محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار - ریاض
مسلم دنیا گزشتہ ایک صدی سے جنگوں، خانہ جنگیوں، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم کا سامنا کررہی ہے۔
مصنف کے مطابق موجودہ عالمی حالات نے مسلم ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ ان کی بقا باہمی اتحاد اور مشترکہ دفاع سے وابستہ ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے بعد ترکیہ کی شمولیت کو مسلم یکجہتی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مضمون میں علامہ اقبال کے تصورِ ’قومِ رسولِ ہاشمیﷺ‘ کی روشنی میں مستقبل کے ممکنہ اسلامی اتحاد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اللہ رب العزت کی پیدا کردہ کائنات میں ہر مخلوق ایک مخصوص نظام کے تحت زندگی گزارتی ہے، ماسوائے خلیفۃ اللہ، یعنی انسان، کے جس کی رہنمائی کے لئے مختلف ادوار میں انبیائے کرام اور رسول مبعوث کئے گئے۔
بنی آدم کو کرۂ ارض پر اللہ کے خلیفہ کی حیثیت حاصل ہے اور اسے عقلِ سلیم اور ارادے کی آزادی سے بھی نوازا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے اختیار کے باعث کبھی حکمِ باری تعالیٰ سے روگردانی کرتا ہے اور پھر اس کے نتائج بھی بھگتتا ہے۔
اللہ رب العزت نے بنی آدم کی فلاح و ہدایت کے لیے اپنے محبوب اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے ذریعے قرآنِ کریم کی صورت میں قیامت تک کے لئے ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا فرمایا۔
اس آخری الہامی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھی ہے، لہٰذا کوئی دنیاوی طاقت اس میں زیر، زبر اور پیش تک کی تحریف نہیں کرسکتی۔
البتہ اس کے ترجمے اور تفسیر میں انسان اپنے علم، فہم اور طرزِ فکر کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔
قرآنِ کریم میں جہاں انسان کے لئے زندگی گزارنے کے اصول متعین کیے گئے ہیں، وہیں سورۂ آلِ عمران کی آیت 140 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم یہ دن لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘۔
مزید پڑھیں
اس آیت کا نزول محض غزوۂ اُحد اور غزوۂ بدر کے نتائج کا موازنہ کرنے کے لئے نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کو یہ باور کرانا بھی مقصود تھا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی کو فتح عطا کرنا یا کسی کو شکست سے دوچار کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ مسلمان اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوں، احکامِ الٰہی کی پابندی کریں اور اطاعتِ رسولﷺ کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔
اگر مسلمان ان اصولوں سے روگردانی کریں اور ان کے مخالفین، خواہ وہ کلمہ گو نہ ہوں، اپنے معاملات میں نظم و ضبط، عدل، دیانت اور انسانیت کو اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیاوی کامیابی عطا کرسکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
وہ بھی اسی کی مخلوق ہیں، اگرچہ اس کے دین سے دور ہیں۔
جب کوئی قوم ایسے قوانین تشکیل دیتی ہے جن میں انسانیت، انسانی حقوق کا تحفظ، مساوات اور عدل و انصاف موجود ہو تو اسے اپنی اجتماعی زندگی میں ان اصولوں کے ثمرات بھی حاصل ہوتے ہیں۔
سورۂ آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں قوموں کے عروج و زوال کے اسی اصول کی جانب اشارہ ملتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک خیر و شر کے درمیان موازنہ اور مقابلہ نہ ہو، انسان کی عقلِ سلیم اور ایمان کا امتحان مکمل نہیں ہوسکتا۔
دنیاوی آسائشیں دستیاب ہونے کے باوجود احکامِ الٰہی کی تعمیل کے لئے ان سے دست بردار ہوجانا ہی حقیقی بندگی ہے۔
امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت
دورِ حاضر میں کلمۂ توحید کے ماننے والوں کی جو حالت ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بالخصوص گزشتہ ایک صدی کے دوران امتِ مسلمہ جس زبوں حالی سے دوچار رہی ہے، اس کے اثرات آج پوری شدت سے محسوس کئے جارہے ہیں۔
آزادی کے نام پر امتِ محمدیہﷺ کی وحدت کا شیرازہ بکھیرا گیا، نفاق کے بیج بوئے گئے، نفرت کی آگ بھڑکائی گئی، مسلکی دیواریں کھڑی کی گئیں اور مسلم بھائیوں کے درمیان خلیج پیدا کی گئی۔
اس تقسیم کو قائم رکھنے کے لئے جو سازشیں کی گئیں، وہ آج اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے آچکی ہیں۔
اہم نکات ⌄
- مسلم دنیا طویل عرصے سے جنگوں اور بیرونی مداخلت کا سامنا کررہی ہے۔
- داخلی تقسیم نے مسلم ممالک کی اجتماعی قوت کو کمزور کیا۔
- مصنف پاکستان کو عالمِ اسلام کی نمایاں عسکری قوت قرار دیتے ہیں۔
- سعودی عرب اور پاکستان کا تعاون مسلم یکجہتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
- ترکیہ کی شمولیت سے وسیع تر دفاعی تعاون کی امید پیدا ہوئی ہے۔
- مشترکہ دفاع کو مسلم ریاستوں کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کے نہتے مسلمانوں پر جس طرح آہن و آتش اور گولہ و بارود کی بارش کی گئی، لبنان میں مسلمانوں کو جس انداز سے تہِ تیغ کیا گیا، شام کو جس طرح خانہ جنگی کی آگ میں جھونکا گیا، عراق کو غلامی کا طوق پہنایا گیا، لیبیا میں خانہ جنگی کو ہوا دی گئی، سوڈان میں فسادات کی آگ بھڑکائی گئی اور افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی، یہ سب ایک ہی تلخ حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔
ان مسلم ممالک پر مرحلہ وار جنگیں مسلط کی گئیں، خانہ جنگیوں کو فروغ دیا گیا اور وہاں بیرونی طاقتوں نے اپنا اقتدار اور اثر و رسوخ قائم رکھا۔
دوسری جانب کسی مسلم ملک کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھ سکے۔
اس کے برعکس مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کے وقت نیٹو کی چھتری تلے غیر مسلم ممالک کی افواج کو پوری طرح شریک کیا جاتا رہا۔
امتِ مسلمہ
گزشتہ ایک
صدی سے
تقسیم، جنگوں
اور بیرونی
مداخلت کا
شکار ہے
ایران اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال
ایران کے معاملے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ ایران کی عسکری اور دفاعی صلاحیت کا درست اندازہ نہ لگا سکے۔
دوسری طرف ایک صدی تک مغرب کی مذموم سازشوں کا شکار رہنے کے بعد ایران کے پڑوسی مسلم ممالک کو بھی یہ ادراک ہوچکا تھا کہ مسلم ریاستوں کو ایک ایک کرکے کس طرح کمزور اور تباہ کیا جاتا ہے اور پھر ان کے وسائل پر قبضہ جما لیا جاتا ہے۔
امریکہ ایران جنگ کے حوالے سے میں متعدد بار اس امر کا اظہار کرچکا ہوں کہ اس جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے تحت ہر متاثرہ ملک اور قوم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جارح ممالک امریکہ اور اسرائیل کی متعدد کوششوں اور مبینہ فالس فلیگ آپریشنز کے باوجود مملکت سعودی عرب نے کسی بھی موقع پر فوری ردعمل یا عجلت میں جوابی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔
بعد ازاں، جب یہ سازشیں بے نقاب ہوئیں تو سعودی عرب نے امریکہ سے اپنے فوجی اڈے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لئے واضح طور پر کہہ دیا اور بالآخر امریکہ کو اپنے فوجی اڈے سعودی عرب سے منتقل کرنا پڑے۔
مضمون کا مرکزی مؤقف ⌄
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون
اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ ایک ایسے دفاعی معاہدے میں شامل ہوچکا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کا دفاع ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح منسلک ہوگیا کہ ایک ملک پر جارحیت کو دوسرے ملک پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان چند ماہ قبل اپنے ازلی دشمن کے عزائم کو بری طرح ناکام بنا چکا تھا اور دنیا میں اپنی عسکری صلاحیت کی دھاک بٹھا چکا تھا۔
اس کامیابی نے کسی حد تک 1971ء کے داغ کو دھونے کی کوشش ضرور کی، لیکن تاریخ انتہائی بے رحم ہوتی ہے۔
وہ وقت گزرنے کے باوجود حقائق اور قومی تاریخ پر لگنے والے داغ اپنے سینے میں محفوظ رکھتی ہے۔
