عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
اسلام کا پیغام جزیرۂ عرب کی حدود سے آگے پہنچانے کے لیے رسولِ اکرمﷺ نے مختلف حکمرانوں کو خطوط ارسال فرمائے۔ حاکمِ دمشق حارث بن شمر نے سخت ردِعمل ظاہر کیا، یمامہ کے حاکم ہوذہ بن علی نے اسلام قبول کرنے کو اقتدار میں شراکت سے مشروط کیا، جبکہ مصر کے مقوقس نے نبوی مکتوب کا احترام کیا اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ سے تفصیلی گفتگو کی۔
یہ واقعات عہدِ نبوی ﷺ کی دعوت، سفارت کاری اور حکمرانوں کے سامنے حق پہنچانے کی تاریخی تصویر پیش کرتے ہیں۔
4/10
رسولِ اکرمﷺ نے اسلام کا پیغام صرف جزیرۂ عرب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے عہد کے مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کو بھی خطوط روانہ فرمائے اور انہیں توحید، رسالت اور اسلام کی دعوت دی۔
ان خطوط کو پہنچانے کے لیے آپﷺ نے ایسے جلیل القدر صحابہؓ کا انتخاب فرمایا جو کردار، فہم، جرأت اور سفارتی بصیرت میں نمایاں تھے۔
انہی خطوط میں حاکمِ دمشق حارث بن شمر الغسانی، حاکمِ یمامہ ہوذہ بن علی الحنفی اور شاہِ مصر مقوقس کے نام بھیجے گئے مکاتیب بھی شامل ہیں۔
حاکمِ دمشق
واقدی نے لکھا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے حاکمِ دمشق حارث بن شمر الغسانی کو بھی مکتوبِ گرامی روانہ فرمایا۔
اس اہم ذمہ داری کے لیے آپﷺ نے جلیل القدر صحابی حضرت شجاع بن وہبؓ کا انتخاب فرمایا، جنہوں نے یہ مکتوب حاکمِ دمشق تک پہنچایا۔
مزید پڑھیں
مکتوبِ گرامی کا متن تھا:
’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے حارث بن شمر کے نام۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے، ایمان لے آئے اور تصدیق کرے۔
میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ، جو وحدہٗ لاشریک ہے۔
تمہارے لیے تمہاری بادشاہی باقی رہے گی۔‘
مکتوبِ گرامی ملنے پر حارث بن شمر چراغ پا ہوگیا اور رسولِ اکرم ﷺ کے فرستادے حضرت شجاعؓ سے کہا:
’’مجھ سے میری بادشاہی کون چھین سکتا ہے؟
میں مدینہ منورہ پر یلغار کرنے والا ہوں۔‘
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTرسولِ اکرم ﷺ کے خطوطِ دعوت — اہم نکات ⌄
- ✓رسولِ اکرم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کو خطوط بھیج کر اسلام، توحید اور ہدایت کی دعوت دی۔
- ✓حاکمِ دمشق حارث بن شمر الغسانی کے پاس حضرت شجاع بن وہبؓ مکتوب لے کر گئے۔
- ✓حاکمِ یمامہ ہوذہ بن علی الحنفی نے اسلام قبول کرنے کے لیے اقتدار میں حصہ مانگا، مگر یہ شرط قبول نہ ہوئی۔
- ✓شاہِ مصر مقوقس کے پاس حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ رسولِ اکرم ﷺ کا مکتوب لے کر پہنچے۔
- ✓مقوقس نے نبوی مکتوب کا احترام کیا اور حضرت حاطبؓ سے تفصیلی گفتگو کی، لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔
- ✓یہ واقعات عہدِ نبوی ﷺ میں دعوت، سفارت اور حکمرانوں تک براہِ راست پیغام رسانی کی ایک اہم تاریخی تصویر پیش کرتے ہیں۔
واقدی کا کہنا ہے کہ حاکمِ دمشق ایمان نہ لایا اور مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تیاری کرنے لگا، مگر شاہِ روم قیصر نے اسے ایسا کرنے سے منع کردیا۔
حضرت شجاعؓ کے حوالے سے واقدی نے لکھا ہے کہ شاہِ دمشق نے اسلام قبول نہیں کیا، البتہ اس کے ایک رومی دربان، جس کا نام مری بتایا جاتا ہے، نے اسلام قبول کرلیا۔
حاکمِ یمامہ
رسولِ اکرمﷺ نے یمامہ کے حاکم ہوذہ بن علی الحنفی کو بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے مکتوب روانہ فرمایا۔
یہ گرامی نامہ جلیل القدر صحابی حضرت سلیط بن عمرو العامریؓ کے ذریعے بھیجا گیا۔
حضرت سلیطؓ جب یمامہ پہنچے تو حاکمِ یمامہ نے ان کی تکریم کی اور انہیں اپنا مہمان بنایا۔
ہوذہ بن علی کے نام رسولِ اکرمﷺ کے مکتوبِ گرامی کا متن تھا:
’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے ہوذہ بن علی کے نام۔
اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔
تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میرا دین اونٹوں اور گھوڑوں کی رسائی کی آخری حد تک غالب آکر رہے گا۔
لہٰذا اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔
تمہارے ماتحت جو کچھ ہے، اسے تمہارے لیے برقرار رکھوں گا۔‘
