براہ راست نشریات

وہ بچی قیامت میں پوچھے گی: آخر میرا جرم کیا تھا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Day of Judgment
Picture of  عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

مضمون کے تیسرے حصے میں گفتگو انسانی جان کی حرمت اور آخرت کی انفرادی جواب دہی پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ مصنف زندہ درگور بچیوں کے قرآنی ذکر کو موجودہ دور میں بیٹیوں کے خلاف امتیازی رویوں اور ان کے قتل سے جوڑتے ہیں۔
سورۃ بنی اسرائیل میں اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل کرنے کی ممانعت اور سورۃ المائدہ میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دینے والی تعلیمات کے ذریعے یہ پیغام سامنے آتا ہے کہ انسانی جان انتہائی محترم ہے۔
اختتام پر مضمون انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی طاقت، مال اور مرتبہ عارضی ہیں جبکہ ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا۔

3/3

آخر یہ Sex Determination Test ہے کیا چیز؟ 

یہی تو خوبصورت الفاظ میں ترقی یافتہ ترکیب ہے بیٹیوں کے قتل کی۔

ہم اِسے قتل کا نام اِسی لئے دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے میں ایک مرحلے پر جان ڈال دی گئی ہوتی ہے۔ 

ظاہر ہے اِسے اسقاط کے ذریعہ ختم کئے جانے کا مطلب سوائے قتل کے اور کیا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ گڑھا کھود کر مٹی میں دبا دینے کے بجائے جدید طبی آلات کے ذریعہ ماں کے پیٹ ہی میں اِس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے، یعنی رب نے اس میں جان ڈال دی اور ہم نے اسے جدید طبی طریقے سے ختم کر ڈالا۔

کیا یہ سب نظر انداز کر دیا جائے گا؟ کیا اِسی طرح خالق کے تخلیقی فیصلوں میں ہم من مانی مداخلت کرتے رہیں گے اور ہم پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا؟ 

کیا یہ منطق کسی کی عقل میں سما سکتی ہے کہ اِس گھناؤنے جرم کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے؟

👧 زندہ درگور بچی کا سوال

سورۃ التکویر کا یہ منظر مظلوم کی آواز کو قیامت کے دن مرکز میں لے آتا ہے۔

مضمون کے مطابق یہ صرف قدیم عرب کے ایک جرم کا ذکر نہیں، بلکہ انسان کو یہ یاد دلانا ہے کہ بے گناہ جان کے خلاف ظلم آخرت میں نظر انداز نہیں ہوگا۔

رب تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ حکم صادر فرماتا ہے:

’اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں، یقیناً ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔‘ (بنی اسرائیل 31)

ان والدین کا کیا حال بنے گا جب ان کی پیدا نہ ہوسکنے والی بیٹی ہی حشر میں یہ سوال کرے گی کہ اے میرے امی ابّو، مجھے کس خطا میں آپ نے موت کی نیند سلا دیا تھا؟

انسانی جان کی یہ ارزانی اس دنیا کو رہنے بسنے کے قابل نہیں رہنے دے گی۔ 

آج تو ہر جان غیر محفوظ بن گئی ہے۔

🚫 مفلسی کے خوف سے اولاد کا قتل

مضمون سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 31 کا حوالہ دیتا ہے، جس میں مفلسی کے خوف سے اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

مرکزی نکتہ: معاشی خوف انسانی جان ختم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

انسانی جان کے احترام اور اس کی قیمت کا اندازہ سورۂ المائدہ کی آیت 32 سے لگایا جا سکتا ہے:

’اُسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کرے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اُس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کردیا۔‘