1971ء کا داغ آج بھی پاکستان کے ماتھے پر موجود ہے، کیونکہ اسلامی تاریخ میں مسلمان افواج کے اس انداز سے ہتھیار ڈالنے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
میری ذاتی رائے میں یہ داغ اسی وقت پوری طرح مٹ سکے گا جب مستقبل میں دشمن کو مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جائے گا، بصورتِ دیگر تاریخ کا یہ باب پاکستان کا پیچھا کرتا رہے گا۔
فکرِ اقبال ⌄
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ
یہ شعر امتِ مسلمہ کی جداگانہ شناخت، روحانی وابستگی اور اجتماعی اتحاد کے تصور کی ترجمانی کرتا ہے۔
میں نے 21 ستمبر 2025ء کو اپنی تحریر ’یکجہتی کی جانب پہلا قدم‘ میں لکھا تھا:
’’حالات کے جبر اور بقا کی فکر اس وقت پورے عالمِ اسلام کو شدید طور پر لاحق ہے، جبکہ عالمِ اسلام میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے حالیہ دنوں میں اپنی عسکری صلاحیت کی دھاک بخوبی بٹھائی ہے۔
اس نے اپنے ازلی دشمن اور اسرائیل کے فرسٹ کزن کو جس طرح شکست دی، اس نے پاکستان کو نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں عزت و احترام سے نوازا ہے۔
اگرچہ پاکستان کے معاشی حالات اور دیگر امور میں پیش رفت بہت زیادہ قابلِ ستائش نہیں، لیکن عسکری قابلیت، اہلیت اور جذبے نے اسے دیگر مسلم ممالک سے ممتاز کردیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان عسکری حوالے سے ایک انتہائی معتبر نام بن چکا ہے۔
پورا عالمِ اسلام شدید ترین خطرات میں گھرا ہوا ہے اور ہر مسلم ریاست کو اپنی بقا کی فکر لاحق ہے۔
بالخصوص پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی طاقتوں کی نظروں میں کھٹکتا ہے، لیکن افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، اہلیت اور قابلیت کے باعث دنیا اس سے پنجہ آزمائی سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہوگی۔
البتہ پاکستان کی طاقت کو کمزور کرنے یا اس کی اہلیت کو جانچنے کے لیے بھارت اور اسرائیل کے توسط سے پراکسی جنگ کا امکان بہرحال موجود ہے۔
جہاں تک مشرقِ وسطیٰ کے دفاع کا تعلق ہے، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان اور پاکستانیوں کی وابستگی ایک طے شدہ امر ہے، جس سے کسی کو انکار نہیں۔
ماضی میں بھی پاکستان نے مخصوص حالات میں حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائی ہے اور آئندہ بھی ہر پاکستانی ان مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنے لئے سعادت سمجھے گا۔
اس پس منظر میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے تاریخی معاہدے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ اور دفاعی سہولت صرف ایک اسلامی مملکت تک محدود رہنی چاہئے؟
کیا اسے محدود رکھ کر ہم فرمانِ رسولﷺ کی روح سے دور نہیں ہو رہے؟
تاہم میری نظر میں حالات کا جبر اور بقا کی فکر ہر ریاست کو ہوتی ہے، اور یہی جبر و فکر جلد یا بدیر اس معاہدے کی توسیع کا سبب بنے گا۔
اس معاہدے کو مسلم یکجہتی کی جانب پہلا قدم تصور کیا جانا چاہیے، کیونکہ موجودہ عالمی حالات کا تقاضا یہی ہے کہ بالآخر امتِ مسلمہ متحد ہوکر اپنے خلاف جاری کروسیڈ وار کا مقابلہ کرے۔‘
ایک منٹ میں کہانی ⌄
مسلم اتحاد کی جانب پیش رفت
درحقیقت امتِ مسلمہ کی ساخت اور ہیئت ہی ایسی ہے کہ اسے اتحاد کے سوا کوئی دوسری قوت محفوظ نہیں رکھ سکتی۔
موجودہ حالات کے جبر اور بقا کی فکر نے اب تیسری اہم ریاست، ترکیہ، کو بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بنادیا ہے۔
توقع کی جاسکتی ہے کہ وقت کے ساتھ دیگر مسلم ریاستیں بھی اس اتحاد میں شامل ہوں گی۔
اگرچہ ایسے دفاعی معاہدوں کی مکمل شرائط عموماً فوری طور پر منظرِ عام پر نہیں آتیں، تاہم یہ پیش رفت امید کی ایک نئی کرن ضرور پیدا کرتی ہے۔
مسلم ممالک کم از کم باہمی اتحاد، دفاعی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
علامہ محمد اقبال نے اسی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
آج بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتِ حال میں اس خاص ترکیب کے آثار ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