براہ راست نشریات

سنبھل بھی جاؤ قریب آ لگا ہے حشر کا دن!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Signs of Judgment Day

سورج، ستاروں، پہاڑوں اور وحشی جانوروں کے ذریعے آخرت کی تصویر کشی، جب انسان کو کہیں پناہ نہیں ملے گی

Picture of عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

سورۃ التکویر قیامت کے آغاز کے ایسے مناظر پیش کرتی ہے جو انسان کو دنیا کی ظاہری مضبوطی اور دائمی ہونے کے تصور سے باہر نکالتے ہیں۔
سورج کا لپیٹ دیا جانا، ستاروں کا جھڑنا، پہاڑوں کا اپنی جگہ چھوڑ دینا، قیمتی حاملہ اونٹنیوں سے انسان کی بے نیازی اور وحشی جانوروں کا ایک جگہ جمع ہونا اس غیر معمولی دن کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
عزیز بلگامی اپنے مضمون کے پہلے حصے میں انہی قرآنی علامات کو سامنے رکھتے ہوئے انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ دنیا کی ہر طاقت اور ہر سہارا عارضی ہے، جبکہ آخرکار انسان کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

1/3

انسانوں کے سر پر چمکتا ہوا سورج انسانوں کی مستقل بے اعتنائی کی پرواہ کئے بغیر کس قدر بے نیازی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن پورے کرنے میں نہ جانے کب سے مصروفِ سفر ہے اور وہ کس ایمانداری کے ساتھ انسانوں کے تئیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں منہمک ہے۔

پھر یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اِس سے اُٹھنے والے آب بردار بادل انسانوں کے لئے محض پانی کا نہیں بلکہ زندگی کا سامان کرتے ہیں۔ پانی کے بغیر زندگی ہی ناممکن ہے۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

ہم روز سورج کو نکلتے، ستاروں کو چمکتے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ قائم دیکھتے ہیں، مگر سورۃ التکویر انسان کو یاد دلاتی ہے کہ یہ پورا نظام ہمیشہ قائم نہیں رہے گا۔

ایک دن سورج لپیٹ دیا جائے گا، ستارے جھڑ جائیں گے، پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور خوف کی شدت ایسی ہوگی کہ انسان اپنی قیمتی ترین چیزوں کی بھی پروا نہیں کرے گا۔

اصل سوال: قیامت کب آئے گی نہیں، بلکہ انسان اُس دن کے لیے کیا تیاری کررہا ہے؟

زمین پر پہاڑوں کی موجودگی زمین کے توازن کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے، کون اِس حقیقت سے ناواقف ہو سکتا ہے۔ 

کتاب اللہ خبر دیتی ہے کہ یہ نعمت ہائے خداوندی ایک دن ہم سے چھین لی جائیں گی۔ 

ہاں اللہ کی کتاب تو یہی کہتی ہے۔

مزید پڑھیں

سورۂ تکویر کی درجِ ذیل آیتیں اِس عظیم حادثے سے بے نیاز انسانوں کو جھنجوڑ دیتی ہیں:

’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور جب پہاڑ چلا دیئے جائیں گے اور جب حاملہ اونٹنیاں اپنی قدر و قیمت کھو دیں گی اور غیر محفوظ چھوڑ دی جائیں گی اور جب وحشی جانور ایک جگہ جمع کر لئے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور 

جب ہر نفس کی جوڑی بنا دی جائے گی اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم کی پاداش میں اس کا قتل کیا گیا تھا؟‘

سورج، ستارے، پہاڑ، حاملہ اونٹنیوں کی افراتفری، وحشی جانوروں کا اجتماع، سمندروں میں آگ کے شعلے، جسم اور روح کے تعلق کی تجدید اور زندہ دفن کی جانے والی بچیوں سے اُن کے جرم کا سوال کہ اُن کا قتل کیوں کیا گیا، یہ وہ موضوعات ہیں جو سورۂ تکویر کے حوالے سے ہمارے مضمون کا مرکز ہیں۔

📖 سورۃ التکویر کا مرکزی پیغام

سورۃ التکویر قیامت کے آغاز کے ایسے مناظر پیش کرتی ہے جو انسان کو دنیا کی ظاہری مضبوطی اور دوام کے تصور سے باہر نکالتے ہیں۔

سورج، ستارے، پہاڑ، جانور اور سمندر — سب ایک ایسے بڑے کائناتی تغیر کی علامت بنتے ہیں جس کے سامنے دنیا کے تمام سہارے بے معنی ہوجائیں گے۔

سب سے پہلے سورج کو دیکھئے۔ 

سورج معلوم کائنات کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ 

جدید تحقیق کے مطابق سورج زمین کو بے پناہ توانائی فراہم کرتا ہے۔ 

گویا زمین پر زندگی سورج کی اِسی توانائی کی رہینِ منت ہے، لیکن کائنات سمیت اِس زبردست منبعِ نور پر ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اس کی ساری طاقت چھین لی جائے گی جو روشنی اور تپش کی شکل میں سورج کے اندر موجود ہے۔

ستاروں کے بارے میں کہا گیا کہ اِن کی یہ خوبصورت انجمن بکھیر دی جائے گی، یہ اپنی جگمگاہٹ سے محروم کر دیئے جائیں گے اور آسمان بے نور ہو کر رہ جائے گا، اِس لئے کہ اِس کی خوبصورتی کا راز اِن ہی ستاروں کی جگمگاہٹ میں پوشیدہ ہے۔