i OVERSEAS POST | FACT BOXتین حکمران، تین قاصد — فیکٹ باکس ⌄
- حاکمِ دمشق
- حارث بن شمر الغسانی
- قاصد
- حضرت شجاع بن وہبؓ
- حاکمِ یمامہ
- ہوذہ بن علی الحنفی
- قاصد
- حضرت سلیط بن عمرو العامریؓ
- شاہِ مصر
- مقوقس
- قاصد
- حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ
- مرکزی پیغام
- اسلام لاؤ، ہدایت کی پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک مانو
- تینوں کا نتیجہ
- تینوں حکمرانوں نے مختلف ردِعمل دیا، مگر اسلام قبول نہ کیا
ہوذہ نے جب مکتوبِ گرامی پڑھا تو اس نے اسلام قبول کرنے کے لیے یہ شرط عائد کی کہ اسے بھی کارپردازی اور اقتدار میں حصہ دار بنایا جائے۔
اس نے حضرت سلیطؓ کو تحائف دیئے اور رسولِ اکرمﷺ کے نام ایک جوابی مکتوب بھی روانہ کیا، جس کا متن تھا:
’آپﷺ جس چیز کی دعوت دیتے ہیں، اس کی بہتری اور عمدگی کا کیا کہنا۔
عرب پر میری ہیبت بیٹھی ہوئی ہے۔
میں آپﷺ کی پیروی کروں گا، مگر کچھ کارپردازی میرے ذمہ بھی کریں۔‘
نبی کریمﷺ نے جب ہوذہ کا خط پڑھا تو فرمایا:
’اگر وہ زمین کا ایک ٹکڑا بھی مجھ سے طلب کرے گا تو میں اسے نہ دوں گا۔
وہ خود بھی تباہ ہوگا اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے، وہ بھی تباہ ہوگا۔‘
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ خطوط کیوں اہم ہیں؟ ⌄
یہ مکاتیب تین سطحوں پر غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں:
فتحِ مکہ کے بعد جب رسولِ اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو حضرت جبریلؑ نے آپﷺ کو ہوذہ کے انتقال کی خبر دی۔
اس موقع پر آپﷺ نے فرمایا:
’یمامہ میں ایک کذاب نمودار ہونے والا ہے جو میرے بعد قتل کیا جائے گا۔‘
آپﷺ کا اشارہ مسیلمہ کذاب کی طرف تھا، جسے بعدازاں جنگِ یمامہ میں قتل کردیا گیا۔
شاہِ مصر
رسولِ اکرمﷺ نے شاہِ مصر و اسکندریہ کے نام بھی مکتوب روانہ فرمایا۔
شاہِ مصر و اسکندریہ کا لقب مقوقس تھا۔
بعض مورخین نے اس کا نام جریج بن مینا اور بعض نے جریج بن متی لکھا ہے۔
اس مکتوبِ گرامی کو پہنچانے کے لیے رسولِ اکرمﷺ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کا انتخاب فرمایا۔
↻OVERSEAS POST | SEQUENCEدعوتی خطوط — ترتیبِ واقعات⌄
شاہِ مصر و اسکندریہ عیسائی تھا۔
جب حضرت حاطبؓ اس کے دربار میں پہنچے تو اس نے ان کی تعظیم و تکریم کی۔
حضرت حاطبؓ نے مقوقس اور اس کے درباریوں کے سامنے جس بے باکی، اعتماد اور حکمت سے گفتگو کی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے کس قدر مضبوط کردار اور پختہ ذہن رکھنے والی شخصیات تیار کی تھیں۔
حضرت حاطبؓ نے مقوقس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’مصر میں تم سے پہلے ایک شخص، فرعون، گزرا ہے جو خود کو ربِ اعلیٰ کہتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اسے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عبرت بنادیا۔
پہلے اس کے ذریعے لوگوں سے انتقام لیا گیا، پھر خود اسے انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
لہٰذا اس سے عبرت پکڑو، ایسا نہ ہو کہ تم دوسروں کے لیے عبرت بن جاؤ۔‘
◆OVERSEAS POST | ENVOYSنبوی قاصد کون تھے؟⌄
مقوقس نے جواب دیا:
’ہم اپنے دین کو چھوڑ نہیں سکتے، جب تک اس سے بہتر کوئی دین ہمیں نہ مل جائے۔‘
حضرت حاطبؓ نے فرمایا:
’ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔
جس طرح حضرت موسیٰؑ نے حضرت عیسیٰؑ کی بشارت دی تھی، اسی طرح حضرت عیسیٰؑ نے حضرت محمدﷺ کی بشارت دی ہے۔
ہم تمہیں قرآنِ مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کو انجیل کی دعوت دیتے ہو۔
ہم تمہیں دینِ مسیح سے روکتے نہیں، بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں۔‘
اس کے بعد مقوقس کو رسولِ اکرمﷺ کا مکتوبِ گرامی پیش کیا گیا۔
بقیہ کل
“OVERSEAS POST | KEY LINESمکتوبات کے نمایاں جملے⌄
حارث بن شمر کے نام: ’’میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ، جو وحدہٗ لاشریک ہے۔‘‘
ہوذہ بن علی کے نام: ’’اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔ تمہارے ماتحت جو کچھ ہے، اسے تمہارے لیے برقرار رکھوں گا۔‘‘
مقوقس کے نام: ’’میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔‘‘