براہ راست نشریات

انسداد دہشت گردی قانون کی نئی ترمیم پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Anti Terrorism Act Pakistan
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے درمیان انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی ترمیم بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت حساس مقدمات میں جج، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے گی، جبکہ آڈیو اور ویڈیو مواد کے تحفظ اور آواز تبدیل کرنے جیسی سہولیات بھی زیر غور ہیں۔
حکومت اسے حساس مقدمات میں عدالتی عمل کے تحفظ کا ذریعہ قرار دے سکتی ہے، تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ ایسے اختیارات سیاسی مقدمات، بالخصوص 9 مئی سے متعلق کیسز، میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

معاشرے میں امن و امان اور سکون برقرار رکھنے کے لیے عموماً قوانین بنائے جاتے ہیں اور ان قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے معاشرے میں بسنے والے انسان اپنی زندگی پُرسکون انداز میں گزارتے ہیں، کیونکہ انہیں علم اور یقین ہوتا ہے کہ حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ مجوزہ قوانین کے مطابق شہریوں کو ان کے حقوق میسر رہیں گے۔

البتہ کچھ قوانین عام معاملات سے ہٹ کر ہوتے ہیں، جو مخصوص حالات اور مخصوص جرائم کے لیے بروئے کار لائے جاتے ہیں تاکہ معاشرہ ایسے جرائم سے محفوظ رہے۔ 

دہشت گردی جیسا تباہ کن جرم، جو اپنے ساتھ ہلاکت خیزی و تباہی لاتا ہے، اس کی بیخ کنی کے لیے قوانین بھی خصوصی اور انتہائی سخت ہوتے ہیں، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد کروانا حکومتوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم ترین نکات
  • مجوزہ ترمیم حساس مقدمات میں جج، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھنے کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔
  • آڈیو، ویڈیو اور حتیٰ کہ آواز تبدیل کرنے جیسے اقدامات عدالتی تحفظ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
  • سب سے بڑا قانونی سوال یہ ہے کہ خفیہ شناخت کے ماحول میں مؤثر جرح اور منصفانہ ٹرائل کیسے یقینی بنایا جائے گا۔
overseaspost.net

مزید پڑھیں

ایسے کسی بھی جرم کو بغیر شک و شبہ ثابت کرنا ہی ایک کڑا امتحان ہوتا ہے، لیکن جب یہ جرم ثابت ہو جائے تو پھر مجرم پر رحم کرنا، خود پر اور معاشرے پر ظلم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ 

لہٰذا ایسے قوانین پر مختلف ممالک میں عملدرآمد کا طریقہ کار بھی مختلف دکھائی دیتا ہے۔

مغربی و مہذب معاشروں میں گو کہ دہشت گردی کے واقعات نسبتاً کم

 دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہاں کی حکومتوں نے شہریوں کی سہولیات کے لیے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنا رکھا ہے، تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ وہاں نظامِ انصاف بلاامتیاز ہر شہری کو میسر ہے۔ 

یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث شہریوں کو مکمل اطمینان ہے کہ ان کے حقوق کسی بھی صورت سلب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان کا حق چھینا جا سکتا ہے، کیونکہ عدالتیں آزاد ہیں اور کسی بھی مظلوم کی داد رسی کے لیے فوری متحرک اور فعال دکھائی دیتی ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
قانونانسداد دہشت گردی ایکٹ 1997
مجوزہ شق21-AAA
مجاز اتھارٹیگریڈ 20 کا بیوروکریٹ
عدالتی سطحلاہور ہائی کورٹ / انسداد دہشت گردی عدالت
خفیہ شناختجج، پراسیکیوٹر، تفتیش کار، گواہ
اضافی تحفظآڈیو، ویڈیو اور آواز میں تبدیلی
overseaspost.net

تاہم اس کے باوجود کئی معاملات میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جہاں مکمل انصاف نہیں ہوا، لیکن ایسے معاملات معدودے چند ہی ہوتے ہیں، جن کے پس پردہ بہرحال ریاستی سکیورٹی یا ریاستی امور دکھائی دیتے ہیں۔ 

بالعموم معاملات قوانین کے مطابق چلتے ہی نظر آتے ہیں۔

اس ضمن میں ماضی قریب کے حوالے سے امریکی صدر بل کلنٹن کی مثال دی جا سکتی ہے، تو دوسری طرف انگلینڈ میں مقیم جلاوطن سیاسی رہنما الطاف حسین کی مثال بھی سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ 

امریکی قوانین اس قدر سخت ہیں کہ ان سے ملک کی بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں اور اگر کوئی شخصیت غیر قانونی کام کرتی ہے تو وہ ملکی قوانین کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔

ترمیم کے تحت
حساس مقدمات میں
جج، پراسیکیوٹر،
تفتیش کار اور
گواہوں کی شناخت
خفیہ رکھی
جا سکے گی

معاشرے کو نقصان پہنچانے والے جرائم کے حوالے سے یہ ممالک انتہائی سخت گیر ہیں۔
اس معاملے میں ان کے قوانین بھی خاصے سخت اور طریقہ کار بھی پیچیدہ ہے۔
بعض صورتوں میں ملزم سے جج، پراسیکیوٹر وغیرہ کی شناخت بھی خفیہ رکھی جاتی ہے تاکہ مبادا ملزم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے یا ان پر دباؤ اور دیگر حربے استعمال کرکے انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
اس طریقہ کار کا مقصد فقط ایک ہوتا ہے کہ بہرحال انصاف کا بول بالا ہو اور سوسائٹی کو جرائم سے پاک رکھا جا سکے۔
ایسے جرائم کی تعریف بھی انتہائی واضح ہوتی ہے۔
مبہم تعریف صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ ابہام کے باعث کسی شخص کو اس جرم میں پھنسایا نہ جا سکے۔
جج بھی اس وقت تک ملزم یا ملزمان کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ جرم بغیر کسی شک و شبہے کے ثابت نہ ہو جائے، جبکہ سزا پر عملدرآمد کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ ترمیم کیوں اہم ہے؟
گواہوں کا تحفظہائی پروفائل مقدمات میں خوف اور دباؤ کم کرنے کی کوشش۔
عدالتی سکیورٹیجج اور پراسیکیوٹر کو ممکنہ خطرات سے بچانے کا ہدف۔
شفافیت کا امتحانخفیہ طریقہ کار اور منصفانہ ٹرائل کے درمیان توازن بنیادی سوال ہے۔
اصل مسئلہ: قانون صرف سخت ہونا کافی نہیں؛ اس کا استعمال بھی غیر جانبدار، محدود اور عدالتی نگرانی میں ہونا چاہئے۔
overseaspost.net

پاکستان بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جو براہ راست معاشرے کے سکون کو تہہ و بالا کئے ہوئے ہیں۔ 

گو کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے قوانین بھی موجود ہیں لیکن بالعموم ان قوانین پر کماحقہ عملدرآمد نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات دہشت گرد قانون کو مکڑی کے جالے کی طرح توڑ کر نکل جاتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوانین نرم ہیں یا دہشت گرد زیادہ طاقتور ہیں؟

بات بڑی سیدھی ہے کہ اگر قوانین نرم ہوں، ان میں ابہام ہو یا ان کے نفاذ میں کمی ہو تو مجرم ازخود طاقتور ہو جاتے ہیں۔ 

پاکستان میں بدقسمتی یہی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے محکموں کی حدود و قیود ایسی ہیں اور ان پر ایسے دباؤ ہیں کہ بسا اوقات انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں کہ عدالتیں دہشت گردوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کیونکہ عدالتوں کو قانونی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | QUESTIONSبڑے قانونی سوالات
  • ؟گواہ کی شناخت خفیہ ہو تو دفاعی وکیل جرح کس حد تک مؤثر طور پر کر سکے گا؟
  • ؟کیا ملزم کو اپنے خلاف موجود شہادت کی نوعیت جاننے کا مکمل حق حاصل رہے گا؟
  • ؟خفیہ کارروائی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کون سی عدالتی نگرانی موجود ہوگی؟
  • ؟کیا یہ طریقہ صرف دہشت گردی کے حقیقی خطرات تک محدود رہے گا یا سیاسی مقدمات تک بھی پھیل سکتا ہے؟
overseaspost.net

اس وقت صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ 

سویلین اداروں کی جانب سے بیشتر اوقات یہ شکوے سنائی دیتے ہیں کہ وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہیں، لیکن کسی دوسرے سرکاری محکمے کے اہلکار ان دہشت گردوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے ہی ان کی گرفت سے چھڑوا کر لے جاتے ہیں۔

دوسرے محکمے کے اہلکاروں کی اپنی ترجیحات ہیں، جبکہ پورے ملک میں کسی کو ان کی ترجیحات پر بات کرنے کی اجازت نہیں کہ پَر جلتے ہیں۔ 

تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے اور سویلین محکمے کے افراد اس رویے پر بولنا شروع ہو گئے ہیں۔ 

کل تک وہ ان کی حمایت میں ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے اور ان کے ایسے اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لیے تیار رہتے تھے، لیکن اب چونکہ سوالات خود ان کی کارکردگی پر بڑھ رہے ہیں، اس لیے وہ بھی کھل کھلا کر حقائق آشکار کر رہے ہیں۔

اس کے پس منظر میں واللہ اعلم، واقعتاً ان کی اپنی کارکردگی کا مسئلہ ہے، یا انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، یا وطن کی محبت امڈ آئی ہے، یا اپنوں کی شہادتیں برداشت سے باہر ہو گئی ہیں۔

تاہم یہاں اس امر سے بھی قطعاً انکار نہیں کہ برتر محکمے کے جوانوں اور افسروں نے بھی شہادتیں دی ہیں اور جانی نقصان ان کا بھی ہوا ہے۔

 پھر بھی ہم آہنگی کے فقدان نے فورسز کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

بہرحال دہشت گردی کا عفریت تاحال پاکستان میں قابو میں نہیں آ سکا، بلکہ اس کا دائرۂ کار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 

بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی جو آگ دہک رہی ہے، اس نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 

ملک کا ایک حصہ اگر مشکل کا شکار ہے تو اس کا اثر کسی نہ کسی حوالے سے دیگر حصوں پر بھی براہ راست یا بالواسطہ ضرور پڑتا ہے۔

OVERSEAS POST | JUSTICEانصاف بمقابلہ سکیورٹی
سکیورٹی کا مؤقفخطرناک مقدمات میں عدالتی اہلکاروں اور گواہوں کی جان و سلامتی اولین ترجیح ہے۔
انصاف کا مؤقفملزم کو اپنے خلاف شہادت کا مؤثر جواب دینے اور جرح کا حق برقرار رہنا چاہئے۔
توازن: ایسا نظام درکار ہے جو شناخت تو محفوظ رکھے لیکن دفاع کے بنیادی حقوق اور عدالتی شفافیت کو کمزور نہ کرے۔
overseaspost.net

ایک طرف خیبر پختونخوا کی مقامی آبادی دہشت گردوں کا نشانہ بنتی ہے، تو دوسری طرف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ضمنی نقصان، یعنی کولیٹرل ڈیمیج، میں بھی بالعموم مقامی آبادی ہی متاثر ہوتی ہے۔ 

اگر لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی نہیں کرتے تو سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نشانہ بننے کا خدشہ رہتا ہے اور اگر نقل مکانی کرتے ہیں تو بھی انہیں مالی و معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

دوسری طرف بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو بدقسمتی سے وہاں سے آنے والی لاشیں بالعموم پنجاب یا خیبر پختونخوا کے شہریوں کی ہوتی ہیں، یا کراچی و سندھ کے افراد کی۔ 

یوں اس بدامنی میں پورا ملک جلتا ہوا نظر آتا ہے۔

اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پوری کی پوری ریل گاڑی تک دہشت گردوں کے قبضے میں چلی جاتی ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کے افراد بھی سوار ہوں، تو صورتحال توقعات سے کئی گنا زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

! OVERSEAS POST | POLITICAL CONCERNسیاسی استعمال کا خدشہ
  • مضمون میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ قانون کا دائرہ نو مئی سے متعلق مقدمات تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
  • تحریک انصاف اور عمران خان سے متعلق مقدمات میں دہشت گردی اور سیاسی احتجاج کی قانونی تعریف ایک اہم تنازع ہے۔
  • اصل امتحان یہ ہوگا کہ قانون کا اطلاق جرم کی نوعیت پر ہو، نہ کہ سیاسی شناخت یا وابستگی پر۔
overseaspost.net

دوسری جانب صوبائی و وفاقی حکومتوں کے صرف دعوے ہی سنائی دیتے ہیں۔ 

بقول وزیر داخلہ، بلوچستان کا معاملہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے، لیکن وہ ایس ایچ او آج تک بلوچستان کو میسر نہیں ہوا۔

