محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کا سانحہ محض چند لمحوں کی غلطی نہیں بلکہ برسوں سے جاری انتظامی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات اور جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
محمد مبشر انوار کے مطابق اگر بروقت فائر ڈرلز، آلات کی جانچ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوتی تو شاید صورتحال اس حد تک نہ پہنچتی۔
پاکستانی ریاستی نظام کس قدر فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے، اس کا اندازہ سب کو بخوبی ہے۔ حتیٰ کہ اربابِ اختیار، جنہیں اس نظام کو سنبھالنا، سنوارنا اور بہتر بنانا تھا، خود اسی رنگ میں اس حد تک رنگے جا چکے ہیں کہ نظام میں پھیلی بدعنوانی کا اظہار کرتے ہوئے بھی انہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں وزیر دفاع خواجہ آصف، جو خود فارم 47 کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے درمیان رکنِ اسمبلی ہیں، ایک ٹرانسفارمر لگوانے کے لئے رشوت دینے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
وفاقی وزیر کی جانب سے اس اعتراف کے بعد موصوف سے کیا کہا جائے یا کیا پوچھا جائے؟
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL COLUMNاہم نکات ⌄
- ✓پمز ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی جان گئی۔
- ✓کالم کا مرکزی مؤقف ہے کہ سانحہ صرف ایک لمحے کی خرابی نہیں بلکہ طویل غفلت، بدانتظامی اور کمزور جوابدہی کا نتیجہ ہے۔
- ✓فائر سیفٹی، ہنگامی راستوں، عملے کی تربیت اور حفاظتی آلات کی جانچ پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔
- ✓حتمی وجہ اور ذمہ داروں کا تعین انکوائری رپورٹ سے ہونا ہے۔
- ✓کالم صرف استعفے نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاح اور مستقل احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اشرافیہ کی نااہلی اس واقعے سے پوری طرح عیاں ہوتی ہے۔
جن افراد کو عوامی مسائل حل کرنے، پالیسیاں بنانے اور ایسا طریقۂ کار وضع کرنے کے لئے ایوانوں میں بھیجا جاتا ہے جس کے تحت سرکاری محکمے قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں اور عوامی فلاح کے لئے کام کریں، وہ بنیادی ذمہ داریوں کے بجائے ایسے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں جن سے ان کی سیاسی بقا یقینی ہو سکے۔
مزید پڑھیں
صد افسوس کہ اب ’منتخب نمائندے‘ لکھتے ہوئے بھی قلم رک جاتا ہے۔
خود خواجہ آصف اپنی رکنیت اور انتخابی عمل کے متعلق جو کچھ کہہ چکے ہیں، اس کے بعد لفظ ’منتخب‘ استعمال کرنا بھی عجیب محسوس ہوتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ ایوانِ نمائندگان میں موجود ہیں اور ان سمیت تمام اراکینِ پارلیمان کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی اور بہتر طرزِ حکمرانی یقینی بنانا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی اشرافیہ پالیسی سازی کے بجائے اپنی سیاسی حیثیت مستحکم رکھنے پر زیادہ توجہ دیتی دکھائی دیتی ہے۔
اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے بغیر دیکھے، بغیر پڑھے آئینی ترامیم
اور قوانین گھنٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں۔
پھر جب سیاسی ہواؤں کا رخ بدلتا ہے تو یہی لوگ سابق آقاؤں کے کرتوت عوام کے سامنے بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
بعید نہیں کہ مستقبل میں موجودہ آقاؤں کے متعلق بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد شعبۂ صحت بڑی حد تک صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، تاہم وفاقی دارالحکومت میں وفاق کے زیرِ انتظام ہسپتالوں کے لئے ایک مکمل وفاقی وزارتِ صحت موجود ہے۔ اس کے باوجود صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت سے اپنے زیرِ انتظام بڑے ہسپتال بھی سنبھالے نہیں جا رہے، اگرچہ اس صورتِ حال میں متعلقہ وزراء کی انتظامی اور سیاسی مجبوریوں کو بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXپمز آتشزدگی: فیکٹ باکس ⌄
پمز ہسپتال جاپان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بنا کر دیا گیا تھا اور اس کا انتظام و انصرام وفاقی حکومت کے ذمہ ہے۔
ملک بھر سے لوگ یہاں طبی سہولتوں کے حصول کے لئے آتے ہیں، مگر اس ہسپتال کی حالتِ زار بارہا میڈیا کی زینت بن چکی ہے۔
واقفانِ حال عرصے سے یہاں بدانتظامی اور بدعنوانی کی شکایات کرتے آئے ہیں۔
انتظامی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند سال قبل اسی ہسپتال سے نومولود بچوں کی چوری کے واقعات بھی خبروں میں آئے تھے۔
حال ہی میں جب سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد طبی معائنے کے لئے منتقل کرنے کا معاملہ سامنے آیا تو انہیں چیک اپ کے لئے پمز ہسپتال لایا گیا۔
