسلمان شہری پر شرعی ذمہ داری ہے۔

قرآنِ مجید نہایت واضح انداز میں ارشاد فرماتا ہے: 

اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔

اس آیت کی کسی معتبر تفسیر میں پاکستان جیسے آئینی و قانونی نظام کے خلاف مسلح بغاوت کی اجازت نہیں دی گئی۔ 

رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جماعتِ مسلمین سے ایک بالشت بھی الگ ہو کر مر جائے، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ 

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، جن کے اقوال کو شدت پسند اکثر سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں، درحقیقت اس بات کے قائل تھے کہ ناقص حکمران کے تحت استحکام، فتنہ و انتشار سے کہیں بہتر ہے، اور انہوں نے بغاوت کو سختی سے رد کیا۔ 

اسی طرح امام نوویؒ اور امام غزالیؒ نے بھی واضح فرمایا کہ بغاوت کا علاج اس ظلم سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے جسے ختم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ 

فیکٹ باکس +
موضوع پاکستان کا دفاع اور تعلیماتِ نبویؐ
بنیادی ماخذ قرآنِ مجید، سنتِ نبویؐ اور اسلامی علمی روایت
مرکزی تصور ریاستی نظم کی حفاظت، امن کا قیام اور فتنہ و فساد کی روک تھام
قرآنی اصول اللہ، رسولؐ اور صاحبانِ امر کی اطاعت
اسلامی طرزِ اصلاح حکمت، دلیل، مشاورت اور قانونی چارہ جوئی
ممنوعہ طرزِ عمل دہشت گردی، مسلح بغاوت اور بے گناہوں کا قتل
ریاست کی ذمہ داری شہریوں کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ
شہری ذمہ داری قانون کی پاسداری، قومی وحدت اور امن کے قیام میں تعاون
نبویؐ نمونہ رحمت، اعتدال، عدل، رواداری اور عفو و درگزر
پاکستان کے لیے پیغام اختلافات کے باوجود ریاستی استحکام اور اجتماعی امن کا تحفظ

نبی کریمﷺ نے عادل قیادت کو ایسی ڈھال قرار دیا جس کے پیچھے لوگ محفوظ رہتے ہیں۔ آج پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں، لہٰذا ان کی معاونت محض قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم دینی ذمہ داری بھی ہے۔

قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ شکایات اور اختلافات کا حل قانونی اور پرامن ذرائع سے تلاش کیا جائے؛ عدالتوں سے رجوع کیا جائے، اہلِ علم سے رہنمائی لی جائے اور دلیل و حکمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی جائے، نہ کہ تلوار اور تشدد کے ذریعے۔ 

حتیٰ کہ ظلم کے حالات میں بھی رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ وہ حکمرانوں کے حقوق ادا کریں اور اپنے حقوق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ 

امام احمد بن حنبلؒ کی زندگی اس صبر و استقامت کی روشن مثال ہے کہ شدید ظلم، قید و بند اور آزمائشوں کے باوجود انہوں نے کبھی بغاوت کی دعوت نہیں دی۔ 

پاکستان کا آئین، جو اسلامی اصولِ عدل اور شوریٰ سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، احتساب، اصلاح اور قانونی چارہ جوئی کے متعدد راستے فراہم کرتا ہے۔ 

اس لیے جمہوری عمل میں حصہ لینا اور آئینی طریقوں سے اصلاح کی جدوجہد کرنا ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق قومی ترقی کا صحیح راستہ ہے۔

اس پورے تصور کی روح رسول اللہﷺ کی سیرتِ طیبہ ہے، جو اعتدال، رحمت اور توازن کا کامل نمونہ ہے۔ 

آپﷺ نے فرمایا: مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔

اس ارشاد نے واضح کر دیا کہ آپؐ کی بعثت خونریزی، جبر اور غلبے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت پر رحمت، ہدایت اور خیر کے لیے تھی۔ 

یہ کیوں اہم ہے؟ +

دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ مذہبی تصورات کی من مانی تشریح کے ذریعے تشدد اور مسلح بغاوت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام کا حقیقی پیغام خونریزی اور خوف نہیں بلکہ عدل، رحمت اور انسانی جان کا تحفظ ہے۔

پاکستان کو درپیش دہشت گردی صرف سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی چیلنج بھی ہے۔ اس کا مقابلہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ درست مذہبی آگاہی، مؤثر قانونی نظام اور قومی اتحاد سے کرنا ضروری ہے۔

تعلیماتِ نبویؐ شہریوں کو اختلاف کے باوجود قانون کی پاسداری اور اصلاح کے پرامن راستے اختیار کرنے کی رہنمائی دیتی ہیں۔ یہی طرزِ فکر پاکستان کو انتشار سے محفوظ اور امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔

فتح مکہ کے تاریخی موقع پر آپﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کرتے ہوئے فرمایا: آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ 

یہ عظیم الشان عفو و درگزر ہی سنتِ نبویؐ کا حقیقی چہرہ ہے، جس کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہوں کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

قرآنِ مجید امتِ مسلمہ کو ’امتِ وسط‘ قرار دیتا ہے، یعنی اعتدال، انصاف اور توازن کی حامل امت۔ 

رسول اکرمﷺ نے اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو مکمل تحفظ فراہم کیا، یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی معاہد غیر مسلم پر ظلم کیا گیا تو قیامت کے دن میں خود اس کی طرف سے مدعی بنوں گا۔ 

آپﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اور عدل کا حکم دیا جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ نہ ہوں، دوسری اقوام کے بیماروں کی عیادت فرمائی، مخالفین سے نرم لہجے میں گفتگو کی، اور جہاں عزت و وقار کے ساتھ امن ممکن تھا وہاں ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ 

آپﷺ کا فرمان تھا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔ 

اسی لیے اسلام ہر اس شدت پسندی کو مسترد کرتا ہے جو معاشرے کو نفرت، خوف اور تشدد کی آگ میں جھونک دے۔ 

آپﷺ نے میدانِ جنگ سے واپسی پر یہ بھی تعلیم دی کہ سب سے بڑا جہاد انسان کا اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی مکمل طور پر جھٹلا دیتی ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

پاکستان کی بنیاد بھی انہی نبوی اصولوں پر رکھی گئی تھی، جن کی اساس عدل، رواداری، باہمی احترام اور سب شہریوں کے مساوی حقوق پر قائم ہے۔ 

جب پاکستانی عوام ان عناصر کے خلاف اپنی ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو ملک کے امن، وحدت اور استحکام کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں، تو وہ درحقیقت ایک ایسی خدمت انجام دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعثِ اجر ہے۔ 

قرآنِ مجید اہلِ صبر اور ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کی بشارت دیتا ہے۔ بغاوت اور فتنہ ہمیشہ انتشار، تباہی اور روحانی زوال کا سبب بنتے ہیں، جبکہ رسولِ اکرمﷺ کا راستہ رحمت، قانون کی پاسداری، تمام شہریوں کے لیے انصاف اور وطن کی فلاح کے لیے خلوصِ نیت سے جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔ 

یہی معتدل، متوازن اور اصول پسند طرزِ فکر پاکستان کی حقیقی ترقی، اس کے استحکام اور امتِ مسلمہ کی دائمی عزت و وقار کی ضمانت ہے۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

1 تبصرہ

  1. بہت شاندار۔ پاکستان اللہ کی نعمت ہے۔ وطن سب سے زیادہ عزیز ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی ہمارے وطن کی حفاظت فرمائے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے