قومی نصب العین اور اسلاف کے نقشِ قدم سے ہٹنے کی سزا ذلت و رسوائی کی صورت میں سامنے آتی ہے
اللہ بخش فریدی
فیصل آباد
قوموں کے عروج و زوال کا تعلق ان کے اجتماعی کردار سے ہوتا ہے۔
جب جھوٹ، ظلم، بداخلاقی، بے راہ روی اور دینی غفلت پورے معاشرے میں پھیل جائے تو اس کے نتائج بھی پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
امتِ مسلمہ کی موجودہ کمزوری کا علاج دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی انفرادی و اجتماعی اصلاح، اخلاقی تربیت اور اسوۂ رسولﷺ کی عملی پیروی میں پوشیدہ ہے۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج ہم دنیا میں جس ذلت و رسوائی، خواری و ناداری اور بے وقعتی کا شکار ہیں، وہ بڑی حد تک اپنے قومی نصب العین اور اسلاف کے راستے سے ہٹ جانے کا نتیجہ ہے۔
افراد کے اعمال کا مکمل حساب آخرت میں ہوگا، مگر قوموں اور امتوں کی گمراہی، بداعمالی اور اجتماعی انحراف کے نتائج اکثر اسی دنیا میں ظاہر ہوجاتے ہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف
قوموں کی اجتماعی بداعمالیوں کے نتائج بھی اجتماعی ہوتے ہیں۔
جب برائیاں چند افراد تک محدود رہنے کے بجائے پورے معاشرے کا مزاج بن جائیں تو پوری قوم ان کے اثرات بھگتتی ہے۔
اسی طرح امت کی تقدیر بھی اس وقت بدلتی ہے جب اس کے افراد اجتماعی طور پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اپنی عملی زندگی بدلنے کا عہد کریں۔
مزید پڑھیں
ہم میں سے ہر شخص کو سوچنا چاہیے کہ کہیں اس کا کردار رسول اللہﷺ کی امت کی بدنامی کا سبب تو نہیں بن رہا۔
ہم اکثر یہ کہہ کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں کہ سب لوگ یہی کررہے ہیں، میرے اکیلے کے رک جانے سے کیا فرق پڑے گا؟
حالاں کہ یہی انفرادی برائیاں مل کر اجتماعی گناہ بنتی ہیں اور پھر پوری امت کو ان کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
اگر امت کا ہر فرد یہ عہد کرلے کہ کم از کم اس کے قول و عمل سے اسلام پر کوئی داغ نہیں آئے گا، اس کی وجہ سے کسی انسان کا حق پامال نہیں ہوگا اور اس کے کردار سے امتِ محمدیہﷺ بدنام نہیں ہوگی تو اجتماعی اصلاح میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
قوموں کی تبدیلی ہمیشہ فرد کے باطن اور کردار سے شروع ہوتی ہے۔
قرآن مجید نے قوموں کے عروج و زوال کی جو تاریخ بیان کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قومیں دین سے دور، آخرت کے محاسبے سے بے نیاز اور اخلاقی ذمہ داریوں سے غافل ہوجاتی ہیں تو ان کے اندر تباہی کے اسباب پیدا ہونے لگتے ہیں۔
کوئی برائی بظاہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، جب وہ پورے معاشرے کا اجتماعی کردار بن جائے تو زوال کا راستہ کھل جاتا ہے۔
معاشرے میں فساد کسی ایک شعبے یا طبقے تک محدود نہیں رہتا۔
وہ سیاست، معیشت، تعلیم، مذہب، خاندان اور اجتماعی اخلاق سمیت زندگی کے ہر حصے کو متاثر کرتا ہے۔
اہم نکات ⌄
- قوموں کی اجتماعی بداعمالیوں کے نتائج اسی دنیا میں بھی سامنے آتے ہیں۔
- افراد کے گناہ جمع ہوکر پورے معاشرے کا اجتماعی کردار بن جاتے ہیں۔
- امت کی اجتماعی اصلاح کا آغاز ہر فرد کے ذاتی محاسبے سے ہوگا۔
- محراب و منبر کو کردار سازی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
- اسلام کی عظمت صرف تقریروں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے اخلاق و کردار سے ظاہر ہوگی۔
- مسلسل تنبیہات کے باوجود اصلاح نہ کی جائے تو قومیں قانونِ قدرت کی گرفت میں آجاتی ہیں۔
