براہ راست نشریات

عمران خان کی ہسپتال منتقلی، انصاف ملا، ڈیل ہوئی یا صرف بنیادی حق؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Supreme Court Pakistan
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

پاکستانی سیاست میں مقدمات، قید اور سیاسی دباؤ کی تاریخ نئی نہیں۔
عمران خان کی صحت اور قیدِ تنہائی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کسی سیاسی قیدی کو علاج کی سہولت ملنا عدالتی ریلیف ہے، کسی ممکنہ ڈیل کا حصہ یا محض وہ بنیادی حق جو ہر قیدی کو بلاامتیاز حاصل ہونا چاہئے۔

معاشرے میں قانون کی بالادستی ہو تو بالعموم معاملات درست سمت میں رہتے ہیں، کیونکہ ہر شخص اور ہر گروہ کو قانون کا خوف لاحق رہتا ہے اور ذمہ دار عہدیدار اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ 

لیکن اگر حالات پاکستان جیسے ہوں، جہاں طاقتور طبقے، اشرافیہ اور مافیا قانون کو پاؤں کی جوتی سمجھنے لگیں، تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

قانون کی بالادستی نہ ہونے کے باعث جہاں عام زندگی میں محرومیاں اور ناانصافیاں جنم لیتی ہیں، وہیں سیاسی میدان میں ان ناانصافیوں کا کوئی شمار نہیں رہتا۔ 

سیاسی رواداری اس حد تک ناپید ہوتی جا رہی ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کی زندگی اجیرن بنانے کا آزمودہ نسخہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ ان کے گرد مقدمات کا گھیرا اتنا تنگ کر دیا جائے کہ وہ عدالتوں کے چکر سے ہی نہ نکل سکیں اور حکمرانوں کے لئے کوئی سیاسی مشکل پیدا نہ کر پائیں۔

مزید پڑھیں

اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اقتدار کی تاریخ، انتہائی افسوسناک رہی ہے۔ 

جنرل ایوب خان کے دور سے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ مختلف شکلوں میں آج تک ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ 

اس کھیل میں مختلف ادوار کی حکومتوں پر الزامات لگتے رہے ہیں۔ 

نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں سیاسی مخالفین کے خلاف 

مقدمات کی مثالیں نمایاں رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی، بالخصوص بے نظیر بھٹو کے بعض ادوار میں، یہ رجحان نسبتاً کم دکھائی دیا۔ 

عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات پر سوالات اٹھے، جن میں رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTعمران خان کی ہسپتال منتقلی — اہم نکات
  • سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 کو عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔
  • عدالت نے طبی معائنے اور علاج کے لیے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کی۔
  • ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے وابستہ رہنے کی اجازت دی گئی۔
  • عدالت نے واضح کیا کہ قید کے باوجود کسی شخص کا انسانی سلوک اور ضروری طبی نگہداشت کا حق ختم نہیں ہوتا۔
  • !طبی رپورٹس عام کرنے، علاج کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور ہسپتال کے اندر عوامی اجتماع پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
  • !وفاقی حکومت نے 19 اگست کو نجی ہسپتال منتقلی کے حکم کے خلاف نظرثانی/چیلنج دائر کردیا۔
overseaspost.net

آج ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی حکومت، خواہ اسے ظاہری اقتدار ہی کیوں نہ کہا جائے، قائم ہے اور سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی بھرمار نظر آتی ہے۔ 

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متعدد معاملات میں عدالتوں میں بروقت شنوائی تک نہیں ہو پاتی۔ 

سوال یہ ہے کہ اگر بے بنیاد یا کمزور مقدمات کی فوری اور شفاف سماعت ہو جائے تو ان میں سے کتنے مقدمات قانونی جانچ پر پورے اتر سکیں گے؟

جب مقدمے کا مقصد انصاف کے بجائے سیاسی مخالف کو مسلسل دباؤ میں رکھنا بن جائے تو قانونی داؤ پیچ، التوا اور طویل عدالتی کارروائیاں بذاتِ خود سزا کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ مخالفین عدالتوں کے چکر کاٹتے اور اسی عدالتی چکی میں پستے رہتے ہیں۔

