سرفراز انعام
جده
قرآن رسول اللہﷺ کے اخلاق کو عظیم قرار دیتا ہے، حضرت عائشہؓ نے آپﷺ کے کردار کو قرآن کی عملی تصویر کہا، جبکہ مائیکل ہارٹ، بوسورتھ اسمتھ اور لامارتین جیسے غیر مسلم مصنفین نے بھی آپﷺ کے غیر معمولی تاریخی اثرات کا ذکر کیا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بے شمار حکمران، فاتح، فلسفی، مصلح اور دانشور گزرے، لیکن رسول اللہﷺ کی شخصیت کا امتیاز یہ ہے کہ آپﷺ کی زندگی کا اثر صرف ایک دور، ایک قوم یا ایک خطے تک محدود نہیں رہا۔
14 صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آپﷺ کی تعلیمات دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی، عبادات، اخلاق، خاندان، تجارت اور معاشرتی رویوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
مسلمانوں کے لیے رسول اللہﷺ کی عظمت کے اثبات کے لیے کسی انسانی گواہی کی ضرورت نہیں۔
قرآن مجید نے خود آپﷺ کے اخلاق کے بارے میں فرمایا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTرسول اللہ ﷺ — اہم نکات ⌄
- ✓قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز قرار دیتا ہے۔
- ✓آپ ﷺ اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
- ✓آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
- ✓حضرت عائشہؓ نے فرمایا: كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ
یعنی آپﷺ یقیناً عظیم اخلاق کے بلند مقام پر فائز ہیں۔
سورۃ القلم کی یہ آیت رسول اللہﷺ کی شخصیت اور کردار کے بارے میں قرآن کا نہایت جامع تعارف ہے۔
قرآن ایک دوسرے مقام پر آپﷺ کو اہل ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتا ہے، جبکہ سورۃ الانبیاء میں آپﷺ کی بعثت کو تمام جہانوں کے لیے رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ
رسول اللہ ﷺ کے کردار کی شاید سب سے مختصر اور جامع تصویر ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے پیش کی۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جب ان سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔
اس ایک جملے کا مطلب یہ تھا کہ قرآن جن صفات کی تعلیم دیتا ہے، رسول اللہﷺ کی عملی زندگی ان تعلیمات کا نمونہ تھی۔
عبادت ہو یا معاملات، صبر ہو یا رحم، عدل ہو یا درگزر، تعلیم صرف الفاظ تک محدود نہیں تھی بلکہ زندگی میں نظر آتی تھی۔
خود رسول اللہﷺ سے یہ روایت بھی منقول ہے کہ آپﷺ کو عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔
۞ QURAN | 68:4قرآن کی گواہی: عظیم اخلاق ⌄
’’اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘
سورۃ القلم، آیت 4مائیکل ہارٹ
رسول اللہﷺ کے تاریخی اثرات کا اعتراف صرف مسلم مؤرخین تک محدود نہیں۔
امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں رسول اللہ ﷺ کو اپنی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا۔
ہارٹ نے وضاحت کی کہ اس کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ اس کے نزدیک محمدﷺ نے مذہبی اور دنیاوی، دونوں سطحوں پر غیر معمولی اثر چھوڑا۔
اس نے آپﷺ کے مذہبی کردار کے ساتھ سیاسی اور سماجی قیادت کو بھی اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا۔
یہ درجہ بندی ایک مصنف کا تاریخی تجزیہ ہے، اسلامی عقیدے کی دلیل نہیں، لیکن اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ ایک غیر مسلم مصنف نے انسانی تاریخ پر مختلف شخصیات کے اثرات کا تقابل کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کے اثر کو سب سے نمایاں قرار دیا۔
رسول اللہﷺ کی
سیرت ایمان کے
ساتھ رحم، عدل،
سچائی، دیانت
اور حسنِ اخلاق
کی تعلیم
دیتی ہے
بوسورتھ اسمتھ
برطانوی مصنف اور مؤرخ ریجنالڈ بوسورتھ اسمتھ نے 1874 میں شائع ہونے والی کتاب Mohammed and Mohammedanism میں رسول اللہﷺ کی قیادت کے ایک مختلف پہلو پر توجہ دی۔
اسمتھ نے لکھا کہ محمدﷺ کے پاس اقتدار تھا، لیکن روایتی بادشاہوں کی طرح مستقل فوج، محافظ دستہ، محل یا مقررہ شاہی آمدنی جیسے وسائل نہیں تھے۔
اس کا یہ بیان دراصل اس تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی قیادت محض شاہانہ ظاہری طاقت پر قائم نہیں تھی۔
لامارتین کو کس بات نے متاثر کیا؟
فرانسیسی شاعر، سیاست دان اور مؤرخ الفونس ڈی لامارتین نے اپنی Histoire de la Turquie میں رسول اللہﷺ کے مشن کے مقصد، محدود ابتدائی وسائل اور بعد کے وسیع تاریخی نتائج کا ذکر کیا۔
لامارتین نے آپﷺ کو فلسفی، خطیب، قانون دینے والی اور خیالات کو تبدیل کرنے والی شخصیت کے طور پر بیان کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انسانی عظمت کو ناپنے کے ان پیمانوں پر کتنی شخصیات آپﷺ کے مقابل کھڑی کی جاسکتی ہیں۔
یہ اقتباس اس کی 1854 کی کتاب کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے۔
◎ QURAN | 33:21اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ ⌄
قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتا ہے۔
سورۃ الاحزاب، آیت 21اصل عظمت کہاں نظر آتی ہے؟
رسول اللہﷺ کی سیرت کی سب سے طاقتور تصویر صرف تاریخی کامیابیوں یا سلطنت کے پھیلاؤ سے نہیں بنتی۔
اصل تصویر اس انسان کی ہے جس نے دشمن کے مقابلے میں بھی اخلاق کی تعلیم دی، کمزوروں کے حقوق بیان کئے، یتیم کی کفالت کو اہمیت دی، پڑوسی کے حقوق سکھائے، تجارت میں دیانت کو لازم قرار دیا اور خاندان سے لے کر ریاست تک زندگی کے ہر دائرے میں ذمہ داری کا تصور پیش کیا۔
اسی لیے رسول اللہﷺ کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ آپﷺ نے تاریخ میں کیا تبدیل کیا، زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آپﷺ نے انسان کو اپنے کردار میں کیا تبدیل کرنے کی تعلیم دی۔
☾ QURAN | 21:107رحمت للعالمین ⌄
’’اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘
سورۃ الانبیاء، آیت 107قرآن کا فیصلہ نہایت واضح ہے:
آپﷺ عظیم اخلاق پر فائز تھے۔
اور حضرت عائشہؓ کی گواہی اس کی عملی تشریح ہے: آپﷺ کا کردار قرآن تھا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں اور دنیا کا نقشہ کئی مرتبہ تبدیل ہوا، لیکن رسول اللہﷺ کی وہ تعلیم آج بھی زندہ ہے جس کا مرکز ایمان کے ساتھ ساتھ رحم، عدل، سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق ہے۔