ہرمز اور باب المندب بیک وقت جنگ کی زد میں آئے تو عالمی معیشت تباہ کن بحران سے دوچار ہوگی
امریکی حملوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود تہران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسیع فوجی کارروائی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
ایرانی حلقوں کو آبنائے ہرمز کے جزائر پر امریکی فوج اتارے جانے کا خدشہ ہے، جبکہ تہران نے حملے جاری رہنے کی صورت میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے، نئے محاذ کھولنے اور باب المندب کو جنگی مساوات میں شامل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
7 روز سے جاری شدید امریکی حملوں کے باوجود نہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آیا، نہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلی اور نہ ہی فوجی دباؤ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلوب ایرانی رعایتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکا۔
معاملہ کسی سیاسی تصفیے کی طرف بڑھنے کے بجائے اب مخالف سمت میں جاتا دکھائی دے رہا ہے، ایک ایسی وسیع جنگ کی جانب، جو ایرانی ساحلوں اور خلیج عرب تک محدود رہنے کے بجائے باب المندب اور نہر سوئز تک اپنے اثرات پھیلا سکتی ہے۔
دائرۂ کار اور اہداف کی شدت کے باوجود امریکی کارروائیاں اب تک وہ سیاسی تبدیلی پیدا نہیں کرسکیں جس پر واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی کی بنیاد رکھی تھی۔
مزید پڑھیں
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز، نگرانی کے ٹاورز اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم یہ حملے نہ ایرانی مؤقف توڑ سکے اور نہ ہی تہران کو امریکی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرسکے۔
دوسری جانب ایران نے بھی ان مقامات پر حملے جاری رکھے جنہیں اس
نے خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈے قرار دیا۔
اس طرح تہران نے واضح پیغام دیا کہ ایران پر پڑنے والا فوجی دباؤ صرف اس کی سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہے گا۔
شدید محاذ آرائی کے باوجود دونوں فریق اب تک اہداف کے انتخاب اور حملوں کے جغرافیائی دائرے میں ایک طرح کا ’فوجی ضبط‘ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم یہ نظم انتہائی نازک ہے اور کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ممکنہ امریکی زمینی کارروائی، ایران کے اندر حملے وسیع کرنے اور مزید بحری گزرگاہوں کو جنگ میں شامل کرنے کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔
ہرمزگان طوفان کا مرکز
امریکی حملے بنیادی طور پر ایران کی جنوبی سرحدوں اور ساحلی پٹی پر مرکوز رہے۔
ان میں خوزستان سے بوشہر اور بندر عباس، پھر سیستان و بلوچستان تک توانائی، مواصلات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
الجزیرہ کے تہران بیورو چیف نور الدین الدغیر کے مطابق صوبہ ہرمزگان، خصوصاً بندر عباس اور آبنائے ہرمز سے متصل علاقے اور جزائر، امریکی کارروائیوں کا مرکزی میدان بن چکے ہیں۔
ان علاقوں پر غیرمعمولی توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مقصد محض ایران کے مختلف فوجی ٹھکانوں پر حملے کرنا نہیں، بلکہ آبنائے ہرمز کی نگرانی، اس پر گرفت قائم رکھنے اور یہاں سے گزرنے والی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا بھی ہے۔
اس سے قبل بندر عباس میں مواصلاتی نظام کے 16 ٹاورز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن سروسز معطل ہوگئی تھیں۔
الدغیر کے مطابق ایرانی ٹیموں نے نقصان کی مرمت کے بعد یہ خدمات دوبارہ بحال کردیں۔
تاہم اس علاقے میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے سے ایران کے اندر امریکی کارروائیوں کے اگلے مرحلے کے بارے میں اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
کیا واشنگٹن بڑے فضائی حملوں کی تیاری کے لیے ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مفلوج کرنا چاہتا ہے، یا پھر اس منصوبے کا دائرہ اس سے آگے آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع جزائر میں کسی زمینی کارروائی تک پھیلا ہوا ہے؟
اہم نکات
تفصیل کے لیے ہر نکتے پر کلک کریں01 امریکی حملے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ⌄
سات روز کے شدید حملوں کے باوجود ایران نہ مذاکرات کی میز پر واپس آیا اور نہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی گئی۔
02 ہرمزگان امریکی کارروائیوں کا مرکز ⌄
امریکی حملوں کا بڑا حصہ بندر عباس، صوبہ ہرمزگان اور آبنائے ہرمز سے متصل ایرانی ساحلی علاقوں پر مرکوز ہے۔
03 اہم ایرانی جزائر کو نشانہ بنایا گیا ⌄
