عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
حضرت عمرو بن العاصؓ کی شاہِ عمان جیفر سے ملاقات کے دوران رسول اللہﷺ کا مکتوب پڑھا گیا۔
شاہ نے قریش کے ردِعمل، اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت اور اپنی بادشاہت کے مستقبل سے متعلق سوالات کئے۔
ابتدا میں وہ تذبذب کا شکار رہا، مگر اپنے بھائی عبد سے مشورے کے بعد دونوں نے حضرت عمروؓ کے سامنے اسلام قبول کرلیا۔
حضرت عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عبد کی ڈیوڑھی میں چند روز ٹھہرا رہا۔
عبد روزانہ اپنے بھائی کے پاس جاتا اور میری تمام باتیں اسے بتاتا رہتا تھا۔
آخر ایک دن وہ مجھے شاہِ عمان کے دربار میں لے گیا اور اس سے میری ملاقات کرا دی۔
میں نے رسولِ اکرمﷺ کا سربمہر خط بادشاہ کے حوالے کیا۔
اس نے مہر توڑی اور خط پڑھا۔
مکتوب کا مضمون یہ تھا:
’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
محمد بن عبداللہﷺ کی طرف سے جلندری کے دونوں صاحبزادوں، جیفر اور عبد کے نام۔
اس شخص پر سلام ہو جس نے ہدایت اختیار کی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTشاہِ عمان — اہم نکات ⌄
- ✓حضرت عمرو بن العاصؓ نے رسولِ اکرم ﷺ کا سربمہر مکتوب شاہِ عمان جیفر کے حوالے کیا۔
- ✓شاہ نے خط پڑھنے کے بعد قریش اور اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کے بارے میں سوالات کئے۔
- ✓بادشاہ کی سب سے بڑی تشویش اپنی بادشاہت اور سیاسی حیثیت تھی۔
- ✓حضرت عمروؓ نے اسلام قبول کرنے پر حکمرانی برقرار رہنے کی بات واضح کی۔
- ✓شاہ نے اپنے بھائی عبد سے خلوت میں مشورہ کیا۔
- ✓اگلے روز جیفر اور عبد دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔
اما بعد! میں تم دونوں کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔
اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔
میں تمام انسانوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، تاکہ جو زندہ ہیں انہیں انجام کے خطرے سے آگاہ کروں اور کافروں پر قولِ حق ثابت ہوجائے۔
اگر تم دونوں اسلام کا اقرار کرلو گے تو تم دونوں ہی کو والی اور حاکم بنائے رکھوں گا، اور اگر تم دونوں نے اسلام کا اقرار کرنے سے گریز کیا تو تمہاری بادشاہی ختم ہوجائے گی، تمہاری سرزمین پر گھوڑوں کی یلغار ہوگی اور تمہاری بادشاہی پر میری نبوت غالب آجائے گی۔‘
مزید پڑھیں
خط پڑھنے کے بعد بادشاہ نے اسے اپنے بھائی عبد کے حوالے کردیا۔
عبد نے بھی خط پڑھا۔
اس کے بعد شاہِ عمان نے حضرت عمروؓ سے پوچھا:
’بتاؤ، قریش نے کیا روش اختیار کی ہے؟‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’سب رسول اللہﷺ کے اطاعت گزار ہوگئے ہیں۔
کچھ نے دین کی رغبت سے اسلام قبول کیا اور کچھ تلوار کے خوف سے اطاعت پر آمادہ ہوئے۔‘
شاہِ عمان نے پوچھا:
’ان کے ساتھ کون لوگ ہیں؟‘
i OVERSEAS POST | FACT BOXمکتوبِ عمان — فیکٹ باکس ⌄
- ایلچی
- حضرت عمرو بن العاصؓ
- مکتوب کے مخاطب
- جیفر اور عبد
- مرکزی دعوت
- اسلام لاؤ، سلامت رہو گے
- شاہ کا خدشہ
- بادشاہت کا مستقبل
- فیصلہ
- دونوں بھائیوں نے اسلام قبول کرلیا
- بعد کی ذمہ داری
- حضرت عمروؓ کو صدقات وصول کرنے اور فیصلے کرنے کی آزادی
حضرت عمروؓ نے فرمایا:
’لوگ ان کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے اسلام کو بہ رضا و رغبت قبول کیا ہے۔
اب میں اس علاقے میں تمہارے سوا کسی اور کو باقی نہیں جانتا۔
اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا اور محمدﷺ کی پیروی نہ کی تو سوار تمہیں روند ڈالیں گے اور تمہاری ہریالی کا صفایا کردیں گے۔
اس لئے اسلام قبول کرلو، سلامت رہو گے۔
رسولِ اکرمﷺ تمہیں تمہاری قوم کا حکمران برقرار رکھیں گے، پھر تمہارے علاقے میں نہ سوار داخل ہوں گے اور نہ پیادے۔‘
