سائنس انسانی جسم، بیماریوں اور کائناتی قوانین کی تشریح میں بڑی کامیابیاں حاصل کرچکی ہے، لیکن کیا وہ انسان کے لیے حتمی اخلاقی اصول بھی متعین کرسکتی ہے؟
مضمون میں جدید مغربی فکر، مذہب، اخلاقی ذمہ داری اور دینِ فطرت کے باہمی تعلق پر بحث کی گئی ہے۔
مصنف کے مطابق جسمانی یا ذہنی کیفیت اور اخلاقی ذمہ داری کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا درست نہیں، جبکہ خیر و شر کے مستقل اصولوں کے لیے مذہبی رہنمائی ناگزیر ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
کوئی انسان پیدائشی طور پر جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوسکتا ہے، اور تاریخ میں ایسے بے شمار افراد گزرے ہیں۔
لیکن کسی جسمانی معذوری کو اخلاقی کمزوری یا اخلاقی برائی کی لازمی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مختلف جسمانی کمزوریوں کے حامل افراد نے نہ صرف باوقار اور مثبت زندگی گزاری بلکہ بعض نے غیر معمولی علمی اور عملی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔
اسٹیفن ہاکنگ اس کی ایک نمایاں مثال ہیں کہ جسمانی معذوری انسان کی علمی صلاحیتوں یا کردار کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
اسی اصول کی بنیاد پر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر انسانی رویے یا اخلاقی انتخاب کو صرف جسمانی، حیاتیاتی یا نفسیاتی بنیاد پر جائز قرار دے دیا جائے۔
ہم جنس پرستی کو محض پیدائشی جسمانی عیب یا ناگزیر جسمانی مرض قرار دے کر اخلاقی بحث سے خارج کردینا درست طرزِ فکر نہیں۔
مذہب، بالخصوص اسلام، انسانی اعمال کو اخلاقی ذمہ داری اور شرعی اصولوں کے دائرے میں دیکھتا ہے۔