ہرمز، لارک، قشم، طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ میں دفاعی، مواصلاتی اور اسلحہ مراکز پر حملے کیے گئے۔
04 جزائر پر زمینی کارروائی کا خدشہ ⌄
ایرانی حلقوں کو خدشہ ہے کہ مواصلاتی اور دفاعی نظام پر حملے جزائر میں ممکنہ امریکی زمینی کارروائی کی تیاری ہوسکتے ہیں۔
05 حملے روکیں، آبنائے کھول دیں گے ⌄
تہران نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی حملے بند ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے معمول کی جہاز رانی بحال کی جاسکتی ہے۔
06 توانائی تنصیبات ایرانی جواب بن سکتی ہیں ⌄
جزائر پر امریکی فوج اتارنے یا ایران کے اندر حملے بڑھانے کی صورت میں علاقائی اقتصادی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
07 باب المندب بھی جنگی دائرے میں ⌄
ایرانی فوجی حلقوں میں باب المندب کو جنگ میں شامل کرکے بحیرۂ احمر اور نہر سوئز کی تجارت متاثر کرنے کی بات ہورہی ہے۔
08 ٹرمپ وسیع فوجی حکمت عملی پر غوراں ⌄
موجودہ کارروائیوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ وسیع فوجی آپریشن کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
09 امریکا کے اندر جنگ پر تقسیم ⌄
ڈیموکریٹس جنگ کو غیر منصوبہ بند قرار دے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے اتحادی ایران پر مزید سخت حملوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔
10 ایران کی جامع حملے کی دھمکی ⌄
تہران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے مزید جاری رہے تو ایران علاقائی سطح پر ’’جامع حملے‘‘ کا آغاز کرسکتا ہے۔
11 عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ⌄
ہرمز اور باب المندب بیک وقت متاثر ہوئے تو تیل، بحری تجارت، انشورنس اور عالمی سپلائی چین شدید بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔
کیا واشنگٹن زمینی کارروائی کی راہ ہموار کر رہا ہے؟
ایرانی حلقوں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ امریکا آئندہ دنوں میں ایران کی جنوبی ساحلی پٹی اور سرحدوں پر اپنے فوجی آپریشن کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے۔
اس کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متصل بعض جزائر پر امریکی فوج اتارے جانے کا امکان بھی خارج از امکان نہیں سمجھا جارہا۔
یہ خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں بلکہ گزشتہ چند روز میں نشانہ بنائے گئے مقامات کی نوعیت بھی انہیں تقویت دیتی ہے۔
امریکی حملوں میں ہرمز، لارک، قشم، طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ کے جزائر پر مواصلاتی تنصیبات، دفاعی مراکز اور اسلحہ ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
الدغیر کے مطابق ممکن ہے کہ ان اہداف کے انتخاب کا مقصد ایران کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مفلوج کرکے ان فوجی دستوں کے لیے راستہ ہموار کرنا ہو، جو جزائر میں داخل ہونے یا وہاں محدود زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
اگر یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو محاذ آرائی فضائی اور بحری حملوں کے مرحلے سے نکل کر کہیں زیادہ خطرناک سطح میں داخل ہوجائے گی۔
ایرانی کنٹرول میں موجود کسی جزیرے پر امریکی فوج کی موجودگی کو تہران محض موجودہ فوجی کارروائیوں کا تسلسل نہیں بلکہ براہ راست حملہ اور قبضے کی کوشش تصور کرے گا۔
ان خدشات کے درمیان پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس خلیج سے دور جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اس بیان میں واضح فوجی تنبیہ موجود ہے، تاہم الدغیر کے مطابق یہ ایران کی جانب سے محاذ آرائی کو آبنائے ہرمز اور خطے میں موجود امریکی مفادات تک محدود رکھنے اور جنگ کو ایرانی سرزمین کے اندرونی حصوں تک پھیلنے سے روکنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
ایرانی پیش کش: حملے روکیں، آبنائے کھول دیں گے
تہران اب بھی بالواسطہ طور پر امریکی حملوں کے خاتمے کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے جوڑ رہا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکی حملے بند ہوجائیں تو آبنائے سے معمول کی جہاز رانی بحال کی جاسکتی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران کا مستقل ہدف نہیں، بلکہ واشنگٹن کے خلاف استعمال کی جانے والی ایک اہم فوجی اور سیاسی دباؤ کی حکمت عملی ہے۔
تاہم اگر امریکا اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے یا جزائر میں فوج اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ محدود مساوات ٹوٹ سکتی ہے۔
ایرانی فوجی اندازوں کے مطابق ایسی کسی بھی پیش قدمی کا جواب صرف امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ خطے کی اقتصادی تنصیبات اور توانائی کے مراکز بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
