پاکستانی سیاست میں مقدمات، قید اور سیاسی دباؤ کی تاریخ نئی نہیں۔
عمران خان کی صحت اور قیدِ تنہائی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کسی سیاسی قیدی کو علاج کی سہولت ملنا عدالتی ریلیف ہے، کسی ممکنہ ڈیل کا حصہ یا محض وہ بنیادی حق جو ہر قیدی کو بلاامتیاز حاصل ہونا چاہئے۔
یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ جس طرح عمران خان کے دور میں رانا ثناء اللہ کے خلاف طاقتور حلقوں کی جانب سے مقدمہ بنائے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے، اسی طرح موجودہ دور میں بھی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی بھرمار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
بہرحال سیاسی اور انتظامی ذمہ داری بالآخر سول حکومت ہی کے کھاتے میں آتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کے ناقدین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس کی خواہش اکثر یہی رہی ہے کہ:
سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت شاید یہ سیاسی ہنر بھی بخوبی سمجھ چکی ہے کہ جب خود پر مشکل وقت آئے تو براہِ راست مزاحمت کے بجائے طاقتور حلقوں سے معاملات طے کئے جائیں، چند برس خاموشی یا جلاوطنی میں گزارے جائیں اور پھر نئے سیاسی بندوبست کے تحت اقتدار کا حصہ بننے کی راہ نکال لی جائے۔
اس رویے پر تنقید میں مسلسل اضافہ ہوا۔ دوسری طرف عمران خان کی بہنوں کی کوششیں سب کے سامنے رہیں۔
وہ ملاقات کے مقررہ دن اڈیالہ جیل کے باہر پہنچتی رہیں، مگر عدالتی احکامات کے باوجود متعدد مواقع پر ملاقات نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔
عمران خان کی بہنوں کی جانب سے کئی مرتبہ پارٹی قیادت اور کارکنان سے اپیل کی گئی کہ کم از کم دس ہزار افراد اڈیالہ جیل کے باہر ان کا ساتھ دینے کے لئے پہنچیں، مگر یہ اپیلیں مطلوبہ عوامی ردعمل حاصل نہ کر سکیں۔
اسی دوران پسِ پردہ رابطوں اور مذاکرات کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں، جبکہ عمران خان محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے چکے تھے۔
تحریک انصاف کی قیادت ان مذاکرات کی آڑ میں محتاط تھی یا کسی سیاسی مصلحت کا شکار، یہ الگ بحث ہے، لیکن یہ تاثر بہرحال موجود رہا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لئے پوری قوت کے ساتھ میدان میں نہیں اتر رہی۔
اس کے ساتھ عدالت نے تحریک انصاف سے یہ یقین دہانی بھی طلب کی کہ عمران خان کی بیماری اور علاج کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا، ان کی طبی رپورٹس عام نہیں کی جائیں گی، ہسپتال کے باہر کارکنان جمع نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی جلسے یا جلوس کا اہتمام کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان شرائط کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی۔
حکومت کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ جیل میں عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سیاسی پیغامات باہر آتے رہے ہیں، جنہیں حکومت خلاف ورزی کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک سیاسی قیدی، ملک کے ایک مقبول سیاسی رہنما اور بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ملاقات کے بعد اگر سیاسی بات باہر نہیں آئے گی تو پھر کیا پیغام آئے گا؟
بہرحال، عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کو اگر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو اسے نہ کسی سیاسی مقدمے میں انصاف قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی لازماً کسی ڈیل کا نتیجہ سمجھنا چاہئے۔