براہ راست نشریات

مکاتیب النبیﷺ: قصیرِ روم کے نام خط.. نبوت کی نشانیاں پہچان لیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Heraclius and Abu Sufyan

رسول اللہﷺ نے دنیا کے بڑے حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دی، جن میں قیصرِ روم ہرقل بھی شامل تھا۔
مکتوب ملنے کے بعد ہرقل نے حضرت ابوسفیانؓ کو دربار میں بلا کر رسول اکرمﷺ کے نسب، کردار، پیروکاروں اور تعلیمات کے بارے میں تفصیلی سوالات کئے۔
جوابات سن کر اس نے اعتراف کیا کہ یہ تمام نشانیاں نبوت کی صداقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

3/10

نبی کریمﷺ نے روم کے شہنشاہ قیصر کے نام بھی مکتوب روانہ فرمایا۔ 

اس دور میں فارس اور روم دنیا کی دو عظیم سلطنتیں تھیں اور رسول اکرمﷺ نے دونوں سلطنتوں کے سربراہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ 

قیصرِ روم کے نام بھیجے گئے مکتوبِ گرامی کا واقعہ نہایت دلچسپ اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

امام بخاریؒ نے اپنی کتاب ’صحیح البخاری‘ میں نہ صرف اس مکتوبِ گرامی کا متن نقل کیا ہے بلکہ اس سے متعلق دیگر اہم تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔

شاہِ روم کے پاس مکتوب پہنچانے کے لیے رسول اللہﷺ کی نظرِ انتخاب حضرت دحیہ بن خلیفہ الکلبیؓ پر پڑی۔ 

آپﷺ نے انہیں حکم دیا کہ مکتوب سربراہِ بُصریٰ کے حوالے کر دیں اور وہ اسے قیصرِ روم تک پہنچا دے گا۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTقیصرِ روم کے نام مکتوب — اہم نکات
  • رسول اللہ ﷺ نے روم کے شہنشاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے مکتوب روانہ فرمایا۔
  • مکتوب لے جانے کی ذمہ داری حضرت دحیہ بن خلیفہ الکلبیؓ کو دی گئی۔
  • ہرقل نے شام میں موجود ابوسفیانؓ کو دربار میں بلایا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تفصیلی سوالات کئے۔
  • ابوسفیانؓ نے نسب، سچائی، پیروکاروں اور دعوت کے بارے میں وہ حقائق بیان کئے جو ہرقل کے نزدیک نبوت کی علامات تھے۔
  • ہرقل نے اعتراف کیا کہ اگر یہ معلومات درست ہیں تو رسول اللہ ﷺ کی حکومت اس کی سرزمین تک پہنچے گی۔
  • یہ واقعہ صحیح البخاری میں تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔
overseaspost.net

مزید پڑھیں

مکتوبِ گرامی کا متن یہ تھا:

’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ کی جانب سے ہرقل، عظیمِ روم کی طرف۔ 

اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت قبول کی۔ 

اما بعد! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ 

اسلام قبول کرو تو تم محفوظ ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ 

اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی تو تمہارے ماتحت لوگوں کا گناہ بھی تمہارے سر ہوگا۔

اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ 

اگر تم اس دعوت کو قبول نہ کرو تو گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں‘۔

مکتوبِ گرامی موصول ہونے کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے۔

ان دنوں حضرت ابوسفیان بن حربؓ قریش کی ایک جماعت کے ساتھ تجارت کی غرض سے شام میں موجود تھے۔ 

یہ صلحِ حدیبیہ کے بعد کا زمانہ تھا اور اس وقت تک حضرت ابوسفیانؓ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے۔

ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں بلوایا۔ 

اس موقع پر ہرقل اور ابوسفیانؓ کے درمیان رسول اللہﷺ کے بارے میں ایک طویل اور نہایت اہم گفتگو ہوئی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXمکتوبِ قیصر: فیکٹ باکس
مکتوب بھیجنے والے
رسول اللہ محمد ﷺ
مکتوب وصول کرنے والا
ہرقل، قیصرِ روم
قاصد
حضرت دحیہ بن خلیفہ الکلبیؓ
زمانہ
صلحِ حدیبیہ کے بعد
اہم گواہ
ابوسفیان بن حربؓ
مرکزی دعوت
اسلام قبول کرو، سلامتی پاؤ
قرآنی دعوت
سورۂ آل عمران، آیت 64
بنیادی ماخذ
صحیح البخاری
overseaspost.net

حضرت ابوسفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ ہرقل نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا۔ 

اس وقت روم کے بڑے بڑے سردار اور اکابرین بھی دربار میں موجود تھے۔

ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا اور کہا:

’قریش کی اس جماعت سے پوچھو کہ ان میں رسول اکرمﷺ کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار کون ہیں؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’میں رسول اکرمﷺ کا سب سے زیادہ قریب النسب ہوں۔‘

ہرقل نے حکم دیا:

’اسے میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب لا کر اس کی پشت کے پیچھے بٹھا دو۔‘

پھر ہرقل نے ترجمان سے کہا:

’ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں رسول اکرمﷺ کے متعلق ابوسفیان سے کچھ سوالات کروں گا۔ اگر یہ جھوٹ بولے تو اس کے ساتھی اسے جھٹلا دیں۔‘

OVERSEAS POST | ANALYSISمکتوبِ گرامی کا مرکزی پیغام

مکتوب میں ہرقل کو نہایت واضح اور مختصر انداز میں تین بنیادی باتوں کی دعوت دی گئی:

اسلام کی دعوتاسلام قبول کرنے پر سلامتی اور دوہرے اجر کی بشارت دی گئی۔
توحیداللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے اور کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کی دعوت دی گئی۔
ذمہ داریدعوت سے روگردانی کی صورت میں ماتحت رعایا کے گناہ کی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا۔
قرآنی بنیاد: مکتوب میں اہلِ کتاب کو سورۂ آل عمران کی آیت 64 کے مضمون کی طرف بلایا گیا۔
overseaspost.net

ہرقل نے سب سے پہلے رسول اکرمﷺ کے نسب کے متعلق پوچھا۔

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’وہ ہمارے درمیان بلند نسب رکھتے ہیں۔‘

ہرقل نے پوچھا:

’کیا نبوت کا یہ دعویٰ اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے کیا تھا؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے نفی میں جواب دیا۔

ہرقل نے پوچھا:

’کیا انﷺ کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔

ہرقل نے دریافت کیا:

’رسول اکرمﷺ کی پیروی معاشرے کے معزز اور طاقتور طبقے کے لوگ کرتے ہیں یا کمزور لوگ؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’ان ﷺ کی پیروی کرنے والوں کی اکثریت کمزور لوگوں پر مشتمل ہے۔‘

ہرقل نے پوچھا:

’انﷺ کی پیروی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDدربارِ ہرقل تک بات کیسے پہنچی؟

پس منظر

  • صلحِ حدیبیہ کے بعد کا زمانہ تھا۔
  • ابوسفیانؓ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
  • وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ شام میں موجود تھے۔

ہرقل کا طریقۂ تحقیق

  • ابوسفیانؓ کو قریب بٹھایا گیا۔
  • ان کے ساتھیوں کو پیچھے رکھا گیا تاکہ جھوٹ پر فوراً ٹوک سکیں۔
  • سوالات نسب، کردار، پیروکاروں، جنگ اور تعلیمات کے بارے میں تھے۔

یہ مکالمہ محض سیاسی ملاقات نہیں تھا؛ ہرقل نے نبوت کے دعوے کو جانچنے کے لیے منظم سوالات کئے۔

overseaspost.net

ہرقل نے سوال کیا:

’کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس سے ناراض ہو کر مرتد بھی ہوا ہے؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے نفی میں جواب دیا۔

ہرقل نے پوچھا:

’کیا نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی انہیں جھوٹ بولتے دیکھا تھا؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے کہا:

’نہیں۔‘

ہرقل نے پوچھا:

’کیا وہﷺ کبھی بدعہدی بھی کرتے ہیں؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’نہیں، البتہ اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان صلح کا معاہدہ ہے، معلوم نہیں کہ آئندہ وہ کیا کریں گے۔‘

ہرقل نے پھر پوچھا:

’کیا تم لوگوں نے انﷺ سے جنگ بھی کی ہے؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے اثبات میں جواب دیا۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

رسول اللہ ﷺ نے قیصرِ روم ہرقل کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ایک مکتوب بھیجا، جسے حضرت دحیہ الکلبیؓ لے کر روانہ ہوئے۔

ہرقل نے شام میں موجود ابوسفیانؓ کو بلایا اور رسول اللہ ﷺ کے نسب، سچائی، پیروکاروں، جنگوں اور تعلیمات کے بارے میں سوالات کئے۔

ابوسفیانؓ کے جوابات سن کر ہرقل نے کہا کہ یہ اوصاف انبیاء کی علامات سے مطابقت رکھتے ہیں اور اگر یہ باتیں درست ہیں تو رسول اللہ ﷺ کی حکومت اس خطے تک پہنچے گی۔

overseaspost.net

ہرقل نے پوچھا:

’تمہاری اور ان کی جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے جواب دیا:

’جنگ ہمارے درمیان برابر رہی ہے۔ کبھی وہ ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں اور کبھی ہم انہیں۔‘

ہرقل نے پوچھا:

’وہﷺ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟‘

حضرت ابوسفیانؓ نے کہا:

’وہﷺ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور اپنے باپ دادا کی باطل باتوں کو چھوڑ دو۔ 

وہ ہمیں نماز، سچائی، پرہیزگاری، پاک دامنی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتے ہیں۔‘

یہ تمام جوابات سننے کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا:

’ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس نبیﷺ کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ بلند نسب رکھتے ہیں۔ 

پیغمبروں کے بارے میں دستور یہی رہا ہے کہ وہ اپنی قوم کے معزز خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں۔

OVERSEAS POST | SOURCESواقعے کی مختصر ٹائم لائن

ٹائم لائن مضمون میں دی گئی روایتی ترتیب کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

overseaspost.net

میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان سے پہلے تم میں سے کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟ تم نے جواب دیا کہ نہیں۔ 

اگر ان سے پہلے کسی نے ایسا دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہتا کہ وہﷺ اپنے سے پہلے شخص کی نقالی کر رہے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ کیا انﷺ کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ 

تم نے اس کا بھی جواب نفی میں دیا۔ 

اگر ان کے خاندان میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ وہﷺ اپنے آباء و اجداد کی بادشاہت واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

میں نے تم سے پوچھا کہ کیا نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی انہیں جھوٹ بولتے دیکھا تھا؟ تم نے کہا کہ نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جو شخص لوگوں کے بارے میں جھوٹ نہ بولتا ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔

میں نے پوچھا کہ انﷺ کی پیروی کرنے والے لوگ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ 

تم نے بتایا کہ زیادہ تر کمزور لوگ ہیں۔ 

حقیقت یہی ہے کہ ابتدا میں پیغمبروں کی پیروی کرنے والے زیادہ تر کمزور ہی ہوتے ہیں۔

1111 3
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہرقل کو بھیجے گئے خط سے منسوب ایک نسخے کی تصویر، تاہم اس بات کے قطعی شواہد موجود نہیں کہ یہی اصل دستاویز ہے۔

میں نے پوچھا کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ 

تم نے بتایا کہ ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 

ایمان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے۔

میں نے پوچھا کہ کیا اس دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص دین سے بیزار ہو کر مرتد ہوا؟ تم نے جواب دیا کہ نہیں۔ 

حقیقت یہی ہے کہ جب ایمان کی حلاوت دل میں اتر جاتی ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTہرقل نے ابوسفیانؓ سے کیا پوچھا؟
  • ؟رسول اللہ ﷺ کا نسب کیسا ہے؟
  • ؟کیا اس سے پہلے کسی نے نبوت کا ایسا دعویٰ کیا تھا؟
  • ؟کیا آپ ﷺ کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟
  • ؟آپ ﷺ کے پیروکار کمزور ہیں یا بااثر؟
  • ؟پیروکاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟
  • ؟کیا کوئی دین قبول کرنے کے بعد مرتد ہوا؟
  • ؟کیا آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ بولا یا بدعہدی کی؟
  • ؟جنگوں کا نتیجہ کیا رہا اور آپ ﷺ کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟
overseaspost.net

میں نے پوچھا کہ کیا وہﷺ بدعہدی کرتے ہیں؟ تم نے کہا کہ نہیں۔ 

حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر بدعہدی نہیں کرتے۔‘‘

اس کے بعد بادشاہِ روم نے کہا:

’میں نے پوچھا کہ وہﷺ کن باتوں کا حکم دیتے ہیں تو تم نے بتایا کہ وہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت، شرک سے اجتناب، نماز، سچائی، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ 

اگر تمہاری بیان کردہ تمام باتیں درست ہیں تو وہ واقعی نبی ہیں۔

میں جانتا تھا کہ ایک نبی کے ظہور کا زمانہ قریب ہے، مگر مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ عربوں میں ہوں گے۔ 

اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں انﷺ تک پہنچ سکوں گا تو میں ہر مشقت برداشت کرکے ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے قدم دھوتا۔ 

ان کی حکومت یہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں آج میرے قدم ہیں۔‘

2222
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہرقل کو بھیجے گئے خط سے منسوب ایک نسخے کی تصویر، تاہم اس بات کے قطعی شواہد موجود نہیں کہ یہی اصل دستاویز ہے۔

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ہرقل نے بعد ازاں اپنے دربار کے دروازے بند کروا دیئے اور روم کے بڑے لوگوں کو جمع کرکے انہیں رسول اکرمﷺ کی دعوت قبول کرنے کی طرف راغب کرنا چاہا۔

جب وہاں موجود لوگوں نے اس بات پر شدید ردِعمل ظاہر کیا اور دروازوں کی طرف دوڑے تو ہرقل نے اپنی بادشاہی کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے انہیں واپس بلایا اور کہا کہ وہ صرف ان کے دین پر ثابت قدم رہنے کو آزما رہا تھا۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXابوسفیانؓ کے اہم جوابات
نسب
بلند اور معزز
پرانا دعویٰ
کسی نے پہلے ایسا دعویٰ نہیں کیا
بادشاہت
آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ نہیں
پیروکار
زیادہ تر کمزور لوگ
تعداد
مسلسل بڑھ رہی تھی
ارتداد
کوئی ایمان سے بیزار ہو کر واپس نہیں گیا
کردار
کبھی جھوٹ یا بدعہدی معروف نہیں
تعلیمات
توحید، نماز، سچائی، پاک دامنی اور صلہ رحمی
overseaspost.net

ہرقل کے دربار سے باہر آنے کے بعد حضرت ابوسفیانؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:

’محمدﷺ کا معاملہ بہت بڑھ گیا ہے۔ 

اب تو رومیوں کا بادشاہ بھی ان سے خوف کھاتا ہے۔‘

حضرت ابوسفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد میرے دل میں یہ یقین مسلسل پختہ ہوتا گیا کہ رسول اکرمﷺ کا دین غالب ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اسلام میں داخل کر دیا۔

الرحیق المختوم میں شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ نے لکھا ہے کہ اس مکتوبِ مبارک کا اثر یہ ہوا کہ قیصرِ روم نے رسول اللہﷺ کا مکتوب پہنچانے والے حضرت دحیہ الکلبیؓ کو مال اور کپڑوں کے تحائف سے نوازا۔

حضرت دحیہؓ یہ تحائف لے کر واپس روانہ ہوئے، لیکن راستے میں قبیلہ جذام کے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کرکے تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے