عبد الستار خان
اوورسیز پوسٹ
رسول اکرمﷺ کی طرف سے دنیا کے مختلف حکمرانوں کو بھیجے گئے مکاتیب میں نجاشی اور کسریٰ کے نام خطوط خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
نجاشی نے پیغام کو احترام سے سنا اور اسلام قبول کرلیا، جبکہ کسریٰ نے غرور میں رسول اکرمﷺ کا خط چاک کردیا۔
بعد میں کسریٰ نے یمن کے عامل باذان کو کارروائی کا حکم دیا، مگر اسی دوران اس کے قتل کی خبر آگئی۔
یہ دونوں واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پیغام ایک تھا، مگر فیصلہ ہر مخاطب نے اپنے رویے سے کیا۔
2/10
رسول اکرمﷺ کی طرف سے روانہ کئے گئے خطوط میں جو بات نمایاں طور پر واضح ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام عالمگیر دین ہے۔
اس دین کو پھیلانے اور دعوت کو عام کرنے کے لئے رسول اکرمﷺ نے اس وقت موجود تمام وسائل کو استعمال کیا، جن میں سے ایک یہ خطوط بھی تھے۔
رسول اکرمﷺ کی طرف سے روانہ کئے گئے تمام خطوط پر آپﷺ کی مہر ثبت تھی۔
آپﷺ کی مہر آپﷺ کی انگوٹھی میں ہوا کرتی تھی، جس پر اوپر اللہ، درمیان میں محمد اور نیچے رسول، یعنی محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTنجاشی اور کسریٰ — اہم نکات ⌄
- ✓رسول اکرم ﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام مکتوب حضرت عمرو بن امیہ الضمریؓ کے ذریعے روانہ فرمایا۔
- ✓نجاشی نے رسول اکرم ﷺ کی دعوت قبول کی اور ان کی وفات پر آپ ﷺ نے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔
- ✓فارس کے شہنشاہ کسریٰ پرویز بن ہرمز کے نام مکتوب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ کے ذریعے پہنچایا گیا۔
- ✓کسریٰ نے رسول اکرم ﷺ کا مکتوب غصے میں چاک کردیا، جس پر آپ ﷺ نے اس کی سلطنت کے بکھرنے کی دعا فرمائی۔
- ✓کسریٰ نے یمن کے عامل باذان کو مدینہ منورہ کی طرف نمائندے بھیجنے کا حکم دیا۔
- ✓رسول اکرم ﷺ نے باذان کے نمائندوں کو کسریٰ کی ہلاکت کی خبر دی، جس کی بعد میں تصدیق ہوگئی۔
مورخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ رسول اکرمﷺ نے سربراہانِ ممالک اور شاہانِ سلطنت کو یہ خطوط کب روانہ کئے، تاہم اکثریت کا خیال ہے کہ یہ خطوط 6ھ، یعنی صلح حدیبیہ کے بعد لکھے گئے۔
تاریخ کی کتابوں میں ایسے 22 خطوط کا حوالہ ملتا ہے جنہیں آپﷺ نے روانہ کیا۔
صلح حدیبیہ کے بعد رسول اکرمﷺ نے توسیعِ دعوت کے لئے 6 صحابہ کرام کو منتخب کیا اور انہیں 6 ممالک کے سربراہان اور بادشاہوں کی طرف روانہ کیا۔
مزید پڑھیں
رسول اکرم ﷺ نے مختلف تاجداروں کو عظیم الروم اور عظیم فارس وغیرہ کہہ کر مخاطب کیا۔
ان خطوط میں مروجہ سفارتی آداب کا اہتمام فرمایا گیا۔
ہر خط کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا گیا اور نہایت مختصر، محتاط اور نپے تلے الفاظ میں مدعا بیان فرمایا گیا۔
ان خطوط میں کمالِ ایجاز کے ساتھ یہ جملہ بھی استعمال ہوا:
’’اَسلِم تَسلَم‘‘ — اسلام لاؤ، سلامتی پاؤ گے۔
آپﷺ نے ہر حکمران کو مخاطب کرتے ہوئے اس کے مذہب اور مخصوص حالات کو پیش نظر رکھا اور ہر حکمران کی طرف اس کی زبان جاننے والے سفیر کو روانہ فرمایا۔
حضرت نجاشیؒ
رسول اکرمﷺ کے زمانے میں حبشہ خطے کا ایک اہم اور طاقتور ملک تصور کیا جاتا تھا۔ حبشہ کے باشندے عیسائی تھے۔
رسول اکرمﷺ نے حبشہ کے بادشاہ حضرت نجاشیؒ کی طرف حضرت عمرو بن امیہ الضمریؓ کو مکتوب دے کر روانہ کیا۔
مورخین کی کتابوں میں نجاشی کی طرف روانہ کئے گئے مکتوب کے دو متن ملتے ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXنجاشی اور کسریٰ: فیکٹ باکس ⌄
- حبشہ کے حکمران
- نجاشی
- حبشہ کے سفیر
- حضرت عمرو بن امیہ الضمریؓ
- نجاشی کا ردعمل
- دعوتِ اسلام قبول کی
- فارس کے حکمران
- کسریٰ پرویز بن ہرمز
- فارس کے سفیر
- حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ
- کسریٰ کا ردعمل
- مکتوب چاک کردیا
- اہم واقعہ
- باذان کے نمائندوں کو کسریٰ کی ہلاکت کی خبر
- مرکزی سبق
- ایک ہی دعوت، مگر دو مختلف فیصلے
ایک متن میں دعوت دی گئی:
’آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے‘۔
حضرت نجاشیؒ کے نام روانہ کئے گئے مکتوب گرامی میں ہے کہ:
’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی طرف۔
اسلام قبول کیجئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ وہ الملک، القدوس، السلام، المؤمن اور المہیمن ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام روح اللہ اور اس کا کلمہ تھا جو مریم البتول الطاہرہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح پیدا کیا جس طرح حضرت آدم علیہ السلامکو پیدا کیا تھا۔
میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کی طرف۔
اس کی اطاعت کرو اور اس کا کہا مانو۔
پھر میری اتباع کرو، مجھ پر ایمان لاؤ اور اس پر ایمان لاؤ جو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔
میں تمہیں اور تمہاری فوج کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔
میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہاری طرف پہنچا دیا اور تمہیں نصیحت کی۔
میری نصیحت قبول کرو۔ سلام ہے اس پر جس نے ہدایت قبول کی‘۔
حضرت نجاشیؒ نے رسول اکرمﷺ کی دعوت قبول کی اور ایمان لے آئے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISدو خطوط، دو فیصلے — یہ قسط کیوں اہم ہے؟ ⌄
نجاشی اور کسریٰ کے واقعات تین سطحوں پر خاص اہمیت رکھتے ہیں:
ابو موسیٰ المدینی نے ایک روایت نقل کی ہے، اگرچہ اس کی سند واضح نہیں، کہ نجاشی نے رسول اکرمﷺ کے مکتوب کا جواب اپنے بیٹے کے ذریعے روانہ کیا تھا، مگر سفر کے دوران کشتی ڈوب جانے کی وجہ سے وہ مکتوب رسول اکرمﷺ تک نہ پہنچ سکا۔
نجاشی کی وفات کی خبر ملنے پر رسول اکرمﷺ نے ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا فرمائی۔
شاہِ فارس
رسول اکرمﷺ نے فارس کے شہنشاہ کسریٰ پرویز بن ہرمز کو بھی مکتوب روانہ کیا۔
یہ مکتوب حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمیؓ کے ذریعے بھیجا گیا۔
حضرت عبداللہؓ نے مکتوب بحرین کے سربراہ کے حوالے کیا، جس کے ذریعے وہ کسریٰ تک پہنچا، مگر کسریٰ نے رسول اکرمﷺ کا خط چاق دیا۔
جب رسول اکرمﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپﷺ نے اس کے اقتدار کے بکھر جانے کی دعا فرمائی۔
کسریٰ نے یمن میں اپنے عامل باذان کو حکم دیا کہ وہ اپنے دو نمائندے حجاز بھیجے۔
جب وہ رسول اکرمﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپﷺ نے انہیں اگلے دن آنے کا فرمایا۔
اگلے روز آپ ﷺ نے فرمایا:
’جاؤ، اپنے بادشاہ باذان سے کہو کہ میرے رب نے اس کے رب، یعنی کسریٰ کو آج رات ہلاک کر دیا ہے‘۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اسی رات کسریٰ کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا تھا۔
اس خبر کی تصدیق ہونے پر دونوں قاصد اسلام لے آئے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
مدینہ منورہ سے دو اہم خطوط روانہ ہوئے۔ ایک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پہنچا، جس نے پیغام کو احترام سے سنا اور رسول اکرم ﷺ کی دعوت قبول کرلی۔
دوسرا مکتوب فارس کے طاقتور شہنشاہ کسریٰ کے دربار میں پہنچا۔ کسریٰ نے خط کو غصے میں چاک کردیا اور یمن کے عامل باذان کو مدینہ کی طرف نمائندے بھیجنے کا حکم دیا۔
جب باذان کے نمائندے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں کسریٰ کی ہلاکت کی خبر دی۔ بعد میں اس خبر کی تصدیق ہوئی۔ یوں ایک ہی دعوت کے سامنے دو حکمرانوں کے دو فیصلے تاریخ میں دو مختلف انجام کے طور پر محفوظ ہوگئے۔
امام طبریٰؒ نے کسریٰ کی طرف روانہ کئے گئے اس مکتوب گرامی کا متن نقل کیا ہے جس میں ہے کہ:
’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے فرس کے سربراہ کسریٰ کی طرف۔
سلام اس پر جو ہدایت کو قبول کرے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لے آئے اور جو گواہی دے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو تمام انسانوں کے لئے روانہ کیا گیا ہوں۔
میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔
اسلام قبول کر لو تو تم محفوظ رہو گے ورنہ مجوسیوں کا بھی بار تم پر لاد دیا جائے گا‘۔