انسانی جان کی
یہ ارزانی اس دنیا
کو رہنے بسنے کے
قابل نہیں
رہنے دے گی

اس آیت کے پس منظر میں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے درمیان انسانی تاریخ کے اولین قتل کا واقعہ بھی انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کس قدر بڑی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے انسان کو بار بار حدود سے تجاوز نہ کرنے کی ہدایت دی، تاہم انسانیت کی ایک بڑی تعداد زمین میں حدودِ الٰہی کو پھلانگنے والی بن کر رہ گئی۔
یہ حقیقت اکثر نظر انداز کی جاتی ہے کہ ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے مالک کے ہاں جواب دہ ہوگا اور یہ کہ وہ کسی اور فرد یا قوم کے اعمال کی جواب دہی کا مکلف ہرگز نہیں ہوگا۔
ہر انسان کو اپنی زندگی، اپنے فیصلوں، اپنے طرزِ عمل اور اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا۔
یہی احساسِ جواب دہی دراصل انسان کے رویے کو تبدیل کرسکتا ہے۔
ہمیں آج سے بلکہ ابھی اِسی لمحے سے خود اپنی ذات کو آخرت کی جواب دہی کے لئے ذہناً اور عملاً تیار کرنا ہے۔
یہ تیاری خلوص اور سنجیدہ طرزِ عمل پر مبنی ہونی چاہئے، نہ کہ کسی عارضی جذباتیت کے زیر اثر۔

🩸 ایک جان کتنی قیمتی ہے؟

مضمون سورۃ المائدہ کی آیت 32 کو انسانی جان کی حرمت کی بنیادی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔

قرآنی مفہوم کے مطابق ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل اور ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

زندگی کے کسی مرحلے میں کیا کبھی جواب دہی کے احساس کی کوئی لہر ہمارے گوشۂ دل سے اُٹھتی بھی ہے؟

کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں عطا کی گئی زندگی، صحت، عقل، مال، اختیار اور زمین کی دوسری نعمتوں کے بارے میں سوال ہوسکتا ہے؟

کیا ہم نے اپنے اردگرد موجود انسانوں، جانوروں، ماحول اور قدرتی وسائل کے ساتھ وہ رویہ اختیار کیا جس کی ایک ذمہ دار انسان سے توقع کی جاتی ہے؟

⚖️ ہر شخص اپنا حساب خود دے گا

مضمون کا اہم نکتہ یہ ہے کہ آخرت میں ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں جواب دہ ہوگا۔

اس کے سامنے اس کے اپنے فیصلے، اعمال، ظلم، انصاف اور اختیار کا استعمال رکھا جائے گا۔

سورۂ تکویر کے یہ مناظر محض مستقبل کے کسی خوفناک واقعے کی تصویر کشی نہیں کرتے بلکہ موجودہ زندگی کے بارے میں ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ انسان آج کیا کر رہا ہے اور کل اپنے اعمال کے بارے میں کیا جواب دے گا۔

سورج کا لپیٹا جانا، ستاروں کا جھڑنا، پہاڑوں کا اپنی جگہ چھوڑ دینا، وحشی جانوروں کا جمع ہونا، سمندروں کا بھڑک اٹھنا اور انسان کا دوبارہ اٹھایا جانا، یہ تمام علامات انسان کو اُس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں جسے وہ روزمرہ کی مصروفیات میں بھلا بیٹھتا ہے۔

دنیا کی ہر طاقت، ہر دولت، ہر اختیار اور ہر نظام ایک دن ختم ہونا ہے۔

باقی رہ جانے والی چیز انسان کے اعمال اور اُس کی جواب دہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کتاب اللہ بار بار انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ وقت آنے سے پہلے سنبھل جائے، اپنی سمت درست کرے، ظلم سے بچے، انسانی جان کی حرمت کا احترام کرے، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرے اور اپنی زندگی کو جواب دہی کے شعور کے ساتھ گزارے۔

زندگی کی مہلت ہمیشہ نہیں رہنے والی۔

وہ دن ضرور آئے گا جب نہ مال کام آئے گا، نہ قوت، نہ دنیاوی مرتبہ اور نہ کوئی ایسی پناہ گاہ ہوگی جہاں انسان چھپ سکے۔

👤 دوسروں کے اعمال کا بوجھ نہیں

مصنف زور دیتے ہیں کہ انسان کسی دوسرے فرد یا پوری قوم کے اعمال کی جواب دہی کا مکلف نہیں ہوگا۔

سبق: آخرت کی تیاری اجتماعی نعروں سے پہلے اپنی ذات، اپنے اعمال اور اپنے فیصلوں کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔

انسان کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہوگا۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ آئے گی تو ہم اُس کے لئے کتنے تیار ہوں گے؟

زندگی کے کسی مرحلے میں کیا کبھی جواب دہی کے احساس کی کوئی لہر ہمارے گوشۂ دل سے اُٹھتی بھی ہے؟

اِس سوال کا جواب آج بھی اپنے جواب کے لئے ترستا نظر آتا ہے۔

←
آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