جب قوم کے سنجیدہ اور بااثر افراد بھی اصلاحِ احوال سے بے پروا ہوجائیں تو معاشرہ اپنی بربادی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہات آتی رہتی ہیں، لیکن جو قوم ان سے سبق نہ سیکھے، وہ بالآخر قانونِ قدرت کی گرفت میں آجاتی ہے۔ جب اصلاح کی تمام گنجائشیں ختم کردی جائیں تو پھر قہر کا کوڑا برسنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
آج اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو بے شمار خرافات، برائیاں اور بداخلاقیاں ہماری اجتماعی زندگی میں سرایت کرچکی ہیں۔
اللہ اور رسولﷺ کی تعلیمات سے غفلت، فضول مشاغل میں وقت کا ضیاع، بے مقصد تفریح، فحش گفتار اور بے راہ روی معمول بنتی جارہی ہے۔
دوسری طرف اصلاحِ معاشرہ کے لیے نہ سنجیدہ سوچ دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی مسلسل اجتماعی جدوجہد۔
ہماری منزل عظیم اور خوب صورت ہے، لیکن ہمارے اعمال سے محسوس نہیں ہوتا کہ ہم اس منزل کے حقیقی مسافر ہیں۔
دنیا مکافاتِ عمل کی جگہ ہے۔
انسان کا ہر جھوٹ، دھوکا، فریب، ظلم اور دوسروں کو دی جانے والی اذیت کسی نہ کسی شکل میں اس کے سامنے آتی ہے۔
اسی طرح رسول اللہﷺ کے طریقے سے انحراف اور امت کے اجتماعی مفاد سے بے نیازی کے نتائج بھی ہمیں بھگتنا پڑتے ہیں۔
مسلم دنیا کی موجودہ حالت ہمارے سامنے ہے۔
متعدد اسلامی ممالک جنگ، انتشار، بیرونی مداخلت، معاشی کمزوری اور سیاسی بے اختیاری کا شکار ہیں۔
یہ حالات صرف دوسروں کی سازشوں کا نتیجہ نہیں، ہمیں اپنی داخلی کمزوریوں، اخلاقی زوال، باہمی اختلافات اور اجتماعی غفلت کا بھی دیانت داری سے جائزہ لینا ہوگا۔
افسوس یہ ہے کہ اصلاحِ امت کی صدا محراب و منبر سے بھی پہلے جیسی قوت کے ساتھ سنائی نہیں دیتی۔
بہت سے وعظ اور خطابات فضائل، مقام و مرتبہ اور جذباتی بیانات تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، حالاں کہ علما انبیائے کرام کے وارث اور امت کے اخلاقی رہنما ہیں۔
ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں لوگوں کی عملی تربیت، کردار سازی اور رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ سے جوڑنا بھی شامل ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ مضمون یاد دلاتا ہے کہ کسی قوم کا زوال اچانک نہیں آتا۔ معمولی سمجھی جانے والی برائیاں جب اجتماعی عادت بن جائیں اور اصلاح کی ذمہ داری رکھنے والے افراد خاموش ہوجائیں تو پورا معاشرہ کمزوری، انتشار اور بے وقعتی کا شکار ہوجاتا ہے۔ حالات بدلنے کے لیے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ہر فرد کو اپنی اصلاح، کردار سازی اور اجتماعی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
محض پُرجوش تقریروں سے دنیا پر اسلام کی عظمت واضح نہیں ہوگی۔
ہمیں اپنے کردار سے رسول اللہﷺ کی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔
جب مسلمانوں کے اخلاق میں سچائی، دیانت، رحم، عدل، پاکیزگی، مساوات اور انسان دوستی دکھائی دے گی تو دنیا خود اسلام کی عظمت کو محسوس کرے گی۔
حضور اکرمﷺ کی شان بلند کرنے کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔
ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں زندہ کریں، آپﷺ کے اخلاق و اوصاف اپنائیں اور دنیا کو اپنے عمل سے اسلام کا روشن چہرہ دکھائیں۔
اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں، اپنی ذات سے ہوگا۔
اگر ہر شخص اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور امت کی عزت کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو اجتماعی تبدیلی آج ہی شروع ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر ہم تنبیہات کو مسلسل نظرانداز کرتے، اپنی غفلت پر قائم رہتے اور اصلاح کے تمام راستے خود بند کردیتے ہیں تو یاد رکھنا چاہیے:
جب اصلاح کی گنجائش باقی نہیں رہتی تو قہر ٹوٹتا ہے۔