دائمی درد کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے لیے ایک اہم سائنسی دریافت نئی امید بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی سائنس دانوں نے دماغ میں ایسا قدرتی نظام شناخت کیا ہے جو درد کے سگنلز پر ’بریک‘ لگا سکتا ہے، مگر اعصاب کو نقصان پہنچنے کے بعد یہی نظام الٹا درد برقرار رکھنے میں کردار ادا کرنے لگتا ہے۔
درد روکنے والا نظام درد بڑھانے کیوں لگتا ہے؟
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کا مرکز دماغ کا چھوٹا سا حصہ لوکس سیریولیس (Locus Coeruleus) ہے۔ یہ حصہ بیداری
اور تناؤ سے منسلک سمجھا جاتا ہے، مگر درد کو کنٹرول کرنے میں بھی اس کا اہم کردار سامنے آیا ہے۔
🧠
دماغ کا خفیہ ’بریک‘ کام کیسے کرتا ہے؟
طبی دریافت
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ انسانی دماغ میں لوکس سیریولیس (Locus Coeruleus) نامی خطہ اور اس پر موجود خاص ریسیپٹرز درد کے مسلسل سگنلز پر ایک قدرتی رکاوٹ یا ’بریک‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔
1۔ لوکس سیریولیس کا بنیادی کردار
دماغ کا یہ چھوٹا حصہ عموماً بیداری اور ذہنی دباؤ کے ردِعمل کو سنبھالتا ہے، مگر معمول کی حالت میں یہ درد کے بے قابو سگنلز کو دبا کر جسم کو سکون پہنچانے کا قدرتی فریم ورک چلاتا ہے۔
2۔ میو اوپیئڈ ریسیپٹرز (Mu Opioid Receptors)
یہ ریسیپٹرز لوکس سیریولیس کے مخصوص نیورونز پر نصب اسپیڈ بریکر ہیں؛ جب یہ متحرک ہوتے ہیں تو وہ اعصابی خلیات کی ضرورت سے زیادہ فائرنگ کو روک کر درد کے احساس کو محدود کر دیتے ہیں۔
3۔ میڈیئل پری فرنٹل کارٹیکس سے ربط
لوکس سیریولیس سے نکلنے والے اعصابی راستے دماغ کے ادراکی مرکز (Prefrontal Cortex) تک جاتے ہیں، جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ دماغ درد کے جھٹکوں کو کتنا شدت سے محسوس کرے گا۔
4۔ اعصابی نقصان پر بریک کی خرابی
اگر جسم کے اعصاب طویل عرصے تک زخمی یا بیمار رہیں تو یہ قدرتی بریکنگ سسٹم ناکارہ ہو جاتا ہے، جس سے یہی حصہ درد روکنے کے بجائے مستقل درد پیدا کرنے والا مرکز بن جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عام حالات میں یہی دماغی حصہ جسم کے قدرتی درد کش نظام کا حصہ بن سکتا ہے۔
لیکن طویل عرصے تک اعصاب کو نقصان پہنچتا رہے تو اس کا کردار بدل سکتا ہے اور یہ دائمی درد کو برقرار رکھنے والا ’پین جنریٹر‘ بھی بن سکتا ہے۔
دماغ میں چھپا بریک: دائمی درد کا نیا حل 🧠
واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں اعصابی درد کو مستقل روکنے والے قدرتی نظام کی شناخت
سائنس دانوں نے دماغ کے مخصوص حصے میں درد کو قابو کرنے والا قدرتی میکانزم دریافت کیا ہے جو مستقبل میں نشہ آور ادویات کے بغیر محفوظ علاج کی بنیاد بن سکتا ہے۔
🛑 قدرتی درد کش سوئچ 🧬
دماغ کا حصہ لوکس سیریولیس عام حالت میں درد کے سگنلز کو روکتا ہے مگر اعصابی چوٹ کے بعد یہی نظام درد بڑھانے لگتا ہے۔
🔬 میو اوپیئڈ ریسیپٹرز 🧪
مخصوص خلیات میں ان ریسیپٹرز کی سرگرمی بحال کر کے چوہوں میں درد اور غیر معمولی چھونے کی حساسیت کو کامیابی سے کم کیا گیا۔
🩺 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید 🩹
شوگر اور وائرل انفیکشن سے پیدا ہونے والے اعصابی درد، جلن اور جھنجھناہٹ کے شکار مریضوں کے لیے یہ تحقیق انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
