براہ راست نشریات

دل کی پاکیزگی: اللہ تعالیٰ کا خاص انعام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دل کی پاکیزگی

ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جسے چاہے سیدھا اور جسے چاہے ٹیڑھا کر دے

محمد عابد ندوی

جدہ

دل انسان کی روحانی زندگی کا مرکز ہے، جہاں ایمان و ہدایت کی روشنی بھی اترتی ہے اور کفر و نفاق کی تاریکیاں بھی جنم لیتی ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں دل کی پاکیزگی، زینتِ ایمان، آزمائش میں صبر اور دین پر استقامت اللہ تعالیٰ کے عظیم انعامات ہیں۔

’دل‘ جسمِ انسانی میں قدرتِ الٰہی کی عظیم نشانی ہے۔ 

بظاہر یہ گوشت کا ایک ٹکڑا اور خون پمپ کرنے کا قدرتی آلہ ہے، لیکن روحانی اعتبار سے معرفتِ ربانی کا مرکز ہے۔ 

انسان کی ظاہری و باطنی صلاح اور فساد کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ 

ایمان و ہدایت کی روشن کرنیں اسی سے پھوٹتی اور کفر و نفاق کی تاریکیاں اسی پر چھاتی ہیں۔ 

اسی لیے کتاب و سنت میں دل کی اصلاح و پاکیزگی پر بہت زور دیا گیا ہے۔

دل ایمان سے لبریز ہو تو اس کے آثار بندۂ مومن کے اعضا و جوارح پر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ قرآنِ پاک کی تلاوت، اس میں غور و تدبر اور انبیا، صلحا اور نیک لوگوں کی صحبت سے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے۔ 

یوں دل تقویٰ، انابت اور خشوع جیسی صفات سے آراستہ ہوکر بتدریج مرتبۂ کمال کی طرف بڑھتا ہے۔

مزید پڑھیں

یہی وجہ ہے کہ مومن کی کامیابی ظاہری اعمال میں نہیں بلکہ اس باطن کی درستی میں ہے جہاں نیت، یقین، محبت اور خوفِ خدا جنم لیتے ہیں۔ 

دل سنور جائے تو کردار سنورتا اور زندگی اطاعت کا آئینہ بن جاتی ہے۔

دل کی اصلاح کے درجات بندہ، اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد، اپنی کوشش سے طے کرتا ہے۔

تاہم دلوں کو پاک کرنا اور ان میں ایمان کو مزین کردینا ایسے افعال ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے۔ 

وہ جن دلوں کو پاک کردے، وہی ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں۔

islam religion and prayer of a muslim man at mosq 2026 01 09 10 29 33 utc

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے، اس کے لیے آپ اللہ کی جانب سے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک کرنا نہیں چاہتا۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (المائدہ: 41)

جس طرح ظاہری گندگی ہوتی ہے، اسی طرح کفر، شرک اور نفاق دل کی نجاست ہیں۔ 

اسی مفہوم میں مشرکین کو ناپاک کہا گیا ہے۔ (التوبہ: 28) 

اللہ تعالیٰ جس کے لیے خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اس کے دل کو اس خباثت سے پاک کردیتا ہے۔ تب وہ ایمان قبول کرنے کے قابل ہوتا، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جاتا اور دل میں ایمان کی روشنی جگمگانے لگتی ہے۔

 طہارتِ قلب کے بعد زینتِ ایمان کا مرحلہ آتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے، اس کے دل میں ایمان کی محبت پیدا کردیتا ہے۔ 

پھر یہ محبت رگ و ریشے میں اس طرح سرایت کرتی ہے کہ کوئی خاندانی تعلق بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت پر غالب نہیں آتا۔ 

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان راسخ کردیا اور اپنی نصرت سے ان کی تائید فرمائی۔ (المجادلہ: 22)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

لیکن اللہ ہی نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا، اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور تمہارے لیے کفر، نافرمانی اور گناہ کو ناپسندیدہ بنا دیا۔ یہی لوگ راہِ راست پر ہیں۔ (الحجرات: 7)

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

جس دل میں اللہ تعالیٰ ایمان کی محبت اور معصیت سے نفرت پیدا فرما دے، اسی کے لیے ہدایت کے راستے کھلتے ہیں۔ 

ایسا شخص اللہ کا فرماں بردار بنتا اور بندگی کی راہ کی مصیبتیں برداشت کرلیتا ہے۔ 

ایمان کی یہی زینت اسے درجاتِ کمال میں آگے بڑھاتی ہے۔ 

رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی:

’اے اللہ! ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا دے، اسے ہمارے دلوں میں مزین فرما دے، کفر، نافرمانی اور گناہ سے ہمارے اندر نفرت پیدا کردے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔‘

ایمان، یقین اور ہدایت کا مرکز دل ہے۔ 

اسے ہدایت مل جائے تو باقی اعضا بھی اس کے تابع ہوجاتے ہیں۔ 

ہدایت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور رحمت ہے۔ 

اسی لیے اہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی: اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد کج روی میں مبتلا نہ فرما اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ (آلِ عمران: 8)

دل میں ہدایت کا اترنا اور اس پر ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔ 

اسی لیے بندۂ مومن ہر نماز میں سیدھی راہ اور اس پر استقامت کی دعا کرتا ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہﷺ کی یہ دعا نقل کی: اے اللہ! میں تیری اس خاص رحمت کا سوال کرتا ہوں جس سے تو میرے دل کو ہدایت دے۔ (ترمذی) 

آپﷺ یہ دعا بھی کثرت سے مانگتے تھے:

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔

اہم نکات

01دل ایمان و ہدایت کا مرکز ہے

انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح، کردار اور اعمال کا گہرا تعلق دل کی کیفیت سے ہے۔

02پاکیزگی اللہ کا خاص انعام ہے

قرآنِ کریم کے مطابق دل کی حقیقی پاکیزگی اور قبولِ ہدایت کی توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔

03ایمان دل کو روشن کرتا ہے

ایمان کی محبت دل میں راسخ ہوجائے تو کفر، نافرمانی اور گناہ سے فطری نفرت پیدا ہوتی ہے۔

04قرآن اور صالح صحبت ضروری ہیں

تلاوت، غور و تدبر اور نیک لوگوں کی صحبت دل کو تقویٰ، خشوع اور انابت سے آراستہ کرتی ہے۔

05آزمائش مومن کے دل کا امتحان ہے

ہدایت یافتہ دل آسائش میں شکر اور مصیبت میں صبر و استقامت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

06استقامت کے لیے دعا لازم ہے

رسول اللہ ﷺ اپنے قلب کو دین پر ثابت رکھنے کی دعا کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔

07حقیقی ہدایت دل میں اترتی ہے

راہ دکھانا ہدایت کا ایک درجہ ہے، جبکہ حق قبول کرنے کی توفیق ملنا اس کا اعلیٰ درجہ ہے۔

08دل سنورے تو زندگی سنورتی ہے

پاکیزہ دل انسان کے کردار، اعمال اور پوری زندگی کو اطاعتِ الٰہی کا آئینہ بنا دیتا ہے۔

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس دعا کی کثرت کا سبب پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا:

کوئی انسان ایسا نہیں مگر اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جسے چاہے سیدھا رکھے اور جسے چاہے ٹیڑھا کردے۔

یہ دعا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابۂ کرام سے بھی منقول ہے۔ (ترمذی، ابنِ ماجہ)

دلوں کو ہدایت ملنا محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

کسی انسان کو کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں پہنچتی، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔ (التغابن: 11)

مصیبت اللہ تعالیٰ کے حکم و مشیت سے آتی ہے اور بندۂ مومن کا امتحان بنتی ہے کہ وہ قضا و قدر پر یقین کے ساتھ صبر کرتا ہے یا شکوہ و شکایت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق ’ہدایتِ قلب‘ یہ ہے کہ مومن مصیبت کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر قبول کرے۔ 

ایسے لوگوں کو آسائش میں شکر اور آزمائش میں صبر کی توفیق ملتی ہے۔

muslim pray child or man in praying with quran fo 2026 01 09 09 45 16 utc

ہدایت کے معنی راہ دکھانے کے ہیں اور قرآنِ پاک میں اس کے مختلف درجات بیان ہوئے ہیں۔ ایک عمومی ہدایت ہے، جس میں تمام مخلوقات شامل ہیں:

ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اسے راہ دکھائی۔ (طٰہٰ: 50)

یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کی بھلائی کا راستہ فطری طور پر عطا کیا۔ 

دوسرا درجہ خیر و شر اور صحیح و غلط کی نشان دہی ہے:

بلاشبہ ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا؛ اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔ (الدہر: 3)

اس معنی میں اللہ کا رسول بھی ہادی، یعنی راہ دکھانے والا، ہوتا ہے۔ 

ہدایت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو حق قبول کرنے کی توفیق ملے اور ہدایت اس کے دل میں اتر جائے۔ 

اس مفہوم میں حقیقی ہدایت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، رسول بھی کسی کو ازخود ہدایت نہیں دے سکتا۔ (فاطر: 8؛ القصص: 56)

پس دل کی پاکیزگی، ایمان کی محبت، ہدایت اور دین پر ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے نصیب ہوتی ہے۔ 

بندۂ مومن کو چاہیے کہ اپنے دل کی اصلاح کرے، قرآن سے وابستہ رہے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور دعا کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو پاک، ایمان سے آراستہ اور اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے