پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے درمیان انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی ترمیم بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت حساس مقدمات میں جج، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے گی، جبکہ آڈیو اور ویڈیو مواد کے تحفظ اور آواز تبدیل کرنے جیسی سہولیات بھی زیر غور ہیں۔
حکومت اسے حساس مقدمات میں عدالتی عمل کے تحفظ کا ذریعہ قرار دے سکتی ہے، تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ ایسے اختیارات سیاسی مقدمات، بالخصوص 9 مئی سے متعلق کیسز، میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
معاشرے کو نقصان پہنچانے والے جرائم کے حوالے سے یہ ممالک انتہائی سخت گیر ہیں۔
اس معاملے میں ان کے قوانین بھی خاصے سخت اور طریقہ کار بھی پیچیدہ ہے۔
بعض صورتوں میں ملزم سے جج، پراسیکیوٹر وغیرہ کی شناخت بھی خفیہ رکھی جاتی ہے تاکہ مبادا ملزم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے یا ان پر دباؤ اور دیگر حربے استعمال کرکے انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
اس طریقہ کار کا مقصد فقط ایک ہوتا ہے کہ بہرحال انصاف کا بول بالا ہو اور سوسائٹی کو جرائم سے پاک رکھا جا سکے۔
ایسے جرائم کی تعریف بھی انتہائی واضح ہوتی ہے۔
مبہم تعریف صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ ابہام کے باعث کسی شخص کو اس جرم میں پھنسایا نہ جا سکے۔
جج بھی اس وقت تک ملزم یا ملزمان کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ جرم بغیر کسی شک و شبہے کے ثابت نہ ہو جائے، جبکہ سزا پر عملدرآمد کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
گو کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں معاملات کو معمول پر لانے کی اپنی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں اور اس ضمن میں ایک طرف فتنۃ الخوارج اور دوسری طرف فتنۃ الہندوستان کے خلاف بروئے کار ہیں۔
شنید ہے کہ افغانی فتنۃ الخوارج کو فی الوقت نکیل ڈال دی گئی ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت فی الحال نہیں کہ فتنۃ الہندوستان انہیں دوبارہ متحرک نہیں کرے گا۔
اسی پس منظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں شق 21-AAA کی ترمیم شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق گریڈ 20 کے بیوروکریٹ کو مجاز اتھارٹی کا اختیار دیا جائے گا۔
یہ اتھارٹی ایسے ہائی پروفائل مقدمات میں بروئے کار آتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو آگاہ کرے گی۔
اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت یا ہائی کورٹ کے ایک جج کو تعینات کرے گا، جس کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی، جس کی وجوہات اوپر بیان کر چکا ہوں۔
اسی طرح وکیل، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہان تک کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