💊 مضر اثرات سے پاک علاج 🎯
پورے جسم کے بجائے صرف ہدف شدہ دماغی خلیات پر کام کر کے روایتی درد کش ادویات کے منفی اثرات اور لت کے خطرے کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اصل ’بریک‘ کہاں موجود ہے؟
سائنس دانوں کی خاص توجہ میو اوپیئڈ ریسیپٹرز (Mu Opioid Receptors) پر تھی۔ یہ ریسیپٹرز لوکس سیریولیس کی سرگرمی محدود کرکے درد کے خلاف قدرتی بریک کا کام کرتے ہیں۔
چوہوں پر تجربات میں جب لوکس سیریولیس کے مخصوص خلیات سے یہ ریسیپٹرز ہٹائے گئے تو جانور لمس اور حرارت کے لیے زیادہ حساس ہوگئے۔
⚡ دائمی درد کیوں ختم نہیں ہوتا؟ سائنس نے راز کھول دیا حیاتیاتی تبدیلی
مرحلہ 1: طویل مدتی اعصابی چوٹ یا بیماری
جب ذیابیطس یا حادثے کے باعث اعصاب کو مسلسل نقصان پہنچتا ہے، تو جسم سے درد کے بے شمار غیر معمولی سگنلز دماغ کی جانب مسلسل سفر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
مرحلہ 2: محافظ نظام کا الٹ جانا (Pain Generator)
مسلسل سگنلز کے دباؤ میں لوکس سیریولیس کا حفاظتی توازن بگڑ جاتا ہے؛ درد کش بریک غائب ہو جاتی ہے اور دماغ خود ہی ہلکے لمس کو شدید جلن یا سوئیاں چبھنے کے احساس میں بدل دیتا ہے۔
مرحلہ 3: دائمی درد کا دماغی سرکٹ میں قید ہو جانا
چوٹ بظاہر مندمل ہونے کے باوجود دماغی ریسیپٹرز کی یہ بگڑی ہوئی وائرنگ درد کے سگنلز کو آف نہیں ہونے دیتی، جس سے مریض برسوں بلا تعطل نیوروپیتھک تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔
حیران کن طور پر تحقیق کے دوران جب انہی خلیات میں ریسیپٹرز دوبارہ بحال کیے گئے تو درد کی غیر معمولی حساسیت بھی کم ہوگئی۔
تحقیق کاروں نے تجربے کے دوران یہ بھی پایا کہ لوکس سیریولیس کی سرگرمی روکنے سے طویل مدتی اعصابی چوٹ والے چوہوں میں درد کم ہوا۔ خاص طور پر دماغ کے میڈیئل پری فرنٹل کارٹیکس کی جانب جانے والے اعصابی خلیات اہم دکھائی دیے۔
💊 کیا طاقتور درد کش ادویات کا متبادل ملنے والا ہے؟ ہدف شدہ علاج
روایتی اوپیئڈز کے خطرناک اثرات
مارفین اور دیگر روایتی پین کلرز پورے دماغ اور جسم پر یکساں اثر ڈالتی ہیں، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ دوا کا بے اثر ہونا، غنودگی، قبض، انحصار اور جان لیوا نشے (Addiction) کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
مستقبل کی ٹارگٹڈ تھراپی کی امید
نئی تحقیق سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ مریض کو نشہ آور اثرات دیے بغیر دوا کو صرف لوکس سیریولیس کے مخصوص ریسیپٹرز تک محدود کیا جائے تاکہ مریض بغیر سائیڈ ایفیکٹس کے درد سے نجات پا سکے۔
طبی تجزیہ: فی الحال یہ کسی فوری میڈیکل پروڈکٹ کا اعلان نہیں ہے، مگر اس دریافت نے دوا ساز کمپنیوں کو ایسا مخصوص راستہ دکھا دیا ہے جس سے بغیر کسی نشے یا لت کے دائمی درد کا حتمی علاج بنایا جا سکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیوں اہم؟
طبی ماہرین کے مطابق اعصابی یا نیوروپیتھک درد اعصاب کو نقصان پہنچنے کے بعد پیدا ہوسکتا ہے۔
اس میں جلن، سوئیاں چبھنے، جھنجھناہٹ یا غیر معمولی حساسیت جیسی علامات ہوسکتی ہیں۔ ذیابیطس، بعض وائرل انفیکشنز اور اعصاب پر دباؤ بھی اس قسم کے درد سے منسلک ہوسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ تحقیق خاص توجہ کی مستحق ہے، جہاں ذیابیطس سے جڑی اعصابی پیچیدگیاں ایک اہم طبی مسئلہ ہیں۔
🔬 چوہوں پر تجربے میں سائنس دانوں نے کیا دریافت کیا؟ 17 اگست
سائنسی جریدے Current Biology میں شائع ہونے والی تحقیق میں جینیاتی اور بائیو کیمیکل ٹولز کے ذریعے چوہوں کے دماغی خلیات پر ریسیپٹرز کی آن اور آف پوزیشن کا عملی معائنہ کیا گیا۔
1۔ ریسیپٹرز ہٹانے پر شدید حساسیت
جب چوہوں کے لوکس سیریولیس سے میو اوپیئڈ ریسیپٹرز نکالے گئے تو وہ معمولی لمس اور ہلکی سی حرارت پر بھی شدید تڑپ اور غیر معمولی درد محسوس کرنے لگے۔
2۔ ریسیپٹرز کی بحالی سے درد میں کمی
جب انہی مخصوص خلیات میں ریسیپٹرز کو دوبارہ جینیاتی طور پر فعال کیا گیا تو چوہوں کی درد کے لیے ضرورت سے زیادہ حساسیت فوراً معمول پر آ گئی۔
3۔ لوکس سیریولیس کو خاموش کرنے کا فائدہ
طویل مدتی اعصابی چوٹ والے ماڈلز میں جب اس حصے کی ہائپر ایکٹیویٹی کو مصنوعی طور پر روکا گیا تو چوہوں کو دائمی اعصابی تکلیف سے واضح ریلیف ملا۔
کیا درد کش ادویات کا متبادل مل گیا؟
ابھی ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ تحقیق بنیادی طور پر چوہوں پر کی گئی ہے اور اسے انسانی علاج میں تبدیل کرنے کے لیے مزید تحقیق اور کلینیکل مطالعات ضروری ہوں گے۔
البتہ اس دریافت کی اصل اہمیت یہ ہے کہ مستقبل میں پورے جسم اور دماغ کے اوپیئڈ ریسیپٹرز کو متاثر کرنے کے بجائے صرف لوکس سیریولیس کے مخصوص ریسیپٹرز کو ہدف بنایا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے سینئر مصنف جورڈن میک کال کے مطابق روایتی اوپیئڈ ادویات پورے جسم اور دماغ میں ریسیپٹرز سے جڑتی ہیں، جس سے مضر اثرات، دوا برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھنے اور انحصار یا لت جیسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ تحقیق کیوں اہم؟
◀
1۔ شوگر سے ہونے والی ڈائیبیٹک نیوروپیتھی
پاکستان میں شوگر کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، جہاں لاکھوں مریض پیروں میں جلن، سوئیاں چبھنے، سن پن اور شدید اعصابی درد کا شکار رہتے ہیں۔
2۔ مروجہ پین کلرز کی محدود افادیت
اعصابی درد پر روایتی درد کش دوائیں اکثر بے اثر ثابت ہوتی ہیں جبکہ طاقتور ادویات گردوں اور معدے پر اضافی نقصان دہ بوجھ ڈالتی ہیں۔
3۔ مستقبل میں معیاری زندگی کی بحالی
دماغی بریک کی اس نئی بائیولوجیکل تفہیم سے پاکستان کے کروڑوں نیوروپیتھی مریضوں کے لیے محفوظ اور سائیڈ ایفیکٹ سے پاک علاج کی ٹھوس امید پیدا ہوئی ہے۔
طبی خلاصہ: یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دائمی درد کوئی وہم نہیں بلکہ دماغی سرکٹس کی خرابی ہے، جس کی درست سمت میں کی گئی شناخت آئندہ برسوں میں اعصابی بیماریوں کے مریضوں کی زندگی کو پرسکون بنا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ مخصوص علاج انہی خطرات کو کم کرنے کی ایک ممکنہ راہ بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق 17 اگست 2026 کو سائنسی جریدے Current Biology میں شائع ہوئی ہے۔
فی الحال یہ کسی نئی دوا کا اعلان نہیں، بلکہ اس سوال کا ایک اہم جواب ہے کہ دائمی درد دماغ میں کس طرح قائم رہتا ہے اور شاید مستقبل میں اسے کہاں روکنا ہوگا۔