مضمون کے تیسرے حصے میں گفتگو انسانی جان کی حرمت اور آخرت کی انفرادی جواب دہی پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ مصنف زندہ درگور بچیوں کے قرآنی ذکر کو موجودہ دور میں بیٹیوں کے خلاف امتیازی رویوں اور ان کے قتل سے جوڑتے ہیں۔
سورۃ بنی اسرائیل میں اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل کرنے کی ممانعت اور سورۃ المائدہ میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دینے والی تعلیمات کے ذریعے یہ پیغام سامنے آتا ہے کہ انسانی جان انتہائی محترم ہے۔
اختتام پر مضمون انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی طاقت، مال اور مرتبہ عارضی ہیں جبکہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا۔
اس آیت کے پس منظر میں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے درمیان انسانی تاریخ کے اولین قتل کا واقعہ بھی انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کس قدر بڑی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے انسان کو بار بار حدود سے تجاوز نہ کرنے کی ہدایت دی، تاہم انسانیت کی ایک بڑی تعداد زمین میں حدودِ الٰہی کو پھلانگنے والی بن کر رہ گئی۔
یہ حقیقت اکثر نظر انداز کی جاتی ہے کہ ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے مالک کے ہاں جواب دہ ہوگا اور یہ کہ وہ کسی اور فرد یا قوم کے اعمال کی جواب دہی کا مکلف ہرگز نہیں ہوگا۔
ہر انسان کو اپنی زندگی، اپنے فیصلوں، اپنے طرزِ عمل اور اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا۔
یہی احساسِ جواب دہی دراصل انسان کے رویے کو تبدیل کرسکتا ہے۔
ہمیں آج سے بلکہ ابھی اِسی لمحے سے خود اپنی ذات کو آخرت کی جواب دہی کے لئے ذہناً اور عملاً تیار کرنا ہے۔
یہ تیاری خلوص اور سنجیدہ طرزِ عمل پر مبنی ہونی چاہئے، نہ کہ کسی عارضی جذباتیت کے زیر اثر۔