بعد ازاں یہ رپورٹ سامنے آئی کہ امراضِ قلب سے متعلق مطلوبہ مشین ہی فعال نہیں تھی۔ معاملہ وزیراعظم تک پہنچا اور حسبِ سابق فوری ’نوٹس‘ بھی لیا گیا، لیکن یہ واضح نہیں کہ متعلقہ مشین بعد میں درست ہوئی یا نہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سانحہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ واقعہ ایک ہسپتال کی چار دیواری سے کہیں بڑا سوال اٹھاتا ہے:
اب اسی ہسپتال سے ایک کہیں زیادہ دلخراش خبر سامنے آئی ہے۔
پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں گزشتہ دنوں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے حوالے سے ابتدائی طور پر نومولود بچوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئیں۔
مختلف اطلاعات میں تعداد کے حوالے سے تضاد بھی رہا اور تادمِ تحریر کئی اہم سوالات کے حتمی جواب سامنے نہیں آ سکے، جن میں آگ لگنے کی اصل وجہ بھی شامل ہے۔
نرسری میں موجود بچوں میں سے کم از کم ایک بچے کو اس کی خالہ اپنی مدد آپ کے تحت بچانے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ اطلاعات یہ بھی سامنے آئیں کہ دیگر بچوں کے عزیز و اقارب کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔
بعض خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ہسپتال کے ہنگامی راستوں تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں۔
اس سانحے کے بعد ایک بار پھر وہی سوال اٹھا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے بنائے گئے طریقۂ کار پر باقاعدگی سے عمل کیوں نہیں کیا گیا؟
کیا فائر ڈرلز ہوتی رہیں؟
کیا عملے کو تربیت دی جاتی رہی؟
کیا فائر الارم، آگ بجھانے والے آلات اور ایمرجنسی راستوں کا مقررہ مدت میں معائنہ کیا جاتا رہا؟
اگر ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو پھر یہ حادثہ اچانک نہیں ہوا۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی تحقیق طلب؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- آگ پمز کے مدر اینڈ چائلڈ/گائنی وارڈ کی نرسری میں لگی۔
- 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
- کم از کم ایک نومولود کو بچایا گیا۔
- اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا گیا۔
- حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری سے ہونا ہے۔
ابھی تحقیق طلب
- آگ کی حتمی تکنیکی وجہ کیا تھی؟
- فائر الارم، آلات اور ایمرجنسی راستے کس حالت میں تھے؟
- کیا سابقہ حفاظتی تنبیہات پر عمل نہیں کیا گیا تھا؟
- کس انتظامی سطح پر غفلت ثابت ہوتی ہے؟
- سیاسی یا انتظامی پشت پناہی کے دعووں کی آزادانہ تصدیق درکار ہے۔
ادارتی احتیاط: ابتدائی تکنیکی بیانات کو حتمی انکوائری رپورٹ کے برابر نہ سمجھا جائے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ’اللہ توکل‘ چھوڑ دیا گیا تھا، یا اس امید پر کہ کوئی بڑا سانحہ کبھی پیش ہی نہیں آئے گا۔
مگر حادثات صرف اس لئے نہیں رکتے کہ ہم ان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔
حفاظتی نظام کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ حادثے سے پہلے تیاری مکمل ہو۔
سانحے کے بعد ایک مرتبہ پھر بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
وزیر صحت کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی بات بھی سامنے آئی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ذمہ داری قبول کر لینا کافی ہے؟
کیا کسی وزیر کا استعفیٰ جان سے جانے والے بچوں کو واپس لا سکتا ہے؟
یقیناً نہیں۔
صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر پمز سمیت ملک کے متعدد سرکاری ہسپتالوں کی حالت دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتیں واقعی اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو رہی ہیں؟
بدقسمتی سے اس کا جواب مثبت نہیں۔
↻ OVERSEAS POST | TIMELINEسانحے کی مختصر ٹائم لائن ⌄
مسئلہ صرف وفاق تک محدود نہیں۔
صوبائی سطح پر بھی صورتِ حال زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔
کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے حوالے سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات، عملے کی تربیت، فائر الارم سسٹم اور آتشزدگی سے متعلق مشقوں کے معاملات میں خامیاں موجود ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سزا دینے کی بات بھی کی، جبکہ وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ مگر ہمارا المیہ یہی ہے کہ مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے ہر سانحے کے بعد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع ہو جاتی ہے۔
حزبِ اختلاف فوری طور پر متعلقہ وزیر کا استعفیٰ مانگتی ہے، حکومت انکوائری کا اعلان کرتی ہے اور کچھ عرصے بعد معاملہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
اصل سوال استعفے سے کہیں بڑا ہے۔
⚠ OVERSEAS POST | SYSTEM CHECKنظامی ناکامی کہاں ہو سکتی ہے؟ ⌄
یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں جنہوں نے اس سانحے کو ممکن بنایا؟ اگر متعلقہ محکموں کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ کو پہلے بھی حفاظتی ضابطوں پر عمل کرنے کی یاددہانیاں کرائی جاتی رہی تھیں تو ان پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
اگر واقعی بار بار تنبیہ کے باوجود ہسپتال انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات نہیں کئے تو کیا کسی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی ہوئی؟ اگر نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی؟
جواب شاید اسی سانحے کی اصل کہانی بیان کرتا ہے۔
اگر پہلی، دوسری یا تیسری خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی ہو جاتی، ذمہ دار افسر جوابدہ ٹھہرتے اور بدانتظامی پر سزا ملتی تو شاید معاملات یہاں تک نہ پہنچتے۔
اطلاعات کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ہسپتال کے بعض راستے بھی بند تھے، حالانکہ ہنگامی صورتحال میں یہی راستے فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک جلد پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتے تھے۔
اگر ایمرجنسی کے وقت بھی ایسے راستے فوری طور پر نہیں کھولے جا سکے تو پھر سوال صرف ایک افسر یا ایک شعبے کی نااہلی کا نہیں رہتا، بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی زیرِ سوال آ جاتی ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔
اگر ملک میں قانون سب کے لئے یکساں ہو، ضابطوں پر بلاامتیاز عمل ہو اور طاقتور سے طاقتور شخص بھی قواعد سے بالاتر نہ ہو تو بہت سے حادثات کو سانحہ بننے سے پہلے روکا جا سکتا ہے۔ لیکن جب بالائی سطح پر ہی قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کا تاثر پیدا ہو جائے تو ماتحت اداروں میں بھی جوابدہی کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔
اصولاً ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر ہسپتال انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کی تنبیہات کے باوجود حفاظتی طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہوتی، اور کسی وزیر، مشیر یا طاقتور شخصیت کو اس کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہ دی جاتی۔
مگر یہاں سوال یہ ہے کہ متعلقہ ادارے کارروائی کیوں نہ کر سکے؟
یہ مجرمانہ خاموشی تھی، مجبوری تھی، بے بسی تھی یا کسی طاقتور کی پشت پناہی؟
معروف صحافی حامد میر نے اس حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مصطفیٰ کمال کو وزیر صحت کا حلف لیتے وقت ہی باور کرا دیا گیا تھا کہ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے معاملے میں وہ کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکرٹری صحت، جنہیں بعد میں وزیراعظم نے معطل کیا، مصطفیٰ کمال ہی وزارت میں لائے تھے۔
اگر یہ دعوے درست ہیں تو معاملہ محض انتظامی نااہلی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
؟ OVERSEAS POST | KEY QUESTIONSوہ 6 سوال جن کے جواب ضروری ہیں ⌄
- آگ کی حتمی تکنیکی وجہ کیا تھی؟
- کیا فائر الارم اور بجھانے کے آلات مکمل طور پر فعال تھے؟
- کیا ایمرجنسی راستے فوری انخلا اور فائر بریگیڈ کے لیے دستیاب تھے؟
- عملے نے آخری مرتبہ فائر یا ایویکیویشن ڈرل کب کی تھی؟
- اگر پہلے حفاظتی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی تو ان پر کارروائی کیوں نہ ہوئی؟
- انکوائری کے بعد اصلاحات کی نگرانی کون کرے گا؟
اگر وزیر صحت اپنے ماتحت ایک ادارے کے سربراہ کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا، اور وزیراعظم کا اختیار بھی چند مخصوص عہدوں تک محدود ہو، تو پھر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے اور اصل جوابدہی کس کی ہونی چاہئے؟
میں کسی نام یا شخصیت کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے کسی عہدیدار کو ایسی کون سی طاقت یا پشت پناہی حاصل ہو سکتی ہے کہ متعلقہ وزارت بھی اس کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس دکھائی دے؟
بہرحال، اس پوری تفصیل کا حاصل ایک ہی ہے۔
پمز ہسپتال کا یہ سانحہ کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوا۔
حادثات بظاہر چند لمحوں میں رونما ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے برسوں کی غفلت، بدانتظامی، بے حسی، قواعد سے انحراف، جوابدہی کا فقدان اور طاقتوروں کی سرپرستی جمع ہوتی رہتی ہے۔
پھر ایک دن کوئی چنگاری بھڑکتی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ حادثہ اچانک ہو گیا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا، اسے برسوں تک تیار کیا جاتا ہے۔