بادشاہ نے کہا:
’مجھے آج کے لئے مہلت دو اور کل دوبارہ آنا۔‘
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
حضرت عمرو بن العاصؓ چند روز عبد کے پاس رہے، پھر شاہِ عمان جیفر سے ملاقات ہوئی اور رسولِ اکرم ﷺ کا مکتوب پیش کیا گیا۔
شاہ نے خط پڑھنے کے بعد قریش، اسلام کے پھیلاؤ اور اپنی حکمرانی کے مستقبل سے متعلق سوالات کئے۔
عبد سے مشورے اور غور و فکر کے بعد اگلے روز دونوں بھائیوں نے حضرت عمروؓ کے سامنے اسلام قبول کرلیا اور نبی اکرم ﷺ کی تصدیق کردی۔
بادشاہ کی کشمکش
اگلے دن حضرت عمروؓ دوبارہ شاہِ عمان کے دربار میں گئے، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
وہ واپس عبد کے پاس آئے۔
عبد نے دوبارہ اپنے بھائی سے بات کی اور بالآخر حضرت عمروؓ کی ملاقات بادشاہ سے کرا دی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISبادشاہ کی کشمکش کیا تھی؟ ⌄
شاہِ عمان کے سامنے مذہبی دعوت کے ساتھ اقتدار اور سیاسی وقار کا سوال بھی تھا۔
بادشاہ نے حضرت عمروؓ سے کہا:
’میں نے تمہاری دعوت کے بارے میں بہت غور کیا ہے۔
اگر میں اپنی بادشاہت ایسے آدمی کے حوالے کردوں جس کے شہسوار ابھی یہاں تک نہیں پہنچے تو عرب میں مجھے سب سے کمزور آدمی سمجھا جائے گا، اور اگر اس کے شہسوار یہاں پہنچ گئے تو ایسا رن پڑے گا جس کا انہیں پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا ہوگا۔‘
حضرت عمروؓ نے جواب دیا:
’اچھا! پھر میں کل یہاں سے واپس جا رہا ہوں۔‘
حضرت عمروؓ کے واپس جانے کا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد بادشاہ نے اپنے بھائی عبد سے تنہائی میں مشورہ کیا۔
گفتگو کے دوران اس نے اپنے بھائی سے کہا:
’یہ پیغمبرﷺ جن لوگوں پر غالب آچکے ہیں، ان کے مقابلے میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ انہوںﷺ نے جس کے پاس بھی اپنا پیغام بھیجا، اس نے ان کی دعوت قبول کرلی۔‘
↳ OVERSEAS POST | TIMELINEشاہِ عمان سے ملاقات — مرحلہ وار ⌄
- مرحلہ 1
- عبد نے حضرت عمروؓ کو شاہ کے دربار تک پہنچایا۔
- مرحلہ 2
- رسولِ اکرم ﷺ کا سربمہر مکتوب پیش کیا گیا اور پڑھا گیا۔
- مرحلہ 3
- شاہ نے قریش اور اسلام کے پھیلاؤ پر سوالات کئے۔
- مرحلہ 4
- بادشاہ نے مہلت مانگی اور اپنی سیاسی تشویش ظاہر کی۔
- مرحلہ 5
- عبد سے مشورے کے بعد دونوں بھائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔
دونوں بھائیوں کا قبولِ اسلام
اگلے روز حضرت عمرو بن العاصؓ کی روانگی سے قبل شاہِ عمان نے انہیں دوبارہ بلوایا۔
اس مرتبہ صورتِ حال بدل چکی تھی۔
جیفر اور عبد، دونوں بھائیوں نے حضرت عمروؓ کے سامنے اسلام قبول کرلیا اور نبی اکرمﷺ کی رسالت کی تصدیق کردی۔
اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو عمان میں صدقات وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کی پوری آزادی دے دی۔
✉ OVERSEAS POST | LETTERمکتوب کے بنیادی نکات ⌄
- 1خط کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا۔
- 2مکتوب جیفر اور عبد، دونوں بھائیوں کے نام تھا۔
- 3انہیں اسلام قبول کرنے اور سلامتی کی دعوت دی گئی۔
- 4رسول اللہ ﷺ نے اپنی رسالت کو تمام انسانوں کے لئے بیان فرمایا۔
- 5اسلام قبول کرنے کی صورت میں حکمرانی برقرار رکھنے کا ذکر تھا۔
- 6انکار کی صورت میں بادشاہت کے زوال سے خبردار کیا گیا۔
جو شخص حضرت عمروؓ کی مخالفت کرتا، عمان کے دونوں حکمران اس کے مقابلے میں حضرت عمروؓ کا ساتھ دیتے۔
یوں رسولِ اکرمﷺ کا دعوتی مکتوب اور حضرت عمرو بن العاصؓ کی حکمت، بصیرت اور مدلل گفتگو عمان میں اسلام کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنی، اور عمان کے دونوں حکمرانوں نے بالآخر رسول اللہﷺ کی دعوت قبول کرکے اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