🏃 انسان کہاں جائے گا؟

قیامت کی افراتفری میں انسان مال، خاندان اور دنیاوی سہاروں سے بے نیاز ہوکر صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا۔

مگر قرآن کا جواب واضح ہے: ’’نہیں، کوئی پناہ گاہ نہیں۔ اُس دن تیرے رب ہی کی طرف ٹھکانا ہوگا۔‘‘

اونچے اونچے پہاڑوں کا حال یہ ہوگا کہ یہ اپنی ساری مضبوطی کھو بیٹھیں گے اور اِن سے اِن کی زمین میں جمے رہنے کی قوت اور اِن کا وہ وزن، جو انہیں زمین میں مضبوطی سے جما دیتا ہے، چھین لیا جائے گا۔

سورۃ التکویر
قیامت کے ابتدائی
اور غیر معمولی
مناظر بیان
کرتی ہے

کائنات میں رونما ہونے والے اِس عظیم حادثے کے سبب ہر شے تہس نہس کردی جائے گی، سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
یہ گویا قیامت کا ایک ایسا منظر ہوگا جس کی حشر سامانیوں کا ایک مبہم سا تصور ہم اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔
جس بگ بینگ کے ذریعہ رب تعالیٰ نے اِس کائنات کی تشکیل کی تھی، وہی رب ایک اور عظیم حادثے کے ذریعہ کائنات کی اِس بساط کو لپیٹ دے گا۔
ظاہر ہے یہ منظر کوئی معمولی منظر نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق اِس غیر معمولی منظر کا جب مشاہدہ کر رہی ہوگی تو اُس کے اوسان خطا ہو رہے ہوں گے، وہ حواس باختہ ہو جائے گی۔
اِس حواس باختگی کی شدت کا احساس دلانے کے لئے رب تعالیٰ نے بڑے حکیمانہ طریقے سے ایک طرف حاملہ اونٹنیوں کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف وحشی جانوروں کے اجتماع کا، جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ عام حالات میں بچھو اور سانپ ایک جگہ دکھائی نہیں دیتے، شیر اور بکری ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن قیامت کے مذکورہ منظر میں یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

💡 اصل سبق — تیاری آج سے

قیامت کی علامات کا مقصد محض خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اپنی زندگی، ترجیحات اور اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دینا ہے۔

دنیا کی ہر طاقت اور ہر سہارا عارضی ہے؛ اصل تیاری یہ ہے کہ انسان جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارے۔

سوال: اگر آج ہی حساب کا دن سامنے آجائے تو ہماری تیاری کتنی ہے؟

جہاں تک حاملہ اونٹنیوں کی بات ہے، دنیا کے جس خطے میں کتابِ ہدایت کے نزول کا آغاز ہوا تھا، اُس خطے کے لوگوں کے لئے ایسی حاملہ اونٹنیاں، جن کے وضعِ حمل کا وقت قریب ہوتا، بڑی قیمتی تصور کی جاتی تھیں۔ 

یہاں تک کہ اِن کی جان سے بھی زیادہ حفاظت کی جاتی تھی۔

حاملہ اونٹنیوں کی اِسی قدر و قیمت کے پیش نظر اِن کے مالکین کی اِن سے لاپروا ہونے کے تذکرے کا مطلب یہی ہوگا کہ صورتحال تباہ کن ہوگی اور یہ خود کو بچانے کی فکر میں ہوں گے اور انہیں کچھ ہوش نہیں رہے گا کہ اُن کی اِن قیمتی اونٹنیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

اِسی طرح وحشی جانوروں کا اجتماع بذاتِ خود اِس بات کی علامت ہے کہ یہ ایک دوسرے کے خوف سے بے نیاز ہوکر کسی تیسرے خوف سے سہمے ہوئے ہوں گے اور یہ وہی ٹوٹ پھوٹ والے منظر سے اُبھرنے والا خوف ہوگا جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ سب کچھ اچانک رونما ہونے والا حادثہ ہوگا جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:

’آسمانوں اور زمین کے لئے انتہائی بھیانک حادثہ ہوگا، اور وہ تم پر اچانک آپڑے گا۔‘ (الاعراف 187)

غرض کہ قیمتی مال و متاع کو چھوڑ کر حواس باختہ انسان اپنی پناہ گاہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتا نظر آئے گا۔ 

نہ صرف مال و متاع بلکہ اپنے اہل و عیال، بال بچوں، والدین اور رشتہ داروں تک کی اُسے فکر نہ ہوگی۔

⚠️ دنیا کا موجودہ نظام مستقل نہیں

سورۃ التکویر کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسان جس کائناتی نظام کو ہمیشہ قائم رہنے والا سمجھتا ہے، وہ دراصل ایک مقررہ مدت تک قائم ہے۔

سورج، ستارے، پہاڑ اور زمین کی دوسری نشانیاں انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ دنیا عارضی ہے اور آخرت کی جواب دہی مستقل حقیقت ہے۔

اِن کو چھوڑ کر صرف اپنے ہی دفاع کی فکر میں وہ بھاگا جا رہا ہوگا، لیکن عجیب بات ہے کہ وہ بھاگ کر آخر جانے والا کہاں ہوگا؟

رب تعالیٰ اپنی کتاب میں اعلان فرماتا ہے:

’نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں، آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاہ ہے۔‘ (القیامۃ 11،12)