اس صورت میں ایرانی ردعمل محض اہداف کی فہرست وسیع کرنے تک محدود نہیں رہے گا۔ تہران نئے محاذ کھولنے اور دوسرے علاقوں میں موجود اپنے اتحادیوں کو بھی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
یوں آبنائے ہرمز پر جاری محاذ آرائی ایک کثیرالجہتی علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اب تک ایرانی حملے بڑی حد تک امریکی کارروائیوں کے تناسب سے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سات روز کے دوران ایرانی جوابی حملے بنیادی طور پر کویت، بحرین اور اردن میں واقع تنصیبات پر مرکوز رہے، جبکہ قطر اور سلطنت عمان بھی نسبتاً محدود سطح پر ان حملوں کی زد میں آئے۔
تاہم یہ توازن برقرار رہنے کی کوئی ضمانت نہیں، خصوصاً اگر واشنگٹن ایران کے اندر زیادہ حساس اہداف کو نشانہ بناتا ہے یا کسی جزیرے پر قبضے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ مکمل تجزیہ دیکھنے کے لیے کلک کریں ⌄
یہ محاذ آرائی اب امریکا اور ایران کے درمیان محدود فوجی تنازع نہیں رہی۔ اس کا دائرہ پھیلنے سے خلیج، عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر براہِ راست اثر پڑسکتا ہے۔
◉ عالمی توانائی کا خطرہ
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کی طویل بندش توانائی کی قیمتوں میں تیز اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
◈ تجارت اور سپلائی چین
باب المندب بھی متاثر ہوا تو بحیرۂ احمر اور نہر سوئز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کی تجارت، انشورنس اور بحری کرائے شدید دباؤ میں آجائیں گے۔
◆ خلیجی ممالک کی سلامتی
جنگ کا پھیلاؤ خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات، بندرگاہوں، فضائی سفر اور اقتصادی سرگرمیوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
● پاکستانیوں پر اثرات
خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے روزگار، بچت، سفر اور وطن بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر متاثر ہوسکتی ہیں، جبکہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
باب المندب بھی جنگی حساب کتاب میں شامل
موجودہ ایرانی مباحث میں سب سے خطرناک پیش رفت آبنائے باب المندب کو جنگی مساوات میں شامل کرنے کی بات ہے۔
اگر محاذ آرائی اس اہم بحری گزرگاہ تک پہنچتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج سے ہونے والی توانائی کی برآمدات تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ بحیرۂ احمر اور نہر سوئز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان ہونے والی تجارت بھی براہ راست متاثر ہوگی۔
اس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین، بحری جہاز رانی، انشورنس اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
الدغیر کے مطابق بعض ایرانی فوجی حلقے باب المندب کو امریکا اور اس کے اتحادیوں پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی بیک وقت متاثر ہوتی ہے تو دنیا کی دو اہم ترین بحری گزرگاہیں براہ راست جنگ کی زد میں آجائیں گی۔
اس مرحلے پر بحران محض امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم نہیں رہے گا، بلکہ ایک عالمی اقتصادی جھٹکے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
تیل، ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور انشورنس کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ خطے کے ممالک کو پیچیدہ سلامتی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ وسیع تر جنگی راستے کی تلاش میں
واشنگٹن میں صورتحال کا جائزہ تہران میں زیر گردش اندازوں سے زیادہ مختلف نہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی حملوں کا بنیادی ہدف آبنائے ہرمز کے اطراف موجود ایرانی فوجی قوت کو کمزور کرنا تھا، جس میں میزائل پلیٹ فارمز، تیز رفتار کشتیاں، ڈرونز اور ساحلی نگرانی کا نظام شامل ہے۔
تاہم ایک امریکی فوجی عہدیدار نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اب زیادہ وسیع فوجی راستے پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ موجودہ کارروائیاں تہران کو مذاکرات کی بحالی یا آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور نہیں کرسکیں۔
اس وسیع تر حکمت عملی کی نوعیت ابھی واضح نہیں۔
البتہ امریکی صدر اس سے قبل پانی اور بجلی کے مراکز، پلوں اور دیگر بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کرچکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ ایران سے رعایتیں حاصل کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر جبل الفأس میں قائم ایک اہم جوہری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ان ممکنہ اہداف سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی فوجی صلاحیت کو نشانہ بنانے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایران کے اقتصادی ڈھانچے اور عام شہری زندگی کو سہارا دینے والی بنیادی تنصیبات پر حملوں کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔
یہ قدم ایران کے لیے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا، لیکن اس کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں ایسی ہی توانائی اور بنیادی تنصیبات پر ایرانی جوابی حملوں کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ فوجی حملوں اور بحری ناکہ بندی کا مشترکہ دباؤ بالآخر ایران کو رعایتیں دینے پر مجبور کردے گا، تاہم اس حکمت عملی کے اثرات سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
بندرگاہوں کی بندش یا ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ فوری نتیجہ نہیں دیتی، بلکہ آہستہ آہستہ درآمدات میں کمی، اشیا کی قلت، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے اور ایرانی معیشت کی مزید کمزوری کا سبب بنتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ناکہ بندی کے نتائج کا انتظار جنگ کو پھیلنے کے لیے مزید وقت دے سکتا ہے۔
اس دوران کسی غلط اندازے، بے قابو فوجی کارروائی یا سرخ لکیر عبور کرنے والے حملے کا خطرہ بھی بڑھتا جائے گا۔
امریکا کے اندر جنگ پر تقسیم
صدر ٹرمپ نے متعدد بار جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دی، لیکن اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ یہ ہچکچاہٹ ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب امریکا کے اندر جنگ کے مقاصد، افادیت اور ممکنہ انجام پر اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس اس جنگ کو بے مقصد اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ واضح اخراجی حکمت عملی کے بغیر امریکا کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئے دلدل کی طرف دھکیل رہی ہے۔
اس کے برعکس صدر ٹرمپ کے اتحادی اور جنگ کے حامی حلقے ایران پر مزید شدید حملے کرنے اور تہران کے لیے تمام راستے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس سوچ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کسی درمیانی حل پر آمادہ نہیں ہوگا اور مذاکرات کو صرف وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔
اسی لیے فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک تہران ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ ہوجائے۔
یہ حلقے سابق مفاہمتی یادداشت کو ایران کی سیاسی کامیابی قرار دیتے ہیں اور اسے امریکی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامیوں میں شمار کرتے ہیں۔
بعض جنگ نواز آوازوں کا خیال ہے کہ مذاکرات اپنی اہمیت مکمل طور پر کھو چکے ہیں اور ایران کے ساتھ نئی بات چیت کسی قابلِ عمل معاہدے تک نہیں پہنچ سکتی۔
فیکٹ باکس اعداد و حقائق دیکھنے کے لیے کلک کریں ⌄
ایران کی ’جامع حملے‘ کی دھمکی
میدانِ جنگ میں پیر سے اب تک زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہوگئی ہے، جس کی تصدیق امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے تازہ سرکاری اعدادوشمار میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے مزید دو سے 3 روز جاری رہے تو ایران ’جامع حملے کے مرحلے‘ میں داخل ہوجائے گا۔
یہ دھمکی کئی خطرناک امکانات کا دروازہ کھولتی ہے۔
ان میں خطے میں امریکی اڈوں، اقتصادی تنصیبات اور توانائی کے مراکز پر حملوں کا دائرہ وسیع کرنا، بحری راستوں کو مفلوج کرنا اور مزید محاذوں کو جنگ میں شامل کرنا شامل ہے۔
یوں موجودہ تصادم ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
واشنگٹن ایک ہفتے کی فوجی کارروائیوں کے نتائج سے مطمئن نہیں، جبکہ تہران نہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے اور نہ آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہوا۔ دونوں فریق اب دھمکیوں کی سطح بلند کرتے ہوئے زیادہ سخت اور تباہ کن مرحلے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اگر امریکا ایران کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنانے یا جزائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور تہران جواب میں خطے کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ جنگ کو باب المندب تک وسیع کردیتا ہے، تو یہ تصادم دو ملکوں تک محدود نہیں رہے گا۔
اس صورت میں خلیج، بحیرۂ احمر اور نہر سوئز ایک ہی جنگی زنجیر کا حصہ بن جائیں گے اور عالمی معیشت ایسی لڑائی کے براہ راست دباؤ میں آجائے گی جس کے خاتمے کا راستہ فی الحال کسی کو دکھائی نہیں دے رہا۔