سورۃ التکویر قیامت کے آغاز کے ایسے مناظر پیش کرتی ہے جو انسان کو دنیا کی ظاہری مضبوطی اور دائمی ہونے کے تصور سے باہر نکالتے ہیں۔
سورج کا لپیٹ دیا جانا، ستاروں کا جھڑنا، پہاڑوں کا اپنی جگہ چھوڑ دینا، قیمتی حاملہ اونٹنیوں سے انسان کی بے نیازی اور وحشی جانوروں کا ایک جگہ جمع ہونا اس غیر معمولی دن کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
عزیز بلگامی اپنے مضمون کے پہلے حصے میں انہی قرآنی علامات کو سامنے رکھتے ہوئے انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ دنیا کی ہر طاقت اور ہر سہارا عارضی ہے، جبکہ آخرکار انسان کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
کائنات میں رونما ہونے والے اِس عظیم حادثے کے سبب ہر شے تہس نہس کردی جائے گی، سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
یہ گویا قیامت کا ایک ایسا منظر ہوگا جس کی حشر سامانیوں کا ایک مبہم سا تصور ہم اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔
جس بگ بینگ کے ذریعہ رب تعالیٰ نے اِس کائنات کی تشکیل کی تھی، وہی رب ایک اور عظیم حادثے کے ذریعہ کائنات کی اِس بساط کو لپیٹ دے گا۔
ظاہر ہے یہ منظر کوئی معمولی منظر نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق اِس غیر معمولی منظر کا جب مشاہدہ کر رہی ہوگی تو اُس کے اوسان خطا ہو رہے ہوں گے، وہ حواس باختہ ہو جائے گی۔
اِس حواس باختگی کی شدت کا احساس دلانے کے لئے رب تعالیٰ نے بڑے حکیمانہ طریقے سے ایک طرف حاملہ اونٹنیوں کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف وحشی جانوروں کے اجتماع کا، جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ عام حالات میں بچھو اور سانپ ایک جگہ دکھائی نہیں دیتے، شیر اور بکری ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن قیامت کے مذکورہ منظر میں یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