فیصلے نے
پاکستان میں
سیاسی قیدیوں کے
حقوق کی بحث
دوبارہ زندہ کردی

یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ جس طرح عمران خان کے دور میں رانا ثناء اللہ کے خلاف طاقتور حلقوں کی جانب سے مقدمہ بنائے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے، اسی طرح موجودہ دور میں بھی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی بھرمار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہرحال سیاسی اور انتظامی ذمہ داری بالآخر سول حکومت ہی کے کھاتے میں آتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کے ناقدین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس کی خواہش اکثر یہی رہی ہے کہ:
سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت شاید یہ سیاسی ہنر بھی بخوبی سمجھ چکی ہے کہ جب خود پر مشکل وقت آئے تو براہِ راست مزاحمت کے بجائے طاقتور حلقوں سے معاملات طے کئے جائیں، چند برس خاموشی یا جلاوطنی میں گزارے جائیں اور پھر نئے سیاسی بندوبست کے تحت اقتدار کا حصہ بننے کی راہ نکال لی جائے۔

ایسے مواقع پر عدالتی نظام کی غیر معمولی تیزی اور سہولت پر بھی سوال اٹھتے ہیں، حتیٰ کہ ماضی میں مفروری کے باوجود بائیو میٹرک کے انتظامات ائیرپورٹ تک پہنچنے اور فوری عدالتی ریلیف کی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، جبکہ سیاسی مخالفین کو ایسی سہولت شاید ہی کبھی میسر آتی ہو۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXعدالتی حکم: فیکٹ باکس
فیصلے کی تاریخ
18 اگست 2026
ہسپتال
شفا انٹرنیشنل، اسلام آباد
منتقلی کی مہلت
48 گھنٹے
اگلی سماعت
16 ستمبر 2026
بنچ کے سربراہ
جسٹس شاہد وحید
دیگر ارکان
جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس اشتیاق ابراہیم
ذاتی معالج
ڈاکٹر فیصل سلطان
علاج کے اخراجات
عمران خان یا ان کے اہلِ خانہ برداشت کریں گے
تازہ پیش رفت
حکومت نے 19 اگست کو حکم کے خلاف چیلنج دائر کردیا
overseaspost.net

گزشتہ ہفتے عمران خان کے وکلاء اور تحریک انصاف کے اراکینِ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا تھا۔ 

اس احتجاج کا بنیادی مقصد عمران خان کی صحت، قیدِ تنہائی اور ان سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں تاخیر پر توجہ دلانا تھا۔ 

رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ ان درخواستوں کو اسی ہفتے سماعت کے لئے مقرر کر دیا جائے گا، جس کے بعد سلمان اکرم راجہ نے احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کی یقین دہانی کے مطابق یہ درخواستیں 18 اگست 2026 کو سماعت کے لئے مقرر ہوئیں اور اسی دوران سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اہم فیصلہ بھی سامنے آیا۔ حکومت کی طرف سے نوٹس نہ کئے جانے کا اعتراض اٹھایا گیا، تاہم عدالت نے کارروائی آگے بڑھائی۔

اس فیصلے پر بات کرنے سے پہلے تحریک انصاف کے اندرونی حالات پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تحریک انصاف کی قیادت کے حوالے سے فضا خاصی غبار آلود رہی۔ 

عوام کے ایک حلقے میں یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ تحریک انصاف کے قائدین اور اراکینِ پارلیمنٹ کو حاصل سیاسی حیثیت اور نمائندگی بڑی حد تک عمران خان کی ذاتی مقبولیت کی مرہونِ منت ہے، لیکن اس کے باوجود قیادت ان کی رہائی کے لئے وہ بھرپور جدوجہد نہیں کر رہی جس کا وعدہ عوام سے کیا جاتا رہا۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ معاملہ صرف عمران خان کی صحت تک محدود نہیں؛ اس نے تین بنیادی سوالات کو ایک ساتھ سامنے لا کھڑا کیا ہے:

قیدی کا بنیادی حقعدالت نے حراست میں موجود شخص کی زندگی، صحت، وقار اور ضروری طبی نگہداشت کو ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری سے جوڑا۔
سیاسی اور قانونی کشمکشتحریک انصاف فیصلے کو بنیادی حق کا تحفظ قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت نجی ہسپتال منتقلی پر قانونی اعتراض اٹھا رہی ہے۔
مساوی سلوک کا سوالحکومت کا مؤقف ہے کہ ایسا ریلیف دوسرے قیدیوں کے لیے بھی نظیر بن سکتا ہے؛ یہی بحث انصاف اور خصوصی رعایت کے فرق کو مرکز میں لاتی ہے۔
اصل سوال: کیا علاج کی مناسب سہولت کسی سیاسی ڈیل یا خصوصی رعایت کے بجائے ہر قیدی کے لیے یکساں اور قابلِ نفاذ حق بن سکتی ہے؟
overseaspost.net

علاج کی سہولت
خصوصی رعایت
نہیں بلکہ ہر
قیدی کا حق
کیوں نہیں
سمجھی جاتی؟

اس رویے پر تنقید میں مسلسل اضافہ ہوا۔ دوسری طرف عمران خان کی بہنوں کی کوششیں سب کے سامنے رہیں۔
وہ ملاقات کے مقررہ دن اڈیالہ جیل کے باہر پہنچتی رہیں، مگر عدالتی احکامات کے باوجود متعدد مواقع پر ملاقات نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔
عمران خان کی بہنوں کی جانب سے کئی مرتبہ پارٹی قیادت اور کارکنان سے اپیل کی گئی کہ کم از کم دس ہزار افراد اڈیالہ جیل کے باہر ان کا ساتھ دینے کے لئے پہنچیں، مگر یہ اپیلیں مطلوبہ عوامی ردعمل حاصل نہ کر سکیں۔
اسی دوران پسِ پردہ رابطوں اور مذاکرات کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں، جبکہ عمران خان محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے چکے تھے۔
تحریک انصاف کی قیادت ان مذاکرات کی آڑ میں محتاط تھی یا کسی سیاسی مصلحت کا شکار، یہ الگ بحث ہے، لیکن یہ تاثر بہرحال موجود رہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لئے پوری قوت کے ساتھ میدان میں نہیں اتر رہی۔

عمران خان کی قیدِ تنہائی اور صحت کے حوالے سے بھی مختلف خبریں سامنے آتی رہیں۔ ایک موقع پر وجاہت سعید خان کی جانب سے عمران خان کی زندگی سے متعلق ایک انتہائی سنگین مگر غیر مصدقہ اطلاع سامنے آئی، جس پر تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی فیملی اور وکلاء کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔ 

اس کے باوجود ملاقات کے معاملے پر تنازع برقرار رہا۔

اوورسیز پوسٹ کے ساتھ جڑے رہیں

دنیا، خلیج اور پاکستانی تارکینِ وطن سے متعلق اہم خبریں اور خصوصی رپورٹس۔

عمران خان مضبوط اعصاب کے حامل سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ 

جیل جانے سے قبل بھی وہ یہ واضح کرتے رہے کہ وہ طاقتور حلقوں کے سامنے نہیں جھکیں گے اور کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ 

ان کے حامیوں کے نزدیک طویل قید کے دوران بھی ان کا یہی رویہ برقرار رہا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں کئی مرتبہ قوانین سے زیادہ طاقت کے مراکز کے فیصلے اہم ہو جاتے ہیں۔ 

سیاسی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ہماری تاریخ کوئی زیادہ قابلِ فخر نہیں۔ طاقتوروں کی بات نہ ماننا بعض اوقات بذاتِ خود اتنا بڑا جرم تصور کر لیا جاتا ہے کہ سیاسی شخصیت کا قد کاٹھ، اس کی مقبولیت یا ملک کے ساتھ اخلاص بھی اس کے کام نہیں آتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا انجام اس کی سب سے بڑی تاریخی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف طاقتور حلقوں کے سامنے سر جھکانے کی صورت میں پاکستانی سیاست میں واپسی کے دروازے کھلنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ کبھی کسی سیاست دان پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ لگائے گئے ہوں یا طاقتور حلقے خود اسے سیاسی طور پر مسترد کیوں نہ کر چکے ہوں، حالات بدلنے پر وہی شخصیت دوبارہ اقتدار کے کھیل میں مرکزی مقام حاصل کر سکتی ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

عمران خان کو قید تو کر لیا گیا لیکن ان کے حامیوں کے نزدیک انہیں سیاسی طور پر توڑنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ 

ان کی قید کے دوران سخت سلوک اور مبینہ تشدد سے متعلق بھی بعض غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ایسی خبروں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ 

البتہ ان کی ایک گرفتاری کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز نے بھی ان کے حامیوں کے خدشات کو تقویت دی تھی۔

پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ کئی مرتبہ رہائی کی کنجی خود قیدی کی جیب میں تصور کی جاتی ہے: 

وہ سمجھوتہ کرے تو راستے کھل سکتے ہیں اور مزاحمت جاری رکھے تو قید طویل ہو سکتی ہے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان جیسے ضدی یا پُرعزم سیاست دان پاکستان کے سیاسی افق پر خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں، جن کے متعلق یہ جملہ موزوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ’سلیبس سے باہر‘ ہیں۔

اب آتے ہیں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی طرف۔

سپریم کورٹ کے معزز بنچ نے عمران خان کو علاج کی غرض سے ان کے اہلِ خانہ کے تجویز کردہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ 

عدالت نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم بھی دیا، جس میں عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

مصدقہ معلومات

  • سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا عبوری حکم دیا۔
  • میڈیکل بورڈ بنانے اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
  • عدالت نے طبی رپورٹس عام نہ کرنے اور ہسپتال میں سیاسی اجتماع نہ کرنے کی شرط رکھی۔
  • علاج کے اخراجات عمران خان یا ان کے اہلِ خانہ برداشت کریں گے۔
  • وفاقی حکومت نے اگلے روز اس حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔

تاحال غیر ثابت یا غیر واضح

  • یہ ثابت نہیں کہ ہسپتال منتقلی کسی سیاسی 'ڈیل' کا نتیجہ ہے۔
  • مضمون میں سیاسی مقدمات کی نیت اور پسِ پردہ فیصلوں سے متعلق کئی نکات مصنف کا سیاسی تجزیہ اور رائے ہیں۔
  • عمران خان پر جسمانی تشدد سے متعلق مذکورہ دعووں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق اس عدالتی حکم سے نہیں ہوتی۔
  • غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔
  • حکومتی چیلنج پر حتمی عدالتی نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

ادارتی احتیاط: اس مضمون کی بنیادی نوعیت کالم/رائے ہے۔ عدالتی حکم، تاریخ اور حکومتی چیلنج قابلِ تصدیق خبری حقائق ہیں؛ جبکہ 'انصاف، ڈیل یا حق' کی تعبیر مصنف کا تجزیاتی سوال ہے۔

overseaspost.net

اصل سوال
عمران خان کی
رہائی نہیں
بلکہ یہ ہے کہ
پاکستان میں
قانون اور بنیادی
حقوق سب کے لیے
برابر کب ہوں گے؟

اس کے ساتھ عدالت نے تحریک انصاف سے یہ یقین دہانی بھی طلب کی کہ عمران خان کی بیماری اور علاج کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا، ان کی طبی رپورٹس عام نہیں کی جائیں گی، ہسپتال کے باہر کارکنان جمع نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی جلسے یا جلوس کا اہتمام کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان شرائط کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی۔
حکومت کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ جیل میں عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سیاسی پیغامات باہر آتے رہے ہیں، جنہیں حکومت خلاف ورزی کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک سیاسی قیدی، ملک کے ایک مقبول سیاسی رہنما اور بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ملاقات کے بعد اگر سیاسی بات باہر نہیں آئے گی تو پھر کیا پیغام آئے گا؟
بہرحال، عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کو اگر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو اسے نہ کسی سیاسی مقدمے میں انصاف قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی لازماً کسی ڈیل کا نتیجہ سمجھنا چاہئے۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، طبی بورڈ بنانے اور ذاتی معالج کو علاج کے عمل سے وابستہ رکھنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ساتھ ہی طبی رپورٹس عام نہ کرنے، علاج کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کرنے اور ہسپتال میں سیاسی اجتماع نہ کرنے کی شرائط بھی عائد کیں۔ فیصلے میں زیرِ حراست شخص کے صحت، وقار اور ضروری طبی نگہداشت کے حق کو نمایاں کیا گیا۔

19 اگست کو حکومت نے نجی ہسپتال منتقلی کے حصے کو چیلنج کردیا۔ یوں کالم کا مرکزی سوال مزید اہم ہوگیا: یہ خصوصی ریلیف ہے یا وہ بنیادی حق جو ہر قیدی کو بلاامتیاز ملنا چاہئے؟

overseaspost.net

یہ بنیادی طور پر ایک قیدی کا حق ہے۔

ایک ایسا حق جو قانون، انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے تحت ہر قیدی کو میسر ہونا چاہئے، خواہ اس کا نام عمران خان ہو یا کوئی عام شہری۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں حق بھی اکثر حق کے طور پر نہیں ملتا، اسے حاصل کرنے کے لئے کبھی عدالت جانا پڑتا ہے، کبھی احتجاج کرنا پڑتا ہے اور کبھی اسے ڈیل کا نام دے دیا جاتا ہے۔

اسی لئے بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے:

یہ انصاف ہے، ڈیل ہے یا صرف وہ حق، جو بہت پہلے مل جانا چاہئے تھا؟

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