سب سے بڑا
سیاسی خدشہ
یہ ہے کہ یہ قانون
9 مئی کے مقدمات
میں عمران خان
اور تحریک انصاف
کے رہنماؤں کے
خلاف استعمال
ہو سکتا ہے

گو کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں معاملات کو معمول پر لانے کی اپنی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں اور اس ضمن میں ایک طرف فتنۃ الخوارج اور دوسری طرف فتنۃ الہندوستان کے خلاف بروئے کار ہیں۔
شنید ہے کہ افغانی فتنۃ الخوارج کو فی الوقت نکیل ڈال دی گئی ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت فی الحال نہیں کہ فتنۃ الہندوستان انہیں دوبارہ متحرک نہیں کرے گا۔
اسی پس منظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں شق 21-AAA کی ترمیم شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق گریڈ 20 کے بیوروکریٹ کو مجاز اتھارٹی کا اختیار دیا جائے گا۔
یہ اتھارٹی ایسے ہائی پروفائل مقدمات میں بروئے کار آتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو آگاہ کرے گی۔
اس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت یا ہائی کورٹ کے ایک جج کو تعینات کرے گا، جس کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی، جس کی وجوہات اوپر بیان کر چکا ہوں۔
اسی طرح وکیل، پراسیکیوٹر، تفتیش کار اور گواہان تک کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔

OVERSEAS POST | SECURITY CONTEXTدہشت گردی کا وسیع پس منظر
خیبر پختونخوامقامی آبادی، سکیورٹی فورسز اور نقل مکانی کے مسائل ایک ساتھ موجود ہیں۔
بلوچستاندہشت گردی کا اثر صوبائی حدود سے نکل کر پورے ملک کے شہریوں تک پہنچتا ہے۔
ادارہ جاتی مسئلہمضمون میں مختلف ریاستی و سویلین محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر تنقید کی گئی ہے۔
قانونی مسئلہگرفتاری سے سزا تک پورا نظام مضبوط اور شفاف نہ ہو تو سخت قانون بھی مؤثر نہیں رہتا۔
overseaspost.net

 مقدمے سے متعلق آڈیو اور ویڈیو مواد بھی خفیہ رکھا جائے گا، حتیٰ کہ آواز تبدیل کرنے کی سہولت تک میسر ہو گی۔

تسلیم کہ یہ طریقہ کار ترقی یافتہ ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنانے کی ایک کوشش ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ گواہان کی شناخت خفیہ رکھنے کی صورت میں جرح کا عمل کیسے ہوگا؟

تسلیم کہ اس کا مقصد ممکنہ طور پر گواہ کی شناخت چھپانا ہو گا، لیکن کیا اس طرح انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی؟ 

یا اس کے پس پردہ حکومت کے مذموم مقاصد ہوں گے؟

OVERSEAS POST | WHAT NEXTآگے کیا دیکھا جائے؟
  • 1ترمیم کے حتمی متن میں خفیہ شناخت کی حدود اور عدالتی نگرانی کس طرح لکھی جاتی ہے۔
  • 2دفاعی وکیل کو گواہ سے جرح کے لیے کیا عملی طریقہ دیا جاتا ہے۔
  • 3ہائی پروفائل سیاسی مقدمات میں اس قانون کا پہلا استعمال کس نوعیت کا ہوگا۔
  • 4اعلیٰ عدالتیں اس ترمیم کے بنیادی حقوق سے تعلق پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔
overseaspost.net

ماہرین کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد بہرطور عمران خان اور تحریک انصاف کے قائدین کو 9 مئی کے مقدمات میں دہشت گرد ثابت کرنا ہو گا، جبکہ دہشت گردوں اور سیاسی کارکنان کے احتجاج کی تعریف بہرحال مختلف ہوتی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

البتہ اس وقت خدشات یہی ہیں کہ حکومت اس قانون میں یہ ترمیم لا کر عمران خان اور تحریک انصاف کو ہی فکس کرنا چاہتی ہے، کیونکہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں نہیں چل سکتے۔

تاہم تاحال یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ نو مئی کے واقعات واقعتاً دہشت گردی کی تعریف پر پورا اترتے ہیں یا انہیں سیاسی کارکنان کا احتجاج کہا جائے۔ 

تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی گئی اور اس کے بقول اسے چھپانے والے ہی اصل دہشت گرد ہیں۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