براہ راست نشریات

اخلاقی اقدار کا پیمانہ، دین فطرت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Religion and Moral Values

زبیر حسن شیخ

ممبئي

سائنس انسانی جسم، بیماریوں اور کائناتی قوانین کی تشریح میں بڑی کامیابیاں حاصل کرچکی ہے، لیکن کیا وہ انسان کے لیے حتمی اخلاقی اصول بھی متعین کرسکتی ہے؟
مضمون میں جدید مغربی فکر، مذہب، اخلاقی ذمہ داری اور دینِ فطرت کے باہمی تعلق پر بحث کی گئی ہے۔
مصنف کے مطابق جسمانی یا ذہنی کیفیت اور اخلاقی ذمہ داری کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا درست نہیں، جبکہ خیر و شر کے مستقل اصولوں کے لیے مذہبی رہنمائی ناگزیر ہے۔

مغربی افکار کے پروردہ مسلمانوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ ہر قدرتی واقعہ یا حادثے کی توجیہ سائنسی پس منظر میں تلاش کرتے ہیں، لیکن جہاں سائنس بے بس نظر آتی ہے وہاں مذہب، اہلِ مذہب اور خصوصاً اہلِ ایمان کی مخالفت میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 

ایسے لوگ اخلاقی اور جسمانی امراض میں بھی واضح تفریق نہیں کرپاتے۔ 

اہلِ علم کا کام یہ نہیں کہ نیوٹن، راجر بیکن، فرائڈ، آئن اسٹائن، کومتے، والتیر اور ڈارون کو اس لیے پڑھیں کہ ان کے ہر نظریے کو قبول کرلیں، بلکہ ان کے افکار کو علم و تحقیق اور اپنے عقائد کے پیمانے پر پرکھیں، کھرے اور کھوٹے میں فرق کریں اور پھر حقیقت کو سامنے رکھیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جدید علوم نے جسمانی امراض کی تحقیق، تشخیص اور علاج میں غیر معمولی ترقی کی ہے، اگرچہ یہ سفر اب بھی جاری ہے۔ 

تاہم اخلاقی مسائل اور انسانی کردار کی اصلاح ایسا میدان ہے جس میں سائنس کوئی جامع نظام پیش نہیں کرسکی۔ 

اخلاقی اقدار کا تعلق محض جسمانی یا مادی قوانین سے نہیں بلکہ انسانی عقائد، ذمہ داری، جواب دہی اور خیر و شر کے تصور سے بھی ہے۔

مزید پڑھیں

اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی، آخرت کے حساب اور کسی اعلیٰ اخلاقی طاقت سے بے نیاز کردیا جائے تو پھر اخلاقی اصولوں کی بنیاد کیا ہوگی؟ 

مختلف مصائب، انسانی رویوں اور معاشرتی برائیوں کی سائنسی وجوہ بیان کی جاسکتی ہیں، مگر انسان کو اخلاقی طور پر بہتر بنانے کے لیے محض سائنسی توجیہ کافی نہیں۔

 اسی لیے انسان کو اخلاقی اصولوں اور عقائد کی ضرورت رہتی ہے اور یہ دائرہ بنیادی طور پر دین و مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ 

دینِ فطرت انسان کے سامنے خیر و شر، عدل و ظلم اور جائز و ناجائز کا واضح پیمانہ رکھتا ہے۔

مذہب مخالف فلسفوں میں مختلف مفکرین نے خدا اور مابعد الطبیعیات کے تصور پر اعتراضات کیے۔ 

لینن نے ایسے اخلاقی ضابطوں سے انکار کیا جو انسان سے ماورا کسی طاقت سے اخذ ہوں، جبکہ بعض دیگر مغربی مفکرین نے کائنات کی تشریح کے لیے خدا کے تصور کو غیر ضروری قرار دینے کی کوشش کی۔ 

سوال یہ ہے کہ اگر انسانی زندگی کے تمام مسائل محض مادی اور سائنسی اصولوں کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں تو پھر جدید ترقی کے باوجود انسان اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی بحرانوں سے مکمل نجات کیوں حاصل نہیں کرسکا؟

کیا سائنس
انسانی اخلاق کا
حتمی پیمانہ
طے کرسکتی ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ 
کوئی انسان پیدائشی طور پر جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوسکتا ہے، اور تاریخ میں ایسے بے شمار افراد گزرے ہیں۔ 
لیکن کسی جسمانی معذوری کو اخلاقی کمزوری یا اخلاقی برائی کی لازمی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 
مختلف جسمانی کمزوریوں کے حامل افراد نے نہ صرف باوقار اور مثبت زندگی گزاری بلکہ بعض نے غیر معمولی علمی اور عملی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ 
اسٹیفن ہاکنگ اس کی ایک نمایاں مثال ہیں کہ جسمانی معذوری انسان کی علمی صلاحیتوں یا کردار کی راہ میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
اسی اصول کی بنیاد پر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر انسانی رویے یا اخلاقی انتخاب کو صرف جسمانی، حیاتیاتی یا نفسیاتی بنیاد پر جائز قرار دے دیا جائے۔
ہم جنس پرستی کو محض پیدائشی جسمانی عیب یا ناگزیر جسمانی مرض قرار دے کر اخلاقی بحث سے خارج کردینا درست طرزِ فکر نہیں۔ 
مذہب، بالخصوص اسلام، انسانی اعمال کو اخلاقی ذمہ داری اور شرعی اصولوں کے دائرے میں دیکھتا ہے۔

جدید مغربی فکر کے بعض حلقے مذہب کو انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، جبکہ مذہبی نقطۂ نظر یہ ہے کہ سائنس کا اصل میدان مادی دنیا، جسمانی امراض اور کائناتی قوانین کی تحقیق ہے، نہ کہ حتمی اخلاقی اقدار کا تعین۔ 

سائنس انسان کو یہ بتاسکتی ہے کہ کوئی چیز کیسے وقوع پذیر ہوتی ہے، مگر یہ فیصلہ کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے، کہاں رکنا چاہیے اور کس عمل کو خیر یا شر قرار دینا چاہیے، محض تجربہ گاہ کے ذریعے ممکن نہیں۔

اسی لیے اخلاقی اقدار کے لیے ایک ایسے پیمانے کی ضرورت ہے جو انسانی خواہشات، بدلتے رجحانات اور معاشرتی فیشن سے بالاتر ہو۔ 

مذہبی نقطۂ نظر سے یہ پیمانہ دینِ فطرت فراہم کرتا ہے، جو انسان کو علم کے ساتھ ذمہ داری، آزادی کے ساتھ حدود اور زندگی کے ساتھ جواب دہی کا شعور دیتا ہے۔